ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے
سائفر اور سازش کا ایک اور اہم رُخ:
وزیراعظم عمران خان کا دورہ روس دراصل پاکستان کے تمام حکومتی اور فوجی سیٹ اپ کی مرضی اور سالوں کی کوشش سے فائنل ہوا تھا
لیکن باجوہ سمیت فوجی قیادت نے امریکہ کو یہ باور کرایا کہ یہ دورہ عمران خان کی ذاتی خواہش تھا
یوکرین پر روسی حملے کے بعد بھی باجوہ نے یہی مشورہ دیا کہ دورہ جاری رکھا جائے - لیکن اسے بھی عمران خان کا فیصلہ بتا کر امریکہ سے رجیم چینج کے لیے حمایت حاصل کی گئی
یوکرین پر حملے کے بعد پاکستان کے تمام اداروں نے نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کیا تاکہ سفارتی محاذ کھلا رہے - لیکن باجوہ نے ذاتی طور پر پبلکلی جا کر وزیراعظم عمران خان کی پالیسی کی مخالفت کی
اس کے بعد یورپی یونین کی سفیر نے پاکستان کے مؤقف ہر خط لکھ کر تنقید کی تو عمران خان نے 6 مارچ کو میلسی کے جلسے میں کہا کہ “کیا ہم غلام ہیں؟ بھارت کے مؤقف پر خط نہیں لکھا پاکستان کو خط لکھ دیا”
ابھی تک تحریک عدم اعتماد نہیں آئی تھی
اگلی دوپہر 7 مارچ کی دوپہر کو ڈونلڈ لو پاکستانی سفیر کو بلا کر دھمکی دیتا ہے کہ “اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوتی امریکہ اور یورپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو مزید اکیلا / isolate کر دیا جائے گا-
اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو سب کچھ معاف کر دیا جائے گا”
اس کے ایک دن بعد 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی!!
🚨 سائفر کی اوریجنل کاپی سامنے آ گئی
ڈونلڈ لوُ نے پاکستانی سفیر کو کہا کہ “اگر تحریک عدم اعتماد سے وزیراعظم (عمران خان) کو ہٹا دیا گیا تو “سب معاف کر دیا جائے گا” کیونکہ روس کا دورہ کرنے کا فیصلہ وزیراعظم کا تھا-
ورنہ امریکہ اور یورپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو مزید سختی سے isolate/اکیلا کر دیا جائے گا”
ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ #سائفر_ایک_حقیقت تھا اور عمران خان سچا تھا اور سچا ہے!!
کل جنید جمشید کے ایک گانے کی دو چار لائنز لکھی تھی مشکل وقت کے بارے میں۔ آج کسی سوشل میڈیا ٹایگریس نے اسی گانے پر یہ IK Edit بنا کر بھیجی۔
کافی لوگ سامنے آکر اپنے نام سے پوسٹ نہیں کر سکتے آجکل مگر دل اب بھی عمران خان اور پاکستان کے لیے فکر مند ہے اور سب سوشل میڈیا کنزیوم کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ وڈیو ایڈٹ ان سب کے لیے جو خاموش کروا دیے گئے مگر جہاں موقعہ ملتا ہے وہاں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔
#ReleaseImranKhan
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
Our family has appealed to all party office holders, senior leadership, MNAs, MPAs, and Senators to come to Adiala Jail this Tuesday to build pressure on the government to:
1. Allow immediate access for Imran Khan’s lawyers and family.
2. Transfer Imran Khan to Shifa International Hospital for proper medical examination and treatment, in the presence of specialists, his personal doctor, and family.
3. Ensure Chief Justice Dogar takes up the bail applications of Imran Khan and Bushra Bibi so they can be released from this illegal imprisonment without delay.
Imran Khan and Bushra Bibi are being held in solitary confinement, one of the harshest forms of treatment in violation of Pakistani law and international human rights standards.
"If anything, his faith has grown stronger since he's been in prison."
Imran Khan's sons speak about battling from their home in London to ensure he is treated humanely in prison in Rawalpindi.
https://t.co/9gZEPBOBiq
#EndUnlawfulDetentionOfKhan
Tuesday is a family and lawyers meeting day with Imran Khan. This is his right under the jail manual, reinforced by a full bench High Court order permitting us to meet our brother.
