غزہ کی نسل کشی وہ پہلی نسل کشی ہے جس میں میڈیا ایک فعال شریک رہا۔ صیہونی ریاست عزرائیل نے “40 اسرائیلی بچوں کے سر قلم کیے گئے” جیسے من گھڑت مظالم کو حقیقی مظالم کے جواز کے طور پر استعمال کیا۔
Hiroshima : 15 000 tonnes / 900 km².
Gaza : 70 000 tonnes / 365 km².
6 fois plus de bombes sur un territoire 2,5 fois plus petit. L’anéantissement méthodique d’un peuple.
Israeli occupation forces targeted this phone charging point yesterday in Gaza, killing four civilians and wounding many others..
I am wondering why they were targeted?!
Estas son dos historias similares:
🇵🇸La 1ra una niña Palestina que carga a su hermana pequeña herida en el GENOCIDIO en Gaza. 2025
🇯🇵La 2da es sobre un niño que sobrevivió a la BOMBA ATÓMICA en Japón. 1945
#CIJ_ICJ 🇵🇸⚖️🌎
Short TRAGIC story from Gaza
Israeli occupation forces attacked the family. Mother and little daughter immediately KILLED. Another daughter was INJURED.
There was no ambulance so that her father rushed her to hospital using his bicycle 🚲..
Next day, the wounded daughter succumbed to her wounds and the father has lost his family..
دنیا کے ذلیل ترین خنزیر چھوٹے چھوٹے معصوم مظل بچوں پر ظلم کر رہے ہیں
اور دنیا کی جعلی جھوٹی لعنتی تنظیمیں یہ سب کچھ دیکھ کر ایسے خاموش ہیں جیسے ان کے منہ میں زبان نہیں آنکھوں سے اندھے ہیں
کیونکہ یہ بچے غزہ کے بچے ہیں
کیونکہ یہ بچے مسلمانوں کے بچے ہیں🇵🇸
🔴 امریکی صحافی ٹکر کارلسن:
اسرائیل کے اسکولوں میں ریاضی میں ‘+’ کا نشان استعمال نیں ہوتا کیونکہ یہ صلیب کی علامت سے مشابہ ہے۔
امریکہ میں رہنے والے مسیحیوں کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ کس چیز کو فنڈ کر رہے ہیں۔
"میں تھک گیا ہوں بھائی میں تھک گیا ہوں ،میں نے یہ سب دیکھ لیا ہے یہ جنگ نہیں ہے بھائی۔"
⛔️ یہ بزرگ جس کے خاندان نے اسرائیلی قابض فوج کے ہاتھوں اپنے 70 افراد کو کھو دیا وہ فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم کو روتے ہوئے بیان کر رہا ہے انتہائی تکلیف دہ لمحات ہیں اور درد ناقابل بیان