I am disturbed and concerned about the detention of Mahrang Baloch. She represents millions of voiceless people — women and children — who are facing human rights violations in Baluchistan and Khyber Pukhtunkhwa. It is her right to protest and speak out for the most vulnerable people — and she must be immediately released. I stand with Mahrang Baloch. #ReleaseMahrangBaloch
یہ سمی دین بلوچ ہے 2009 میں وہ سکول میں پڑھتی تھی اسکے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ کو دوران ڈیوٹی سرکاری ہاسپیٹل سے گرفتار کیا گیا وہ 16 سال سے والد کی بازیابی کے لئے سڑکوں پر دھکے کھا رہی ہے اب اسے ملک دشمن قرار دیکر سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا اس طرح ریاست مضبوط نہیں کمزور ہوتی ہے
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کہتی ہیں کہ ’میں نے اپنی والدہ کو بہت تکلیف دہ زندگی گزارتے ہوئے دیکھا ہے۔مجھے یاد ہے میری میڈیکل کی تعلیم کے دوران میری والدہ نے فیس دینے کے لیے اپنے کپڑے تک بیچ دیے۔ میڈیکل کے دوسرے سال کی فیس دینے کے لیے انہیں جیولری بیچنا پڑی تھی https://t.co/SilycFfETd
خدا بخشے مرحوم کو جس کا یقین تو نہیں ہے کیونکہ اسی ہیلی کاپٹر میں مظلوم اقوام کے علاقوں میں جاکر مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑکتا تھا اور وقت کے ساتھ مکافات عمل کا شکار بن گیا
Azmatullah Omarzai has asserted himself as one of the most versatile white-ball players in the world by taking out 2024's ICC Men’s ODI Cricketer of the Year 💪
ڈی چوک میں گولی چلی، غلط ہوا،لیکن جب خڑ کمر میں ہمارے اوپر فوج نے گولیاں برسائ اور ہمارے ۱۵ ساتھی شہید اور ۷۰ زخمی ہوئے تواس وقت کی اپوزیشن کے احتجاج کے جواب میں کتنا تہہ دل سے یہ لوگ اس بربریت کا دفاع کر رہے تھے،جلھک اس ویڈیو میں دیکھی جاسکتی ہے۔المیہ یہ ہے کہ ندامت اب بھی نہیں۔
یہ جنوبی وزیرستان اپر کا شہر مکین ہے۔ میرے گاؤں سے ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، مکین کے آس پاس جنت نظیر علاقے ہیں جن کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہیں مگر اس علاقے کو کسی کی نظر لگی ہے۔ سازشوں اور بدامنی کا شکار نہ ہوتا تو دنیا جہان کے سیاح ان علاقوں کو دیکھنے کے لیے آتے۔۔!
پشتون قامی جرگہ کے مشر ملک نصیر خان کوکی خیل کا مرکزی امام بارگاہ پاراچنار میں طوری shia اقوام سے خطاب اللہ کرے کہ یہ تنازہ خوش اسلوبی سے خال ہو جائے یقیناً پوری پشتون قوم کی بہت بڑی جیت ہو گی
پشتون جرگے کی ایک بہت بڑی وفد جو کے سفید ریش مشران، علماء اور بااثر شخصیات پر مشتمل تھی کو ایک بار پھر کُرم میں آپس میں سب کو بیٹھا کر اپنی روایات کے مطابق مستقل امن کی کوشش کرنے سے ریاست نے روک دیا ہے۔
تین بار مسلسل کرم میں امن کے لئے داخلے کی کوشش کی تو پاکستانی فورسز نے انہیں داخل ہونے سے روک دیا۔
ضلع کرم کے تمام عوام کو پیغام ہے کہ ہمیں وہاں کا دکھ درد ہمارا دکھ درد ہے اور وہاں کے امن کے لئے کوششیں کئے ہے مگر آپ سب ظالم ریاست کے ظلم جبر اور راستے بند کرنے کے طریقوں سے واقف ہے۔
پھر بھی ہم کُرم کے امن کے لئے کوششیں کرینگے اور متبادل راستے ڈھونڈ کر اپنے وطن کے لوگوں کے امن کے لیے کوششیں جاری رکھینگے۔
ہم طعنے نہیں دینگے لیکن اگر آپ اسٹیبلشمنٹ سے بدلہ لینا چاہتے ہیں تو تین تجاویز دیتا ہوں، ان پر عمل کریں:
1) 2019 میں آپکے گورنر نے اس صوبے پر ایکشن ان ایڈ آف سول پاور کو نافذ کیا ہے، اس ایکٹ کو فوری طور پر واپس لیں تو ہم مان لیں گےکہ آپ واقعی انٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں
2) آپکی حکومت میں قانون سازی ہوئی ہے کہ سی ایس ایس اور پی ایم ایس کی پروموشن کیلئے پہلے انٹیلیجنس اداروں سے رپورٹ لینی ہوگی۔ اس قانون سے پوری بیوروکریسی کو انکے پاؤں میں بٹھا دیا گیا ہے۔ اس قانون کو فوری طور پر واپس لیا جائے تاکہ بیوروکریسی اس پارلیمان اور حکومت کے ماتحت ہو۔
3) تھری اور سولہ ایم پی او برطانوی استعمار کے چھوڑے ہوئے کالے قانون ہیں، اگر آپ واقعی انٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں تو ان قوانین کے خاتمے کیلئے قانون سازی کرے
نثار باز
رکن پختونخوا اسمبلی، عوامی نیشنل پارٹی
The Isb police have been arresting Afghans & Pashtuns in the aftermath of the PTI protest. This racial profiling is beyond shameful. Our people are targeted by terrorists in Pakhtunkhwa and arrested for being Pashtuns in Isb. This is the true face of a Punjabi chauvinistic state.