For over a year, we have traveled to Adiala Jail every Tuesday, only to be stopped by Punjab Police before reaching the gate. Officers have openly stated that court orders hold no value for them. On rare occasions, after prolonged protest and mounting pressure, one or two of us sisters have been allowed inside. In the past five months, our sister Dr. Uzma Khan has been permitted to meet him only three times, once each in October, November, and December 2025.
Every Tuesday, we continue to wait outside Adiala Jail in protest, demanding that this government respect his legal and constitutional right to meet his family and lawyers. We are there not only to assert his rights, but to stand in solidarity, so he knows we are present, and that he is not alone.
Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan is in solitary confinement since October 16, 2025.
He has spoken to his sons only twice in 2025 and once in February 2026 after Supreme Court orders. He has been denied books to read. He has received only 3 of the dozen books that we managed to get to adiala through a judge.
Then, a perfectly health and fit Imran Khan suddenly develops a clot in his eye. He was not provided medical assistance. For two weeks, he repeatedly told the jail superintendent that he CANNOT SEE.
The Adiala Jail superintendent Ghafoor Anjum DELAYED calling in a specialist for three months.
By the time the eye doctor came, the delay caused permanent damage to Imran Khan’s eye. We are extremely worried that his other eye could also develop a clot.
Imran khan has repeatedly sent messages over past few months that he is not satisfied with the treatment and there is only marginal improvement after the first injection in the eye. No improvement since then.
Over the past month, Bushra Bibi, his wife has also developed an eye condition and was operated upon last week.
Imran khan and his wife are being tortured through solitary confinement. We have repeatedly protested, demanding Imran Khan to be examined and treated at Shifa International Islamabad. There is an urgent need to identify the cause of the blood clot. Our worry is that his other eye could also develop a clot unless proper diagnosis is done and it’s treated accordingly
This is inhumane and a violation of all fundemental and human rights of a prisoner under Pakistan and International laws.
The medical situation for former Prime Minister Imran Khan and Bushra Bibi has reached a critical stage. Reports indicate that Mr. Khan has suffered a debilitating loss of vision in his right eye, while Bushra Bibi was rushed from Adiala Jail on April 16, 2026, for emergency surgery to treat a retinal detachment.
This simultaneous onset of severe ocular trauma in two previously healthy individuals is an undeniable red flag. It points directly to the brutal toll of their confinement, including sensory deprivation, the psychological trauma of isolation, and persistent, unresolved fears of chemical tampering.
This is a calculated humanitarian emergency fueled by systematic medical neglect and the denial of timely, independent care. By withholding health records and ignoring persistent warnings of deteriorating health, authorities are presiding over the permanent blinding of a former world leader and his spouse. Every moment they remain in these hazardous conditions, the damage becomes more irreversible, threatening total sight loss and systemic failure. We demand an immediate, independent international medical intervention.
The global community MUST not remain silent while two human beings are being physically dismantled behind closed doors.
#ReleaseAndTreatImranKhan
#ReleaseBushraImran
گزشتہ رات بشریٰ بی بی کو ہنگامی حالت میں ایک بار پھر رات کے اندھیرے میں سرجری کے لیے ہسپتال لے جایا گیا۔ کس ہسپتال میں علاج ہوا، ان کے معالجین کون ہیں اور سرجری کی نوعیت کیا ہے، یہ اہل خانہ سمیت کسی کو معلوم نہیں۔
عمران خان کے بعد بشریٰ بی بی کی بینائی سے متعلق ایمرجنسی، رات کے اندھیرے میں علاج اور پراسرار پروسیجرز نے جیل انتظامیہ کے ان تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے کہ وہ خیریت سے تھیں۔ طویل عرصے تک بنیادی طبی امداد سے محروم رکھنے اور بیماری کی علامات کو نظر انداز کرنے کے بعد اب صورتحال شدید طبی ایمرجنسی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
