@RShahzaddk یہ تصویر تو فیک ہے لیکن تیری زہنی پستی اور بغض کا یہ عالم ہے کہ تم نے پوسٹ کرہی دیا
تو چلو بتاو یہ کھانا تمہارے باپ کی کمائی کا ہے جو اتنی اگ لگ رہی؟
یا تمہاری ماں کی کمائی کا ہے جو اتنا تب رہا؟
اچھا کھانا اچھا پہننا اسلام نے بھی جائز قرار دیا ہے اگر استطاعت ہو تو تم کون ہوتے
@AzharSyed98 چوتیم سلفیٹ انسان سب سے پہلے تو یہ تصویر جعلی ہے اور اگر یہ صحیح بھی ہے تو تجھے اس سے مسلہ؟؟ اگر ایک جگہ میں عزاب ایا ہے تو دوسری جگہ اچھا کھانا نہیں کھانا چاہیے یہ تجھے کس نے کہا بھڑوے ؟
تم جیسے حرامی لوگ سیاست دانوں کی مشغلہ سے پیدا ہوتے ہو کبھی انکا کھانا پینا شیر کیا تم نے؟
“میری بہنوں اور اہلیہ کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔ علیمہ خان باہر آ کر صرف میرا پیغام پہنچاتی ہیں۔ ان کے خلاف مہم افسوسناک اور ملک پر مسلط رجیم کی بزدلی اور خوف کا واضح ثبوت ہے۔
بشریٰ بیگم کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ بشرٰی بیگم نے آج تک مجھے کسی وزیر، ٹکٹ ہولڈر یا سینٹر کو نامزد کرنے کا نہیں کہا۔ وہ کوئی سیاسی پیغام ��ہیں بھیجتیں۔ وہ قید تنہائی میں ہیں ان کا باہر کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ان کو قید و بند کی صعوبتیں صرف میری اہلیہ ہونے کی وجہ سے برداشت کرنی پڑ رہی ہیں۔
ظالم رجیم کو گمان تھا کہ بشرٰی بیگم کو میری کمزوری بنا کر استعمال کریں گے لیکن اپنے غیر متزلزل ایمان کے باعث وہ میری طاقت بن گئی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کی شاید وہ واحد خاتون ہیں جو غیر سیاسی ہیں مگر صرف ان کے خاندان کے کسی شخص کے سیاست میں ہونے کی وجہ سے انہیں قید برداشت کرنی پڑی ہو۔ بشری بیگم کی طبعیت ناساز ہے۔ انھیں چلتے ہوئے چکر محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے معائنے کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی ہے لیکن اب تک قبول نہیں کی گئی۔ ان کا ڈاکٹر سے ترجیحی بنیادوں پر معائنہ انتہائی اہم ہے۔ بشری بیگم کو سیاسی مقدمات میں قید کرنا عاصم رجیم کی اخلاقی اور مذہبی گراوٹ کا ثبوت ہے۔
مجھ پر اور میرے خاندان پر تمام مظالم عاصم منیر کروا رہا ہے۔ ملک میں اس وقت عاصم لا نافذ ہے جس نے ڈاکو ڈفر الائنس کے تحت ملک چلا کر اخلاقیات کا جنازہ اٹھا دیا ہے۔ اخلاقی پستی کا ثبوت یہ ہے کہ میرے خاندان کی عورتوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء سے گفتگو (۱۰ ستمبر، ۲۰۲۵)
3/3