خیبرپختونخوا اسمبلی پر سٹیج ڈانسروں، منشیات کے سمگلرز، اور قبضہ مافیا کا راج ہے۔ غلیظ اور گھٹیا قسم کے لوگ اقتدار پر قابض ہیں، اخلاق ، سماجی اقدار اور صوبے کی روایات کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ اب ان تحفوں اور نمونوں کو دیکھ کر عمران نیازی کیلئے دل میں نفرت ہی جنم لے سکتی ہے۔
اچانک ایسا کیا ہوا ہے کہ متحدہ اپوزیشن میدان میں آ رہی ہے۔ پی ٹی آئی لیڈر شپ سے بد ترین سیاسی مخالف جھپیاں ڈال رہے ہیں۔عدلیہ کی پھرتیاں نظر آ رہی ہیں وکلا متحرک ہو رہے ہیں۔ میڈیا کے بعض اراکیین سیاسی بیانیے کا جھنڈا اٹھا چکے ہیں! یہ سب کچھ اچانک شروع ہوا ؟ ہر گز نہیں ! نئے صوبوں کی بحث نے سوئے ہوئے مردے جگا دیے ہیں۔اختیارات کی تقسیم اور عوامی شرکت اقتدار “پنڈتوں” کو تسلیم نہیں ہے۔مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر انکا یقین نہیں ہے۔ خزانہ بھرنے کی مشینیں بند ہوتی نظر آئیں تو خزانہ کا کچھ حصہ صف بندی پر بھی خرچ کرنا ہمارے ہاں بڑی چال ہوا کرتا ہے۔۔۔سب صوبوں کی تقسیم منظور مگر ہماری طرف نہ دیکھنا کی خاطر کچھ انوکھا کرنا بھی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتی ہے اور ادھر ادھر پھرنے والے دانشور جہاں بھی چلے جائیں انکی زہنی آبیاری جہاں ہوئی تھی انکے مفادات کو ٹھیس پہنچے تو گھر کو لوٹ آتے ہیں۔ زرا سوچئے تو بہت سے تانے بانے مل جائیں گے مگر آگے بڑھنے کیلئے فیصلہ کرنا ہو گا کہ کوئی فرد ادارے یا جماعت سے بڑا نہیں اور کوئی ادارہ یا جماعت پاکستان سے بڑی نہیں۔
کشمیر کا الیکشن تو ہاتھ سے نکل گیا
اب الذولفقار کب بحال ہو گی بھانجا جی؟
اور نہیں تو کرائے کے بھولڑو میدان میں اتار کر سڑکیں ہی بند کردیں
یا پھر کچے کے ڈاکووں کو ایکٹو کر دیں
کچھ تو کریں
جب شکست ہوٹی ہے ٹو غصہ آٹا ہے
اور جب زیاڈہ بڑی شکسٹ ہوٹی ہے ٹو زیاڈہ غصہ آتا ہے
مار اوئے ڈپٹی
@QayyumReports نوٹس ملا تو معزرت بھی آ گئ ورنہ جیالے صحافی سجاد انور صاحب اپنے ہر پروگرام میں ن لیگ وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پھُلجھڑیاں چھوڑتے رہتے ہیں لیکن کبھی سندھ حکومت ،پیپلزپارٹی ،زرداری کی کرپشن پر دو لفظ نہیں بولتے