الاقتصاد والخدمات والقيود على الواردات وعوامل متعددة، وتحمّل جميع أطراف النزاع مسؤولية ما لحق بالمدنيين.
**نص منسوب إلى الصديق المحترم غیور ترمذي صاحب۔**
مجاعة اليمن وحرب السنوات الإحدى عشرة
في يوم الخميس 26 مارس/آذار 2015، بدأت السعودية، بقيادة تحالف عسكري، عملية عسكرية في اليمن بهدف مواجهة جماعة الحوثيين وإعادة حكومة الرئيس عبد ربه منصور هادي. وقد بدأت الغارات الجوية في ذلك اليوم، كما فُرضت قيود
إلى تسوية سياسية شاملة.
أما القول بأن السعودية وحدها تتحمل مسؤولية جميع الوفيات، أو أن أرقاماً محددة مثل 368 ألف قتيل و222 ألف وفاة بسبب الحصار وحده مؤكدة، فلا تدعمه المصادر الأممية التي تحققتُ منها بهذه الصيغة؛ فالأمم المتحدة تنسب الأزمة الإنسانية إلى الحرب والصراع وانهيار
مجاعة اليمن...
في حرب اليمن، مات أكثر من 220 ألف شخص بسبب الجوع وسوء التغذية وعدم توفر العلاج والأمراض. وهذا يمثل 60% من إجمالي الوفيات.
أي أن ستة أشخاص من كل عشرة لم تقتلهم رصاصة أو قنبلة، بل قتلهم الجوع. وقتلتهم ندرة الأدوية.
وقتلتهم أمراض مثل الكوليرا، التي انتشرت فقط لأن المياه النظيفة والعلاج لم يكونا متوفرين.
كل هذا نتيجة للحصار الذي فرضته الولايات المتحدة وحلفاؤها. ومع ذلك، هناك من يعترض على الخروج من هذا الحصار لمجرد الانتماء الطائفي. لقد اختفت الإنسانية تمامًا.
@JimmyVirkk حين قتلتم مئات الآلاف من اليمنيين، لم تتذكّروا مكة والمدينة. وعندما بدأ اليمنيون يردّون عليكم، بدأتم تختبئون خلف مكة والمدينة. يا بدو الجبناء.
📛⛔🚨افغانستان کے صوبہ ہرات میں افغان طالبان کے ہاتھوں 30 سالہ عبدالقدیر پہلوانزادہ کو سرِعام قتل کر دیا گیا۔ آزاد افغان میڈیا کے مطابق عبدالقدیر ایک ویلڈر تھا۔ یہ کسی عدالتی فیصلے کے تحت دی جانے والی سزا نہیں بلکہ ایک بحث، اختلاف اور اقتدار کے غرور سے پیدا ہونے والا قتل ہے۔
عبدالقدیر کا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ برسوں میں ہرات کے مختلف علاقوں میں چیک پوسٹوں، معمولی جھگڑوں اور پابندیوں سے متعلق معاملات پر کئی شہری قتل کیے جا چکے ہیں۔ ان واقعات کی غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات سامنے نہیں آتیں، لواحقین کو خاموش رہنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی مرتبہ قاتل سزا سے محفوظ رہتے ہیں۔
یہ وہی نظام ہے جہاں انسانی زندگی کی عزت اور قدر پامال ہو جاتی ہے۔ عدالت کا کوئی کردار نہیں، ثبوت کی ضرورت نہیں اور دفاع کا حق بھی نہیں — صرف بندوق، اشتعال اور طاقت فیصلہ کرتی ہے۔ کسی عام انسان کو گولی مار کر پھر خاموشی اختیار کرنا انصاف نہیں، کھلا ظلم ہے۔
افغانستان میں آج بھی عام لوگ اس خوف کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں کہ کوئی بات، کوئی نگاہ یا کسی معاملے پر اختلاف ان کے لیے موت کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسی وحشیانہ روش ہر معاشرے کے لیے تباہ کن اور قابلِ مذمت ہے۔
#Herat #Afghanistan #HumanRights #Taliban #افغانستان
کدام عالم دین میتواند جواب اینگونه مجازات رابدهد و بگوید که کدام جرم مستوجب چنین مجازات به اساس کدام باور وپندار رواست.
سوال پیدا میشود این چگونه نفرت است که اینگونه تظاهر میکند.
فقط یک تعبیر دارد : خصومت تاریخی و پدر کشته گی...
مردم مظلوم افعانستان با کدام ملتی چنین دشمنی کردند که امروز به این گونه مجازات میشوند و هیچگونه عدالت جهانی از ایشان دفاع نمینماید!
گوش کمونیست های سابق مارکسیست و مائویست در نخستین ساعات کر شده بود.
گوش ماتریالیستان و تیوری پردازان غربی که ارزشهای پوسیده لیبرالیزم و پست مدرنیزم را دستکاری و پوشش زرین داده به چشم مردمان ساده ما (جواهرا ت نایاب گفته) زده بودند نیز بلافاصله کر شد و به زبانهافاسد شان مهر خاموشی زده شد و گوش و زبان اسلام فروشان منحرف را یهود و اسرائیل قبلا بریده و ایشان را به پیکرهای چشم دار تبدیل کرده بود.
کارد به استخوان رسیده و کاسه صبر دارد لبریز میشود. من از عاقبت این وضعیت نگران و در هراسم. اما باور دارم که خداوند متعال سمیع و علیم است. عنقریب دیرنشده عدالت الهی تجلی مینماید. فقط همین باور و ایمان مرا تسلی میدهد.