گورنر راج کے معاملے پر مرکزی صدر اے این پی سینیٹر ایمل ولی خان کی مسلم لیگ (ن) کو ماضی کے سیاسی کردار کی یاد دہانی
یہ اسی ولی خان کا پوتا اور اسفندیار ولی خان کا بیٹا، ضیاء الحق کی باقیات کو شرم و حیا یاد دلا رہا ہے۔ جب وعدہ خلافی پر ہم نے 1998ء میں نواز شریف کی حکومت کو لات ماری اور پرویز مشرف نے آپ کو ��ھیر لیا، تو آپ کو پھر ولی باغ یاد آیا اور حاجی بلور کو لیکر نواز شریف نے حکومت میں شامل ہونے کیلئے ہم پر جرگے کئے لیکن ہم نے آپ کی وہ حکومت قبول نہیں کی اور پھر بھی پرویز مشرف کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے جمہوریت اور جمہوری اداروں کے ساتھ کھڑے رہے۔
یہ اسی ولی باغ کا وارث مسلم لیگیوں کو غیرت دلا رہا ہے کہ جب پیپلز پارٹی مشرف کے مارشل لاء کے بعد آپ کو اے آر ڈی میں بھی شامل نہیں کر رہی تھی تو اسفندیار ولی خان نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو ٹیلی فون کرکے آپ کو اس اتحاد میں شامل کروایا تھا۔
یہ اسی اسفندیار ولی خان کا بیٹا آپ کو کچھ شرم دلا رہا ہے کہ جب حالیہ 2020ء میں جنرل فیض ��ے آپ کو ٹھکانے لگانے کا پروگرام بنایا تھا تو اے پی سی میں ہم نے آپ کو ایسے تجاویز دیے جس کے بعد مریم نواز نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اسفندیار ولی صاحب کی گفتگو واقعی بےحد دلکش ہے، کم از کم اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ وہ سامعین کو مکمل طور پر متوجہ کرلیتے ہیں۔ احترام!"
باقی میں بھی اگر مسلم لیگیوں کی طرح اپنے اوپر "برائے فروخت" کا بورڈ لگا دوں تو مجھ سے پھر حکومت کوئی بھی نہیں چھین سکتا۔ اگر نواز شریف کو فارم 47 پر ایک بوڑھی عورت کے مقابلے میں جتوایا جا سکتا ہے تو ہمارے والے الیکشن جیتنا تو بہت ہی آسان تھا۔ نواز شریف تو اصل معنوں میں 70 ہزار ووٹ بھی نہیں لے سکا۔
#ANP | #AimalWaliKhan | #AWK
Any move to impose Governor’s rule or emergency in Pakhtunkhwa would be simply undemocratic. The ANP will never support such a move. Fundamental human, constitutional and democratic rights of the people cannot be taken away under the pretext of emergency. Instead of fixing the crisis, it will only deepen it. Those responsible for bringing the province to this stage must first face accountability.
جب ہماری حکومت تھی اور ہم دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے تھے تو اس وقت پروپیگنڈا کیا جاتا تھا کہ انہوں نے ڈالرز لیے ہیں، پشتونوں کو بیچا ہے۔ آج سوال یہ ہے کہ 13 سال سے ہماری حکومت نہیں اور ان 13 سالوں سے آج بھی پشتونوں کا خون بہہ رہا ہے۔آپ غافل ہیں تو بتائیں، آج کس نے ڈالرز لیے ہیں؟
کہا جاتا ہے کہ ہمیں پختونخوا اور بلوچستان سے خطرہ ہے، ہم 50 سال سے جل رہے ہیں، ہمیں جلانے والے کون ہیں؟ ہم اپنے علاقوں میں اپنے گھر تو کیا مساجد میں بھی محفوظ نہیں مگر انہی علاقوں سے معدنیات سے بھرے ٹرک نکلتے ہیں، وہ محفوظ ہوتے ہیں۔ ہم جب یہ بات کرتے ہیں تو ہماری حب الوطنی پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔
میاں افتخار حسین
صدر اے این پی خیبر پختونخوا
#ANP | #ANPPakhtunkhwa
مرکزی صدر اے این پی سینیٹر ایمل ولی خان کی کوہاٹ پولیس لائن مسجد دھماکے کی مذمت، متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی
⚫️کوہاٹ پو��یس لائن مسجد دھماکہ انتہائی قابل مذمت اور ریاستی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے
⚫️مسجد اللہ کا گھر ہے، اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے۔ نمازیوں کو شہید کرکے اسلام کی کونسی خدمت ہورہی ہے؟
⚫️عبادت گاہوں میں بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام اور انسانیت کے دشمن ہیں
⚫️اگر ریاست اپنے شہریوں کا تحفظ نہیں کرسکتی تو پھر عوام کس سے اپنے جان و مال کے تحفظ کی امید رکھیں؟
