ڈاکٹر سارہ قریشی۔ 1
اکیلی لڑکی۔۔۔ نیندیں اڑا دیں
*سال 2001۔ NUST۔ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ۔
پہلا دن۔* ساٹھ لڑکوں کے بیچ ایک لڑکی داخل ہوتی ہے۔ نام سارہ قریشی۔ کلاس کے پیچھے بیٹھتی ہے۔ لیکچرر گھور کر دیکھتا ہے۔ لڑکے سرگوشی کرتے ہیں۔ کوئی پوچھتا ہے “بی بی آپ غلط کلاس میں آ گئی ہیں، ہوم اکنامکس والی بلڈنگ ساتھ والی ہے”۔ سارہ مسکراتی ہے اور کاپی کھول لیتی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ وہ غلط کلاس میں نہیں، غلط صدی میں پیدا ہوئی ہے۔ مگر صدی بدلنے کے لیے کسی ایک کو تو پہلا قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ قدم سارہ نے اس دن اٹھا لیا اور پھر چار سال تک NUST کی لیب میں سب سے آخر میں لائٹ بند کر کے جانے والی وہی لڑکی تھی جسے پہلے دن کلاس کا راستہ پوچھا گیا تھا۔ گارڈ رات دس بجے ٹوکتا تھا “بی بی گھر جاؤ، یہاں لڑکیوں کا کیا کام”، سارہ جواب دیتی تھی “چاچا، جہاز کا انجن بنا رہی ہوں، صبح تک ہو جائے گا تو چلی جاؤں گی”۔ گارڈ ہنستا تھا۔ سارہ نہیں ہنستی تھی۔
کیونکہ اسے پتہ تھا کہ پاکستان کی پہلی فیمیل مکینیکل انجینئر بننے کے لیے راتیں کالے کرنی پڑتی ہیں۔ 2005 میں ڈگری ملی۔ NUST کی تاریخ میں پہلی لڑکی۔ لوگوں نے کہا “چلو شاباش، اب نوکری کرو یا شادی”۔ سارہ نے دونوں باتیں سنیں اور تیسری کر دی۔ آٹوموٹو انڈسٹری جوائن کی۔ پاکستان کے ہب میں۔ جہاں انجن تو بنتے تھے مگر چھوٹے۔ سارہ نے وہاں UAV یعنی ڈرون کا آٹو پائلٹ سسٹم ڈیزائن کیا۔ وہ سسٹم جو ڈرون کو خود بخود اڑاتا ہے، بلندی سنبھالتا ہے، ہوا کے تھپیڑے میں بیلنس رکھتا ہے۔ انڈسٹری نے کہا “یہ لڑکی تو کام کی ہے”۔ مگر سارہ کا خواب بڑا تھا۔
اسے زمین پر نہیں، آسمان میں اڑنا تھا۔ اسکالرشپ ملی۔ UK چلی گئی۔ Cranfield University۔ دنیا کی ٹاپ ایرو اسپیس یونیورسٹی۔ وہاں PhD شروع کی۔ موضوع؟ Aerospace Propulsion۔ آسان لفظوں میں: جہاز کا انجن۔ اب ذرا رکو اور سوچو۔ لاہور کی ایک لڑکی، جسے NUST میں کلاس کا راستہ بتایا گیا تھا، اب دنیا کے سب سے مشکل موضوع پر PhD کر رہی ہے۔ اور اکیلی نہیں کر رہی۔ MSc کے گورے لڑکوں کو پڑھا بھی رہی ہے۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے ہیں “You are from Pakistan? And you are teaching us jet engines?” سارہ کہتی ہے “Yes, and I will build one too”۔ پی ایچ ڈی کے دوران اس کا واسطہ پڑا ایک ایسے مسئلے سے جس نے پوری دنیا کو پریشان کیا ہوا تھا۔ جب جہاز اڑتا ہے تو پیچھے سفید لکیر چھوڑتا ہے۔ ہم سب نے دیکھی ہے۔ اسے کنٹریل کہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں بادل ہے۔ مگر سائنس کہتی ہے کہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے دو گنا زیادہ خطرناک ہے۔ یہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مطلب تمہاری گاڑی سے زیادہ جہاز کا وہ سفید دھواں زمین کو گرم کر رہا ہے۔ پچاس سال سے سائنسدان حل ڈھونڈ رہے تھے۔ امریکہ، جرمنی، جاپان سب فیل۔ سارہ نے اپنے والد مسعود لطیف قریشی کے ساتھ بیٹھ کر کہا “ابو، اگر مسئلہ دھوئیں کا ہے تو دھواں ہی ختم کر دیتے ہیں”۔ باپ فزسٹ تھا، بیٹی انجینئر۔ دونوں نے لیب میں تالا لگا دیا۔ 2018 کا سال تھا۔
