“مجھے آج خیبرپختونخوا کے علاقوں میں کیے گئے ڈرون اٹیکس کے حوالے سے تفصیلات پتہ چلیں۔ میں ڈرون حملوں میں معصوم پاکستانی شہریوں کی شہادت پر نہایت رنجیدہ ہوں اور اسکی شدید مذمت کرتا ہوں ۔ میں خیبر پختونخوا حکومت کو ہدایت کرتا ہوں کہ وفاقی حکومت کو احتجاج ریکارڈ کروائیں اور ان ڈرون حملوں کو فوری طور پر رکوائیں۔ ڈرون حملوں میں معصوم شہریوں کی ہلاکت سے دہشتگردی کم نہیں ہوتی بلکہ مزید بڑھتی ہے- ہماری کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد پاکستان میں امریکی ڈرون حملے رکے تھے- اگر آپ دہشتگردی کے خلاف ہیں تو اپنے ہی لوگوں کے گھروں پر بم مت گرائیں۔
ماشاءالله، جنرل عاصم منیر فیلڈ مارشل بن گئے، ویسے بہتر تھا کہ وہ فیلڈ مارشل کی جگہ خود کو بادشاہ کا ٹائٹل دیتے، کیونکہ اس وقت ملک میں جنگل کا قانون رائج ہے اور جنگل کے قانون میں تو بادشاہ ہوتا ہے۔
میرے ساتھ جو ڈیل کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، کوئی ڈیل ہوئی ہے نہ ہی ڈیل کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، یہ سب جھوٹ ہے۔
ہماری فورسز خصوصاً ائیر فورس نے جس طرح مودی کے عزائم کو ناکام بنایا ہے اس کے بعد مجھے خدشہ ہے کہ وہ اب مزید حماقت کرے گا، جس کے لیے ہمیں بطور قوم تیار رہنا چاہیے۔
میں خود اسٹیبلشمنٹ کو دعوت دے رہا ہوں کہ اگر پاکستان کے مفاد میں بات کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کی فکر ہے تو آ کر بات کریں-اس وقت ملک کو بیرونی خطرات، بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور معیشت کی بحالی کے لیے اکٹھا ہونا پڑے گا- میں نہ پہلے اپنے لیے کچھ مانگ رہا تھا، نہ اب مانگوں گا۔
پاکستان میں اس وقت ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے، طاقتور کے لیے نہیں۔ یہی نظام کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ جمہوریت دو بنیادی چیزوں پر قائم ہوتی ہے:
قانون کی بالادستی (Rule of Law)
اخلاقی اقدار (Morality)
آج جمہوریت کے ان دونوں ستونوں کو زمین بوس کر دیا گیا ہے۔ جو حالات چل رہے ہیں، وہ اس بات کے غماز ہیں کہ جمہوریت کی روح کو کچلا جا رہا ہے۔
ج�� آپ لوگوں کو یہ پیغام دیں گے کہ جتنا بڑا چور ہوگا، اتنا بڑا عہدہ ملے گا، تو انصاف کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ آصف زرداری کی بہن کے خلاف پانچ اپارٹمنٹس کا کیس نیب کے پاس ہے، جو ملازمین کے نام پر ہیں۔وہ خود ملک سے باہر ہے، اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔شہباز شریف پر 22 ارب روپے منی لانڈرنگ کا کیس تھا، اس کے باوجود اسے وزیرِاعظم بنا دیا گیا۔
پچھلے تین سالوں میں پاکستان کی اخلاقی اقدار اور آئینی ڈھانچے کو بالکل تباہ کر کے رکھ دیا گیا ہے۔توشہ خانہ ٹو کیس میں مضحکہ خیز ٹرائل دوبارہ شروع کیا گیا ہے- باقی جیل کی طرح جیل کورٹ بھی ایک کرنل کی مرضی سے چلائی جاتی ہے- میری بہنوں اور وکلأ تک کو کورٹ میں آنے سے روکا جا رہا ہے- میرے رفقأ تک کو مجھ سے نہیں ملنے دیا جاتا- میرے بچوں سے کئی کئی ماہ میری بات نہیں کروائی جاتی- میری کتابیں تک نہیں پہنچنے دی جاتیں اور نہ ہی میرے ذاتی معالج تک رسائی دی جاتی ہے- یہ سب عدالتی ��حکامات اور قوانین کی مسلسل توہین ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قائم غیرقانونی ٹرائل کورٹ میں اپنے وکلأ، اہل خانہ اور صحافیوں سے گفتگو (21 مئی ، 2025)
