ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین کا ایم کیو ایم لیبر ڈویژن سمیت تمام ونگز اور شعبہ جات کے کارکنوں کو لیبر ڈویژن کے 38 ویں یوم تاسیس کی مبارکباد ۔ لیبر ڈویژن کے تمام شہید کارکنوں کو خراج عقیدت
#MQMLabourDivisionWithAltaf
The founder and leader of the Muttahida Qaumi Movement, Mr. Altaf Hussain, in an emergency statement, strongly condemned the unjustified and unprovoked missile and air attacks on Iran carried out by Israel and the United States.
#IranUnderSevereAttacks
He urged the Secretary-General of the United Nations, @antonioguterres , and the governments and heads of all civilized democratic countries — including the European Union, @NATO and member states of the OIC — to take immediate action to stop the aggressive attacks by Israel and the United States against Iran.
He stated that the aggressive attack on Iran by Israel and the United States is in violation of all international charters, principles, and regulations.
Addressing the UN Secretary-General, the heads of human rights organizations present there, and other international human rights institutions around the world, he said that if these important personalities and institutions fail to immediately halt the aggressive actions of the United States and Israel, then the very existence of the United Nations and all human rights organizations would come into question.
He expressed heartfelt condolences to families of those killed — including Iranian soldiers and civilians — in the joint aggressive attacks by the United States and Israel, and also prayed for the speedy recovery of the injured.
In conclusion, he said that he fears the current aggression could push the world toward a Third World War.
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے اپنے ایک ہنگامی بیان میں ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے بلاجواز و بلااشتعال میزائلوں اور ایئر اسٹرائیک حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی
#IranUnderSevereAttacks
انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس، تمام مہذب جمہوری ممالک بشمول یورپی یونین، نیٹو اور OICکے ممالک کی حکومتوں اور سربراہان سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے جارحانہ حملوں کو فی الفور بند کرائیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر جارحانہ حملہ دنیا کے تمام بین الاقوامی چارٹرز، اصولوں اور ضابطوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ، وہاں موجود انسانی حقوق کی تنظیموں کے سربراہان اور دنیا بھر میں دیگر انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ تمام اہم شخصیات اور اداروں نے امریکہ اور اسرائیل کے جارحانہ حملوں کو فی الفور نہ رکوایا تو اقوام متحدہ سمیت تمام انسانی حقوق کے اداروں کا وجود ایک سوالیہ نشان بن کر رہ جائے گا۔
انہوں نے ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ جارحانہ حملوں میں ایرانی فوجیوں اور شہریوں کی ہلاکتوں پر ایرانی حکومت اور لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا بھی کی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں یہ موجودہ جارحیت کا عمل دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف نہ دھکیل دے
@QasimalirazaAli آج اس کے خلاف صرف ایک مخصوص ضمیر فروش بےغیرت کمالوٹول کی خاطر اتنے غلیظ پن پر اتر آئے ہو کہ تم اگر وزن رکھتے ہو تو پھر اس شخص کا مقابلہ کیسا۔
مطلب وہ آج اکیلا بھی تم اور تمہارے دو کوڑیوں کے لیڈروں سے بھی بھاری وزن رکھتا ہے۔
بناؤ سب ویڈیوز مگر ذلالت تمتم سے نہ ہوپائے گا جاہلو
@QasimalirazaAli اگر چہ غداروں نے بالجبر ہی چیپٹر کلوز کردیا ہے اس بانی کا جس نے اس قوم کو پہچان دی حق سےجینے کا گُر دیا، جس نے تم جیسے کم ظرفوں کو پہچان دے کر اعلٰی ایوانوں تک ان جاگیرداروں وڈیروں کے مقابل بٹھایا، ذہنوں سے ڈر کو مٹا کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا سکھایا۔
45 days have passed. I miss my father Nisar Panhwar and my brother Mohsin every day.I pray they are safe and return home soon. May all innocent missing persons reunite with their loved ones. Ameen.
