🚨 It has been stated repeatedly, and very clearly, by these great scholars that Pakistan is destined to rise and attain glory.
Such is the destiny of Pakistan.
یہ 18 سال پہلے کی اذان ہے۔۔
ہم نے اس وقت بتایا تھا کہ تم دیکھو گے کہ انے والے وقت میں پاکستان اور ترکی کا ایک دفاعی اتحاد ہو جائے گا۔ الحمدللہ اب وقت قریب ا پہنچا ہے۔
جناب ڈپٹی کمشنر سرگودھا صاحب
میں نثاراں پروین، ایک غریب اور بے سہارا عورت ہوں۔ انصاف کے لیے دربدر بھٹک رہی ہوں مگر کہیں شنوائی نہیں ہو رہی
میری منسلک درخواست پڑھ کر مجھے انصاف فراہم کریں اور ذمہ دار افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔
@DCSargodha@CMComplaintCell
میرے خلاف ہراسانی کردار کُشی digital violence اور cyber crime کی کیمپین، جو میرے لباس میری شخصیت کو لے کر 11 اپریل 2026 سے چلتی رہی، میں ملوث ایک اور مجرم، جمیل ولد محمد شفیع، ساکن گڈی ٹپہ خان در خان خیل، تحصیل ڈومیل، ڈسٹرکٹ بنوں، خیبرپختونخوا، کو NCCIA نے گرفتار کر لیا ہے۔
مزید مجرمان کی گرفتاریوں کیلئے بھی مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں اور باقی گرفتار شدگان کی تفصیل بھی مہیا کرتی رہوں گی تاکہ معاشرے میں آگاہی اور قانون کی عملداری کا خوف موجود رہے کہ کسی بھی خاتون کی عزت پر حملے کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے۔
مزید مجرمان یا تو مفرور ہیں، اپنے ایڈریس تبدیل کر رہے ہیں یا مسلسل اب معافیاں مانگ رہے ہیں۔
—————————————————
Well done @NCCIAOFFICIAL
ڈی جی NCCIA سید خرم علی شاہ 👏🏼 اور تمام ٹیم۔
If it’s not something to worry about, then why are you crying over it?
This is the most absurd statement I have heard that India is fighting three adversaries (Pak, China and Türkiye)
By that logic, Pakistan is also fighting three adversaries: India, France, and Russia, right?
گبیکا کپیسول کا زہریلا نشہ ۔ جنوبی پنجاب کی نئی تباہی
جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع جس میں خاص طور پر ڈی جی خان اور مظفرگڑھ میں ایک خاموش لیکن انتہائی تیز رفتار وبا پھیل رہی ہے جس کا نام ہے گبیکا کیپسول کا نشہ۔
یہ کیپسول دراصل پریگابالین نامی دوا پر مشتمل ہے جو اکثر ڈاکٹر اعصابی درد ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف مرگی کے علاج کے لیے تجویز کرتے ہیں۔
یہ دوا دماغ کے اعصابی نظام میں کیلشیم چینلز سے منسلک ہو کر درد کے سگنلز کو روکتی ہے اور اعصابی خلیوں کی حساسیت کم کرتی ہے۔
لیکن جب یہی دوا گلی محلوں میں بغیر کسی ڈاکٹری نسخے فروخت ہونے لگے اور اسے کم عمر بچے نشے کے طور پر استعمال کرنے لگ جائیں یہ ایک عام سا کپیسول بھی زہر بن جاتا ہے ۔۔
جنوبی پنجاب میں اس نشے کا طریقہ یہ ہے کہ چار سے پانچ گبیکا کیپسول توڑ کر سٹنگ انرجی ڈرنک میں ملا کر اس بوتل کو پی لیتے ہیں ۔
سٹنگ میں پہلے سے کیفین اور شکر موجود ہے جو پریگابالین کا اثر بہت زیادہ تیز کر دیتی ہے۔ جنوبی پنجاب میں یہ وبا اس طرح سے شروع ہوی پہلے کم عمر بچوں کو اس کاعادی کیا گیا انہیں جسم فروشی اور پھر مختکف جرائم میں استعمال کیا گیا ۔۔
