بلھیا اسی مرنا ناہی۔ گور پیا کوئ ہور۔ ارشد شہید زندہ ہے اور اس کو قتل کروانے والے آج کٹہرے میں نہیں- مگر کب تک بچیں گیں۔ اس کے چاہنے والے اس کی یاد زندہ رکھیں گیں۔ہر سال یہ ابال بڑھے گا۔ اس کے نام کے سکالرشپ آ چکے، جرنلزم کے شعبے اس کے نام پر رکھے جا رہے ہیں۔ پریس کلب ہو یا انسانی حقوق کے ادارے اس کے نام سے تختیاں لگ رہی ہیں۔ یہ وہ سرکاری پیسے پر لگنے والی تختیاں نہی ہیں جو حکومت جانے کے بعد کوڑے کے ڈبے میں پھینک دی جاتی ہیں۔ یہ محبت اور عزت کی تختیاں ہیں جس کے لیے ارشد نے جان دی ہے۔ صدا سلامت رہو گے اے دوست۔ سارا پاکستان تمہیں یاد رکھے گا۔ ایسا اعزاز کتنے لوگوں کو ملتا ہے۔ ارشد شریف پہلا سولین نشان حیدر ہے۔
الحمد للہ
یہ چک نمبر 467 میں شروع نیا سکول ہے آج دوسرا دن ہے نرسری پریپ میں 40 بچے ہو گئے ہیں یہاں تعلیم کی اشد ضرورت ہے بچے پڑھنا چاہتے ہیں پانی تک پورے چک میں کڑوا ہے کوشش ہے بچیوں کو اسی سکول میں میڑک تک تعلیم دی جائے
نہ معجزہ ہے کربلا نہ حادثہ ہے کربلا
جو خون سے لکھا گیا وہ فیصلہ ہے کربلا
یہی نہیں کہ صرف اپنے عہد میں ہوا، آج بھی
جہانِ مصلحت میں حرفِ برملا ہے کربلا
سنان و خنجر و کمان ، مشک و چادر و علم
نشانیوں کا اِک عجیب سلسلہ ہے کربلا
افتخار حسین عارف
No one in the world deserves a prize-the Nobel Prize-more than the Doctors of Gaza. They have been saving lives with no medicines to speak of and no light, in bombed out hospitals, under attack from the sky and the ground. A noble gesture for a Nobel Prize.
موٹروے کے دونوں طرف جو باؤنڈری کے اندر زمین ہے اس پہ سفیدہ لگا ہوا ہے سمجھ نہیں آتی کہ اس سفیدے کا کیا فائدہ ہے. انتہائی زرخیز زمین ہے پھر سفیدہ لگانے کی بات کچھ سمجھ نہیں آتی.
اگر موٹر وے "ون "جو پشاور سے اسلام باد تک ہے اس کے گرد آڑو, زیتون, انار, کالی مرچ, اور سیب وغیرہ کے پودے لگا دیے جائیں جن کے لئے وہاں کی آب و ہوا ساز گار ہے تو کتنی خوبصورتی ہوگی اور کتنا زیادہ فروٹ بھی حاصل ہوجائے گا.
اسی طرح موٹروے" ٹو" پہ اسلام آباد سے کلر کہار تک صنوبر اور لوکاٹ بڑا زبردست ہو سکتا.لِلہ سے لے کر بھیرہ تک بیری کا درخت بہت کامیاب ہے.
اسی پہ بھیرہ سے لے کر پنڈی بھٹیاں تک مسمی, کنو, سنگترہ اور گریٹ فروٹ بہت کامیاب ریے گا. پنڈی بھٹیاں سے لاہور تک امرود, فالسہ, لیچی, انگور اور جامن بہترین پرورش پا سکتے.
موٹروے" تھری" پہ پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد اور موٹروے "فور" پہ لاہور سے عبدالحکیم اور فیصل آباد سے عبدالحکیم پہ بھی امرود, آم, جامن, فالسہ ,بیری اور شہتوت وغیرہ کامیاب پودے رہیں گے. موٹروے" فائیو "ملتان سے سکھر پہ بھی بہت اعلٰی اقسام کےکھجور اور آم کے درخت لگائے جا سکتے.
