بھٹو کی نیشنلائزیشن کے بعد اگر کسی دور نے پاکستان کی صنعت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے تو وہ موجودہ غیر منتخب حکومت کا دور ہے۔
گزشتہ 4 برس میں ہزاروں صنعتی ادارے سکریپ کے بھاؤ توڑ کر بیچ دیے گئے۔ ملک میں فسطائیت کا ماحول ہے، لہٰذا اس تباہی پر میڈیا میں بھی بہت کم بات ہوتی ہے۔
جموں و کشمیر کے رہنما شوکت میر کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ حقوق کی آواز کو جبر کے ذریعے دبانا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوری اقدار پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔
حکمران طاقت کے ذریعے نفرت اور خوف کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کے حکمرانوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ شوکت میر کی فوری رہائی، حفاظت اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
نون لیگ اور عوام کا مکالمہ؛
عوام کا مینڈیٹ چرایا؟ ہاں، چرایا۔
معیشت تباہ کی؟ ہاں، کی۔
کسان اور تاجر کا بیڑا غرق کیا؟ ہاں، کیا۔
صنعت ختم کی؟ ہاں، کی۔
عدالتوں کی آزادی ختم کی؟ ہاں، کی۔
شرم آئی؟ نہیں
ذہنی مریض عاصم منیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سات ماہ سے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے-
جس کے دوران نہ وکلاء نہ فیملی سے ملاقاتیں ممکن ہیں، نہ علاج کی مناسب سہولیات میسر ہیں، نہ تازہ کتابیں دی جا رہی ہیں-
یہ سب کچھ کرنا قومی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، مگر ان سب چیزوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے، کسی کو کوئی فکر نہیں ہے-
#خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے
اڈیالہ جیل کی پریزن وین سے 14 قیدیوں کا فلمی فرار! لگتا ہے جیل انتظامیہ کو بتایا ہی نہیں گیا کہ PM عمران خان اور بشریٰ بی بی کے علاوہ بھی کوئی قیدی موجود ہیں۔
اور عمران خان سے ملاقات کئے بغیر کے پی کا پورے سال کا بجٹ پاس۔ خان کی ملاقات مائنس۔
175 ارب بھی دے دئیے گئے۔ بس یہ کہا گیا ہے کہ آپ پیسے کاٹ لیں ہم تھوڑی بہت نورا کشتی کریں گے۔ کیس عدالت بھی جائے گا۔ اور پھر فائل بند پیسہ ہضم۔
نہ وکیل۔ نہ کتابیں۔ نہ فون کالز۔ نہ اہلِ خانہ سے ملاقات۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اب سات ماہ سے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ جیل انتظامیہ اور وہ کرنل جو عاصم منیر کی ہدایات پر عمل کر رہا ہے، جو کچھ کر رہے ہیں وہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔
#خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے
گزشتہ روز ایک وفاقی وزیر سے دبئی شاپنگ مال میں اچانک ملاقات ھوگئی , ھم ایک ریسٹورنٹ میں چلے گئے , وہ مجھے قائل کر رھے تھے کہ وزیراعظم شہباز شریف مُلک کی تقدیر بدل دیں گے۔۔
وہ اس موضوع پر آدھا گھنٹہ بولتے رھے میں خاموشی سے سُنتا رہا ۔۔
اُنہوں نے پوچھا ۔۔
آپ چُپ کیوں ہیں , بولتے کیوں نہیں ؟
میں نے اُن سے پوچھا
آپ مجھ پر کتنا اعتبار کرتے ہیں ؟
وہ بولے ۔۔
اتنا اعتبار میں خود پر نہیں کرتا جتنا آپ پر کرتا ھوں ۔۔
میں نےکہا ۔۔
اچھا تو پھر مجھے دس لاکھ روپے اُدھار دے دیں ۔۔
اُنہوں نے پوچھا
واپس کب کریں گے ؟
میں نے کہا ۔۔
جب وزیراعظم مُلک کی تقدیر بدل دیں گے ۔۔
وہ بولے ۔۔
ایہہ تے فیر واپس نہ دین والیاں گلاں ھوئیاں ناں , میں کوئی نئیں دینے ۔۔
😜😂😜😂
گوجرانوالہ کی عوام کئی مہینوں سے نکلیف میں پورے شہر کی روڈز بنا کر توڑنا پھر وہاں میٹرو بنانا،گوجرانوالہ کی عوام میٹرو کے شدید خلاف، میٹرو کی ضرورت نہیں تھی صرف عوام کا پیسہ برباد کیا جا رہا ہے لوگوں کی پراپرٹی گرائی جا رہی ہیں
کئی نسلوں نے محنت بعد جی ٹی روڈ پر جگہ بنائی انکے پلازے گرانے کا پلان میں شامل
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی القادر ٹرسٹ کیس میں مرکزی اپیلوں پر سماعت شروع کر دی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف کیس کی سماعت کر رہے ہیں