صرف ایک یاد دھیانی۔ عمران خان نے حقیقی آزادی کے لئیے ہر وہ ظلم برداشت کیا ہے جو اس پر واجب نہیں تھا۔ اب 24 نومبر کو ایک پرامن عوامی انقلاب کے ذریعے ہم نے عمران خان کی کال پر لبیک کہنا ہے۔
#24NovemberFinalCall
There is no space left for the law to take its course. Vigilantes lurk in the safest spaces, applause for those who kill is no longer from the sidelines. The latest string of chilling episodes illustrates that radicalisation continues to attack Pakistan
https://t.co/PiTGrTRYQw
A guy singing mere "Bill Bill Pakistan" was abducted in 2024.
Here is a thread of Shehzad Roy taking advantage of post Musharraf democratisation with unhinged bangers and timeless tracks.
I firmly believe men can't be fulfilled unless they're actively building something.
We have to be improving ourselves and the world around us, or else we succumb to distraction depression and despair.
What you're building doesn't matter as much as the fact that you're building it.
Your physique. Your family. A business. A community. A career. Creative art. Whatever. If you're not doing any of these things and you're not "happy," this is why.
آج سے کئی سو برس قبل گلیلئیو کے سامنے دو آپشن رکھے گئے یا تو وہ یہ کہے کہ زمین سورج کے گرد نہیں بلکہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے، دوسری صورت میں سزا بھگتے۔ اس نے حلف نامہ دائر کیا کہ میں بہ قائمی ہوش و حواس اقرار کرتا ہوں کہ زمین سورج کے گرد نہیں بلکہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔
کہتے ہیں کہ ساتھ ہی اس نے ایک آنکھ مار کر یہ بھی کہا تھا کہ میرے کہنے سے لیکن سورج زمین کے گرد گھومے گا نہیں۔
اس وقت مولوی کی نظریہ ارتقا کی مخالفت بالکل اسی طرز کی ہے۔ یہ مولوی وقت سے کئی صدیاں پیچھے رہ چکے لوگ ہیں، تاہم ان کا ہرگز کوئی قصور نہیں۔ اس پورے معاملے کی ذمہ دار خود ریاست ہے جس نے تعلیم اور تربیت کی ذمہ داری نہیں لی اور نسلوں کی نسلوں کو شدت پسندی اور مذہبی جنون کی بھٹی میں جھونک دیا۔
جو رد ہوئے تھے جہاں میں کئی صدی پہلے
وہ لوگ ہم پہ مسلط ہیں اس زمانے میں
’ایک شخص نے آگے بڑھ کر میرے ابو سے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ چلیں کیونکہ آپ کی بیٹی کو لوگ قبر سے نکال رہے ہیں کیونکہ اُس کے خلاف فتوی آ گیا ہے۔‘
یہ کہنا تھا فوزیہ (فرضی نام) کا جنھوں نے اپنی زندگی کی ایک مشکل رات کی کہانی بی بی سی کو بتائی۔
انھوں نے بتایا کہ ’رات ایک بجے ہم سب سو رہے تھے کہ اچانک ایک درجن سے زیادہ پولیس کے اہلکار ہمارے گھر کی دیواریں پھلانگ کر اندر آ گئے۔ ہمیں لگا کہ شاید انڈیا نے حملہ کر دیا ہے کیونکہ ہمارا علاقے کے ساتھ انڈیا کی سرحد لگتی ہے۔‘
’اندر داخل ہونے والوں نے گھر کا مرکزی دروازه کھول دیا جس کے بعد مزید لوگ اندر داخل ہوئے۔ انھوں نے مجھے اور میرے بہنوں کو ایک طرف کیا اور پھر میرے بھائیوں اور ابو کو پکڑ کر گھر سے باہر لے گئے۔‘
’اس لڑکی کو قبر سے نکالو کیونکہ ہمارے مردوں کو عذاب ہوتا ہے‘
فوزیہ کا تعلق احمدیہ کمیونٹی سے ہے۔
فوزیہ کا دعویٰ ہے کہ ’میری بہن کی وفات ہوئی تو ہم نے اسے اپنے علاقے کے قبرستان میں دفنایا جہاں ہمارے خاندان کے دیگر لوگ بھی دفن ہیں۔ اس کی موت کے دس دن کے بعد علاقے کے لوگ ایک فتوی لے کر آ گئے کہ اس لڑکی کو قبرستان سے نکالا جائے کیونکہ ہمارے (مسلمانوں کے) مردوں کو عذاب ہوتا ہے۔‘
فوزیہ کے مطابق انھیں وہ فتویٰ دکھایا نہیں گیا جبکہ اُن کے والد نے میت کو قبر سے نکالنے سے انکار کر دیا۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’اس وقت ہمارے گھر کے گرد اتنے لوگ جمع تھے کہ لگ رہا تھا کہ آس پاس کے دیہات کے لوگ بھی اکٹھے ہو گئے ہیں۔ پولیس والے اپنی نگرانی میں میرے بھائیوں اور ابو کو قبرستان لے گئے۔ میری بہن کی قبر کے گرد جمع لوگوں سے کہا کہ آپ لوگ پیچھے ہٹ جائیں کیونکہ اس لڑکی کا باپ اور بھائی آ گئے ہیں۔‘
فوزیہ بتاتی ہیں کہ اس مشکل میں ’ہم نے جماعت کے لوگوں سے رابطہ کیا اور انھیں اس واقعے سے ٓاگاہ کیا تو انھوں نے نئی جگہ کا انتظام کیا اور پھر ہم نے اسے وہاں جا کر دفنایا۔‘
فوزیہ کے مطابق اس واقعے کو گزرے کئی سال ہو گئے ہیں لیکن آج بھی اس واقعے سے ملنے والی تکلیف ان کے لیے کم نہیں ہوئی ہے۔ تاہم وہ آج بھی صرف ایک ہی شکوہ کرتی ہیں کہ ’ہمارے زندہ لوگ تو مشکل وقت گزار ہی رہے ہیں لیکن ہمارے مُردوں کو ان کی قبروں میں سکون سے کیوں نہیں رہنے دیا جاتا؟‘
قبروں کی بے حرمتی کے واقعات کے بعد اب وہاں دھمکی آمیز پوسٹرز پھینکے جا رہے ہیں‘