وقت تو بہرحال گزر ہی جاتا ہے، مگر اپنے گزرنے کے ساتھ بہت کچھ ہم سے چھین لے جاتا ہے کچھ عزیز چہرے، کچھ انمول لمحے، کچھ ادھورے خواب اور دل کے وہ گوشے جہاں کبھی زندگی مسکرایا کرتی تھی۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان ماضی کی دہلیز پر کھڑا یہ سوچتا رہ جاتا ہے کہ وقت تو گزر گیا، مگر اس کے ساتھ ہم سے ہمارا کتنا کچھ بچھڑ گیا۔
فرعون کا دریائے نیل میں ڈوبنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا،مگر وہ ڈوب گیا۔ شدّاد اپنی جنت میں صدیوں عیش کرنے چلا تھا، مگر دروازے پر پہنچ کر مر گیا۔ نمرود صدیوں حکومت کرنے کے خواب دیکھتا رہا، مگر ایک مچھر نے اُس کا غرور خاک میں ملا دیا۔ یزید نے حضرت امام حسینؓ کو شہید کرکے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کا خیال کیا، مگر اُس کی بادشاہت بھی چند برسوں سے آگے نہ چل سکی۔
تاریخ کا یہ سبق آج کے اربابِ اقتدار کے لیے بھی ہے کسی عہدے کی طوالت، طاقت کے بے دریغ استعمال یا مخالفین کو پابندِ سلاسل کرنے سے اقتدار کے دائمی ہونے کی ضمانت نہیں مل جاتی۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی، اور جو آج خود کو ناقابلِ شکست سمجھتے ہیں، وہی کل تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہو سکتے ہیں۔
یاد رکھیے، عوام کو ہمیشہ دبایا نہیں جا سکتا، اختلافِ رائے کو ہمیشہ قید نہیں رکھا جا سکتا اور اقتدار کو ہمیشہ کے لیے مٹھی میں نہیں بھینچا جا سکتا۔ اللہ کی پکڑ کا وقت کوئی نہیں جانتا، مگر تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ غرور میں کیے گئے فیصلے بالآخر حکمرانوں کے لیے عبرت بن جاتے ہیں
گزرے تین سال میں 18 لاکھ 71 ہزار سے زائد تعلیم یافتہ پاکستانی ملک چھوڑگئے بیرون ملک جانے والوں میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور اساتذہ شامل 2024میں 45 ہزار سے زائد دوہزار پچیس میں 28 ہزار سے زائد اور رواں سال اب تک 15 ہزار سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بیرون ملک گئے
اتنےسورسزاتنےAi ٹول ہونےکےباوجودبھی لوگ کیوں نہیں سمجھ پارہے
جان کر بھی جاہل یا کم عقل کیوں بنےہوئےہیں۔ کیوں انکوبات سمجھ میں نہیں آ تی
تیری پارٹی میری پارٹی
یہ مذہب وہ مذہب
ڈیوائڈ اینڈ رول کی پالیسی میں پوری قوم کوتقسیم کیاگیا ہےاس لیےہم حق جان کربھی ناحق کاساتھ دیتےہیں؟
خوبسصورت انداز میں بہترین باتیں
چالیس سالہ رکشہ ڈرائیور اتنا باشعور انسان، شدید محب وطن پاکستانی
اور دوسری طرف بڑے بڑے سرکارے عہدوں پر بیٹھے فارن کوالیفائیڈ جاہل پاکستانی اشرافیہ
جاہلیت کا سٹیٹس اور کلاس سے نہیں، سوچ سے پتہ چلتا ہے۔
’’ناکامی یتیم، کامیابی کے ہزاروں وارث‘‘
سہیل آفریدی یا جنید اکبر تھوڑے بہت بھی کامیاب ہوتے تو یوٹیوبرز نے شور ڈالنا تھا دیکھا ہماری اسٹریٹجی کام کر گئی، اب دونوں گرفتار اور مشکل میں ہیں تو لعن طعن شروع کر دی ہے، یہ گھٹیا پن اور بزدلوں کا کام ہے۔ مظلوم سے ہمدردی نہیں کر سکتے تو کم از کم چونچ بند رکھیں۔ لیکن ان بدبخت رزیلوں کے منہ اتنے زیادہ کُھولے گئے ہیں کہ کسی کو نہیں چھوڑتے۔ اور کچھ نہیں تو کم از کم خاموشی ہی اختیار کر لو
اپنے جذبات کو بے دریغ لٹانے کے بجائے، انہیں شعور کی مٹھی میں سنبھال کر رکھیے، احساسات کی کثرت اکثر اپنی قدر کھو دیتی ہے۔ انسان جب کسی پر محبت، توجہ اور خلوص کی بارش حد سے زیادہ برساتا ہے، تو بعض لوگ اس نعمت کی قدر کرنے کے بجائے اس سے اُکتا جاتے ہیں۔ یاد رکھیے، ہر احساس کو ہر لمحہ ظاہر کرنا ضروری نہیں، بعض جذبات کی قدر اُن کی فراوانی میں نہیں، بلکہ اُن کی نایابی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
كُن فَيَكُونُ
When you believe in miracles, when you believe in the power of prayer, when your thoughts are positive, when your intentions are pure, when your patience is beautiful and when you think good of Allah, anything can happen for you. Allah can change it all in a second.
“When He decrees a matter, He only says to it, "Be," and it is.”
— [Al baqarah : 117]
“O my people! This worldly life is only a fleeting enjoyment, whereas the Hereafter is truly the home of settlement”
— Surah Ghafir (Chapter 40, Verse 39)
پاکستان میں 2022 میں شروع ہونے والے سیاسی جھگڑے میں دونوں فریقوں کی پوزیشن آج بھی تقریباً وہی ہے۔ عمران خان کی مقبولیت بھی برقرار ہے، لیکن اس سیاسی کشمکش میں سب سے زیادہ نقصان پاکستانی عوام اور ریاستِ پاکستان کو ہوا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جھگڑے کے تمام فریق ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ریاستِ پاکستان کے مفاد میں آئین کے تحت آگے بڑھیں۔
Absolute legend of an actor, one of the best we have had in Indian cinema. Thank you Nana Patekar for your contribution to art and cinema. May he rest in peace. ❤️🩹🙏