سلام اُس باپ پر جو ایک کڑیل جوان بیٹے کے سینے سے برچھی کا پھل، اور ایک شیرخوار بیٹے کے سوکھے گلے سے الجھا ہوا تیر نکال کر بھی کلمہِ شکر ادا کرتا ہے۔
#عاشور#ٹوٹ_بٹوٹ
آیت اللہ شیخ مرتضی انصاری سے پوچھا گیا کہ
یہ کیسے ہو سکتا ہےکہ 1 گھنٹےکی فکر 70 سال کی عبادت سے افضل ہو جائے ؟
جواب ملا: شب عاشور کے حر کی فکر۔۔
#شب_عاشور
خدا اور نبی ہونے کا دعویٰ تو سینکڑوں نے کیا
مگر حسین۴ ہونے کا دعویٰ آج تک کوئی نہیں کر سکا...!! کیونکہ اس کے لئے خود سمیت پورا کنبہ قربان کرنا پڑتا ہے۔
#ٹوٹ_بٹوٹ
بینظیر انکم سپورٹ (بھکاری) پروگرام:
ہر سیاسی جماعت کے ایجنڈے پر روزگار شاید سب سے اوپر موجود ہوتا ہے، اور ہر حکومت بھی اپنی ہر پریس کانفرینس سے لے کر مستقبل کے ایجنڈے میں روزگار، نوکریاں، بزنس اور معیشت کے بلند و بانگ دعوے ضرور رکھتی ہے، اور کروڑوں عوام مل کر جب حکومت کو منتخب کرتے ہیں تو اُنکے لیئے سب سے بڑی توقع جو وہ حکومت سے رکھتے ہیں وہ روزگار، معیشت اور بلند میعار زندگی ہی ہوتا ہے، اسکے بغیر حکومت، ریاست یا ملک کا نہ کوئی فائیدہ ہے نہ ضرورت۔
اب جہاں تک ریاست پاپستان کی بات ہے تو یہاں عوام، عوامی مفاد، میعار زندگی، تعلیم، صحت وغیرہ غیر ضروری چیزیں ہیں بلکہ حکومت و ریاست کے لیئے اول ترجیح صرف دفاع اور سیکیورٹی ہے۔
ملکی بجٹ اور خزانے کا یہ تیاپانچہ پچھلے 75 سال سے جاری ہے اور واحد ترقی قرض کی شرح ہے۔
جب آپ اپنے گھر کی تعلیم صحت کو داؤ پر لگا کر سارا پیسہ گھر کی حفاظت پر لگائیں گے تو بہت جلد آپ کے گھر کا شیرازہ بکھر جائے گا، گھر والوں کی حالت خراب ہو جائے گی اور میعار زندگی زمین پر آ جائے گا۔
مرے پر سو دُرّے کہ اوپر سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی شروع کر دیا گیا اور بڑھتے بڑھتے یہ بھیک پروگرام اب 838 ارب روپے یعنی 3 ارب ڈالرز تک پہنچ چکا ہے۔
کیسی بدقسمتی ہے کہ ایک جانب ریاست ایک ایک ارب ڈالرز کی بھیک مانگتی ہے اور دوسری جانب 3 ارب ڈالرز کی بھیک بانٹ دیتی ہے اور پھر پوری قوم کو حکومت پاپستان اسی قرض کی دھائی دے دے کر پیٹرول بجلی اور گیس کی بڑھائی گئی قیمتوں کے نام پر لوٹتی ہے۔
بینظر انکم سپورٹ پروگرام دراصل ایک ایسی سیاسی رشوت ہے جو پیپلز پارٹی خاص طور پر اپنے سیاسی کارکنوں کو دیتی ہے، اسکی واحد وجہ یہ ہے کہ یہ ریاست اب مذید کسی روزگار کو پیدا کرنے نئی نوکریاں پیدا کرنے یا کاروبار کو بڑھانے سے قاصر ہے، تو یہ دنیا سے قرض لے کر اپنے سیاسی کارکنوں کو بانٹ دیتے ہیں اور اس قرض کے سود کو پورا ملک چکاتا ہے۔
یہ ڈکیتی اور ڈھکوسلے بازی بینیظر کے قتل کے نام پر کی جاتی ہے۔
دجال کا خروج لاڑکانہ سے ہو گا، اس نے گول گھیرے والی شلوار پہنی ہو گی، ایک ہاتھ میں تیر ہو گا، دوسرے ہاتھ میں بینظر انکم سپورٹ کے پیسے، جسے دیکھ کر مقامی جہالے سب سے پہلے اس کے ساتھ مل جائیں گے۔
#ٹوٹ_بٹوٹ
وہ بنیادی طور پہ ایران میں رجیم چینج کے لئے آئے تھے
