@BugtiMedia@PakSarfrazbugti سرفراز, ڈیرہ بگٹی والے پانی مانگ رھے ھیں،
یہ ڈی جے براؤ کو سنو زندگی کو انجوائے کر رھا ھے
کیونکہ انکے یہاں ریٹائرمنٹ کے بعد نہ ایکسٹینشن لیتے ھیں،
نہ جزیرے خرید نے بیلجیم جاتے ھیں، نہ پیزا بیجھنے امریکہ جاتے ھیں اور نہ ئی سب سے پہلے پاکستان پاکستان کہنے کے بعد دبئی جاتے ھیں
@PakSarfrazbugti سرفراز ڈیرہ بگٹی والے پانی مانگ رھے ھیں،
یہ ڈی جے براؤ کو سنو زندگی کو انجوائے کر رھا ھے،
کیونکہ انکے یہاں ریٹائرمنٹ کے بعد نہ ایکسٹینشن لیتے ھیں،
نہ جزیرے خرید نے بیلجیم جاتے ھیں، نہ پیزا بیجھنے امریکہ جاتے ھیں اور نہ ئی سب سے پہلے پاکستان پاکستان کہنے کے بعد دبئی جاتے ھیں ۔
آج بلوچستان کے علاقے نال، خضدار میں 11 سال سے جبری طور پر لاپتہ زاہد بلوچ کے بھائی، شاہ جان بلوچ کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا ہے۔ شاہ جان بلوچ کا نہ کسی سیاسی تنظیم سے تعلق تھا اور نہ ہی وہ کسی سیاسی یا انسانی حقوق کی سرگرمیوں میں شامل تھا۔ وہ ایک مقامی تاجر اور اپنے خاندان کا واحد کفیل اور سہارا تھا۔ اس کا “جرم” صرف یہ تھا کہ وہ ایک طلبہ رہنما کا بھائی تھا، اور وہی طلبہ رہنما خود گیارہ سال سے پاکستانی خفیہ اداروں کی حراست میں ہے۔
ریاست بلوچستان میں نہ صرف اپنے انسانی حقوق کا مطالبہ کرنے اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کو قتل کرتی ہے، بلکہ ان کے خاندان کے اُن افراد کو بھی نشانہ بناتی ہے جن کا سیاست یا انسانی حقوق کی سرگرمیوں سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ شاہ جان بلوچ کا کیس اور ایسے سینکڑوں دیگر واقعات اس ظلم کے ثبوت کے طور پر ہمارے سامنے موجود ہیں۔
بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے ایک بھی ایسا دن نہیں گزرا جس میں ہمارے پیارے جبری طور پر لاپتہ نہ کیے گئے ہوں، ماورائے عدالت قتل یا ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ نہ بنے ہوں۔ آج پورے بلوچستان میں ایک بھی ایسا گھر نہیں جو اس ظلم اور جبر سے متاثر نہ ہوا ہو۔ ہر گھر اور ہر خاندان متاثر ہے، لیکن بلوچوں کے سوا کسی کو یہ ظلم نظر نہیں آتا۔
بلوچستان میں صرف 2025 کے ابتدائی تین مہینوں میں تین درجن سے زائد افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا جا چکا ہے۔ آج ہی کے دن خضدار نال میں شاہ جان بلوچ نامی نوجوان کو ٹارگٹ کرکے قتل کیا گیا۔
اس کے باوجود، ہم محض مذمتی بیانات پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ اس بربریت اور لاقانونیت کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اور انصاف و احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مذمت محض ایک دکھاوا ہے اور نہ یہ دیرینہ مسائل کا حل ہے اور نہ ہی حقیقی انصاف کی طرف کوئی پیش رفت۔ بلکہ یہ اس ملک کے طاقتور حکمرانوں کو کلین چٹ دینے کا ایک ذریعہ ہے—وہی حکمران جو قانون، اخلاقیات اور انسانی حقوق کی کوئی پروا نہیں کرتے اور اپنی ناکامی، ظلم اور بربریت چھپانے کے لیے مذمت کے پردے کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔
جب قانون کا نفاذ ہوگا اور احتساب کا عمل حقیقی معنوں میں شروع ہوگا، تو کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی نہیں ہوگی۔ مگر یہاں انصاف کی فراہمی کے بجائے سب کو مذمت کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے تاکہ توجہ اصل مسائل سے ہٹا دی جائے اور ریاست اپنی نااہلی کو چھپا سکے۔
اس کے ساتھ، میں بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ بلوچستان سے باہر بیٹھے اُن عناصر کے دباؤ میں نہ آئیں، جنہیں بلوچوں پر ہونے والا ظلم، جبر اور قتل و غارت کبھی نظر نہیں آتا، لیکن وہ نہ صرف ہمیں اپنی جدوجہد کے طریقے سکھانے آ جاتے ہیں بلکہ فرمائشی مذمت کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔
ہماری اصل طاقت اور ہمت بلوچستان کے اُن لوگوں سے ہے جو ہر لمحہ اس خوف میں جیتے ہیں کہ جو صبح گھر سے نکلا، وہ شام کو سلامت لوٹے گا یا نہیں۔ اگر آپ ثابت قدم رہیں گے، تو دنیا ہماری پُرامن جدوجہد کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگی۔ مذمت محض ایک سطحی ردِعمل ہے، جبکہ ہمارا مقصد حقیقی تبدیلی اور انصاف کا حصول ہے، جس کے لیے ہمیں اپنے راستے کا تعین خود کرنا ہوگا، نہ کہ اُن لوگوں کے کہنے پر جو ہماری تکالیف سے یکسر بے خبر ہیں۔
#StopBalochGenocide
Targeted Killing of Shah Jahan Baloch: A Grave Violation of Human Rights in Balochistan
Baloch Yakjehti Committee
The targeted killing of Shah Jahan Baloch, a resident of Naal, Khuzdar district, Balochistan, constitutes a grave violation of fundamental human rights. Shah Jahan Baloch was killed by Pakistan’s intelligence agencies as part of an ongoing pattern of state repression. His family has long been subjected to enforced disappearances and extrajudicial killings—his brother, Chairman Zahid Baloch, a prominent student political leader, was forcibly disappeared in Quetta in 2014 and remains missing to this day. Now, Shah Jahan Baloch himself has become the latest victim of what appears to be a systematic campaign of persecution against politically conscious Baloch individuals.