⚫️وزیرستان سے باجوڑ، خیبر اور کوہاٹ تک پختونخوا مسلسل آگ میں جل رہا ہے
⚫️عالمی جنگ بندیاں کرنے والے پختون سرزمین پر جاری اس جنگ پر کیوں خاموش ہیں؟
⚫️دفاعی معاہدوں کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو اس صوبے کی چیخیں کیوں سنائی نہیں دے رہی ہیں؟
⚫️ہمارے ادارے ہمارا دفاع کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں
⚫️پختونخوا کو مزید تجربات اور سیاسی تماشوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا
#ANP | #AimalWaliKhan | #KohatBlast
دو درجن سے زائد اداروں کے سربراہان ریٹائرڈ فوجی ہے اور مسلط شدہ وزیر داخلہ کہہ رہا ہے کہ سسٹم بیٹھ گیا ہے اور نئے صوبے بنائیں گے
#ANPRejectsProvincialDivision
@AimalWali آئین میں اصلاحات کے نام پر اس نوعیت کے تجربات سے گریز کرنا ہی عقل مندی ہے۔ اس وقت ملک کو آئین توڑنے یا نئے معاہدے مسلط کرنے کی نہیں، بلکہ موجودہ آئین پر اس کی روح کے مطابق مکمل عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
#ANPRejectsProvincialDivision
عوامی نیشنل پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان نے صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا میں صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد جمع کرادی
فیڈریشن آف پاکستان کے اندر پختونخوا ایک قومی وحدت ہے اور وفاقی اکائی ہے۔ صدیوں کی تاریخ، ثقافت، زبانیں، جغرافیہ، اور یہاں کے عوام کے مشترکہ معاشی مفادات نے اس قومی وحدت کی تشکیل کی ہے۔
صوبہ پختونخوا دھرتی پر ہزاروں برسوں سے گندھارا، یونانی باختری اور اسلامی تہذیبوں نے اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں، جو یہاں کے عوام کی شناخت، طرز زندگی اور اقدار میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔
ایک قومی وحدت کی حیثیت سے خیبر پختونخوا فیڈریشن آف پاکستان کی ایک وفاقی اکائی ہے۔
یہ ایک تاریخی اور سیاسی حقیقت ہے کہ وفاقی اکائیوں نے مل کر وفاق پاکستان کی تشکیل کی ہیں۔ اور سقوط بنگال کے ��عد بھی صوبائی قومی وحدتوں نے ملکر باہمی رضامندی سے 1973 کے آئین کی تشکیل کے شکل میں یہ موجودہ فیڈریشن کو تشکیل دیا ہے۔
دنیا بھر میں جن ممالک نے قومی وحدتوں کو وفاقی اکائیوں کے طور پر تسلیم کیا ہے، انکی ثقافتی، تاریخی اور لسانی شناختوں کو مانا ہے، انکے وسائل پر انکی ملکیت کو تسلیم کیا ہیں، اور انکو خود مختار حکمرانی کا حق دے دیا ہے، وہاں پر سیاسی اور معاشی استحکام بھی ہے، اور وہ ممالک روز بروز ترقی بھی کر رہے ہیں۔ اور انکے عوام خوشھال زندگی گزار رہے ہیں، مثال کے طور پر آسٹریلیا، سویٹزرلینڈ، کینیڈا، جنوبی افریقہ، فیڈرل ریپبلک آف جرمنی اور پڑوسی ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔اگر اٹھارویں آئینی ترمیم کی بعد اس پر مکمل عملدرآمد کیا جاتا تو آج صورتحال یکسر مختلف ہوتا۔
ایک اہم آئینی نکتہ جو اس پوری بحث میں نظر انداز کیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ فیڈریشن آف پاکستان کا آئینی ڈھانچہ اور عمرانی معاہدہ تین ستونوں پر کھڑا ہے۔
پہلا ستون: جمہوریت
دوسرا ستون: وفاقیت/فیڈریشن
تیسرا ستون: بنیادی انسانی حقوق
ان میں سے کسی بھی ستون کو چھیڑنے کیلئے ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہوگی۔ یہ بکھیڑا ریاست پاکستان کیلئے ایک بہت بڑے حادثے سے کم نہیں ہوگا۔
پختونخوا کی قومی وحدت کو نو آبادیاتی دور (برطانوی استعماری دور) میں انتظامی طور پر کئی ایک حصوں میں توڑا گیا تھا تاکہ اسکی سیاسی حیثیت اتنی کمزور ہو جائے کہ برطانوی راج کیلئے کوئی خطرہ نہ بنے، اسکے معدنی وسائل کو لوٹ کر یہاں غربت و افلاس کا راج قائم ہو جائے تاکہ اپنے پیدا کردہ اشرافیہ کے ذریعے ان پر کنٹرول کو آسان ہو جائے۔ اور اسکو خطے کے اندر تزویراتی مقاص�� کیلئے استعمال کرکے یہاں جنگ کے کاروبار کا ڈول ڈالا جائے۔