وہ ایران کے تیل پہ قبضے کے لیے آئے تھے
وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو سو فیصد بند کرنے آئے تھے- مطلب بجلی کے لئے بھی نہیں-
وہ ایران کا میزائل پروگرام بند کرنے آئے تھے-
وہ چین اور باقی دنیا کا گلا گھونٹنے آئے تھے-
وہ ہرموز کھلوانے نہیں آئے تھے-
وہ اپنے اڈے بے معنی کر کے لوٹ رہے ہیں
وہ اپنے شاندار بحری بیڑوں کا رعب وبدبدہ ختم کر کے لوٹ رہے ہیں
وہ دنیا کو یک قطبی سے کثیرالقطبی بنا کے جا رہے ہیں
وہ جنکی رجیم چینج کرنے آئے تھے انہیں خطے کا دادا بنا کر جا رہے ہیں
وہ جسے تباہ کرنے آئے تھے اس پہ 47 سال سے لگی پابندیاں ختم کر کے جا رہے ہیں
بلکہ جو تباہ کیا اسکا بھی تاوان دے کر جا رہے ہیں
وہ عزت و وقار اور رعب و دبدبے اور وسائل پہ قبضہ کے لئے آئے تھے
مگر وہ ایک سو ارب ڈالر خرچ کر رسوائی اور ذلت لے کر واپس جا رہے ہیں
عید قربان پر قربانی کے بدلے کسی غریب لڑکی کی شادی کروانے کا مشورہ دینے والا ایک دوست فٹبال ورلڈ کپ کے میچ دیکھنے امریکا جا رہا ہے۔ اسے مشورہ دیا جتنا خرچہ کر کے جا رہے ہو اتنے پیسوں سے کم سے کم دس غریب لڑکیوں کی شادی بھی ہو سکتی ہے اور ان کے جہز کا انتظام بھی۔ میچ تو ٹی وی پہ بھی دیکھ سکتے ہیں۔
#ٹوٹ_بٹوٹ
ذبیح اللہ کے بیٹے نے کابل میں پانچ عورتوں کو غضبناک ہو کر اپنے ایس یو وی ٹرک سے کچل کر ہلاک کر دیا ۔ غصہ یہ تھا کہ "یہ فتنہ عورت لوگ گھر کا چار دیواری سے کیوں نکلا ۔"
۔
لیکن آپ کچھ مذمت نہیں کر سکتے ۔ آخر کلچڑ ہے !! ہمیں سب کے کلچڑوں کو سر پر بٹھانا چاہیئے !!
وما علینا الالبلاغ۔۔
بلدیہ فیکٹری کو جلانے کا الزام بھی بالآخر ویسے ہی جھوٹا ثابت ہوا جیسے جناح پور، ٹارچر سیلز، را کی ایجنٹی، حکیم سعید، شاہد حامد کیس، نائن زیرو چھاپہ اور دیگر کئی کیسز جھوٹے ہی ثابت ہوۓ..
اس ملک میں سب سے آسان کام الزام لگانا،. سیاسی عداوت کو سرکاری سرپرستی میں نکالنا وغیرہ ہیں.
جن جے آئ ٹیز کو حرف آخر سمجھا جاتا رہا ہے اب انکا کردار بچا ہی کیا ہے..
پہلے دن سے یہ بات کہتا آیا کہ بلدیہ فیکٹری کے سانحہ کو صرف سیاسی آپریشن کی وجہ. بنانے کے لئے استعمال کیا گیا، جماعت اسلامی و دیگر جماعتوں نے اس سانحے کو اپنی سیاست چمکانے لئے استعمال کیا اور پراپیگنڈا کا انتہا کردی گئی...
ایک فیکٹری کو اس طرح دانستہ جلادینا کسی طور اتنا آسان اور ممکن نہ تھا لیکن قربان جائیے اس نسلی عصبیت و نفرت کا کس طرح پورے واقعہ کو صرف ایک سیاسی جماعت اور لسانی اکائی کے خلاف ایک منظم آپریشن کے لئے استعمال کیا گیا..
کتنے لوگوں کو جیو نیوز کے اس وقت کے نیوز کلپس یاد ہیں جن میں ابتدائی سی سی ٹی وئ فوٹیجز دکھائی جہاں نہ تو کوئ آگ لگاتا دکھائی دیا نہ کوئی مشکوک سرگرمی دکھائی دی. خبرنامے میں یہ بھی بتایا گیا کہ فیکٹری کی سی سی ٹی وی فوٹیج قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے ساتھ لے گئے ہیں. جن مین سے کچھ جیو نیوز نے حاصل کیں.
