فتنوں کے اس دور میں ہم ایسی جگہ کھڑے ہیں جہاں دو لوگ مسجد میں ناجائز تعلقات قائم کرتے ہوئے پکڑے جائیں اور ریاست انہیں سزا دے تو عوام کی اکثریت اس ریاست ��ے خلاف ہی زہر اگل رہی ہوتی ہے۔
بنگلہ دیشی شہری نذرالاسلام عبد البصیر کے والد نے تصدیق کی ہے کہ سیتی اختر انکے خاندان کا حصہ نہیں ہے، نہ وہ انکے بیٹے کی بیوی تھی نہ خاندان اسے جانتا ہے۔
اسکے باوجود وہ دونوں مسجد کے اندر جنسی نوعیت کےتعلقات قائم کرتے پائے گئے۔ جس پر ریاست نے انہیں گرفتار کیا اور مکمل تحقیقات اور گواہوں اور ثبوت کی بنیاد پر عدالت نے انہیں تعزیر کے تحت سزائے موت دی۔
تعزیر اسلامی قانون میں جج کی صوابدید پر مبنی سزا ہے، جس میں جرم کی نوعیت اور حالات (خاص طور پر مقدس مقام کی پامالی) کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
اعلی عدالت نے جج کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سزائے موت کا حکم جاری کیا۔
یاد رہے نذرالاسلام نومبر 2022ء میں کلینر کے طور پر سعودی عرب گیا تھا اور مکہ کی اسی ��سجد میں کام کرتا تھا۔
تقریباً چھ ماہ بعد (2023ء میں) گرفتار ہوا اور تین سال سے زیادہ جیل میں رہا۔
خاتون کے خاندان کی طرف سے تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔ لیکن سوشل میڈیا پر اس معاملے کو لے کر پراپگنڈہ لابیز متحرک ہو چکی ہیں اور ڈیجیٹل فتنہ گروں نے اس خالصتاً قانونی اور شرعی عمل کو من پسند رنگ دے کر سعودی حکومت کے خلاف محاذ آرائی کر رکھی ہے۔
کسی نے انہیں نوبیاتا جوڑا بنایا تو کسی نے انکی آٹھ سالہ بیٹی کا دعوی کیا جبکہ حقیقت میں ان دونوں نفوس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا،اسکے باوجود خانہ خدا کو اس قبیح عمل کے لئے چنا گیا، یاد رہے خاتون بھی سعودیہ میں ملازمت کی غرض سے مقیم تھی۔
کوئی مجھے بس یہ سمجھا دے کہ خانہ خدا سے بڑھ کر کسی چیز کی حرمت ہو سکتی ہے؟؟ ہرگز نہیں ہو سکتی، لیکن وہ لوگ جو نکاح کے فوراً بعد مسا��د میں بوس و کنار کو ثواب سمجھیں، ہنی مون کے لئے فیصل مسجد، بادشاہی مسجد یا مسجد وزیرخاں کا انتخاب کریں، جن کے لئے آئے روز مساجد میں ممبر پر سے لواطت کی وڈیوز موصول ہونا معمول بن جائے انکا شرعی احکام پر عملدرآمد ہوتے دیکھ کر سیخ پا ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن جناب یہ شریعت ہے، یہ قانون ہے، یہ آپکے لاکھ روشن خیال، لاکھ لبرل اور لاکھ ہیومنسٹ ہونے کے باوجود اٹل رہے گا اس لئے اچھلئیے مت تحقیق کیجئے!
#mecca #meccamadina #saudiarabia #Pakistan #ڈکٹیٹر
اس موضوع پر اسطرح پوسٹ کرنے کا اردہ نہیں تھا لیکن جھوٹی اور من گھڑت باتیں پھیلانے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے پوسٹ کرنا پڑ رہا ہے۔
بنگلہ دیش کے دو افراد، نذرالاسلام اور سیتھی اختر۔ یہ دونوں بن لادن کمپنی میں ملازمت کرتے تھے اور دونوں ہی مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے صفائی کے کارکن تھے۔ لڑکی کا رہائشی ولا بطحا قریش میں تھا، جبکہ لڑکے کا ولا حیّ الاسکان میں تھا۔
ڈیوٹی کے دوران ان دونوں کے درمیان محبت کا تعلق قائم ہوگیا اور وہ مسجد الحرام کے 85 سے 87 نمبر کے دروازوں کے درمیان سیڑھیوں کے اوپر واقع ایک سنسان کمرے میں زنا کے مرتکب ہوئے۔
نذرالاسلام نے اپنے ایک بھارتی دوست کو نگرانی کے لیے نیچے کھڑا ہونے کو کہا۔ اس دوست نے اس واقعے کی ویڈیو بنالی۔ بعد میں جب اس نے خود بھی اس لڑکی کے ساتھ زنا کرنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن وہ ایسا نہ کرسکا یا دونوں نے رضامندی نہیں دی، تو اس نے ویڈیو عام کردی۔
اس کے بعد یہ واقعہ منظر عام پر آگیا۔ سعودی حکام تینوں افراد کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ بھارتی نوجوان کو 20 سال قید کی سزا ہوئی، اور وہ جیل میں ہے۔ باقی دونوں افراد کو بھی جیل میں رکھا گیا۔
نذرالاسلام بنگلہ دیش سے 10 سے 13 نومبر 2022 کے درمیان سعودی عرب آیا تھا۔ اس نے مئی 2023 میں یہ غلط حرکت کی، جس کے بعد سعودی حکام نے اسے گرفتار کرلیا۔ وہ مئی 2023 سے اکتوبر 2026 تک جیل میں رہا۔ اس مقدمے کی عدالتی کارروائی تقریباً ساڑھے تین سے چار سال تک جاری رہی۔
اس دوران سعودی حکومت کی ذمہ داری اپنے کفیل اور کمپنی کو مطلع کرنا ہے۔ دوسرے ممالک کے لوگوں کو اس بارے میں اطلاع دینا اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔
بہت سے لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ دونوں عمرہ کرنے گئے تھے اور وہاں بوسہ لیا تھا۔ یہ تمام باتیں سراسر جھوٹی اور من گھڑت ہیں۔
وہ دونوں غیر شادی شدہ تھے، یہ بات درست ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ غیر شادی شدہ ہونے کے با��جود انہیں سزائے موت کیوں دی گئی؟ جانتے ہیں؟ اس لیے کہ یہ مسجد الحرام ہے۔ یہاں معاملہ صرف زنا کی سزا تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس شخص نے مسجد الحرام کی حرمت اور عزت کو بھی پامال کیا ہے۔
اسی وجہ سے مثالی سزا دینے کے لیے سپریم کورٹ کے اعلیٰ ججوں نے تعزیری سزا کے طور پر سزائے موت کو مناسب سمجھا اور وہی سزا سنائی۔ یہ سزا قرآن و سنت کے مطابق ہے۔
سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم آج بھی اس معاملے پر بے شرمی کے ساتھ جھوٹی باتیں پھیلا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے دائیں اور بائیں بازو کے ملحد افراد تو یہ سب کہہ ہی رہے ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں میں سے بھی بعض اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں جو بنگلہ دیش میں اسلامی قانون نافذ کرنے کی بات کرتے ہیں۔
Una horda de inmigrantes africanos y musulmanes rodean a dos estudiantes francesas que querían evitar que incendiasen un autobús y comienzan a agredirlas.
El multiculturalismo es la tumba de Francia.