جیل سپرنٹنڈنٹ کا دعوی درست نہیں، میرا اسٹاف پچھلے 4 ہفتوں میں 5 سے 6 بار جیل گیا، وکالت نامے نہیں دیے گئے، 15 جون کو توہین عدالت کی درخواست دائر کیے جانے کے بعد جیل حکام نے مجھے کہا، صرف عمران خان کا وکالت لے لیں کہا گیا بشری بی بی کا نہیں، بشریٰ بی بی کا وکالت نامہ نہ ہونا ہمارے لیے ناقابلِ قبول تھا، بیرسٹر سلمان صفدر کا سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے الزامات پر ردعمل
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@BrSalmanSafdar
کل بروز منگل دوپہر 2 بجے تحریک انصاف کے سینیٹرز، ایم این ایز، ایم پی ایز، پارٹی عہدیداران، آئی ایل ایف، آئی ایس ایف، یوتھ ونگ، وومن ونگ، منیارٹی ونگ، ٹریڈرز ونگ ہم سب اڈیالہ جیل کے سامنے اکھٹے ہوں گے،
نعیم حیدر پنجوتھہ
"متنازع ٹیلی کام بل پر وزیر اعظم کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی میں وہی افراد شامل ہیں جنہوں نے بل بنایا ہے، جن سے سوال پوچھنا چاہیے ان پر مشتمل کمیٹی بنا دی گئی۔ جن کے خلاف انکوائری ہونی چاہئے، وہ خود ہی جج بن گئے ہیں، خود ہی جیوری بن گئے ہیں، اب سزا اور جزا کا فیصلہ وہ خود کریں گے (جو اسکے ذمہ دار ہیں)۔یہ بل بنانے والے تین وفاقی وزیر (شزا فاطمہ سمیت)خود اس کمیٹی میں ہیں۔وزارت قانون جس نے منظوری دی وہ خود بھی اس کمیٹی کا حصہ ہے، متنازع بل colonial mindset نے بنایا ہے جس میں جائیداد کے مالک کے حقوق کو مجروح کیا گیا ہے"۔ رؤف کلاسرا
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
گزشتہ روز ہماری فیملی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں خیبر پختونخوا کے وزراء سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں عمران خان کے تمام قانونی اور جائز جیل حقوق کی بحالی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزراء نے درج ذیل پیش رفت سے آگاہ کیا:
1۔ کوئی اضافی (سرپلس) بجٹ نہیں ہوگا، کیونکہ عمران خان نے ہمیشہ ہدایت دی ہے کہ تمام دستیاب وسائل خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی، فلاح و بہبود اور خوشحالی پر خرچ کیے جائیں۔
2۔ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کی جانب سے طلب کردہ 175 ارب روپے کی منتقلی کے لیے کسی بھی معاہدے پر اس وقت تک دستخط نہیں کرے گی جب تک کہ درج ذیل مطالبات پورے نہیں کیے جاتے:
• خیبر پختونخوا کو ضم شدہ اضلاع (سابق فاٹا) کے لیے موجودہ مالی سال کا مکمل حصہ فراہم کیا جائے، جو تقریباً 300 ارب روپے بنتا ہے۔ یہ فنڈز ضم شدہ علاقوں کی معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔
• عمران خان کے تمام قانونی اور جائز حقوق مکمل طور پر بحال ہونے تک کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں کیے جائیں گے، جن میں شامل ہیں:
1۔ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا مکمل طبی معائنہ، تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔
2۔ عمران خان کی گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری غیر قانونی تنہائی اور عملی طور پر سولیٹری کنفائنمنٹ کا فوری خاتمہ کیا جائے، جس میں:
الف) ہر ہفتے 6 اہلِ خانہ، 6 وکلاء اور 6 دوستوں (سیاسی ساتھیوں) سے ملاقات کا حق فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ب) ان کے بیٹوں کے ساتھ ہفتہ وار ٹیلیفونک رابطے کا حق فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ج) کتابوں، اخبارات اور دیگر مطالعے کے مواد تک ان کی رسائی فوری طور پر بحال کی جائے۔
یہ کوئی خصوصی مراعات نہیں بلکہ بنیادی قانونی اور انسانی حقوق ہیں، جن کا احترام اور فوری بحالی مزید کسی تاخیر کے بغیر یقینی بنائی جانی چاہیے۔ علیمہ خان
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@Aleema_KhanPK
جیل سے خطرے کی گھنٹی: عمران خان کا بہنوں کے نام ہنگامی پیغام
بشریٰ بی بی کی حالت پر تشویش
لبنان میں خوفناک حملے: معاہدہ خطرے میں؟
https://t.co/wW1Cw3VI34
رنجیت سنگھ کیساتھ آپ کا مذہب نہیں ملتا ، جارج ، ایڈورڈ کے ساتھ آپ کی پھوپھی بیاہی ہوئی تھی؟ وکٹوریہ نانی لگتی تھی؟ الزبتھ آپ کی امی تھی ؟ ابھی اگلے روز پاک فوج کے جوان ولایتی فوجی کپڑے پہنے سکاٹش دھنوں کے سائے میں ملکہ کی فوٹو کے سامنے ڈنر کررہے تھے وہاں تو کسی نے اس قدر کراہت کا اظہار نہیں کیا۔ کیوں نہیں ؟ امریکی سفارتخانے کی کوئی تقریب ہو، برطانوی سفارتخانے کی کوئی تقریب ہو ٹائی کوٹ اور ہاتھ باندھ کر جو وہاں کھڑے ہوتے ہیں وہ کیا تمہارے ہم مذہب ہیں؟ ہیں جی؟ نہیں جی۔ مسئلہ اس قدر سادہ نہیں ہے۔ مسئلہ ہے سارا خوئے غلامی کا۔ غلام فطرت کا اور غلام ذہنیت کا۔
ہم جیسے لوگ کم از کم تین چار ہزار سال سے اس خطے کے باسی ہیں۔ اسلام چودہ سو سال پرانا ہے۔ میرے علاقے میں اسلام ایک ہزار سال پہلے آیا۔ یقیننا ہمارے کوئی اجداد ہندو وغیرہ تھے۔ ممکن ہیں ہزار سال پہلے اسلام قبول نہ کیا ہو ، تین سو سال پہلے کیا ہو ، پھر ممکن ہے گورونانک سے متاثر بھی ہوتے ہوں۔ اب کیا اس کو جھٹلانا شروع کردیں؟ نئی نئی روایتیں گھڑ لیں؟ پٹھان دوستوں سے معذرت ایک روایت انہوں نے اپنے ہاں بنا رکھی ہے کہ ان کا کوئی سربراہ نبی کریم کے وقت میں اسلام قبول کرآیا، ایسی کوئی روایت کسی حدیث کسی تاریخ میں موجود نہیں۔ مسلمان لشکروں کی آمد کیساتھ یہ لوگ رفتہ رفتہ پارسی اور بدھ مت سے مسلمان ہوئے ،اگرچہ برصغیر کی دیگر کئی اقوام سے پہلے۔
زمانہ طالبعلمی میں ایک جگہ پارٹ ٹائم نوکری کی۔ وہاں ہم تین لوگ کام کرتے تھے۔ ہندو پنجابی ، سکھ پنجابی اور ادارہ یعنی ادارہ ہذا۔ کتنا ہی عرصہ ہم حیرت کا اظہار کرتے رہتے کہ ہمارا بچپن دو مختلف ملکوں میں بلکہ دشمن ملکوں میں گزرا لیکن ہمارے کھلونے تک ایک جیسے تھے۔ ہمارے شادی بیاہ کے رسم رواج ایک سے ، اوزار ایک سے ، کتنے ہی تہوار ایک جیسے ، ہماری طرف کوئی محفل میلاد ختم ہوتا تو ادھر وہ بھی کوئی پاٹھ کروا رہے ہوتے۔ کتنی ہی دفعہ حیرت سے کہتے اچھا تہاڈے پاسے وی؟ بس مجھے دو تین مہینے مجھے یہ سمجھ نا آئی کہ یہ مجھے چپکے چپکے سے جو کٹوا کہتے ہیں اس کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ پھر ایک دن وہ بھی پتہ چل گیا۔
