بھٹو نے دوران تقریر “اچانک” مڑ کے دیکھا تو اپنی کرسی پر بیٹے مرتضی کو پایا۔
وہ چیخے؛
قوم کے بچے زمین پر بیٹھیں، تم کرسی پر؟ ناممکن، اٹھو، وہاں بیٹھو!جلسہ بھٹو نے لوٹ لیا۔
شام کو مرتضی گھر منہ پھیلائے بیٹھا تھا تو ماں نے پیار کیا، پوچھا کس نے کہا تھا کرسی پر بیٹھو؟
مرتضی: ابا نے
جبکہ یہاں پر کرسیاں موجود ہے لیکن ڈرامے بازیاں ضرور کرنی ہیں۔
جب کراچی وفاقی دارالحکومت تھا اس وقت کی ترقی اور جدیدیت کا ریکارڈ دیکھ لیجیے۔ اس وقت کراچی میں ٹریم چلا کرتی تھیں، ایشیا کی سب سے بڑی بلڈنگ تعمیر ہو گئی جسے دنیا دیکھنے آتی تھی۔
اور اس کے بعد جب کراچی سندھ کی عملداری میں آیا اس دن سے آج تک کی بربادی دیکھ لیجیے اور خود فیصلہ کر لیں۔
#بااختیار_کراچی
گلگت بلتستان والے پیپلز پارٹی کو ضرور ووٹ دیں، لیکن پھر یاد رکھیں اس کے بعد۔
آپ کے بچے کھلے گٹروں میں گر کر اپنی جان دیں گے۔
سات ماں کی حاملہ عورت بھی کسی ڈمپر کے نیچے آ کر کچلی جائے گی۔
سڑکوں کے نام پر بڑے بڑے گڑھے ملیں گے۔
گیس کے لئے سلینڈر لینا ہو گا۔
بجلی کے لئے سولر لگانا ہو گا۔
پانی کے لئے ٹینکر ڈلوانا ہو گا۔
تعلیم کے لئے مہنگے پرائوٹ اسکول جانا ہو گا۔
بیماری کی صورت میں پرائوٹ علاج کروانا ہو گا۔
بس یوں سمجھ لیں گلگت بلستان بھی پھر دوسرا کراچی ہی بن جائے گا !!
لہذا پیپلز پارٹی کو ضرور ووٹ دیں تاکہ گلگت کی عوام بھی وہ سہولیات اور مزے لے جو پچھلے اٹھارہ سال سے کراچی کی عوام لے رہی ہے پیپلز پارٹی کی حکومت میں۔
وما علینا۔۔۔۔۔
سوا لاکھ حاجیوں کا مجمع غدیر کے مقام پر روک کر، جو آگے بڑھ گئے اُن کا واپس بلا کر اور پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار فرما کر رسول ص نے پہلے امت کو "نقطہ اعتدال" سمجھایا، پھر علی۴ کی ولایت کا اعلان کیا۔
#عیدغدیر#ٹوٹ_بٹوٹ
گلی کی طرف روشن دان سے باتھ رومز میں خواتین کی ویڈیو بنانے والا خود کیمرے میں آ گیا، یہ واقعہ کیماڑی کا بتایا جا رہا ہے۔
اس حرامخور جانور کو پکڑوانے میں مدد کریں تاکہ اس کا سوفٹوئر بھی اپڈیٹ کیا جائے۔
تیسر ٹاون یو سی 10 میں تین افراد کھلے گٹر میں گِر کر ہلاک ہو گئے۔ ڈسٹرکٹ چئیرمین منگھو پیر حاجی نواز بروہی کی آمد پر عوام مشتعل ہو گئی۔ ٹاون چئیرمین موقع سے فرار ہو گیا۔ ان حالات میں رہ رہے ہیں کراچی والے۔ زندگی کا کچھ پتہ نہیں۔ کوئی ڈمپر اڑا جائے، کھلے گٹر میں گِر جائیں، دوران ڈکیٹی کوئی ڈکیٹ مار جائے، کوئی آوارہ کتا کاٹ کھائے، بجلی کے کھمبے سے چپک کر مر جائے۔ لیکن مجال ہے بھولڑو سرکار کی کان پر جوں تک رینگ جائے !!
