#بریکنگ#نیوز
وفاقی وزیر علیم خان کی ہاؤسنگ سوسائٹی پارک ویو کے سینکڑوں متائثرین سراپا احتجاج بن گئے
سوشل میڈیا پر علیم خان کو فراڈ قرار دے کر تصاویر شیئر کر دیں
پارک ویو اسلام آباد کا ظلم کب ختم ہوگا؟
ہم نے اپنے پلاٹس کی تمام اقساط اپریل 2022 میں ادا کر دیں…
پھر ہم سے 5 لاکھ روپے ترقیاتی اور قبضہ چارجز کے نام پر زبردستی وصول کر لیے گئے۔
لیکن آج تک ہمارے پلاٹ ہمیں نہیں دیے گئے۔
اور اب جواب یہ ہے کہ:
“ہمارے پاس زمین نہیں ہے”۔
اگر زمین نہیں تھی تو پھر لوگوں کو خواب کیوں بیچے گئے؟
ان کی زندگی بھر کی کمائی کیوں لوٹی گئی؟
کیوں اُن خاندانوں کی امیدوں سے کھیلا گیا
جو ایک چھوٹے سے گھر کی خواہش لیے اس منصوبے پر بھروسہ کر بیٹھے تھے؟
دل دکھتا ہے…
ہر وہ بندہ آج پریشان، بے بس اور دکھی ہے
جس نے اپنی بچت، اپنی محنت اور اپنے بچوں کا مستقبل سمجھ کر سرمایہ کاری کی تھی—
اور بدلے میں اسے صرف دھکے، بہانے اور جھوٹ ملے۔
اگر واقعی زمین نہیں،
تو ذمہ دار کون ہے؟
پیسے واپس کیوں نہیں کیے جا رہے؟
اور خریداروں کی آواز آخر کب سنی جائے گی؟
پاکستان کب بدلے گا؟
جب تک ہاؤسنگ سوسائٹیز لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں کریں گی،
وعدوں کی پاسداری نہیں کریں گی،
اور عوام کی خون پسینے کی کمائی کو کھیل سمجھنا بند نہیں کریں گی—
تب تک کسی ترقی کے دعوے کا کوئی فائدہ نہیں۔