علی افتخار ایک 25 سالہ نوجوان جسے 9 مئی کے بعد ایک غیر قانونی فوجی عدالت کے ذریعے 10 سال قیدِ کی سزا سنائی گئی۔اس کے والدین پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اور جس نانی اماں نے اسے پالا، وہ بھی پچھلے سال انتقال کر گئیں جب علی فوجی حراست میں تھا۔ علی کا تعلق سیالکوٹ سے ہے لیکن اپنے بھائی کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں وہ لاہور رہتا ہے۔ اُس کا بھائی جو دور دراز علاقے میں کام کرتا ہے، ہفتہ وار ملاقات کے دن اسے ملنے نہیں آ پاتا۔ بطور وکیل، میں ہر ہفتے علی کے لیے وکالت نامہ جمع کراتی ہوں تاکہ وہ ملاقات کے دن آ کر سب کو مل سکے اور اسے یہ محسوس نہ ہو کہ اس کے پیچھے کوئی نہیں آتا۔ ہر ہفتے وہ مجھ سے تین سادہ سی چیزوں کی فرمائش کرتا ہے :کنور نوڈلز، نمکو اور چپس کے پیکٹ۔
جب وہ ملاقات کے کمرے میں مسکراتا ہوا چلتا آتا ہے تو دل کٹ کر رہ جاتا ہے ۔اس فاشسٹ نظام نے علی جیسے کتنے نوجوانوں کی زندگیاں اجاڑ کر رکھ دی ہیں۔
Please watch & share this interview my boys Sulaiman & Kasim did about their father, Imran Khan, who has been held in solitary confinement for almost 2 years despite the UN ruling that his detention is arbitrary & unlawful. Proud Amma.
الحمداللہ میں خیریت سے واپس اپنے گھر پہنچ گیا ہو۔میں شکرگزار ہو اس رب کائنات کا جس نے مجھے حوصلہ دیا اور ان ظالموں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ہمت دی۔میں آج اپنے بیٹے شہید عمار عباد کو بہت یاد کررہا ہو ہماری خوشیاں اسکے بغیر کچھ نہیں۔اللہ جنت الفردوس میں جگہ دیں
’’واپڈا میں جنرل کیوں ہوتا ہے‘‘، یہ پوچھنا بُرا لگ گیا، رات کو میرے گائوں کے میٹر اُکھاڑ دیئے گئے، ٹرانسفارمر بھی لے گئے، ہم پاکستان کے وفادار ہیں، بے شک میرے گھر کو گرا کر ویڈیو بھجوا دیں، ثنا اللہ خان مستی خیل
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی اور کمیٹی اراکین میں نوک جھونک. داسو ڈیم کا چار ارب کا پراجیکٹ 36 ارب تک پہنچنے پر کمیٹی اراکین برہم. جہاں دیکھیں جنرلوں کے کھانچے نظر آتے ہیں، ثنااللہ مستی خیل۔ پراجیکٹ کی رقم کہاں سے کہاں پہنچ گئ اور یہاں آنکھوں میں مرچیں ڈالی جارہی ہیں۔
انتہائی معزرت کے ساتھ، میں ایک پرفیشنل انجینیئر ہوں اور 45 سال کا تجربہ ہے، چیئرمین واپڈا سجاد غنی۔ میں ایک بین الاقوامی ہائیرنگ طریقے سے واپڈا کا چیئرمین منتخب ہوا ہوں۔ اس معاملے کو فوج سے نہ جوڑا جائے۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن آپ سے پہلے والے اور اس سے پہلے والے بھی اسی ادارے سے تھے، چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جنید اکبر
قاضی فراڈ پاکستان کی تاریخ کا بدتمیز ترین جج تھا، یہ کراچی چیمبر میں پریکٹس کرتے ہوۓ بلوچستان کا چیف جسٹس بن گیا، یہ دلائل سننے سے پہلے ہی فیصلہ کر کے آ جاتا تھاپاکستان کی تاریخ اس گھٹیا کردار کو کبھی بھی معاف نہیں کر سکتی
نعیم بخاری
1971 میں بھی ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا گیا، پھر جو ہوا، وہ تاریخ بھلا نہیں پائی۔ تب بھی اگر سیاسی جماعتوں کو متوازن مواقع ملتے تو ملک دو لخت نہ ہوتا۔ آج بھی لوگوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور ان کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں یہی ماڈل نافذ کیا گیا، جس کی وجہ سے آج وہاں کے حالات بے قابو ہیں۔ عمران خان
@ImranKhanPTI #imrankhanPTI #JaffarExpress
https://t.co/U1TOERnfCe
Video: https://t.co/epp1Lrz6x1
"بیرسٹر صاحب نے کہا کہ ٹرین واقعے سے ملک کو زخم پہنچا۔ بیرسٹر صاحب! ملک کو زخم اس دن پہنچا جس دن آپ کا مینڈیٹ چوری ہوا۔ یہ زخم وردی پوش افراد اور ایجنسیوں نے اس ملک کو دیا۔ ہمیں اس طرف انگشت نمائی کرنی چاہیے اگر ملک بچانا ہے، اور اگر اسی تنخواہ پر کام کرنا ہے تو یہ کام نہیں چلنے والا"۔محمود خان اچکزئی کا بیرسٹر گوہر کو جواب