اب خود سوچیں ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ایک کیپسول 75 سے 300 ملی گرام ہوتی ہے۔ نشہ کرنے والے ایک بار میں چار یا اس سے زیادہ کیپسول لیتے ہیں جو کہ مجموعی خوراک کو خطرناک حد تک بڑھا دیتے ہیں جس سے کتبا شدید ریکشن اتا ہے ۔
ڈی جی خان کے سرکاری اسپتال روزانہ کی مریض پریگابالین اوورڈوز کے کیس ایمرجنسی میں اتے ہیں جن میں اکثریت کم عمد بچوں کی ہوتی ہے ۔۔
یہ نشہ کس حد تک خطرناک ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پریگابالین دماغ کے GABA ریسیپٹرز پر اثر کرتی ہے بالکل اسی طرح جیسے الکوحل اور نیند کی دوائیں کرتی ہیں اور زیادہ مقدار میں یہ سکون اور خوشی کا جھوٹا احساس پیدا کرتی ہے۔
جسکی وجہ سے عالمی ادارہ صحت اور یورپی ادویات ایجنسی دونوں نے اسے غلط استعمال کے لحاظ سے انتہای خطرناک قرار دیا ہے۔
جب اسے سٹنگ کے ساتھ لیا جاتا ہے تو دونوں کمیکل مل کر سانس لینے کے مرکز پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ طبی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ پریگابالین جب کسی اور نشے یا محرک کے ساتھ لی جائے تو بے ہوشی اور کوما کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور ایسے 88 فیصد کیسوں میں دوسرا کمیکل بھی موجود ہوتا ہے۔
پاکستانی میں نشہ چھڑانے کے مراکز میں آنے والے مریضوں میں 51 فیصد پریگابالین کے ساتھ افیون بھی استعمال کرتے تھے اور 39 فیصد ٹراماڈول یا کوڈین بھی لیتے تھے۔ جس کے استعمال سے سانس کی نالی مفلوج ہو سکتی ہے اور موت کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
پنجاب کے اضلاع میں پریگابالین کی بڑی مقدار میں پکڑیں کی گئیں اور جب تک انتظامیہ نے بغیر نسخے فروخت پر پابندی لگائی تب تک لاکھوں افراد اس کی لت میں پڑ چکے تھے۔
جنوبی پنجاب میں صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین اس لیے ہے کہ یہاں نہ ڈرگ اتھارٹی سرگرم ہے نہ میڈیا کوریج ہے اور نہ کوئی بڑا ردعمل موجود ہے۔ ڈرگ انسپکٹر اپنی منتھلیاں لیتے ہیں ۔
یہ نشہ آئس سے کم نہیں بلکہ ایک اہم پہلو میں زیادہ خطرناک ہے اور وہ یہ کہ اسے دوا کے نام پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ بچہ سوچتا ہے یہ دوائی ہے نشہ نہیں۔ والدین کو شک نہیں ہوتا۔ دکاندار دھڑلے سے بیچتا ہے۔ پاکستان میں اکثر فارمیسیاں یہ دوا بغیر نسخے فروخت کرتی ہیں جو اس بحران کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
ا سے اپیل ہے اس دوا کو صرف ہسپتال کے اندر موجود فارمیسز پر رکھا جاے اور جب تک اسی ہسپتال کے ڈاکٹر کا نسخہ نہ ہو اس وقت تک کپیسول نہ دیاجاے ۔۔
صرف اس چھوٹے سے اقدام سے ہم ہزاروں جانیں بچا سکتے ہیں ۔حکومت ادارے سب کچھ کر سکتے ہیں اک پاکستانی ٹک ٹاکر کی چوری ہوتی ہے وزیراعلی کے اک نوٹس پر چوبیس گھنٹے سے پہلے چور بھی پکڑا جاتاہے اور سامان بھی برامد کر لیا جاتا ہے ۔۔
مگر اس کپیسول سے کتنے بچے موت کے منہ میں جارہے ہیں حکومت کو کوی فکر نہی ہے ۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کی معرکہ حق کے بارے بیان - معرکہ حق کی جیت اللہ کے کرم ، عوام کی یکجہتی اور افواج پاکستان کی عظیم قربانیوں سے ممکن ہوئی - معرکہ حق سے پاکستان کی دفاع کی بنیادیں مضبوط ہوئی- اس سے خطے میں طاقت کے توازن کا از سرے نو تعیّن ہوّا- پاکستان نے اپنے دشمن کو شکست دیکر بڑی کامیابی حاصل کی- پاکستانی قوم آئندہ بھی دشمن کے خلاف مُتحد ہوگی-