یہ جو بکسہ چور ہیں
یہ ہمیں معلوم ہیں
یہ جو ووٹ چور ہیں
یہ ہمیں معلوم ہیں
یہ جو مینڈیٹ چور ہیں
یہ ہمیں معلوم ہیں
جاؤ جاؤ
بارک جاؤ
@AimalWali#EnoughIsEnough
دھاندلی زدہ انتخابات، مینڈیٹ کی چوری اور سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے خاتمے کیلئے تحریک کا آغاز صوابی سے کردیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے کے دوران صوبائی صدر @AimalWali نے تمام کارکنان و ذمہ داران سے حلف لیا کہ اس تحریک میں ہر حد تک جانے کیلئے تیار رہیں۔
#EnoughIsEnough
چیف الیکشن کمشنر صاحب! آپ کو بھی مبارک ہو اور آپ کو لانیوالوں کو بھی مبارک ہو۔ آپ نے ایسا الیکشن کرایا ہے کہ جیتنے والے بھی احتجاج کررہے ہیں اور ہارنے والے بھی احتجاج کررہے ہیں۔
#EnoughIsEnough
دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف احتجاجی تحریک کا پہلا احتجاجی مظاہرہ کل بروز منگل 20 فروری 2024ء سہ پہر 2بجے امن چوک صوابی میں منعقد ہوگا۔ صوبائی صدر ایمل ولی خان خصوصی شرکت کریں گے۔
@AimalWali#EnoughIsEnough
دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کی احتجاجی تحریک کا پہلا مظاہرہ کل بروز منگل 20 فروری 2024 کو امن چوک صوابی میں ہوگا۔ پاکستان کی سیاست اور جمہوریت جی ایچ کیو میں یرغمال ہے۔ واضح کرتے ہیں کہ فوج کی اصل جگہ یا بارڈر ہے اور یا بیرک۔ جب تک فوج کو بیرک اور بارڈر محدود نہیں کرتے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
#EnoughIsEnough
ایمل ولی خان
صدر اے این پی پختونخوا
8 فروری کو 24 کروڑ عوام کے اختیار پر دن دیہاڑے ڈاکہ ڈالا گیا۔ انتخابات کے نام پر ڈرامہ رچا کر عوام کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے۔ انتخابات کی شکل میں ریاست کا یہ گندا کھیل نہ پہلی مرتبہ ہوا ہے اور نہ آخری دفعہ ہوگا۔ مینڈیٹ پرریاستی ڈاکہ ڈالنے کی روش کا آغاز 77 سال قبل پختونخوا میں ہی کیا گیا تھا۔ 1947 میں پختونخوا میں خدائی خدمتگاروں کی حکومت ختم کرکے قیوم خان کو صوبے پر مسلط کیا گیا تھا۔
ایمل ولی خان
صدر اے این پی پختونخوا
#EnoughIsEnough
انتخابات کے حالیہ ڈرامے میں خیبر پختونخوا کو بیلنسنگ ایکٹ کی نظر کردیا گیا ہے۔پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کا راستہ روک کر دہشتگردوں کے ہمدردوں کو راستہ دیا گیا۔ پختونخوا میں ریاستی اداروں کی ایماء پر امیدواروں سے کروڑوں روپے لیکر ان کو جتوایا گیا ہے۔ پختونوں کا سودا کرنے کیلئے دہشتگردوں کے سہولتکاروں کو پختونخوا میں ریاست ہی لیکر آئی ہے۔
ایمل ولی خان
صدر اے این پی پختونخوا
#EnoughIsEnough
واضح کرتے ہیں کہ جب تک ریاستی ادارے اپنے دائرہ اختیار میں نہیں رہیں گے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ چاہے فوج ہو، عدلیہ ہو یا دیگر ادارے سب پر آئین اور قانون کا یکساں اطلاق ہوتا ہے۔ ریاست کو سیاسی انجینئرنگ کے گندے کھیل سے اپنے ہاتھ ہر صورت نکالنے ہوں گے۔
ایمل ولی خان
صدر اے این پی پختونخوا
#EnoughIsEnough
عوامی نیشنل پارٹی عوام کے حق حکمرانی اور اختیار کے علاوہ کسی بھی اختیار کو قبول نہيں کرے گی۔ دوسرے لوگوں کی مجبوریاں ہوسکتی ہیں، عوامی نیشنل پارٹی کو اقتدار کی کوئی لالچ نہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کا احتجاج انتخابی نتائج کی انجینئرنگ کرنے والوں کے خلاف ہے۔ یہ ایک طویل جدوجہد ہے لیکن عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کا کردار ختم کر کے رہیں گے۔
ایمل ولی خان
صدر اے این پی پختونخوا
#EnoughIsEnough
دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کی احتجاجی تحریک کا پہلا احتجاجی مظاہرہ کل بروز منگل (20 فروری 2024) سہ پہر 2 بجے، امن چوک صوابی میں منعقد ہوگا۔ احتجاجی مظاہرے میں صوبائی صدر ایمل ولی خان، جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک اور سابق وزیراعلی امیرحیدر خان ہوتی خصوصی شرکت کریں گے۔
@AimalWali@HaiderHotiANP@babaksardar
#EnoughIsEnough
انتخابات میں بدترین دھاندلی 18 ویں آئینی ترمیم کو آسانی سے رول بیک کرنے کیلئے کی گئی ہے۔ کیا عمران آج یہ کہہ سکتا ہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کو رول بیک نہیں ہونے دیگا؟ کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ صوبائی خودمختاری کے حق کیلئے کھڑا ہے؟ یہ سارا کھیل ہی اسی لئے رچایا گیا ہے کہ پختونوں کے وسائل اور حقوق کو غصب کیا جاسکے۔
@AimalWali
#EnoughIsEnough
Participated in the sit-in protest against the naked manipulation of the provincial assembly seat of Chaman. Pakistan's intelligence agencies have issued fake 45-forms to a retired army captain to steal the seat won by ANP Provincial President @AsgharAchakzaii with a big margin.
عوامی نیشنل پارٹی مردان کے ضلعی کونسل کا اجلاس، سابق وزیراعلی امیرحیدرخان ہوتی نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں ضلعی صدر عمران ماندوری سمیت دیگر کابینہ عہدیداران اور کونسل اراکین نے شرکت کی۔
#ANPMardan
ان لوگوں کو شاید منیجمنٹ بھی درست طریقے سے نہیں آتی۔ ہم نے پہلے دن جو کہا آج تمام سیاسی جماعتیں وہی باتیں کررہی ہیں۔ اب مزید رکنا اس ملک کی بقا، جمہوریت اور آئین کے خاتمے کے برابر ہوگا۔ جمہوریت پسند جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو انکے اصل دائرہ تک محدود کرنا ہوگا۔ ہم میدان میں آچکے ہیں اور انشاء اللہ آخری دم تک میدان میں رہیں گے۔
#EnoughIsEnough