عمران خان واپس آئیں گے، مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے حالات ضرور بدلیں گے، یہ اللہ کا قانون ہے کہ ظلم مٹتا ہے اور مظلوم پنپتا ہے! مولانا طارق جمیل
#ReleaseImranKhan
An Important Message by Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail - March 11, 2025
"Terrorism has once again taken root in the country. During our tenure, Pakistan had successfully curbed terrorism and was progressing towards promoting tourism. Our ranking in the Global Terrorism Index had improved by four places. However, the regime change reversed this progress, and unfortunately, Pakistan has once again become the second worst-affected country in the Global Terrorism Index.
Pakistan’s foreign policy is being handled in the worst possible manner, just like its internal affairs. Our border with Afghanistan is extensive, and matters with them should be resolved through dialogue. Peace in the country will remain elusive unless our foreign policy with neighboring countries is independent and sovereign. Military operations are never the solution to problems — even major wars have been resolved through negotiations and efforts for peace and stability.
The primary role of intelligence agencies is to protect borders and counter terrorism. If they remain occupied with political engineering and attempting to dismantle Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), then who will safeguard the borders? Terrorism is spreading in Balochistan, yet no political solution is being sought for the issue. Stability will not be possible until a government based on public trust is established across the country, including in Balochistan.
Governance across the country is in a dire state because, instead of genuine public representatives, those who were imposed through Form 47 are in control. Khyber Pakhtunkhwa is the only province where an elected government having real public mandate exists, and due to its representation of the people’s aspirations, its performance surpasses that of all other provinces. The province’s annual performance report is exemplary, and Chief Minister Ali Amin Gandapur is doing an excellent job.
Adiala Jail currently operates above the law. It is my legal and fundamental right to meet my wife regularly, but contrary to the jail manual, I am not being allowed to meet my wife for 72 hours within 90 days, which is my fundamental and legal right. Despite court orders, I have not been permitted to speak with my children for the past two weeks. I was allowed to speak with them only four times in the last four months. Even my books are not being delivered to me. All of this constitutes a grave violation of basic human rights, legal norms, and the jail manual. At present, Pakistan is being run in accordance with the law of 'might is right'."
اب تک کوئی سرمایہ کاری تو نہیں ہوئی لیکن ایس آئی ایف سی کے ذریعے مختلف سرکاری محکموں کو فوجی کنٹرول میں دے دیا گیا ہے جس سے پہلے سے تنزلی کا شکار ریاستی نظام مزید تباہ و برباد ہو گیا ہے، عمران خان۔۔۔!!!