ایک نہتی خاتون کو سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے علاج میں دانستہ تاخیر کرنا نہ صرف انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ان کی زندگی سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بشریٰ بی بی کو ان کے بنیادی قانونی اور انسانی حقوق کے مطابق فوری طور پر مکمل طبی تحفظ اور بہترین علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس مجرمانہ تاخیر اور ان کی صحت کے ساتھ ہونے والے سنگین کھلواڑ کی تمام ذمہ داری موجودہ حکام پر عائد ہوتی ہے، جنہیں ہر لمحے کی غفلت کا حساب دینا ہوگا۔
#ReleaseBushraImran
#FascismUnderAsimLaw
پاکستان تحریک انصاف کا اپنے قائد اور چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ محترمہ بشریٰ بی بی کی بگڑتی ہوئی صحت پر شدید تشویش کا اظہار:
پاکستان تحریک انصاف اس امر کی شدید مذمت کرتی ہے کہ سخت ترین قیدِ تنہائی اور جیل کی اذیتوں کے بعد آج ہمارے قائد عمران خان صاحب اور محترمہ بشریٰ بی بی دونوں شدید علیل ہیں، مگر انہیں نہ اپنے ذاتی معالجین تک رسائی دی جا رہی ہے اور نہ ہی اہلِ خانہ سے بروقت اور آزادانہ ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے۔
اس غیر انسانی سلوک کی ایک اور سنگین مثال بشریٰ بی بی کی دائیں آنکھ میں شدید تکلیف کے باعث ہنگامی طور پر کی گئی سرجری ہے جس کی تصدیق ان کی بیٹی کی جانب سے کی گئی ہے۔
آج محترمہ بشریٰ بی بی کے اہلِ خانہ کو لاہور سے صبح 9 بجے اڈیالہ جیل طلب کیا گیا مگر انہیں دوپہر 12 بجے صرف ایک گھنٹے کی محدود ملاقات کی اجازت دی گئی۔ ملاقات کے دوران ان کی صاحبزادی نے تصدیق کی کہ بشریٰ بی بی کو دائیں آنکھ میں ناقابلِ برداشت شدید تکلیف کے باعث ہنگامی طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی دائیں ریٹینا کی فوری سرجری کی گئی۔
یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے، جہاں ایک منتخب سابق وزیرِ اعظم اور ان کی اہلیہ کو جان بوجھ کر طبی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے تاکہ انہیں ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا رکھا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف مطالبہ کرتی ہے کہ عمران خان صاحب اور بشریٰ بی بی کو فوری طور پر مکمل اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے ذاتی ڈاکٹروں تک فوری رسائی دی جائے۔
اس کے علاوہ بشریٰ بی بی کو ان کی موجودہ طبی حالت کے پیشِ نظر فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے اور ایک خاتون ہونے کے ناطے انہیں فی الفور ضمانت فراہم کی جائے۔
اگر خدانخواستہ ان کی صحت کو کوئی مزید نقصان پہنچتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔اس ظلم اور سیاسی انتقام کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔
منجانب
شعبہ مرکزی اطلاعات
پاکستان تحریک انصاف
کسی کی بیماری کا مذاق اڑانا اسے کہتے ہیں۔ یاد رہے وفاقی حکومت خود عمران خان کی آنکھ کی خرابی کا اقرار کر چکی ہے۔ جبکہ ایسے ہی گھٹیا حملوں کی وجہ سے عمران خان نے گولیوں کے زخم کیمرے پر دکھائے تھے۔
اس بیان کو ریکارکے طور پر محفوظ رکھنا چاہیے کیونکہ یہ کسی عام گمنام ورکر کا نہیں انفارمیشن منسٹر کا بان ہے۔
The most prestigious trophy in Pakistan cricket history was won on this day in 1992, at the iconic Melbourne Cricket Ground in Australia 💚🇵🇰
🏏 Javed Miandad scored the most runs for Pakistan, amassing 437 runs at the average of 62.42 💯
🏏 Wasim Akram took the most wickets for Pakistan, striking 18 times at the average of 18.77 🔥
Under Imran Khan's leadership, Pakistan came back from the jaws of elimination to go all the way and script a historic win! 🫡🏆
Who will be the next captain to win the prestigious World Cup trophy for Pakistan❓️👀
#KaptaanAndHisTigers
“He led from the front” @iramizraja summed it up precisely!
“He made the brave decision [of coming one down in Semi Final and Final] Credit goes to Imran Khan” @wasimakramlive
For those who weren’t watching on March 25, 1992 and didn’t see the Nation rejoicing LIVE, here is a video that may give you an idea on how special this was … one man’s belief, prayers in Ramzan by the Nation, new heroes every day and a classic finale!
”قرآن میں اللہ کیا کہتا ہے، سب سے بڑی انسان کی صفت کیا ہے؟
وہ جو مشکل وقت میں صبر کرتا ہے! جب تک آپ ہار نہیں مانتے ، ہار آپ کو ہرا نہیں سکتی“ عمران خان