تین سال لگے۔ نیندیں حرام ہوئیں۔ Cranfield کے پروفیسر
بھی ساتھ مل گئے۔ اور پھر ایک دن انجن اسٹارٹ ہوا۔ انجن نے دھواں باہر نہیں پھینکا۔ اندر ہی پکڑ لیا۔ کیسے؟ اس کے اندر ایک پریشر بیسڈ کنڈنسیشن سسٹم لگا ہے۔ یہ سسٹم ایگزاسٹ کے گرم بخارات کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ بخارات پانی بن جاتے ہیں۔ وہ پانی جہاز کے ایک ٹینک میں جمع ہو جاتا ہے۔ کنٹریل؟ زیرو۔ دھواں؟ زیرو۔ گلوبل وارمنگ میں جہاز کا حصہ؟ ختم۔ اور کہانی یہاں نہیں رکی۔ سارہ نے کہا “یہ پانی ضائع کیوں کریں؟” اس نے سسٹم میں ایک اور کمال کر دیا۔ پائلٹ جب چاہے بٹن دبا کر وہ پانی بادلوں میں چھوڑ سکتا ہے۔ مطلب جہاز سے مصنوعی بارش۔ جہاں قحط ہو، وہاں پانی۔ ایک انجن، تین کام۔ ایک: گلوبل وارمنگ کم۔ دو: مصنوعی بارش۔ تین: فیول ایفیشنسی بڑھ گئی کیونکہ انجن کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہا۔ دنیا نے جب یہ سنا تو سانس روک لی۔ امریکہ اور UK نے فوراً دو انٹرنیشنل پیٹنٹ دے دیے۔ 2018 میں ہی سارہ پاکستان واپس آئی۔ والد کے ساتھ مل کر کمپنی بنائی: Aero Engine Craft Private Limited۔ پاکستان کی تاریخ کی پہلی کمرشل جیٹ انجن R&D کمپنی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں۔ ایک عورت کی لیڈرشپ میں۔ لیب لاہور میں لگائی۔
اور پھر وہ کر دکھایا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ پاکستان کا پہلا سول جیٹ انجن بنا دیا۔ جی ہاں۔ مکمل جیٹ انجن۔ زمین پر چلا کر دکھایا۔ ٹیسٹ ہوا۔ کامیاب۔ اس دن پاکستان دنیا کا چھٹا ملک بن گیا جو کمرشل جیٹ انجن بنا سکتا ہے۔ پہلے پانچ کون ہیں؟ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین۔ چھٹا نام کس نے لکھوایا؟ ایک پاکستانی بیٹی نے۔ مگر رکو۔ کہانی ابھی باقی ہے۔ اسی دوران سارہ نے ایک اور پیٹنٹ فائل کر دیا۔ کس چیز کا؟ سپرسونک کمرشل ایئرکرافٹ انجن۔ جاری
1986 میں بھارت کا ایک پانچ سالہ بچہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ریلوے اسٹیشن پر تھا۔ وہ ایک بینچ پر بیٹھا بھائی کے واپس آنے کا انتظار کرتے کرتے سو گیا۔ مگر اس کا بھائی کبھی واپس نہ آیا۔
جب وہ جاگا تو اپنے بھائی کو ڈھونڈتے ہوئے ایک خالی ٹرین کے ڈبے میں جا پہنچا، یہ سوچ کر کہ شاید وہ اندر ہو۔ وہاں وہ دوبارہ سو گیا۔
جب آنکھ کھلی تو دروازے بند تھے، اور ٹرین چل چکی تھی۔
یہ ٹرین تقریباً دو دن تک نہ رکی۔ جب آخرکار رکی، تو وہ بچہ کولکتہ پہنچ چکا تھا، اپنے گھر سے تقریباً 1500 کلومیٹر دور۔
وہ اتنا چھوٹا تھا کہ اپنا پورا نام بھی نہیں جانتا تھا، نہ پڑھ سکتا تھا، نہ اپنے شہر کا نام بتا سکتا تھا۔
ہفتوں تک وہ اکیلا سڑکوں پر بھٹکتا رہا۔ کبھی اسٹیشن کی بینچوں کے نیچے سوتا، کبھی بچے کھچے کھانے سے پیٹ بھرتا۔ آخرکار اسے ایک یتیم خانے پہنچا دیا گیا، اور اسے لاپتہ بچہ قرار دے دیا گیا۔ کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کہاں سے آیا تھا۔
کچھ عرصے بعد آسٹریلیا کے جزیرے تسمانیہ سے ایک جوڑے نے اسے گود لے لیا۔ انہوں نے اسے محبت بھرا گھر دیا، نئی زندگی دی، اور اس کا نام سارو بریئرلی رکھا۔
وہ دنیا کے دوسرے کنارے پر بڑا ہوا، مگر اپنے ماضی کو کبھی نہ بھولا۔
اس کے ذہن میں بچپن کی چند دھندلی تصویریں ہمیشہ زندہ رہیں:
ایک ریلوے اسٹیشن کے قریب پل، پانی کی ٹینکی، گلیوں کا نقشہ، اور اپنے گھر والوں کے چہرے۔
جب وہ پچیس برس کا ہوا تو اسے Google Earth ملا۔
اس نے اندازہ لگایا کہ ٹرین دو دن میں کتنی دور جا سکتی تھی۔ پھر کولکتہ کے گرد نقشے پر ایک دائرہ بنایا، اور اس دائرے میں آنے والی ہر ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ شہروں کو دیکھنا شروع کیا۔
کئی ہفتوں تک وہ تیس تیس گھنٹے سیٹلائٹ تصاویر میں گھورتا رہتا، صرف اس امید میں کہ کوئی منظر اس کی یادوں سے مل جائے۔
اس کے آسٹریلوی گھر والوں کو بھی معلوم نہ تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ وہ بس انٹرنیٹ دیکھ رہا ہے۔
پھر 2011 میں، برسوں کی تلاش کے بعد، اچانک اسے وہ سب نظر آیا۔
ایک پانی کی ٹینکی۔
ایک پل۔
اسٹیشن کے بعد ایک نالہ۔
یہ کھنڈوا شہر کا علاقہ گنیش تلائی تھا۔
اس نے نقشے پر زوم کیا… اور وہ سڑکیں پہچان لیں، جن پر وہ بچپن میں چلا کرتا تھا۔
وہ فوراً بھارت گیا، شہر کی گلیوں میں گھومتا ہوا اپنے گھر تک پہنچا۔ دروازے پر زنجیر لگی تھی۔ اسے لگا شاید بہت دیر ہو چکی ہے۔
پھر چند لوگ باہر آئے، اور ان میں سے ایک اسے ایک عورت کے پاس لے گیا۔
وہ اس کی ماں تھی۔
25 سال بعد ماں اور بیٹا ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔
مگر اس لمحے اسے ایک اور سچ معلوم ہوا۔
اس رات جس بھائی کا وہ اسٹیشن پر انتظار کر رہا تھا، گڈو، وہ ٹرین کی زد میں آ کر اسی رات وفات پا گیا تھا۔
اس کی ماں نے پچیس سال دونوں بیٹوں کو ڈھونڈا۔
ایک کے بارے میں جان لیا۔
دوسرے کے لیے دعا کرنا کبھی نہ چھوڑی۔
سارو کی یہ حیرت انگیز کہانی بعد میں کتاب A Long Way Home بنی، اور پھر اسی پر فلم Lion بنائی گئی، جسے چھ اکیڈمی ایوارڈ نامزدگیاں ملیں۔
ہیرے جیسے لوگ :
40 اور 60 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ ٹھکرا کر غریبوں کے مفت آپریشن کرنے والا پاکستانی ڈاکٹر ۔۔۔۔
ڈاکٹر محمد خان ببر نے 2015 میں گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس جوائن کیا تو لاہور سے ایک بڑے پرائیویٹ اسپتال کی جانب سے رابطہ کیا گیا کہ وہ ان کو ماہانہ چالیس لاکھ روپے دینے کو تیار ہیں، وہ لاہور آجائیں۔
ڈاکٹر محمد خان نے انکار کیا کہ انہیں یہیں کام کرنا ہے۔ پھر دوسری بار 2017 میں ڈاکٹر محمد خان سے لاہور کے اسی اسپتال منتظم نے رابطہ کیا اور ڈاکٹر سے مذاکرات کے دوران ساٹھ لاکھ روپے مہینہ دینے کی آفر کی۔
اس وقت لاہور میں کڈنی ٹرانسپلانٹ کے فی مریض تیس لاکھ روپے وصول کئے جاتے تھے۔ اور یہاں سندھ میں ڈاکٹر محمد خان یہ ٹرانسپلانٹ مفت کررہے تھے ۔
کسی نے ڈاکٹر صاحب سے گمبٹ انسٹیوٹ سے ملنے والی تنخواہ پوچھی تو کہنے لگے ، 4 لاکھ روپے ملتے ہیں لیکن ٹیکس وغیرہ لگ کر شکر الحمد للہ اخراجات کے لیے رقم بچ جاتی ہے ۔
ڈاکٹر محمد خان سندھ کے دور دراز علاقے جوہی سے تعلق رکھتے ہیں، بچپن سے مظلوم و محکوم عوام سے محبت اور انکی خدمت کے جذبے سے بھرا دل رکھتے ہیں ،
دعا ہے اللہ کریم ڈاکٹر محمد خان ببر کی جان مال میں برکت عطا فرمائے اور انہیں صحت و خوشیوں بھری لمبی زندگی دے۔
آمین ثم آمین
BREAKING:
🇵🇰 Pakistan has lifted its 8-year crypto ban and banks can now open channels for digital assets.
