اہم خبر ۔۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، پارٹی عہدیداروں اور صوبائی تنظیموں کا اہم اجلاس آج (منگل) پشاور میں طلب کرلیا۔ اجلاس میں 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں پر مشاورت ہوگی۔ ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے آج صوبائی وزراء کو بھی مارچ کی تیاریوں میں تیزی لانے سے متعلق سخت ہدایات جاری کی ہیں۔
گورنر راج لگانا ہے تو لگائیں، ہمت پیدا کرو، ایمرجنسی لگانی ہے لگاؤ، کب لگاؤ گے؟ ساڑھے 4 کروڑ لوگوں کے مینڈیٹ کو آپ کیسے روندیں گے؟ اگر ایسی کوئی حرکت ہوئی تو پہلے گورنر اور پھر گورنر ہاؤس کا محاصرہ ہو گا، شفیع جان
ایم این اے اقبال آفریدی کے گھر باہر پی ٹی آئی ورکرز بڑی تعداد موجود ۔
تمام آنے والے ورکرز سے اپیل ہے کہ معاملہ افہام وتفہیم سے حل ہوگیا ہے ۔ لہذا آنے کی زحمت نہ کرے۔
پشاور اور ضلع خیبر کے تمام ورکرز کا تہہ دل سے شکریہ
ایم این اے اقبال آفریدی کے گھر نقاب پوش اس وقت باہر کھڑے ہے
اگر کوئی ادھر گھس گیا وہ میرے لاش سے گزرے گا
اقبال آفریدی نر کا بچہ ہے ڈٹ کر کھڑا ہے سب پالیمنٹرین کو اس طرح رہنا چاہئے
وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان کی معاون خصوصی برائے داخلہ طارق سعید مروت کے ہمراہ پریس کانفرنس!
وفاقی وزراء کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں، وزراء مسلسل دہشت گردی کو خیبرپختونخوا حکومت سے جوڑ رہے ہیں، انکے وزراء کے پاس ایک ہی رٹا رٹایا اسکرپٹ ہے،
اختیار ولی ایک مسترد شدہ شخص ہے،انھوں نے پولیس سے متعلق غلط اعداد و شمار پیش کیے، وفاقی وزراء نے دہشت گردوں کی سہولت کاری کی اور پولیس کو کمزور دکھانے کی کوشش کی، خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف منفی بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے،
اگر گورنر راج کے لیے امن و امان کی صورتحال جواز ہے تو پہلے بلوچستان میں گورنر راج لگایا جائے، بلوچستان کا بڑا حصہ نو گو ایریا بن چکا ہے، گورنر راج کے لیے وہاں کی صورتحال بھی دیکھی جائے،
گورنر راج لگایا گیا تو عوامی ردعمل سامنے آئے گا، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا آغاز 9/11 کے بعد ایک ٹیلی فون کال سے ہوا،
عمران خان نے قبائلی اضلاع میں ڈرون حملوں کی مخالفت کی، 2013 میں اقتدار میں آکر ہم نے خیبرپختونخوا کو امن و ترقی کی راہ پر گامزن کیا، عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد ملک میں امن کا دور آیا، عمران خان کو ہٹانے کے بعد ملک کو دوبارہ دہشت گردی کی طرف دھکیلا گیا،
عطا تارڑ خیبرپختونخوا آکر یہاں گھومتے ہیں، انہیں بلوچستان کا بھی دورہ کرنا چاہیے، دہشت گردی کے خاتمے اور پالیسی سازی کے لیے ہم سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، لیکن وفاقی حکومت کی نیت بھی ٹھیک نہیں ہے اور طبیعیت بھی ناساز ہے،
لانگ مارچ کے لئے 27 ستمبر کی تاریخ تبدیل کرنا ہماری سیاسی حکمت عملی تھی، وفاقی حکومت عوام اور اداروں کو آمنے سامنے لانا چاہتی ہے، ڈان لیکس اور سپریم کورٹ پر حملے کے ذمہ دار آج ناجائز طریقے سے اقتدار پر براجمان ہیں،
