میرے بیٹے کو سی ٹی ڈی نے اٹھایا، سات دن نامعلوم جگہ پر رکھا گیا، عدالت میں لایا گیا دو دفعہ پیش کیا گیا۔ ہم انکی تیسری عدالت میں پیشی کے لئے انتظار کررہے تھے کہ ہم نے سنا کہ میرے بیٹے کو جعلی مقابلے میں مارا گیا ہے۔
یہ کیسا مقابلہ ہے کہ اور کیوں مارا گیا ہے؟
جب میرے بیٹے کو عدالت میں لایا گیا تو دس دس پولیس کی گاڑیاں انکے پیچھے تھے، کسٹڈی سے مقابلہ کرنے گیا تو یہ پولیس والے کہاں مرگئے تھے۔
میرے بیٹے کا قتل فیک انکاوئٹر ہے۔
#JusticeForHamdan
اما ہئوری کئی دن بسترِ مرگ پر رہنے کے بعد آج اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
اما ہئوری اُن ماؤں کے قافلے کی ایک توانا اور باہمت ساتھی تھیں جو اپنے جبری طور پر گمشدہ بیٹوں کی تلاش میں برسوں سے دربدر ہیں۔ اب ہمیں اس بات کا شدید دکھ رہے گا کہ دن بھر احتجاج اور دھرنوں کی تھکن کے بعد ہمیں ہنسا دینے، ہمارا حوصلہ بڑھانے والی اماں ہئوری اب ہمارے درمیان موجود نہیں ہوں گی۔
دہائی سے زائد عرصے تک اؔما ہئوری ہمارے ہر احتجاج اور ہر دھرنے میں شریک رہیں۔ وہ مسلسل اپنے گمشدہ بیٹے کی بازیابی کا مطالبہ کرتی رہیں۔ مگر اس جدوجہد کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ وہ بھی بے شمار دوسری ماؤں کی طرح اپنے بیٹے کے انتظار اور اس کے غم کو دل میں لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
آج اماں ہئوری کی قبر تک تو پہنچ گئی ہے، مگر ان کے بیٹے کی تصویر اب بھی ان کی لاش کے سینے پر ایک خاموش چیخ بن کر وہی سوال دہرا رہی ہے۔
یہ تصویر اس ریاست کی بے حسی پر بڑا سوالیہ نشان ہے کہ ایک ماں نے چودہ برس تک پرامن احتجاج کیا، اپنے گمشدہ بیٹے کی واپسی کا سوال اٹھاتی رہی، مگر قبر تک پہنچ گئی اور یہ ریاست اس کے سوالوں کا کوئی جواب نہ دے سکی۔
#EndEnforcedDisappearances
آج ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بیبو بلوچ کی غیرقانونی حراست کو 3MPO کے تحت مزید تیس دن کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے اہلِ خانہ اور ساتھیوں نے پچھلے کئی ہفتوں میں ہر قانونی دروازہ کھٹکھٹایا، ہر آئینی راستہ اپنایا، ہر فورم پر دستک دی لیکن ہر جگہ صرف مایوسی، خاموشی اور بے حسی کا سامنا ہوا۔ عدالتوں نے آنکھیں بند کر لیں، انصاف کے نظام نے منہ موڑ لیا، اور ریاستی ادارے انصاف دینے کے بجائے ہمیں بار بار یہ احساس دلاتے رہے کہ جیسے ہم اس ملک کے شہری نہیں ہوں۔
پرامن سیاسی آوازوں کو جیل میں ڈال کر ریاست یہ واضح پیغام دے رہی ہے کہ یہاں پرامن جدوجہد کی کوئی وقعت نہیں یہاں دلیل کی جگہ طاقت، اور حق کی جگہ جبر کو ترجیح حاصل ہے۔
جب آئینی راستے بند کر دیے جائیں، جب قانون بھی ظالم کا ساتھ دینے لگے، تو پھر ریاست خود ہی عوام کے دلوں سے پرامن جدوجہد کا یقین ختم کر دیتی ہے۔ آپ جب مسلسل انصاف کے دروازے بند کریں گے، تو عوام کو باور کروائیں گے کہ سیاسی و پرامن راستے محض ایک فریب ہیں۔ اور جب پرامن جدوجہد پر سے اعتماد اٹھ جائے تو وہ خلا صرف غصہ، بےچینی اور ردعمل سے ہی بھرا جاتا ہے۔
بلوچستان کا مسئلہ ایک سیاسی مسئلہ ہے، اور اسے صرف سیاسی انداز میں، مذاکرات اور مکالمے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر سیاسی جدوجہد کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالا جائے گا، تو یہ پرامن راستوں کو بند کرنے کے مترادف ہے۔ سوال یہ ہے: جب آپ پرامن دروازے بند کر دیتے ہیں، تو عوام کو کس طرف دھکیل رہے ہیں؟
