جمعیت کے تمام احباب سے اقتضا کی جاتی ہے کہ بدقسمتی میرا پرانا اکاؤنٹ بلاک ہو چکا ہے لہذا مہربانی کر کے میرا یہ نیا اکاؤنٹ فالو کریں فالو بیک ضرور ملے گا
کولمبیا میں شدید زلزلہ،
77 افراد جاں بحق ، زلزلہ کی شدت 7.4 ریکارڈ کی گئی۔
اب تک 77 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ کئی عمارتیں منہدم ہونے کے باعث متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
عمران خان سے اُس کے کارکنوں کا تعلق محض پسندیدگی کا ہے، جبکہ مولانا فضل الرحمن صاحب سے اُن کے کارکنوں کا تعلق عقیدت، محبت اور نظریے کا ہے۔
پسندیدگی وقت اور حالات کے ساتھ بدل سکتی ہے، مگر عقیدت اور نظریاتی وابستگی انسان کو مشکل سے مشکل وقت میں بھی اپنے قائد کے ساتھ کھڑا رکھتی ہے۔
جمعیت کے ابابیلوں کے نام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منزلیں لاکھ کٹھن آئیں گزر جاؤں گا
حوصلہ ہار کے بیٹھوں گا تو مر جاؤں گا
چل رہے تھے جو میرے ساتھ کہاں ہیں وہ لوگ
جو یہ کہتے تھے کہ رستے میں بکھر جاؤں گا
لاکھ روکیں یہ اندھیرے مرا رستہ لیکن
میں جدھر روشنی جائے گی ادھر جاؤں گا
راس آئی نہ محبت مجھے ورنہ ساقیؔ
میں نے سوچا تھا کہ ہر دل میں اتر جاؤں گا
#مولانا_کے_سنگ
#سرحد_یا_سیاست
#ہائبرڈ_راج_نامنظور
#معدنیات_کی_لوٹ
#ڈالر_کی_جنگ
اختیار ولی صاحب! نصیحت وہ کرے جس کا اپنا سیاسی کردار بے داغ ہو۔ مولانا فضل الرحمٰن اصولوں کی سیاست کرتے ہیں، کسی کے دباؤ پر معافی مانگنے والے نہیں۔ پہلے اپنی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیجیے، پھر دوسروں کو مشورے دیجیے۔
#معافی_مائی_فٹ
استعفیٰ دینا بہادری نہیں، بلکہ عوام کے ووٹ کی حفاظت کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی خرابیوں کو بے نقاب کرنا اصل سیاست ہے۔ میدان چھوڑ کر بھاگنا آسان ہے، مگر عوام کے حق کے لیے ڈٹ کر لڑنا کردار کی علامت ہے۔ فیصلے جذبات سے نہیں، سیاسی حکمتِ عملی سے کیے جاتے ہیں۔
فضل الرحمان پارلیمان کو نہیں مانتے لیکن اسی پارلیمان میں ان کے اپنے ارکان موجود ہیں ۔
پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں بھی JUI نے بخوشی لیں ۔
اگر اتنے ہی جمہوریت پسند ہیں تو استعفے دیں
@ImranRiazKhan عمران ریاض صاحب! 2018 کی حکومت کیسے بنی، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ خود تحریکِ انصاف کے کئی سابق رہنما بھی اس پر سوال اٹھا چکے ہیں۔ اگر اُس وقت سب کچھ درست تھا تو آج دوسروں پر اعتراض کیوں؟ ایک ہی معیار سب کے لیے رکھیں، سیاسی تاریخ کو بھول کر دوسروں پر انگلی نہ اٹھائیں۔
استعفیٰ دینا بہادری نہیں، بلکہ عوام کے ووٹ کی حفاظت کرتے ہوئے نظام کی خرابیوں کو بے نقاب کرنا اصل سیاست ہے۔ میدان چھوڑ کر بھاگنا آسان ہے، مگر عوام کے حق کے لیے ڈٹ کر لڑنا کردار کی علامت ہے۔ فیصلے جذبات سے نہیں، سیاسی حکمتِ عملی سے کیے جاتے ہیں۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
پارلیمنٹ میں جانا اور اس کی خامیوں پر آواز اٹھانا کوئی تضاد نہیں، بلکہ عوامی نمائندے کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اگر ہر ناانصافی پر استعفیٰ ہی واحد حل ہوتا تو اپوزیشن، احتساب اور جمہوری جدوجہد کا وجود ہی ختم ہو جاتا۔
جس پارلیمینٹ کو آپ اسٹیبلشمنٹ کی لونڈی قرار دے رہے ہیں۔۔۔اُس کا حصہ تو آپ خود بھی ہیں۔۔!!!
