وزیراعلیٰ @SohailAfridiISF سے لاپتہ بچے کے والدین کی ملاقات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی سے تاج آباد، پشاور کے رہائشی خاندان نے ملاقات کی۔ والدین نے 2 ماہ سے لاپتہ 14 سالہ طفیل کی بحفاظت بازیابی پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔
یاد رہے کہ حیات آباد میں والدہ کی درخواست پر وزیراعلیٰ نے پولیس حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت کی تھی، جس پر ایس پی جاوید اختر، ڈی ایس پی عمر آفریدی اور ایس ایچ او عمران خان نے کارروائی کرتے ہوئے طفیل کو موضع قاضی کلے سے بحفاظت بازیاب کرا کے والدین سے ملا دیا۔
وزیراعلیٰ نے بچے کی بازیابی پر پولیس افسران کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں تعریفی اسناد سے نوازا۔
#SohailAfridi #KhyberPakhtunkhwa #Peshawar
پی ٹی آئی ایک عوامی جماعت ہے،اسکی جڑیں عوام میں ہیں۔
ہم پرامن احتجاج کرتے ہیں،پچھلی دفعہ جب احتجاج ہوا تو ہمارے لوگوں کو شہید کیا گیا۔
اس وقت عمران خان کی بہنیں بھوک ہڑتال پر ہیں۔
ہم عمران خان کو ہسپتال منتقلی،انکے علاج سمیت سیاسی قیدیوں کی رہائی چاہتے ہیں۔
کوئی پورا الیکشن لوٹ لے کسی کی ماں بہن بیٹی اُس سے محفوظ نہ ہو قانون اور انصاف ختم کردے 75 75 سال کی خواتین کو جیلوں میں ڈال دے اور ہم تھوڑا سا غصہ بھی نہ کریں؟ اب ایسے تو نہ کریں، آپ تو خاصے جمہوری آدمی ہیں، یہ تو ڈکٹیٹروں والی باتیں ہیں آپکو سوٹ نہیں کرتیں!
پشاور حیات آباد ٹول پلازہ انڈر پاس کی افتتاحی تقریب جلسے میں تبدیل!!!
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے استقبال کے لیے ہزاروں کی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکل آئی، عمران خان کے حق میں زبردست نعرے بازی!
یاد رکھنا ہمارا 4 اکتوبر کا لانگ مارچ پاکستان پر قابض ٹولے سے نجات کا ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے، جس کے بعد اس ملک سے نحوست کا once for all خاتمہ ہو جائے گاـ
#خان_کی_بہنیں_فوری_رہا_کرو
”اسٹیبلشمنٹ جب ایمرجنسی کی آگ خیبرپختونخوا میں لگائے گی تو وہ آگ صرف ایک صوبہ تک محدود نہیں رہے گی۔ ایمرجنسی تو ملک میں 9 مئی 2023ء کے بعد سے نافذ ہے، 26ویں اور 27ویں ترامیم کے ذریعے عدالتی نظام کو معطل کر دیا گیا ہے، شہریوں کے انسانی حقوق معطل ہیں اور کسی کو احتجاج تک کرنے کی اجازت نہیں۔ اس سے زیادہ اور کیا ایمرجنسی ہونی ہے ؟ عمران خان کی جو بہنیں ہر منگل کے روز اڈیالہ جیل جایا کرتی تھیں وہ خود کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔“ بیرسٹر شہزاد اکبر
@ShazadAkbar
#PakistanUnderFascism
یہ نوجوان 4 اکتوبر کو انقلاب لائے گا، اسلام آباد میں داخل ہوگا، اور وہاں راج عمران خان کا ہوگا۔ اسٹیبلشمنٹ کی ٹانگیں کانپیں گی، اور ہم انشاءاللّٰہ عمران خان رہا ہو جائیں گے۔
چلو، چلو اسلام آباد چلو!
پہلے استدلال یہ تھا کہ پختونخواہ محفوظ ہے پنجاب میں سختی ہے۔ اب پنجاب کے اراکین اسمبلی محفوظ ہیں جبکہ پختونخواہ کے لوگ اغواء کیے جارہے ہیں۔ اسکے باوجود پختونخواہ کے عوام اور عہدیداران نکل رہے ہیں۔ پنجاب کے عوام اور تحریک انصاف کے عہدیداران کی خاموشی اب مجرمانہ ہے۔
ایک بابا جی نے وزیراعلی سہیل افریدی کو پشاور بی ار ٹی میں دیکھ کر کہا کہ ہم بھی چار اکتوبر کو اپ کے ساتھ نکلیں گے جس کے جواب میں وزیراعلی افریدی نے کہا کہ اپ بزرگوں نے صرف دعاؤں میں یاد رکھنا ہے نکلنا نہیں, ❤️🥰🤲
@SSEHBAI1 فوج ایک ڈسپلین ادارہ ہے
DGISPR
اسی ڈسپلن کے تحت غریب کے بچوں کو مرنے کے لیے فرنٹ لائن پر بھیجا جاتا ہے اور سفارشی افس میں اور اچھی کمائ والی جگہ میں اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں۔