#PashtunLivesMattersInPakistan
پاکستان میں پشتون ہونا کتنا بڑا گُنا ہے
اسلام آباد میں ہسپتال سے گرفتار کر کے علی وزیر پر چرس اور پولیس سے اصلحہ چین کر پولیس پر فائرنگ کے دو جھوٹے ایف ائی ارز میں عدالت میں پیش کیا گیا۔
جسمانی ریمانڈ اور جیل گزارنے کے بعد عدالت سے ضمانت پر رہائی مِلی تو اڈیالہ جیل کے دروازے سے ناجائز 3MPO میں پنجاب پولیس نے گرفتار کر دیا اور گجرات میں قید کر دیا، وہاں عدالت نے رہائی دی تو جیل کے دروازے سے ایک بار پھر ایک اور ناجائز 3MPO میں پنجاب پولیس نے گرفتار کر دیا اور بھکرمیں قید کر دیے گئے وہاں سے جب عدالت نے ضمانت دی تو پنجاب پولیس نے ایک اور ناجائز 3MPO میں گرفتار کر دیا اور انہیں سرگودھا میں قید کر دئے گئے، وہاں سے عدالت نے رہائی دی تو کئ دِن تک لاپتہ تھے بعد میں وہ بلوچستان کے علاقے حب چوکی پولیس تھانے میں پائے گئے وہ بھی پی ٹی ایم کے ایک کارنر میٹنگ پر ہونے والے ایک ایسے FIR میں کہ اُس کارنر میٹنگ کے انعقاد کے دوران علی وزیر کراچی جیل میں باجوائی قید گزار رہے تھے۔
اس FIR میں عدالت میں پیش کر دیے تو بلوچستان پولیس نے سات روزہ جسمانی ریمانڈ اور جج کے کرسی پر بیٹھے شخص نے کرسی کا لحاظ بھی نہیں رکھا اور جسمانی ریمانڈ پر دے دیا، سات روز پورا ہونے کے بعد پولیس نے دوبارہ جسمانی ریمانڈ مانگا تو جج کر کرسی پر بیٹھے شخص کی ضمیر میں ہلکی سی بھی انسانیت نہ جاگی اور دوبارہ جسمانی ریمانڈ پر دے دیا۔
وہ پورا کرنے کے بعد اب جیل بھیج دیے گئے۔
اور یہ سب کچھ جب ہورہا تھا تو کوئی عدالت، کوئی پارلمنٹ، کوئی میڈیا یا کسی بھی نے اس پر بات تک نہیں کی کیونکہ وہاں ایک ہی قسم کے لوگ ڈامینیٹیڈ ہے وہ کسے پشتون پر جھوٹے ایف ائی ارز اور ظلم جبر پر بات نہیں کرینگے۔
شاونسٹ ظلم جبر کی یہ داستانیں محکوم قوموں کے حوصلے پست نہیں کرینگے بلکہ انکو مزید مزاحمت کرنے، اور سوئے ہوے کو جاگنے کی انرجی دینگے۔
اسلام آباد میں گرفتار پختون افغان پی ٹی ائی احتجاج کے دوران نہیں بلکہ عام بازار اور نواحی علاقوں سے گرفتار کئے گئے اور اب اس بلیک میلنگ پر ان سے ویڈیو بیانات ریکارڈ کئے جا رہے ہیں که اگر ویڈیو بیان کیا تو جلد رہا کر دینگے ورنہ کوئی نا کوئی جھوٹا کیس بنا کر جیل میں بند رکھینگے۔
پی ٹی آئی احتجاج کو غلط ثابت کرنے کے لئے عام پختونوں پر ظلم جبر کر کے طاقت کے ذریعے اپنے جھوٹے دعوے ثابت کرنا چاہتی ہے۔
وفاقی حکومت کھلم کھلا نسلی نفرت اور شاونیزیم کے بنیاد پر پشتونوں پر ظلم جبر کر رہی ہے۔
بنگالیوں پر ظلم جبر کر کے مخالفت اور علیحدگی پر مجبور کر دیا پھر بلوچ کے ساتھ ظلم جبر شروع کیا اور علیحدگی پسند تحریکوں پر مجبور کر دیئے۔
اور اب پشتونوں کے ساتھ پختون وطن کے اندر بھی ظلم جبر، جنگیں، وسائل و کاروباروں پر قبضےاور جب وہاں سے تنگ ہوکر روزگار کے لئے بڑے شہروں کا رُخ کرے تو وہاں بھی ان پر ظلم جبر، آخر انسان ہے کہاں چلے جائے۔؟؟؟
#PashtunLivesMattersInPakistan
چیئرمین صاحب جمہوریت پسندی کا دعویٰ اپنی جگہ مگر آپ لوگوں کے اتحاد سے بنی وفاق نے پختونوں کے ایک بڑی تحریک پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دیکر اس پر آج تک پابندی لگائی ہے۔
یہ کیسی جمہوریت پسندی ہے کہ آپ لوگوں کی بلوچستان حکومت کے ماتحت علی وزیر کو حب چوکی میں پی ٹی ایم کی کارنر میٹینگ پر ہونے والے ایک ایسی ایف ائی ار میں قید کیا ہے کہ اس کارنر میٹنگ کے انعقاد کے وقت علی وزیر کراچی جیل میں قید و بند کی زندگی گزار رہے تھے۔
آپ کی پولیس نے ایسی ایف ائی ار میں جسمانی ریمانڈ بھی مانگی اور انصاف کے ترازو کے نیچے بیٹھے جج نے جسمانی ریمانڈ پر دے بھی دیا۔