#بااختیار_کراچی
فرق صرف اتنا ہےپہلےکوئی ہماری ماں بہنوں پہ بری نظر بھی ڈالتا تھا تو یونٹ اور سیکٹر پہ اس حرامخور کا سافٹ وئر اپڈیٹ کر دیا جاتا تھا۔ پھر اس حرامخور کے برادری والےہمیں دہشتگرد مشہور کرتےتھے۔ اب دیکھ لو اس شہر میں ماں بہنوں کی عزتیں بھی محفوظ نہیں۔ اب یہ حالات دیکھ کر دکھ ہی ہوتاہے۔
اس بھولڑی نے ایک ویڈیو اور دو تصاویر ڈال کر پروپگنڈہ شروع کر دیا۔ حالانکہ ایک تصویر میں کچرہ اٹھانے والی گاڑی صفائی کر رہی ہے۔ باقی دوسری تصویر اور ویڈیو میں کچرہ ضرور دیکھائی دے رہا لیکن تب بھی بھولڑوں کو بھٹو کی باقیات (الائشیں) نہیں ملیں۔ اور ملتی بھی کیسے پنجاب سے تو بھٹو کا صفایا ہو چکا ہے۔
اب حرامخوروں کو شرم سے ڈوب مر جانا چاہیئے۔ عید کے پانچویں دن تک کراچی شہر میں جگہ جگہ الائشوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ پورا کراچی کچرہ کنڈی بنا ہوا ہے۔ اور یہ بیغرت پورے لاہور سے ایک ویڈیو نکال کر اپنے جرائم کی تاویلیں دے رہے ہیں۔ مریم نواز نے لاہور کو واقعی بہت صاف ستھرا اور ماڈرن شہر بنا دیا ہے۔ جبکہ حرامخور بھولڑو سرکار نے کراچی کو موہنجودڑو سے بھی بدتر بنا دیا اور یہ بات پوری دنیا مانتی ہے !!
#بااختیار_کراچی
پورا شہر کراچی بتا رہا ہے کہ کس طرح شہر بھر میں غلاظت اور آلائشیوں کے ڈھیر لگےہیں۔
تمام نیوز چینلز رپورٹ کر رہے ہیں شہر بھر کی صورتحال۔
دنیا مان رہی ہے سندھ سرکار نے کوئی کام نہیں کیا۔ نہیں مان رہے تو اندرون سندھ بیٹھے چند بھولڑو ہی نہیں مان رہے۔
کراچی میں صفائی ستھرائی کے معاملات، تباہ شدہ سڑکیں، کھنڈر نما شہر، پانی، بجلی، گیس، صحت، تعلیم، اسٹریٹ کرائم کے مسائل پر کچھ دوست بغض بھٹو میں پی پی پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، جو بلکل غلط بات ہے۔ پیپلزپارٹی کو سندھ میں حکومت کرتے ابھی صرف 6502 دن ہی تو ہوئے ہیں۔
عید کے چار روز گزر گئے۔
اب جیو، اے آر وائی، سماء، ڈان، ایکسپریس سمیت ملک کے تمام بڑے نجی چینلز جھوٹ بول رہے ہیں۔ بس بےنظیر انکم سپورٹ پہ پلنے والے چنہ، سیما، سکینہ، آفتاب، تہلور جیسے چند حرامخور کراچی سے سیکڑوں دور اندرون سندھ میں بیٹھے سچ بول رہے ہیں۔ 🙃
عید کےتینوں دن گزر گئے۔ چوتھا دن بھی گزر گیا، لیکن پورے کراچی شہر میں بھٹو کی باقیات بکھری پڑی ہیں جس سے تعفن پھیل رہا ہے۔ بھولڑو سرکار اب بینظیر انکم سپورٹ پہ پالےہوئے حرامخوروں سے تعریفی پراپگینڈہ کروانےکے بجائے بھٹو کی باقیات اٹھانے پر توجہ دے۔ شکریہ
کس بےدردی سے کراچی اور سندھ کو لوٹا گیا۔ اور یہ سارا پیسہ دبئی گیا، وہاں جائدادیں بنائی گئیں۔ لیکن اب ان حرامخوروں کا مکمل احتساب ہو گا۔ کراچی اور سندھ ان کے تسلط سے آزاد ہوں گے۔
اب جو ان کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں یہ نقارخانے میں طوطی کی صدا ثابت ہوں گی۔
#بااختیار_کراچی
ایک بوڑھی طوائف کوٹھےکی چھت سےہر آنےجانے والےپر پانی پھینکتی تھی، کسی نےپوچھ لیا ایسا کیوں کرتی ہو؟
بوڑھی طوائف بولی: اب اور تو کچھ کر نہیں سکتیں، لہذا پانی پھینکنےکےبعد جب لوگ گالیاں دیتےہیں تو اس سےہی اپنی تسکین پوری کر لیتی ہوں۔
لطیفہ ہےانیس بھائی بس یاد آگیا تھا تو لکھ دیا۔