نون لیگ کی موجودہ حکومت جس قدر عوام دشمن ہے جس طرح پیٹرول بجلی گیس کی قیمت بڑھا کر الیٹ کو سہولیات دے رہی اب یہ حکومت رہے یا چلی جائے ایک عام آدمی کو کوئی فرق نہی پڑتا ہے ان کی حکومت جانے پر مٹھائیاں تقسیم ہوں گی
عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے باوجود اگر پاکستان میں پیٹرول مہنگا کیا جا رہا ہے اس کی وجہ یہ پرائویٹ لگثری جہاز اور ان حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات ہیں
روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم قیمتوں کا فائدہ عوام تک پہنچانے کی بجائے حکومت نے
آج عالمی منڈی میں تیل ساڑے چار فیصد تک سستا ہونے کے باوجود تیل کی قیمت 4 روپے بڑھا دی گئی ہے۔
اس اضافے سے ثابت ہوتا ہے روز قیمتوں میں ردوبدل کا فائدہ بھی تیل کمپنیوں کو دیا گیا۔
انتہائی شرمناک
Why mostly political nature cases are being fixed before the judges who are appointed after 26th constitutional amendment. Is there any fixation policy in high courts or cases are being listed on the discretion of chief justices.
@AzharSiddique
نعیم بھائی کل ہم تین لوگ تھے جوعلیمہ خان کے گھر کے باہر گئے۔۔۔رات ۹ بجے میں نے ماریہ خان اور ایک اور کو وہاں سے ریسکیو کیا۔۔۔پچھلے 3 سال ساڑھے تین سال سے انصاف لائر فورم پورے پنجاب سے غائب ہے۔ سوائے لاہور بار لاہور ہائی کورٹ بار اور پنجاب بار کے الیکشن کی ایکٹیوٹی کرنےکے، نو مئی جیسے مقدمات اور تحریک انصاف کے مقدمات میں زیرو فیصد پرفارمنس ہے
کل سارا دن تماشہ لگا رہا کیا یہ سو دو سو وکلا وہاں نہیں جا سکتے تھے ؟؟
یہ عدالتوں میں کیس نہیں لڑ سکتے نہ لڑیں مگر کم از کم یہ وہاں جا کے کھڑے تو ہو سکتے تھے۔
جب عمران خان تھا تو دو دو چار چار سو وکیل شام کو ا جاتے تھے میٹنگ میں ۔۔۔ جب الیکشن لڑنا ہو تو قیدی نمبر اٹھ 804کے نام پہ 10 10 ہزار ووٹ پڑ جاتا ہے ان کو۔۔۔۔ مگر جب قیدی 804 کے گھر والوں کو ضرورت ہو تو 10 وکیل بھی نہیں آتے۔ ۔۔کیوں
پنجاب حکومت کی وزرا نے بار بار بتایا پنجاب تحریک انصاف کو مسترد کر چکا ہے، ایک بندہ نہیں نکلتا، مریم نواز صاحبہ بتا رہی تھیں ڈپٹی کمشنر لاہور کا کہا اِنہیں کچھ لوگ ہی دے دو۔ سمجھ سے باہر اس سب کے بعد جہلم کے پُل پر کنٹینر اور مٹی کے توڑے کیوں اکٹھے ہو رہے ہیں
خدارا ملک کو چلنے دیں، عدالتی فیصلوں کا احترام کریں، اس طرح کے مینڈیٹ کے ساتھ آئین کا حلیہ نہ بگاڑیں، لوگوں کو تقسیم نہ کریں، پاکستان کو متحد کریں، سیاسی مخالفین کو ذاتی دشمن نہ سمجھیں۔
نظام کے پاس عوام الناس کی رائے جاننے کے بہت سارے خفیہ ادارے یا ذرائع ہوتے ہیں ان تک یہ معلومات نہیں پہنچ رہیں کہ پاکستان کے عام آدمی کی بس ہوگئی ہے کسی سفید پوش کا بھرم رکھنا بھی ناممکن ہوگیا ہے