چند باتوں کی سمجھ نہیں آتی؛
1۔ رسول اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم کے پیارے نواسے امام حسین علیہ السلام اور ان کے اقرباء پر اتنا ظلم 'مسلمانوں' نے کیسے کر لیا۔
2۔ ان کے پر ظلم کرنے والوں کی واضح طور پر مذمت کرنے میں کیا مسئلہ ہے۔
3۔ خود کو 'حسینی' کہنے میں کیا رکاوٹ ہے۔
تمام مسلمانوں کو اسلام کی عظیم فتح 24 ذوالحجہ 1448 ہجری عید مباہلہ کی مبارک باد ۔ یقینا بعد کی اسلامی تاریخ میں اتنے مسائل نہ ہوتے اگر غدیر خم اور مباہلہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فیصلوں کو دل سے تسلیم کرلیا جاتا۔
@Khaqanabbasifan اس سوال سے پہلے مجھے لفظ 'کار ۔۔۔کردگی' پر تحفظات ہیں۔ کیوں کہ موجودہ وزیراعظم نے کوئی 'کار' ہی انجام نہیں دیا۔ اور اگر کچھ کیا ہے تو صرف یہ بتانے کیلئے کہ اس بار کتنے بھاری دل سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا پڑیں۔یا یہ کہ فلاں نیا (جگا) ٹیکس لگانے کی یہ مجبوری تھی۔
﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَسْليمًا ﴾
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
﴿سورۃ الاحزاب،۵۶﴾
آج صبح جب میں آفس جا رہا تھا، تو راستے میں ایک کالج کی بچی کو سڑک کنارے اپنی سکوٹی کے ساتھ پریشان کھڑا دیکھا۔ اخلاقی طور پر یہی مناسب سمجھا کہ اس کی مدد کی جائے۔ میں نے اپنی بائیک گھمائی اور اس کے قریب جا کر رکا
موجودہ حالات کے پیشِ نظر وہ بچی مجھے دیکھ کر سہم سی گئی، لیکن میں نے مناسب فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے بڑے ادب سے سلام کیا
"السلام علیکم بیٹا جی! آپ کیوں پریشان ہیں اور یہاں اکیلی کیوں کھڑی ہیں؟"
بچی نے دبی آواز میں جواب دیا اور بتایا کہ سکوٹی اچانک بند ہو گئی ہے، موبائل گھر بھول آئی ہے اور کالج سے بھی لیٹ ہو رہی ہے۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا، کہنے لگی: "ابھی ایک لڑکا پاس سے گزرا، اس نے بہت بدتمیزی کی اور گندی باتیں کیں، میں بہت ڈر گئی ہوں۔"
میں نے اسے حوصلہ دیا: "بیٹا! آپ بالکل پریشان نہ ہوں، آپ میری بیٹیوں کی طرح ہیں۔"
میں نے خود کوشش کی لیکن سکوٹی ٹھیک نہ ہوئی۔ میں نے اسے اپنی بائیک پر بیٹھنے کا کہا تاکہ وہ محفوظ محسوس کرے، پہلے تو وہ ہچکچائی لیکن میرے اصرار اور لہجے کے خلوص نے اسے بھروسہ دلایا۔ میں نے مکینک کو بلوایا، جس نے آکر نقص دور کر دیا۔ جب میں نے مکینک کو پیسے دے کر رخصت کیا اور بچی کو بتایا کہ سکوٹی ٹھیک ہو گئی ہے، تو اس کے چہرے کی خوشی دیدنی تھی
اس نے شکریہ کے طور پر پرس سے ہزار کا نوٹ نکال کر مجھے دینا چاہا، لیکن میں نے مسکرا کر انکار کر دیا۔ اسے تاکید کی کہ اب کالج کا وقت نکل چکا ہے، اس لیے سیدھی گھر جائیں۔ وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئی اور دور جا کر ایک بار پھر ہاتھ ہلا کر الوداع کہا
میری تمام بھائیوں سے گزارش ہے
یہ بچیاں ہماری اپنی ہیں۔ اگر وہ اپنی ضرورت یا تعلیم کے لیے سڑک پر نکلتی ہیں، تو انہیں تحفظ فراہم کرنا ہمارا فرض ہے۔ انہیں راستہ دیں، انہیں عزت دیں، نہ کہ انہیں اکیلا دیکھ کر ہوس زدہ بن جائیں
حقیقی مرد وہ نہیں جس سے عورتیں ڈریں، بلکہ مرد ہونے کا اصل احساس یہ ہے کہ آپ کی موجودگی میں کوئی بھی عورت یا بچی خود کو غیر محفوظ نہ سمجھے
آئیں عہد کریں کہ ہم اپنے رویوں سے اس معاشرے کو اپنی بیٹیوں کے لیے محفوظ بنائیں گے تاکہ انہیں مرد ذات سے خوف نہیں، بلکہ تحفظ کا احساس ملے 🩵
واٹس ایپ سپیشل ریکوئسٹ ضرور شئیر کریں
“بھیڑیے سے مذاکرات بھیڑ کو نہیں بچاتے، وہ صرف اگلے شکار کی تاریخ طے کرتے ہیں۔”
لیبیا کے سابق رہنما Muammar Gaddafi کی بیٹی Aisha Gaddafi کا ایران کے عوام کے نام پیغام:
“مغرب نے میرے والد سے کہا تھا کہ اگر وہ اپنا جوہری اور میزائل پروگرام ختم کر دیں تو دنیا کے دروازے کھل جائیں گے۔ انہوں نے اعتماد کیا، رعایت دی… اور پھر NATO کے بموں نے لیبیا کو ملبے میں بدل دیا۔
میرے ایرانی بھائیو اور بہنو!
تاریخ گواہ ہے کہ دشمن کو رعایتیں دینے سے امن نہیں ملتا، بلکہ تباہی آتی ہے۔
جو قومیں ڈٹ کر کھڑی رہتی ہیں وہ عزت کے ساتھ زندہ رہتی ہیں۔
سلام ایران کے عوام کو
سلام ایرانی مزاحمت کو
سلام فلسطین کے عوام کو”
#Iran #Libya #Palestine #Resistance #Geopolitics
گزشتہ رات مدینہ منورہ میں ایک دل موہ لینے والا منظر دیکھنے میں آیا، جب چاند نے روضۂ رسول ﷺ کے سبز گنبد پر اپنی نورانی روشنی بکھیر دی۔
یہ منظر دیکھ کر زائرین کے دل عشقِ رسول ﷺ سے بھر گئے، جیسے چاند بھی اپنے محبوب ﷺ کی زیارت کو جھک آیا ہو۔
سوشل میڈیا پر اس روح پرور لمحے کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے گردش کر رہی ہیں، اور ہر دیکھنے والا محبت اور سکون محسوس کر رہا ہے۔
یقیناً یہ منظر ایمان کو تازگی دینے والا اور دلوں کو منور کرنے والا تھا۔ 💚🌙🕌