وفاقی حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے، پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے یا بھارت کے ساتھ؟ ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان ہمارے ایمان کا حصہ ہے،
پولیس کے لیے 57 جدید آلات کی خریداری کے لیے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا اور دیگر متعلقہ وفاقی اداروں کو 7.4 ارب روپے ادا کیے گئے، 7.4 ارب روپے کی ادائیگی کے باوجود پولیس کو اب تک صرف 13 آلات فراہم کیے گئے ہیں، پولیس کو آلات کی فراہمی میں تاخیر کے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں،
پولیس کا بجٹ 191 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا، وزیراعلی سہیل آفریدی نے پولیس اور سی ٹی ڈی کے لئے 35 ارب روپے کا پیکج دیا،
مریم نواز شریف ملک کی فیڈریشن کے لیے خطرہ بن رہی ہیں، صرف وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور خیبر پختونخوا حکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے،
ہم نے 80 ہزار جانوں کی قربانیاں دی ہیں، پھر بھی طعنے ہمیں دیے جا رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا،
آپ کی حکومت میں ملک دہشت گردی کے انڈیکس میں پہلے نمبر پر آگیا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے لیے کئی مرتبہ خطوط لکھے، کوئی جواب نہیں آیا،
صحت اور تعلیم کے بعد سب سے زیادہ بجٹ پولیس کو دیا گیا ہے، خیبرپختونخوا کے بجٹ میں امن و امان اور پولیس کو نمایاں ترجیح دی گئی ہے
https://t.co/7cSDjnVuko…
🚨🚨🚨 سہیل افریدی مزید خاموش نہ بیٹھے
پہلی فرصت میں گورنر سے تمام سیکیورٹی واپس لیا جائے
امیر مقام کو کان سے پکڑ کر جیل میں ڈالے ان کے تمام غیر قانونی پلازے اور ہوٹل گرائے
اختیار والی اور کیپٹن صفدر کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹ کر جیل میں ڈالے
لگتا ہے کہ پاکستان پر مسلط کیا گیا سیٹ اپ ملک میں اور خصوصی طور پر خیبر پختونخواہ میں کوئی بڑا سانحہ کروانا چاہتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا نیشنل میڈیا اس ڈرٹی گیم میں اُن کا ساتھ دے رہا ہے۔
ہماری سی ٹی ڈی اور پولیس کو کمزور ثابت کرنے کی کوشش میں کس کو حملے کی دعوت دی جا رہی ہے؟ کیا APS جیسے سانحے کی تیاری کی جا رہی ہے؟ کیا اپنی جعلی حکومت کو بچانے کے لیے ملک میں کسی نئے سانحے کی پلاننگ ہو رہی ہے؟ کیا خیبرپختونخواہ کو ایک بار پھر لہو لہان کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے؟ کیا خیبرپختونخواہ کو تجربہ گاہ سمجھ کر PML N کوئی بڑی گیم کرنے والی ہے؟
ہماری پولیس اور سی ٹی ڈی ماشاءاللہ انتہائی باصلاحیت اور جدید اسلحے سے لیس ہے۔ وفاق کا ادارہ HIT صوبائی حکومت سے رقم وصول ہونے کے باجود جان بوجھ کر سامان کی فراہمی کو سست روی کا شکار کر رہا ہے۔
جو اسلحہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو دیا گیا ہے وہ مفت میں نہیں بلکہ پیسے دے کر وصول کیا گیا ہے۔ باقی سامان پیسے لینے کے باوجود نہیں دیا جا رہا۔
وفاق پر جعلی طریقے سے قابض ٹولہ ملک میں تباہی پھیلانا چاہ رہا ہے۔ پاکستان ہمارا ہے۔ پاکستانی ہمارے ہیں۔ کسی بھی قسم کا کوئی بھی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی گئی تو آئین و قانون کے مطابق ایسا جواب دیں گے کہ پوری عمر سر نہیں اُٹھا پاؤ گے۔