ایک طویل سیاسی جدوجہد کے بعد وفاق پاکستان کے اندر پختونخوا کے ایک حصے کو خیبر پختونخوا کے نام سے ایک وفاقی اکائی کے طور پر تسلیم تو کیا گیا لیکن روز اول سے اسکی شناخت کو تحلیل کرنے، خودمختاری کو ختم کرنے اور وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے سازشوں کا جال بچھایا جارہا ہے۔
ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی مزید تقسیم کی سازش کسی انتظامی بہتری یا گوڈ گورننس کیلئے نہیں ہورہی، جس کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہیں،بلکہ این ایف سی کے فارمولے کو ریورس کرنے، اور اٹھارویں آئینی یعنی صوبائی خودمختار کو ختم کرنے، اور توانائی، معدنیات اور آبی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کیلے یہ سب کچھ ہو رہا ہیں۔
اور اس پیچھے یہ کوشش بھی ہورہا ہیں کہ قوموں کی تاریخی، تہذیبی، ثقافتی، لسانی اور جغرافیائی شناخت کو ختم کیا جائے۔
ورنہ جو مہم مزید انتظامی و وفاقی اکائیوں کو بنانے کیلئے کی جارہی ہے، سب سے پہلے این ا��ف سی پر عملدرآمد کریں اور اس مہم کا کم ترین حصہ بھی وفاقی اکائیوں کے اندر فعال صوبائی فنانس کمیشن (PFC)جو صوبے کے اندر اضلاع کے درمیان اور ان کی دور دراز حصوں کے درمیان وسائل و نمائندگی کی منصفانہ تقسیم کریں، اور فعال اور با اختیار مقامی حکومتوں (District Government) کے قیام کرے، اور انکو زیادہ سے زیادہ مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات دیا جائے، تاکہ نچلی سطح پر اختیارات حقیقی معنوں میں منتقل ہوجائے، ��ور عوام کی خدمت بہتر انداز میں ہوسکیں، لیکن افسوس اس پر ابھی تک عملی طور پر نہیں کیا جارہا۔
اسلئے ہم یہ قرارداد پیش کرتے ہیں، کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ وفاقی اکائی کو انتظامی یا کسی بھی اور بہانے سے توڑنے یا تقسیم کرنے کی کسی بھی سازش اور ڈسکورس کو فوری طور پر لگام دیا جائے۔
ہزارہ پختونخوا کا ناقابل تقسیم حصہ ہے جو تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی طور پر پختونخوا کا ایک عضو اور اٹوٹ انگ ہے۔ اسکو کاٹنے کی کوشش کی گئی تو نتائج کی ذمداری توڑنے والوں پر ہوگی۔
پختونخوا کی پانچ کروڑ عوام اپنے ماں دھرتی کی تاریخی شناخت، حقوق اور وسائل پر کسی کو سمجھوتہ نہیں کرنے دینگے، ہم اس سرزمین کے صدیوں سے والی وارث ہیں اور تحفظ کیلئے ہر حد تک جائینگے، کچھ لوگ پنجاب میں بیٹھ کر ھمارے فیصلے نا کریں، دستور پاکستان کے اندر آرٹیکل 1 اور آرٹیکل 239 شق 4 کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
#ANPRejectsProvincialDivision | #ANP
صوبے توڑنے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
مسائل کا حل وسائل کی منصفانہ تقسیم، مضبوط بلدیاتی نظام اور عوام کو اختیار دینے میں ہے۔
صوبے نہیں، نظام درست کریں
ANPRejectsProvincialDivision
#ANPRejectsProvincialDivision
اگر 1973 کے سماجی معاہدے میں ترمیم کی جاتی ہے یا 18ویں ترمیم واپس لی جاتی ہے، تو میرے خیال میں اس معاہدے کو توڑنا ماضی کے کسی اور معاہدے پر بحث کا راستہ کھول دے گا، اور یہ ایک خطرناک صورتحال ہوگی۔ اس لیے براہِ کرم اس سے گریز کریں، ورنہ اس کے ۔۔۔
#ANPRejectsProvincialDivision
اگر 1973 کے آئین کے سماجی معاہدے میں ترمیم کی گئی یا 18ویں آئینی ترمیم کو واپس لینے کی کوشش کی گئی، تو اس معاہدے کو توڑنا ماضی کے کسی اور معاہدے پر بحث کی راہ ہموار کرے گا، جو ایک انتہائی خطرناک عمل ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس معاملے سے گریز کیا جائے، ورنہ پھر اس کے نتائج اور ماضی کے دیگر معاہدوں پر بھی بات کرنا پڑے گی۔
If the social contract of 73 is reformed or the 18th amendment is rolled back then I guess breaking this contract will give way to discussing another contract from the past and that’s dangerous so please refrain from it or else.
#ANPRejectsProvincialDivision | #AimalWaliKhan