The frequent daylight assassinations and targeted killings of young Baloch activists by state security forces, intelligence agencies, and state-backed death squads reflect a deliberate policy aimed at silencing voices of resistance. These extrajudicial actions, carried out with impunity, highlight the escalating human rights crisis in Balochistan.
At the start of this year, numerous cases of torture and extrajudicial killings by state-backed militias were reported by local sources. However, the pattern of violence has intensified, increasingly targeting politically aware members of the Baloch community.
Pakistani law enforcement and paramilitary forces appear to be using enforced disappearances, extrajudicial killings, and torture as tools of collective punishment, instilling fear and trauma within Baloch society. These acts aim to intimidate and suppress those who dare to speak out against state repression and human rights violations.
This systematic persecution of the Baloch people may amount to crimes against humanity and, in its scale and intent, raises concerns of a potential genocide. The targeting of Baloch youth and intellectuals is a direct violation of international human rights conventions, including those prohibiting enforced disappearances, extrajudicial executions, and torture.
We urgently call upon international human rights organizations, advocacy groups, and the global community to take immediate action against the Pakistani government and hold accountable those responsible for these egregious human rights abuses. The continued silence of the international community only enables further violations. It is imperative to demand justice and ensure the protection of fundamental human rights in Balochistan.
#StopBalochGenocide
@JavedMonis سرجانی ٹاؤن میں کولڈرنک پینے پر پولیس والوں کی دو ہزار روپے رشوت لینے والا معملہ جھوٹا نکلا
پولیس اہلکاروں نے بچے کو کیا بیچتے ہوے رنگے ہاتھوں پکڑا دیکھیں اس ویڈیو میں
@alibest55 @JavedMonis سرجانی ٹاؤن میں کولڈرنک پینے پر پولیس والوں کی دو ہزار روپے رشوت لینے والا معملہ جھوٹا نکلا
پولیس اہلکاروں نے بچے کو کیا بیچتے ہوے رنگے ہاتھوں پکڑا دیکھیں اس ویڈیو میں
@JavedMonis سرجانی ٹاؤن میں کولڈرنک پینے پر پولیس والوں کی دو ہزار روپے رشوت لینے والا معملہ جھوٹا نکلا
پولیس اہلکاروں نے بچے کو کیا بیچتے ہوے رنگے ہاتھوں پکڑا دیکھیں اس ویڈیو میں
@JavedMonis اب معاملہ سنگین اگر بچے کے پاس یہ پڑیاں تھیں تو اس کی وڈیو بنانے سے پہلے اس کو گرفتار کر تے۔۔؟
سرجانی ٹاؤن میں کولڈرنک پینے پر پولیس والوں کی دو ہزار روپے رشوت لینے والا معملہ جھوٹا نکلا
پولیس اہلکاروں نے بچے کو کیا بیچتے ہوے رنگے ہاتھوں پکڑا دیکھیں اس ویڈیو میں
@JavedMonis اب ایک اور وڈیو منظر عام پر آگئی۔
اب معاملہ سنگین اگر بچے کے پاس یہ پڑیاں تھیں تو اس کی وڈیو بنانے سے پہلے
سرجانی ٹاؤن میں کولڈرنک پینے پر پولیس والوں کی دو ہزار روپے رشوت لینے والا معملہ جھوٹا نکلا
پولیس اہلکاروں نے بچے کو کیا بیچتے ہوے رنگے ہاتھوں پکڑا دیکھیں اس ویڈیو میں
@JavedMonis اب ایک اور وڈیو منظر عام پر آگئی۔
اب معاملہ سنگین اگر بچے کے پاس یہ پڑیاں تھیں تو اس کی وڈیو بنانے سے پہلے اس کو گرفتار کر کے فورا تھانے منتقل کیوں نہیں کیا گیا؟
اب پیسے لینے والا معاملا کیا اس کی انکوائری ہونی چاہیے.
@TOKCityOfLights اچھا یہ بتاؤ یہ پولیس والا مقامی ھے یا غیر مقامی ؟
اردو ماشاءاللہ صاف کراچی حیدرآبادی والا بول رھا تھا گالیاں بھی کراچی والے اسٹائل میں بھک رھا تھا؟
کوئی بتا رھا ھے کہ ھندوستانی غیر مقامی ھے تو کوئی کہہ رھا ھے کراچی کا نہیں لاھور کا ھے؟
تاریخ:15/03/25
بمقام :شاہراہ نورجہاں قلندریہ چوک #کراچی
یہ صرف 4 اہلکار نہیں بلکہ پورے پولیس ڈیپارٹمنٹ کی ذہنیت کی عکاسی ہے۔
جنہیں عوام کی خدمت کرنی چاہیئے وہ عوام کے لیئے ناسور بن چکے ہیں۔جب تک ان حرام خوروں کو نشان عبرت نہیں بنایا جائیگا پولیس ڈیپارٹمنٹ کا قبلہ درست نہیں ہوگا۔