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
آپ کو ان بیگناہوں کی بازیابی پر آواز اٹھانے سے کیا چیز ہے جو روک رہی ہے ؟
ایماندارانہ جواب دیجیئے گا۔
شکریہ ایک تجزیاتی مضمون کے لکھے جانے میں آپ جوابات انتہائی معاون ہوںگے۔
اگر الطاف حسین کی عوامی مقبولیت پر کسی کو شک ہے تو کراچی اورحیدرآباد میں غیرجانبدارانہ ریفرنڈم کراکردیکھ لیں کہ سندھ کے شہری عوام کسے چاہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے تحریکی ساتھیوں کوہمیشہ یہ ہدایت دی ہے کہ آپ کو کوئی بڑا عہدہ یا پوزیشن ملے تو اس طاقت کو خدا کاعطیہ سمجھو اور طاقت ملنے کے بعد خود کو زمین پرخدا نہ سمجھنے لگو۔
ایم کیوایم غریب اورمتوسط طبقے کی نمائندہ جماعت ہے،جب لوگ ایم کیوایم میں شامل ہوئے تھے اس وقت ان کے گھروں کی حالت اور انکی ذاتی اورمالی حیثیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی؟ میں نے میرٹ کی بنیاد پر تعلیم یافتہ اور باصلاحیت کارکنوں کو ایم این اے، ایم پی اے بنایا،انہیں عہدوں کے ساتھ طاقت اوراختیارملا تو ان میں سے بعض افرادخودکو زمینی خدا بن بیٹھے، حتیٰ کہ ایم کیوایم، لفظ مہاجر، انتخابی نشان پتنگ کو دفن کرنے اورشہداء قبرستان پر تالے ڈالنے کے دعوے کرنے لگے کہ لیکن قدرت کا مکافات عمل دیکھئے کہ خود کوزمینی خدا سمجھنے والے جس ایم کیو ایم کے نام کودفن کرنے کا دعویٰ کیاکرتے تھے وہ آج ایم کیوایم میں دفن ہوگئے۔
ان لوگوں نے احسان فراموشی کامظاہرہ کرتے ہوئے مجھ پر طرح طرح کی بہتان تراشیاں کیں تاکہ کارکنان وعوام کو مجھ سے بدظن کیاجاسکے، اگر مجھ پرلگائے جانے والے بیہودہ الزامات اور بہتان سچے ہوتے تو جسمانی طورپرمیری 33 سال ملک سے دوری کے باوجود کیا عوام آج بھی میرے ساتھ ہوتے؟نئی نسل Gen Z جس نے نہ مجھے دیکھا، نہ میری تقاریر سنی ہیں اور نہ ہی میری فکری نشستیں اٹینڈ کی ہیں وہ بھی تمام ترمشکل دور کے باوجود میری تصاویر اٹھاتے ہیں اورمجھ سے عقیدت ومحبت کااظہار کرتے ہیں۔ اگر کسی کوشک ہے تو وہ غیرجانبدارانہ ریفرنڈم کراکر دیکھ لے کہ کراچی اورحیدرآباد سمیت سندھ کے شہروں کے عوام کسے چاہتے ہیں؟
جن لوگوں کو نام اور مقام مل گیا وہ بے غیرت اپنے ظرف وضمیرکاسودا کربیٹھے جبکہ سینئرکارکنان بوڑھے ہونے کے باوجود آج بھی میرے ساتھ ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ Gen Z بھی میرے ساتھ ہے۔ عزت اورذلت دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کس نے ظلم کیاہے اور کس نے ظلم سہا ہے۔بعض وی لاگرز یہ پروپیگنڈہ بھی کرتے ہیں کہ الطاف حسین کے خلاف بات کرنے والا غائب کردیاجاتا ہے، ایسے جھوٹے الزام لگانے والوں سے پوچھا جائے کہ اگر الطاف حسین اپنے مخالفین کو برداشت نہیں کرتا تھا تو آفاق احمد اور عامرخان جیسے مخالفین آج تک کیسے زندہ ہیں؟