اب آتے ہیں کہ مسئلہ کہاں ہے۔ مسئلہ ہے غلامانہ فطرت کا۔ اسکی وجوہات کوئی دانشور بیان فرما لے ، ادارے کے پاس وجوہات کی بجائے مثالیں ہیں۔ انگریزوں سے ان کا کچھ نہیں ملتا۔ نا مذہب ، نا رواج ، نا زبان ، نا رنگت ، نا زمین کی وٹ سانجھی۔ لیکن کے پہناوے بھی پہنتے ہیں ، انکے زبان بھی بولتے ہیں اور ہرگز ان سے کراہت کا اظہار نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ غالب ہیں ، طاقتور ہیں اور بس۔ کچھ بعید نہیں کہ اگر سکھ چیلیانوالہ میں انگریز سے نہ ہارتے اور پنجاب پر قبضہ برقرار رکھتے تو آج پاک فوج ملکہ کی فوٹو کی بجائے رنجیت سنگھ کی فوٹو کے نیچے بیٹھ کر ڈنر کرتی اور سکاٹش دھنوں کی بیٹ کی بجائے ڈھول بج رہا ہوتا۔ آخری مثال بھی پکڑ لیں ، آپ لوگ بھی فوج سے متاثر اس لیے ہیں کہ آپ کی بھی فطرت وہی ہے۔ طاقتور اور غالب سے دبنے والی۔ ورنہ آپ انکی حرکتوں سے اس وقت نفرت کررہے ہوتے۔
کچھ چیزیں جھٹلائی نہیں جاسکتیں۔ رنجیت سنگھ کی حکومت یہاں کی تاریخ ہے۔ رنجیت سنگھ اچھا جنگجو اور اچھا ایڈمنسٹریٹر تھا۔ انگریز نے رنجیت سنگھ سے کہیں زیادہ مسلمان مارے تھے ، جی ہاں پاک فوج نے انگریز اور رنجیت سنگھ دونوں سے کہیں زیادہ مسلمان مارے ہیں۔ لوٹ کا مقابلہ بھی انگریز اور پاک فوج کا ہوسکتا ہے۔ رنجیت سنگھ تو انکے سامنے بونا ہے۔ آپ کی غلامانہ فطرت ، غلام ذہنیت پر اگر گراں نہ گزرے تو جتنی گنجائش آپ اپنی نانی وکٹوریہ کے لیے پھوپھی الزبتھ کے لیے نکالتے ہیں اس سے تھوڑی سی کم ہمارے ہم زبانوں کے لیے نکال لیجیے۔
نفرت کرنی ئے تو پھر بھی میرٹ پر کیجیے۔ کسی اصول کی بنیاد پر کیجیے۔ ہر قابض ، ہر ظالم سے کیجیے۔ پھر رنجیت سنگھ سے بھی کیجیے انگریز سے بھی کیجیے اور پاک فوج سے بھی کیجیے۔
تیمور جھگڑا کے 25 ہزار ووٹ تھے جبکہ جلال کے 1600 ووٹ تھے ایک پولنگ اسٹیشن پر تیمور جھگڑا کے 735 ووٹ ہیں جبکہ جلال کے پورے 2 ووٹ ہیں لیکن سیٹ 1600 ووٹ لینے والے جلال کو دے دی گئی ۔۔
ایسا ظلم دیکھ کر ناپاک فوج پر اور ڈھیری حسن آباد کے کنجر پر لعنت ضرور بھیجا کریں ، شکریہ
عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست عالمی ریکارڈ بنا چکی ہے، اس قرہ عرض میں ایسا کوئی ملک نہیں جہاں کے قاضی، جج کے پاس درخواست گئی ہو اور اس پر 8 ماہ سماعت پی ناں ہوئی ہو۔۔
https://t.co/OM1OdiUht9
آج سپریم کورٹ میں بھی عمران خان کی بہنیں تھی لیکن اندرونی غدار کمپین بھی ان بہنوں کے خلاف چلاتے ہیں تاکہ کوئی آواز نہ اٹھائے۔
فرض سمجھ کر سب بہنوں کو سپورٹ کریں ❤️
سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان @Aleema_KhanPK کا پیغام:
- 16 جون 2026
“ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے۔”
#FreeImranKhan
#PAKWatch🇵🇰: Yesterday, Pakistani police have again DENIED Imran Khan's sisters a meeting with their brother. This action DEFIES the court order for twice-weekly access.
PAK = NO RULE OF LAW = 3RD WORLD.
FREE IMRAN KHAN.
خان صاحب کے کیسز
1: میڈیکل معائنے سے متعلق اپیل
2: ملاقاتوں سے متعلق اپیل
دونوں اپیلوں کی سماعت کل 18 جون 2026 صبح 9:00 بجے سپریم کورٹ میں ہوگی۔
پنجاب خاص کر راولپنڈی اسلام آباد کے عہدیداران ، ٹکٹ ہولڈرز اور وکلاء اپنی حاضری یقینی بنائیں۔