280 million people just got access to crypto.
کنگ فیصل ائیر بیس مکمل طور پر پاکستان آرمی اور پاک فضائیہ کے حوالے کر دیا گیا!
نقشے پر نظر ڈالیں تو سعودی عرب سے اسرائیل کا فاصلہ صرف ۵۰۰ کلومیٹر کے قریب ہے…
اور دل و دماغ میں رسول اللہ ﷺ کی وہ حدیث مبارکہ گونج اٹھی:
“جب جنگیں در جنگیں ہوں گی تو اللہ غیر عرب میں سے ایک ایسی فوج اٹھائے گا جو عربوں سے بہتر سوار ہوں گے اور بہتر ہتھیار رکھتے ہوں گے۔ اللہ ان کے ذریعے دین کی مدد فرمائے گا۔”
آج اللہ پاک نے اس عظیم خدمت کے لیے پاکستان اور پاک فوج کو منتخب فرما لیا ہے۔
یہ کوئی اتفاق نہیں… یہ تقدیر ہے!
پاکستان زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد
تکبیر! اللہ اکبر 🔥
پاکستان کا سب سے بہترین مثالی سٹور جہاں آپکو اسرائیل اور اتحادیوں کی کوئی بھی مصنوعات نہیں ملیں گی
اس امر کی اشد ضرورت ہےکہ پورے پاکستان میں اس جذبے کو پھیلایا جائے
تمام احباب سے گزارش ہے
کہ یہ ویڈیو اپنے جاننے والے تمام دوکان دار حضرات کو سینڈ کریں
#بائیکاٹ_یہودی_مصنوعات
ایک بھارتی اینکر نے وہ الفاظ بول دیۓ جو کبھی فضل الرحمان نے بھی نہیں بولے۔
یہ ویڈیو صرف ان کے لیے ہے جن کا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ ایک غیر مسلم اینکر نے وہ کہہ دیا جو ہمارے حکمران کہنے سے ڈرتے ہیں۔ کیا ہم واقعی ایک زندہ قوم ہیں یا صرف گنتی کے ۲ ارب مردہ لوگ؟ 💔🇵🇸
اس ویڈیو کو اتنا شیئر کریں کہ یہ ہر سوئے ہوئے مسلمان تک پہنچ جائے! 📢
یورپ کے کسی شہر میں ایک ازبک آدمی نے سورہ البقرہ (گائے) کی ریکارڈنگ چلائی تو حیرت انگیز طور پر ساری گائیں بھی تلاوت سننے لگیں
جب تلاوت ریکارڈنگ بند کر دی گئی اور موسیقی بجائی گئی تو گائوں نے منہ موڑ لیا
یہ عمل کئی بار کیا گیا
اللہ ایک چھوٹی سی مچھلی کے لیے غوطہ خور کو سمندر کی گہرائیوں میں بھیج دیتا ہے۔ وہ یقیناً تمہاری پریشانیاں بھی دور کر سکتا ہے جب تم اس کی زمین پر کھڑے ہو۔
اپنے سخی اور مہربان رب پر بھروسہ رکھو۔
ایک نایاب طبی معجزہ! 😮
“این کاول” پیدائش میں بچہ مکمل طور پر پانی کی جھلی میں لپٹا ہوا دنیا میں آتا ہے۔
یہ حیرت انگیز لمحہ نہ صرف منفرد ہوتا ہے بلکہ پیدائش کے دوران بچے کو کچھ حد تک تحفظ بھی دیتا ہے۔
قدرت کے کرشمے واقعی بے مثال ہیں! ✨
#MedicalFacts
"گزشتہ رات، اس جیل سے جہاں غزہ کے مسلمان سزائے موت کے منتظر قید تھے، تکبیر کی صدائیں بلند ہوئیں."
"جو کوئی کچھ بھی کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور پھر بھی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اُنہیں ذمہ دار ٹھہرائے."
ایران کے بہن بھائیوں کو پاکستان آمد پر خوش آمدید ۔ ایرانی عوام کا پاکستان میں داخل ہونے پر خوشی کا اظہار۔ ایرانی عوام سمجھتی ہی کہ پاکستان محفوظ ملک ہے اور الحمد للہ یہ بات سچ ہے