22، اگست2016ء کو جن لوگوں نے غداری کی اور شہیدوں کے لہو کاسودا کیا اورکھلے عام مجھے مغلظات بکیں، کیا وہ محفوظ رہ سکتے تھے؟ لیکن کیا کسی ایک بھی آدمی کو نقصان پہنچا؟ اگرمجھ پر الزامات جھوٹے نہ ہوتے تو الزام لگانے والوں کو عوام کی ہمدردیاں حاصل ہوتیں لیکن اللہ تعالیٰ نے خود فیصلہ کردیا اورآج اپنے آپ کو زمینی خدا سمجھنے والوں کی اوقات واضح ہوچکی ہے اورتمام تر سرپرستی کے باوجود وہ عوام کی حمایت سے محروم ہیں، ایم این ایز اور ایم پی ایز بننے کے باوجود وہ بغیربلٹ پروف گاڑیوں کے اپنے علاقوں میں عوام میں نہیں جاسکتے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 385 ویں فکری نشست سے خطاب
30، جنوری2026ء
@KamalMQM الطاف حسین نے جس جس کو چھوڑا اس کی اوقات دو ٹکے کی ہوگئی فاروق ستار کو دیکھ لو مصطفیٰ کمال کو دیکھ لو اور تو اور قربانی کی کھال کو دیکھ لو
کوئی قیمت نہیں بچی 🤣🤣
@KamalMQM نائن زیرو پر کئے سالوں پہلے پڑنے والے چماٹوں کی آواز آج تک کمالو کہ کانوں میں گونج رہی ہے مجھے آج بھی کمالو کی چیخیے سنائی دی مزہ آیا 😂نمک حرام اور بدنسل انسان کا پھلا شکار اس کا محسن ھوتا ہے
نثار پنہوار اور اُن کے بیٹے محسن پنہوار کی غیر قانونی حراست کو 8 دن گزر چکے ہیں۔ریاستی اداروں سے سوال ہے:آخر میرے والد اور بھائی کا جرم کیا ہے؟میرے والد نے قانون توڑا ہے تو عدالت میں پیش کریں، میرے بھائی نے جرم کیا ہے تو مقدمہ چلائیں۔مہینوں تک لاپتہ رکھنا کون سا انصاف ہے؟
غم کو الفاظ میں ڈھالا بھی نہیں جاتاہے
درد اتناہے سنبھالا بھی نہیں جاتا ہے
جس کےآنگن میں ستاروں کی دکان لگتی تھی
آج اس گھر میں اُجالا بھی نہیں جاتا ہے
مظلوم عوام کامطالبہ
نائن زیرو کو دوبارہ آباد کیاجائےاورالطاف بھائی پر پابندی کاخاتمہ کیاجائے
@AltafHussain_90@OfficialMQM
پارلیمنٹ، عدلیہ، صنعت اور فیکٹری سمیت دنیا کے ہرادارے کےاصول وضوابط ہوتے ہیں، اسی طرح شعبہ صحافت کےبھی کچھ اصول وضوابط، صحافتی اقدار اور تقاضے ہوتےہیں اورآزاد صحافتی ادارےکا سب سے بڑا پیمانہ غیرجانبداری ہوتا ہے۔اگر صحافت کا شعبہ صرف طاقتور لوگوں کاہمنوا بن جائے،کسی ایک جماعت کی حمایت اور دوسری جماعت کی مخالفت کرنےلگے، کسی عوامی لیڈر یا جماعت کےخلاف جھوٹ پرمبنی پروپیگنڈہ پیش کرتا رہے، ہرچیز کاالزام اس لیڈر اور اس کی جماعت پر دھرتا رہے لیکن اسے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہ دے توکیا یہ رویہ جانبدارانہ رویہ نہیں کہلائے گا؟
28، دسمبر2025ء کو فارم 47 کے تحت وجود میں آنے والے ایک نام نہاد وفاقی وزیر اور ایم کیوایم پاکستان کے ایک فرد نے اپنی پریس کانفرنس میں مجھ پر اور میری ایم کیوایم پرشہید انقلاب ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل اوردیگر سراسر جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگائے۔اس شخص نے بیہودہ الزامات لگانےکے ساتھ ساتھ جو غلیظ ترین زبان استعمال کی وہ کسی بھی مہذب مہاجر، سندھی، پنجابی، بلوچ، پختون، سرائیکی، گلگتی، بلتستانی، ہزاروال اور کشمیری کے گھرمیں استعمال نہیں کی جاتی۔