تو کیا لونڈی کے کردار میں حصہ بقدرِ جُثہ آپ بھی شامل ہیں۔۔۔۔اور اگر۔۔۔آپ اِس جعلی پارلیمنٹ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں تو بسم اللہ کریں اور پارلیمنٹ سے خود بھی استعفی دیں اور اپنی ساری جماعت کے ایم این اے،ایم پی اے اور سینیٹرز سے بھی استعفی دلوائیں۔۔۔۔مولانا صاحب،یہ پھوکے فائر مت کریں اور محض منہ سے ڈز ڈز کر کے فائرنگ مت کریں۔۔۔عمل سے ثابت کریں۔۔۔!!!!
جاتے جاتے میری پشین گوئی سُن لیں۔۔۔دنیا اِدھر سے اُدھر اور اُوپر سے نیچے ہوجائے آپ نے اِس جعلی اور لونڈی پارلیمنٹ سے استعفی نہیں دینا۔۔!!!
#ہمارے_شہداء_ہمارا_فخر
بلکہ عوام کے ووٹ کی حفاظت کرتے ہوئے نظام کی خرابیوں کو بے نقاب کرنا اصل سیاست ہے۔ میدان چھوڑ کر بھاگنا آسان ہے، مگر عوام کے حق کے لیے ڈٹ کر لڑنا کردار کی علامت ہے۔ فیصلے جذبات سے نہیں، سیاسی حکمتِ عملی سے کیے جاتے ہیں۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
قبائل کے معصوم بچے، بے گناہ شہری اور عام لوگ بھی انسان ہیں، ان کی جان بھی اتنی ہی قیمتی ہے۔ ان کی شہادتوں، دکھوں اور آہوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انصاف اور ہمدردی کا تقاضا ہے کہ ہر بے گناہ جان کے ضیاع پر یکساں درد محسوس کیا جائے، چاہے وہ کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتی ہو۔
شہدائے پاک فوج کی قربانیوں پر مولانا فضل الرحمان صاحب جوش خطابت میں کسی اور بات کا غصہ نکال گئے ہیں،جوکہ صریحاً غلط اور شہداء کے ورثاء کی دل آزاری ہے۔ مولانا بڑے آدمی ہیں امید ہے مولانا صاحب اپنے الفاظ جلد واپس لے لینگے۔
ایسا بیان جیسا مولانا نے دیا اسکا بہت سخت عوامی ردعمل ہوگا
تمام ساتھی متوجہ ہوں!
مولانا صاحب کے خلاف سوشل میڈیا پر معافی کا مطالبہ اور کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس کا بھرپور جواب دینے کے لیے تمام ساتھی آج دوپہر 3:30 بجے ٹوئٹر (X) پر نئے ہیش ٹیگ کے ساتھ بھرپور حصہ لیں۔
اپنی بھرپور موجودگی یقینی بنائیں۔
جمعیت علماء اسلام کے کارکنان اور چاہنے والوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مجھے فالو کریں۔
میرا عزم ہے کہ ایکس (X) پر جمعیت کی مضبوط اور مؤثر آواز بن کر جماعت کا پیغام ہر گھر تک پہنچاؤں۔
آپ کا ایک فالو میری حوصلہ افزائی اور جماعت کی سوشل میڈیا قوت میں اضافہ ہوگا۔
#maulanafazelrehman
#قرآن#ہماری#ریڈلائن#ہے
الحمدللہ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں جمعیتِ علماء اسلام کے زیرِ بندوبست سویڈن کیخلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ، اور آج بھی ہونے والے ہیں انشاء الله !
مولانا کے حقانیت کی دلیل کے لئے درج ذیل مشائخِ کبار ، بزرگانِ طریقت ، اور حالیہ زمانے کے یہ شمس العلماء ہی کافی ہیں اور ہمیں ان پر مکمل اعتماد حاصل ہیں