اس حکومت کی ساری قانون سازیاں مزدور کے لیے ،چھابڑی والے کے لیے چھوٹے دکاندار کے لیے، آپ جاکر تفتیش کرلیں فوڈ ڈیپارٹمنٹ جاتا ہے لیبر ڈیپارٹمنٹ آجاتا ہے، لیبر ڈیپارٹمنٹ جاتا ہے انوائرمنٹ ڈیپارٹمنت آجاتا ہے وہ جاتے ہیں پولیس آجاتی ہے، پولیس جاتی ہے تو پیرا فورس آجاتی ہے لوگوں کی بددعائیں لے رہے ہو۔
آپ نے قانون سازی کردی کہ کوئی فٹ پاتھ پر ریڑھی نہیں لگائے گا ، تم لوگوں نے مرنا نہیں ہے؟ ایک پانچ کروڑ کی گاڑی میں بیٹھ کے مزدور غریب کے بچے کا حق پینے والے کو کوئی نہیں پوچھ رہا۔
لوگوں کے کاروبار تباہ کر دئیے کسان بددعائیں دے رہا ہے۔
انہوں نے ایک گھنٹہ ساوتھ پنجاب پر تقریر کی میں ساوتھ پنجاب سے ہوں اڑھائی سال میں ایک ہسپتال، ایک یونیورسٹی ایک ٹراما سینٹر کوئی ایک کام بتا دیں جو ساؤتھ پنجاب میں کیا ہو۔۔۔ ممبر پنجاب اسمبلی ندیم قریشی
پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے اقبال آفریدی صاحب ورکرز کے ہمراہ اس گرمی میں عمران خان صاحب کی بہنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل کی جانب رواں دواں۔۔!!
”عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، عمران خان سے بہنوں کی پچھلے چھ ماہ سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی، وکلاء کی ملاقات نہیں ہو رہی، ٹی وی اخبار فراہم نہیں کیا جا رہا، بہنیں ہر منگل کو گرمی میں وہاں کھڑی ہوتی ہیں، بشریٰ بی بی سے اگر درخواست دائر ہونے کے بعد فیملی کی ملاقات آج کروا بھی دی جائے تو وہ بےمعنی ہے۔“-بیرسٹر سلمان صفدر
صرف ایک ملاقات خوشخبری نہیں ہے۔ یہ مجرم ہیں جنہوں نے عمران خان کے حقوق معطل کر رکھے ہیں۔ سارے حقوق بحال ہونے چاہییں۔ ابھی ہم نے ایس ایچ او کو کہا ہے کہ نورین نیازی ملاقات کا انتظار کر رہی ہیں لیکن ابھی تک ملاقات کے لیے نہیں بلایا۔ یہ جھوٹے ہیں جو جان بوجھ کر distraction پیدا کرنے کے لیے ایسی باتیں پھیلاتے ہیں۔
علیمہ خان
#خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے
انصافینز! سب مل کر یہ ٹرینڈ #خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے شروع کریں اور عمران خان کی ناحق قید اور گزشتہ کئی مہینوں سے جاری قیدِ تنہائی کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں۔
عمران خان کے ساتھ کیا جانے والا غیر انسانی سلوک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
سب اس ٹرینڈ کو جوائن کریں 👏
”گزشتہ 7 ماہ سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بدترین قیدِ تنہائی کا سامنا ہے، انکا بیرونی دنیا، فیملی اور وکلاء سے کوئی رابطہ نہیں۔ یہاں تک کہ میاں بیوی کی ملاقات بھی بامشکل ہو پاتی ہے، کتابیں میسر ہیں نہ ٹی وی، اس سب کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی گئی۔ توشہ خانہ ون اور ٹو کی اپیلوں پر تو سماعت ہی نہیں ہو پا رہی اور القادر ٹرسٹ کیس میں بھی عدالت کا غیر معمولی رویّہ سمجھ سے باہر ہے، 16 مہینے کے انتظار کے بعد، ضمانت پر فیصلہ دینے کے بجائے، مرکزی اپیل پر دلائل دینے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی ہے، کیونکہ قانوناً پہلے ضمانت کا حق ملنا چاہیے۔“
بیرسٹر سلمان صفدر
#ReleaseImranKhan
حکمرانوں کی بے شرمی اور منافقت کا تماشہ دیکھیے؛ ایک طرف ٹی وی سکرینوں پر بیٹھ کر بڑے معصومانہ انداز میں شکوہ کیا جاتا ہے کہ "ایکشن کمیٹی ہم سے بیٹھ کر بات نہیں کرتی، مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں"۔ لیکن دوسری طرف جب اپوزیشن کا ایک معتبر وفد زمینی حقائق جاننے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے یکجہتی کے لیے راولا کوٹ جانے لگتا ہے، تو انہیں راستے میں ہی روک دیا جاتا ہے۔
قومی اسمبلی سینیٹ کے قائدین حزب اختلاف محمود اچکزئی،علامہ راجہ ناصر عباس،سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر،خالد یوسف چوہدری ایڈوکیٹ اخونزادہ حسین یوسفزئی پر مشتمل وفد کو آزاد کشمیر جانے سے روک کر حکومت نے خود اپنے جھوٹے بیانیے کا جنازہ نکال دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر حکومت سچی ہے اور واقعی کچھ چھپانے کو نہیں ہے، تو یہ خوف کیسا؟
جب آپ سیاسی قیادت کو عوام اور ایکشن کمیٹی سے ملنے ہی نہیں دیں گے، تو مسائل کا سیاسی حل کیسے نکلے گا؟ طاقت کے زور پر آوازیں دبانے اور راستے روکنے کا یہی وہ آمرانہ رویہ ہے جس نے ہمیشہ ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے، رکاوٹیں کھڑی کرنے سے سچ نہیں چھپے گا، بلکہ عوامی غصے میں مزید اضافہ ہوگا۔
“ہمارا درد سمجھیں، جب آپ کے گھر میں آپ کا بھائی یا والدہ بیمار ہوتی ہیں تو آپ بتائیں سب سے پہلے آپ کی ترجیح کیا ہوگی؟
جو درد آپ کا اپنے بھائی یا والدہ کے لئے ہوتا ہے وہی درد ہمارے بھائی کے لئے کیوں نہیں؟”
علیمہ خان کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو
#حسینی_خان_بمقابلہ_یزیدی_نظام
` #ReleaseImranKhan
اس کیس کو تو فوری سن لینا چاہئے عمران خان کے تمام بنیادی انسانی حقوق کو پامال کیا جارہا ہے ایک سابق وزیراعظم کو قید تنہائی میں رکھا ہوا اس کے ڈاکٹرز ، بہنوں ، وکلاء اور سیاسی رفقاء ہر قسم کی ملاقاتیں بند کی ہوئی ہیں۔ نوازشریف جب جیل تھے اس کے ذاتی ڈاکٹر عدنان ہر وقت ان کے ساتھ ہوتے تھے نوازشریف کا پاکستان چھوڑیں لندن میں مرضی کے ہسپتال میں علاج ہوا اور یہاں عمران خان کو ہسپتال سے علاج کروانا تو دور ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات تک نہیں کرنے دی جارہی۔
فیصل جاوید خان
@FaisalJavedKhan