میں تمام باضمیر صحافیوں، اینکرپرسنز، یوٹیوبرز، وی لاگرز، سیاسی تجزیہ نگاروں، سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اورعوام سے سوال کرتاہوں کیا ٹیلی ویژن یااخبارات میں کسی پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگانا، گالم گلوچ، بیہودہ زبان استعمال کرنا درست عمل ہے؟ اگرکوئی کسی کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرے،تو کیا اُسے ٹیلی ویژن پر نشر اوراخبارات میں شائع کرنا چاہیے؟ اگرکوئی فرداخبارات، رسائل اور ٹیلی ویژن پر آکر کسی پر بے بنیاد الزامات لگائے تو کیا ان صحافتی اداروں کا یہ صحافتی فرض نہیں بنتا کہ جس پر الزامات لگائے گئے ہوں انہیں بھی جواب دینے اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیاجائے؟ الزامات ایم کیوایم اور اس کے بانی وقائد پر لگائے جائیں تو کیا اسے جواب دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے؟
ستمبر2015ء سے میری تحریر وتقریر پر لاہورہائی کورٹ کی جانب سے صرف 6 ماہ کیلئے پابندی لگائی گئی تھی لیکن آج دس برس گزرجانے کے باوجود وہ پابندی بغیر کسی توسیع کے آج تک جاری ہے جو غیرقانونی ہے۔ میڈیا مجھ پر عائد غیراعلانیہ پابندی پر عمل کررہا ہے اور میرا مؤقف بیان نہیں کررہا ہے۔ عمران خان کی تحریرو تقریر پربھی پابندی ہے لیکن تحریک انصاف کے تمام رہنماؤں کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر آنےکی اجازت ہے۔لہٰذا اگرمجھ پر عدالتی حکم کے تحت پابندی عائد ہےلیکن ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی اورسینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی موجود ہے،ان کو پارٹی کا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیاجانا چاہیے تھا۔میری رابطہ کمیٹی اورسی ای سی اورپاکستان کے ساتھیوں کوٹاک شوز میں پیش کیاجانا چاہیے۔
میراسوال یہ ہے کہ جب لائیوپریس کانفرنس کے دوران یہ گالم گلوچ اور بیہودہ زبان استعمال کی جارہی تھی تو اُس وقت نیوز چینلز نے اسے نشرکرنے سےکیوں نہیں روکا؟ اس وقت PEMRA (پاکستان الیکٹرونک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی) نے اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا؟ انہیں اس طرح جانبداری کامظاہرہ نہیں کرناچاہیے تھا۔میڈیا کو بھی اس حوالے سے میرے ساتھیوں کامؤقف لیناچاہیے تھا کیونکہ یکطرفہ مؤقف پیش کرنا صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔میں چیئرمین پیمرا اور دیگر حکام سے مطالبہ کرتاہوں کہ وہ اس معاملےکافوری نوٹس لیں۔