آپ کو پتہ ہوگا آم پھلوں کا بادشاہ ہے اور اس کی 100 سے زیادہ اقسام ہیں لہذا اس پہ یہ ساری اقسام لگائی جا سکتی ہیں. اب دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کی ان پھل دار پودوں کی نگہداشت کون کرے گا تو اس کے لئے مالی بھی رکھے جا سکتے ہیں, یا پھر باغات ٹھیکے پر دئیے جا سکتے ہیں اس طرح ملک پہ بوجھ بھی نہیں بنے گا الٹا یہ پھل دار درخت گورنمنٹ کو منافع دیں گے. اور ہزاروں لوگوں کو روز گار ملے گا. اور مزید برآں پھل پورے ملک میں سستا ھو جائے گا اور پھر حکومت اسے ایکسپورٹ بھی کر سکتی ھے۔
سفیدے کے درخت کے کئی نقصان ہیں، علاقے کا زیر زمین پانی چوس لیتے ہیں.
نہروں اور سڑکوں کے کنارے ہمیشہ جو مقامی درخت لگتے آئے ہیں، شیشم (ٹاہلی)، نیم ، دیسی کیکر، شرینہ، پیپل، املتاس، بڑ (بوڑھ) وغیرہ، ان پر بھی غور کرلیا جائے.ایک اور درخت جس کا آج کل دنیا بھر میں چرچا ہے، جسے سپر فوڈ قرار دیا جارہا ہے یعنی سوہانجنا، بہت آسانی سے لگایا اور پھیلایا جاسکتا ہے.
اور دونوں سڑک کے درمیانی جگہ میں تمام سبزیاں اور فروٹ کی کاشت کی جائے۔
Palestinians and Kashmiris are not asking for something out of this world. Why deprive them of their right to self-determination. In fact the buck stops with the Muslim world. Can Muslim countries transcend their narrow interests and join hands for once?
The true shift in power isn’t in soldiers or tanks anymore. Drones and AI now dominate the battlefield. Ukraine isn’t just a war zone; it’s the blueprint for the future of conflict. Lethal, precise, and detached—war just got colder and deadlier.
Seven Indian delegations visiting 33 countries are really making fun of themselves. I have never seen such disjointed and unconvincing diplomatic endeavour on world scene.
🟥 پاکستان کو بنے ابھی تیسرا سال تھا، 1952ء میں، مراکش ابھی تک فرانسیسی قبضے میں تھا، اور آزادی کی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔
مراکش کے سلطان محمد پنجم نے احمد بالفریج کو اقوام متحدہ بھیجا تاکہ وہ مراکش کی آزادی کے حق میں بات کر سکیں۔
تاہم، فرانسیسی وفد نے انہیں بولنے سے روک دیا، کیونکہ وہ مراکش کو فرانسیسی کالونی قرار دے رہے تھے۔
اس موقع پر پاکستان کے وزیر خارجہ ظفراللہ خان نے راتوں رات پاکستانی سفارتخانہ کھلوایا اور احمد بالفریج کو پاکستانی شہریت اور سفارتی پاسپورٹ جاری کیا۔
اگلے دن، احمد بالفریج نے اقوام متحدہ میں بطور پاکستانی شہری تقریر کی، جس سے مراکش کی آزادی کی تحریک کو عالمی سطح پر پذیرائی اور حمایت ملی۔ جو آگے چل کر 1956ء میں مراکش کی آزادی کا نتیجہ بنی-
▪️سلطان محمد پنجم نے احمد بالفریج کو وزیر اعظم مقرر کیا۔ وہ اپنے دفتر میں پاکستانی پاسپورٹ فریم کر کے رکھتے تھے اور فخر سے اس کا ذکر کرتے تھے.
Vehicle manufacturing companies in Pakistan are following only 18 out of 200 international safety standards and 182 international standards are being completely ignored in the production of vehicles, while vehicle prices are higher than global standards. https://t.co/0DKeCrxkRE
Israeli army kills nine children of Palestinian doctor Alaa al Najjar while she was on duty in southern Gaza as Hamas accuses Israel of systematically targeting medical staff and their families
🔗 https://t.co/3L3ttMvLmd