سوال یہ ہے کہ اگر واقعی آگ لگوائی گئی تھی تو اس سارے معاملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کیوں ریلیز نہیں کی گئی؟؟
کیوں صرف الزام پر الزام لگایا جاتا رہا؟
پوسٹ کے ساتھ جیو نیوز کی ایک بلیٹین شامل ہے جسے غور سے دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ یہ کسی طور ایک دہشتگردی نہیں بلکہ ایک صنعتی حادثہ تھا.
کیا اب مخالفین باضابطہ کوئ معافی مانگیں گے؟؟ کیا وہ. لوگ جو جھٹ سے بلدیہ فیکٹری کا الزام لگاتے تھے اب اپنا منہ بند رکھینگے؟؟
"پیرس کے ایک محلے سینٹ انٹونیو کے اطراف میں وحشت اور افسردگی برس رہی تھی ۔ یہ بے رونقی صرف جاڑے کی شدت کی وجہ سے نہ تھی ... بلکہ اس کے اسباب تھے گندگی، دکھ، بیماری، جہالت اور غربت۔ کوئی گھر، گلی اور کوئی کوچہ ایسا نہ تھا جس سے مفلسی نہ جھلکتی ہو ۔ سب سے زیادہ بدبودار اور پیچیدہ وہ گلی تھی جس میں زیادہ تر غریب لوگ رہتے تھے ۔ ان میں سے اکثر کے چہروں پر غصہ اور آنکھوں سے خون برستا معلوم ہوتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ انتقام کی آگ میں جل رہے ہوں۔"
۔
چارلس ڈکنز کے شہرہ آفاق ناول اے ٹیل آف ٹو سیٹیز سے ایک اقتباس ۔۔۔ شاید اٹھارویں صدی کی آخری دہائیوں کے اسی پیرس سے کراچی کی مثال دی تھی پیپلز پارٹی کی شرمیلا فاروقی نے۔
بھٹو نے دوران تقریر “اچانک” مڑ کے دیکھا تو اپنی کرسی پر بیٹے مرتضی کو پایا۔
وہ چیخے؛
قوم کے بچے زمین پر بیٹھیں، تم کرسی پر؟ ناممکن، اٹھو، وہاں بیٹھو!جلسہ بھٹو نے لوٹ لیا۔
شام کو مرتضی گھر منہ پھیلائے بیٹھا تھا تو ماں نے پیار کیا، پوچھا کس نے کہا تھا کرسی پر بیٹھو؟
مرتضی: ابا نے
جبکہ یہاں پر کرسیاں موجود ہے لیکن ڈرامے بازیاں ضرور کرنی ہیں۔
جب کراچی وفاقی دارالحکومت تھا اس وقت کی ترقی اور جدیدیت کا ریکارڈ دیکھ لیجیے۔ اس وقت کراچی میں ٹریم چلا کرتی تھیں، ایشیا کی سب سے بڑی بلڈنگ تعمیر ہو گئی جسے دنیا دیکھنے آتی تھی۔
اور اس کے بعد جب کراچی سندھ کی عملداری میں آیا اس دن سے آج تک کی بربادی دیکھ لیجیے اور خود فیصلہ کر لیں۔
#بااختیار_کراچی
گلگت بلتستان والے پیپلز پارٹی کو ضرور ووٹ دیں، لیکن پھر یاد رکھیں اس کے بعد۔
آپ کے بچے کھلے گٹروں میں گر کر اپنی جان دیں گے۔
سات ماں کی حاملہ عورت بھی کسی ڈمپر کے نیچے آ کر کچلی جائے گی۔
سڑکوں کے نام پر بڑے بڑے گڑھے ملیں گے۔
گیس کے لئے سلینڈر لینا ہو گا۔
بجلی کے لئے سولر لگانا ہو گا۔
پانی کے لئے ٹینکر ڈلوانا ہو گا۔
تعلیم کے لئے مہنگے پرائوٹ اسکول جانا ہو گا۔
بیماری کی صورت میں پرائوٹ علاج کروانا ہو گا۔
بس یوں سمجھ لیں گلگت بلستان بھی پھر دوسرا کراچی ہی بن جائے گا !!
لہذا پیپلز پارٹی کو ضرور ووٹ دیں تاکہ گلگت کی عوام بھی وہ سہولیات اور مزے لے جو پچھلے اٹھارہ سال سے کراچی کی عوام لے رہی ہے پیپلز پارٹی کی حکومت میں۔
وما علینا۔۔۔۔۔