عظیم لیڈر کی عظیم قوم نے بہادری کی ایک اور مثال قائم کر دی۔
شکریہ گلگت بلتستان کے دلیر اور محبِ وطن پاکستانیوں! آپ نے ثابت کر دیا کہ ظلم، جبر اور فسطائیت کے باوجود عوامی طاقت اور شعور کو شکست نہیں دی جا سکتی!
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
اتنا ظلم کر رہے ہیں کہ تین بار نشان تبدیل کیا ہے، ہمارا لیڈر عمران خان ہے اور ووٹ عمران خان کے امیدوار کا ہے۔
گلگت بلتستان میں پری پول دھاندلی، پی ٹی آئی کو الیکشن کمپین سے روکنے اور نشان چھیننے کے باوجود عوام عمران خان کے امیدواروں کے ساتھ کھڑی ہے، اسی لیے اب فارم 47 کے ذریعے انتخابات چرانے کی تیاری ہو رہی ہے۔
#گلگت_بلتستان_خان_کا
”مجھے موت، ہار یا کِسی بھی چیز کا خوف نہیں، اِس کا مطلب یہی ہے کہ میں اپنے مخالفین کیلئے بہت خطرناک ہوں۔“
چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان
#خان_کے_سائے_سے_بھی_خوف
1021 days of illegal incarceration. Basic rights withheld, solitary confinement, no consultation with legal counsel, no family meetings. This is what political victimization looks like in #PakistanUnderAsimLaw
پاکستان بننے سے لے کر 2022 تک تمغہ امتیاز ملنا عزت، وقار، آبرو اور خودداری کا منہ بولتا ثبوت ہوا کرتا تھا۔
لوگ یہ اعزاز ملنے پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے، کیونکہ یہ اعزاز "میرٹ" پر ملا کرتا تھا۔
جب سے فارم 47 اعزاز ملنے شروع ہوئے ہیں، یہ اعزاز مذاق کی علامت بن کر رہ گیا ہے
“عوام اور ملک کا خیر خواہ ہے، غریب کا لیڈر ہے بلکہ پوری دنیا کا لیڈر ہے، انشاءاللّہ وہ ضرور آئے گا، باطل کو جانا ہو گا اور حق کو آنا ہو گا، دل ہمارا کہتا ہے کہ وہ پھر آئے گا!”
#حق_کی_جیت_ہو_گی
“Our father cares about the image of his country. He cares about peace more than his own situation. He decided to call off a protest of his party recently while talks were taking place in Islamabad.” Sulaiman Khan.
پاکستان اس وقت تاریخ کے سیاہ ترین دور سے گزر رہا ہے، جہاں آئین صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گیا ہے۔ چیئرمین عمران خان کی 950 سے زائد دنوں کی قید محض ایک شخص کی قید نہیں بلکہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے ووٹ، اعتماد اور عالمی سطح پر پاکستان کی اس پہچان کی قید ہے جو عمران خان نے برسوں کی محنت سے اس ملک و قوم کو دلوائی۔
ایک مقبول ترین لیڈر کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنا، وکیلوں اور فیملی سے نہ ملنے دینا اور قید تنہائی میں رکھنا وہ فسطائیت ہے جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ قانون کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور عدالتی فیصلوں کو بوٹوں تلے روندا جا رہا ہے۔
کیا انسانی حقوق کے عالمی علمبرداروں کو پاکستان میں جاری یہ لاقانونیت نظر نہیں آتی؟
وقت آ گیا ہے کہ اس فسطائیت کے خلاف قوم کو خود قدم اٹھانا ہوگا، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ فسطائیت کے اس دیو کو عوامی طاقت سے کچلنا ہوگا۔
#FreeTheVoiceOfPakistan
Fact: PTI issues a Press Release supporting and appreciating Pakistan’s mediatory role in cease fire. All its leaders appreciating the development and cancels its jalsa as a goodwill gesture
Propagandists: PTI and India are not happy at Pakistan’s successful peace efforts
Conclusion: The propagandists have phobia of Imran Khan / PTI and are sore losers who like to create fiction where PTI is always villain
Advice: Grow Up Propagandists ; Try to write something without mentioning PTI in it
”انشااللہ پارٹی نکلے گی ہم نکلیں گے یہ جنگلے ٹوٹیں گے، عوام نکلے گی، انقلاب آئے گا۔ عمران خان اور دیگر قیادت و پی ٹی آئی ورکرز کے ساتھ ہونے والے ایک ایک ظلم کا حساب ہوگا ۔ یہ جج یہ پولیس والے جو جو اس فسطائیت کا ذمہ دار ہے اس کا احتساب ہوگا“ @Noreen_KhanPK