ایک طرف عدلیہ انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہے، تو دوسری جانب غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے اسیران کے لواحقین کو اپنی آواز بلند کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی، بیبگر بلوچ، گلزادی بلوچ، بیبو بلوچ اور دیگر سیاسی اسیران کی غیر آئینی حراست کے خلاف اُن کے اہلِ خانہ نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم کیا، جسے پولیس نے زبردستی اکھاڑ دیا۔ اس کے باوجود لواحقین سخت گرمی میں کھلے آسمان تلے اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس احتجاجی کیمپ کا مقصد ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کرنا اور بے گناہ اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ کرنا ہے۔ مگر پولیس کی جانب سے کیمپ لگانے سے روکنا، شہریوں کے اظہارِ رائے اور احتجاج کے آئینی حق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ہم کوئٹہ کے تمام شہریوں، سماجی و سیاسی کارکنان، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور باضمیر افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس احتجاجی کیمپ میں شریک ہو کر متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کریں اور اُن کی آواز کو تقویت دیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے خلاف عدالتی فیصلہ، جو جمعے کو سنایا جانا تھا، ایک بار پھر بغیر کسی واضح وجہ کے مؤخر کر دیا گیا۔ یہ تاخیر اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں عدلیہ اور انصاف کا نظام آزاد نہیں، بلکہ طاقتور حلقوں کے دباؤ اور اشاروں پر کام کرتا ہے۔ ماہ رنگ بلوچ کو پہلے غیرقانونی طور پر گرفتار کیا گیا، پھر تھری ایم پی او جیسے کالے قانون کے تحت نظربند رکھا گیا۔ اب جب عدالت سے انصاف کی امید کی جا رہی ہے، تو بار بار تاریخیں تبدیل کی جا رہی ہیں اور کوئی واضح کارروائی نہیں کی جا رہی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قانون کو انصاف کے بجائے ظلم کے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
کوہلو: لڑکوں نے پاکستانی فوجی اہلکاروں کے مجسمے اکھار دیئے۔ بلوچستان میں خواتین و بچوں پر تشدد و فائرنگ کے واقعات کے بعد لوگوں کے ریاست کیخلاف نفرت میں اضافہ ہوا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماء سمی دین بلوچ سے گھر والوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی، والدہ و بہن تین گھنٹوں تک سینٹرل جیل کے سامنے منتظر رہیں
#Karachi#SammiDeenBaloch#BYC | #TBPNews
Two of our female activists Mahzaib Baloch and Fozia Baloch Arrested by security forces.
The crackdown on Baloch activists continues. Today, two female activists, Mahzaib Baloch and Fozia Baloch, were arrested by security forces at Gaddani Cross while returning from the Uthal protest.
Dear Civil Society Friends and Media,
I am writing with deep concern about my sister, who is under immense psychological pressure in prison. Her health has deteriorated dramatically, and she has been sick for the past three days without access to proper medical care.
Last night, she became severely unwell and experienced repeated vomiting. A doctor was finally called this morning, but the delay in medical attention is unacceptable. I fear that she is being deliberately kept in conditions that are worsening her health, and I am deeply concerned that her food may be contaminated.
This morning, I visited the jail to meet her. My sister iqra wasn’t allowed to meet her. I meet her only for a couple of minutes. She looked extremely weak, sick and fragile.
Beside that, Mahrang has repeatedly complained about surveillance cameras, the lack of proper beds, food, and the violation of her rights as a political prisoner.
Despite these hardships, she remains strong in her spirit. But she is sick and we fear for her life. Internet services were shutdown in Quetta today so that we can’t amplify her voice.
I urge you all to continue raising your voices for her and all detained Baloch prisoners.
kind regards,
Nadia, sister of Mahrang
#ReleaseMahrangBaloch
#SaveMahrangBaloch