مجھ پرجس شخص نے شہیدانقلاب ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کابیہودہ الزام لگایاہے، جب اس شخص کے الزام کے حوالے سے ڈاکٹرعمران فاروق شہید کے والد فاروق احمد مرحوم سے سینئر صحافی وجاہت سعید نے سوال کیا تھا تو فاروق احمد نے خود کہاتھاکہ” سب کو پتہ ہےکہ عمران فاروق کے قاتل کون ہیں۔ہم ان کو جانتے ہیں اوروہ اس شخص کے ساتھ بیٹھے ہیں “۔ ان کی یہ گفتگو ریکارڈ پر موجود ہے۔وقت آیاتو میں قوم کوقاتلوں کے نام بھی بتاؤں گا۔
میں اپنے ساتھیوں سے اپیل کرتاہوں کہ وہ مجھ پر الزامات اورگالم گلوچ کے معاملےپر اپنےجذبات کو قابو میں رکھیں اوراپنامؤقف پیش کرنے میں تہذیب وشائستگی اختیار کریں۔
میں اُن تمام باضمیر صحافیوں، اینکر پرسنز، یوٹیوبرز، وی لاگرز، سیاسی تجزیہ نگاروں، سیاسی رہنماؤں،کارکنوں اورہر قومیت سے تعلق رکھنے والے عوام کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے خلاف بیہودہ اورغلیظ زبان استعمال کرنے والے فرد کے جھوٹے الزامات کا نہایت شرافت اور تہذیب اور دلائل کے ساتھ جواب دیا ۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست سے خطاب
ایم کیوایم کےبانی وقائدجناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے رہنماؤں نثار پنہور اور انور خان ترین کو ان کی رہائی پر فون کرکے مبارکباد پیش کی۔ نثارپہنور اور انور خان ترین سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں ساتھیوں نے جس جرات و ہمت، عزم وحوصلے اور ثابت قدمی سے اپنی جبری گمشدگی کے عرصے کوبرداشت کیا وہ دیگر تحریکی ساتھیوں کےلئے ایک مثال ہے کہ وہ بھی آپ کی طرح جرات وہمت، عزم و حوصلہ اور بہادری کے ساتھ ایسی آزمائش کا سامنا کریں اور تحریکی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لئے خود کومیدانِ عمل میں آنے کے لئے تیار کریں۔
جناب الطا ف حسین نے نثارپہنور اور انور خان ترین کی رہائی پر ان کے اہل خانہ کو بھی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ آپ کے گھروالوں نے بھی اس عرصے میں تمام ترذہنی کرب و اذیت برداشت کرتے ہوئےجس صبر وحوصلے کا مظاہرہ کیااس پر میں انہیں بھی مبارکباد اورخراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ آپ کے گھر والوں کا صبروحوصلہ تمام ساتھیوں کے اہل خانہ کےلئے بھی ایک مثال ہے۔
الطاف حسین
12 دسمبر 2025ء
74 دن…وہی خاموشی، وہی اندھیرا!
یہ معاملہ کسی سیاسی شناخت کا نہیں، انسان ہونے کے بنیادی دعوے کا ہے۔ کوئی انسان اس درجے کی بےرحمی کا بوجھ اٹھانے کا مقروض نہیں ہوتا۔
اگر انور ترین اور نثار پنہور جیسے معصوم بھی بےیقینی کا شکار ہوں تو پھر اس ملک میں ’محفوظ‘ ہم میں سے کوئی بھی نہیں۔
@ShamaJunejo سندھی بیٹی شمع جونیجو باجی جو الطاف حسین بھائی کے لے اپنی انٹرویوز میں بہت تعریفیں کرتی ہیں
لندن میں انہی پاکستان کے ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل نے ایواڈ دی۔
شمع جونیجو باجی ایک سیاسی کارکن و ہیومن رائٹس ایکٹویٹسٹ ہے۔وہ مظلوم مہاجروں سندھیوں،و دیگر اقوام کیلے مسلسل آواز اٹھاتی ہے۔