گالی بکنے،طعنہ زنی ،بیہودہ الزام تراشی اور meems بنانے کے لاکھوں مواقع سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ جو مسخ ذہن اسی سے قرار پاتا ہے خوشی سے اپنا شوق پورا کرے۔مسلسل یاد دلا ہوں اور آیندہ بھی گزارش کرتا رہوں گا کہ اس پلیٹ فارم پہ لغویت کی گنجائش ہرگز نہیں۔جنہیں میں سخت ناپسند کرتا ہوں ، انہیں بھی آپ گالی بکیں تو فورآ بلاک کر دیے جائیں گے۔ اختلاف آپ کا حق ہے۔ ڈٹ کر کیجیے ۔ اس ناچیز سے بھی مگر گالی؟ سیاست میں فوجی مداخلت نہیں ہونی چاہیے، بالکل بجا۔ قطعاً نہیں ، ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔ مگر اس اس قسم کے لغو الزامات کہ جنرلوں نے قائد اعظم اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو قتل کیا تھا، بھارتی پراپیگنڈہ تو ہو سکتا ہے۔ حقائق سے دور کا تعلق بھی اس دعوے کا نہیں۔ ایک فوجی صدر نے مادر ملت کو دھاندلی سے ہرایا۔ ایک فوجی صدر کی حکمرانی میں ملک دو لخت ہوا ۔ بالکل ٹھیک مگر قائد اعظم کو کسی نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی مادر ملت کو۔ان ادوار کے جلیل القدر سیاسی رہنماؤں اور جی دار لیڈروں میں سے کسی ایک نے بھی یہ الزام عائد نہیں کیا تھا ۔کوئی اور نہ بولتا تو کے ایچ خورشید ضرور بات کرتے جن کی اہلیہ محترمہ مادر ملت کی خدمت میں حاضر رہا کرتیں۔ جو بابائے قوم سے ایک والہانہ وابستگی رکھتے تھے۔ سردار عبدالرب نشتر بات کرتے۔ سہروردی بولتے۔ سید ابوالاعلی مودودی بات کرتے۔۔Nigjt of generals میں اصغر خان یہ موضوع چیھڑتے۔ خوف جن کی کھال میں داخل نہ ہو سکتا تھا۔ ابوالکلام کے جعلی انٹرویوز اور بھارتی پراپیگنڈے کی توثیق سے نہیں یہ جنگ ہمیں خود لڑنا ہو گی اور دلیل کے ساتھ ۔ دلیل ہی رنگ لاتی ہے۔ جھوٹ کمزوروں اور احمقوں کا حربہ ہے یا وحشت کے ماروں کا۔
سودائے عشق اور ہے وحشت کچھ اور شے
مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا
میرے پاکستانیوں۔۔۔
پاکستان کا یہ قومی ہیرو 3 قربانی عیدیں جیل میں قربان کر چکے ہیں۔
اس ظلم میں صرف جرنیل نہیں، یہ قوم برابر کے شریک ہے جو اس ہیرے کو ڈفرز کی قید سے آزاد نہ کراسکیں اور ان کی امیدوں پر پورا اتر نہیں سکیں! تمہاری یہ خاموشی تمہاری نسلوں کی بربادی ہے!
اوورسیز پاکستانی کی یہ ویڈیو وائرل کیوں نہیں ؟
کمال میدان سجایا ہے, دلیر پاکستانی نے!!🔥
یہ ایک اورسیز پاکستانی, اِس وقت پی ٹی آئی آفیشل سجاد برکی اور پوری ٹیم پر بھاری ہے!🔥
پنجاب حکومت نے ںے شرمی اور بے غیرتی کی انتہا کردی، مریم نواز جعلی وزیر اعلیٰ سہی ہے تو خاتون ہی، رات کے 3 بجے چادر چار دیواری کا تقدس پامال کر کے تحریک انصاف کی خاتون ورکر فضا عالم کو گھر سے اٹھا گیا ہے، جرم پوچھو تو کوئی نہیں، سب مل کر آواز اٹھائیں
@Fizaalam_93
Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial #HumanRights #ImranKhanUnlawfullyDetained
میرا تو ناڑا اور کپتان چپل بھی چیک کرتے رہے تھے کہ کہیں “ٹریکنگ چِپ” تو نہیں لگی ہوئی :)
دراصل میرے airpods بھی ساتھ تھے - موبائل انہوں نے بند کر دیا تھا لیکن ائیر پوڈز کی لوکیشن مسلسل “find my” ایپ میں گھر والوں کو نظر آ رہی تھی- جب سوشل میڈیا پر لوکیشن شئیر کی گئی تو اغوا کاروں نے پہلے میری چیکنگ کی، پھر اسی وقت مجھے لاہور سے راولپنڈی شفٹ کر دیا اور 8 دن وہاں مختلف لوکیشنز پر رکھا-
ڈھائی سال سے ملٹری حراست میں ناحق قید سہراب خان کو اپنی والدہ کے جنازے میں شرکت کی اجازت اس وقت دی گئی جب تدفین ہو چکی تھی۔ اسے اپنی ماں کا آخری دیدار تک نصیب نہ ہونے دیا گیا۔ دوسری طرف ایک ماں اپنے بیٹے کی راہ تکتے تکتے اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئی۔
اللہ تعالیٰ سہراب خان کی والدہ کی کامل مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔
یہ ظلم تاریخ کے صفحات میں محفوظ رہیں گے، اور یاد بھی رکھے جائیں گے۔
بلڈ ٹیسٹ،میڈیکل رپورٹ یہ سب نا تو عمران خان کو دکھائی گئی ہیں نا ہی فیملی کو اور نا ہی عمران خان کے ذاتی معالجین کو۔
عمران خان نے اپنے بیٹوں کو بھی بتایا ہے کہ انکی آنکھ ٹھیک نہیں ہے۔
علیمہ خان۔
میں نے ہدایات دی ہیں کہ وزیرخارجہ ایران، سعودی عرب اور امریکہ جاکر ان ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملیں جبکہ آرمی چیف متعلقہ عسکری قائدین سے روابط قائم کریں اور واضح پیغام دیا جائے کہ: پاکستان امن کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کو تو تیار ہے مگر وہ دوبارہ کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بن سکتا۔
”8 فروری 2024ء کا فارم 45 عوام نے اپنی آنکھوں سے 9 فروری کو جعلی فارم 47 میں بدلتے دیکھا۔ اسٹیبلشمنٹ نے عوامی مینڈیٹ کو بے توقیر کیا اور اپنے پاؤں تلے روند کر کرپٹ عناصر کو مسلط کیا۔ ان تمام کارکنان کو خراج تحسین جنہوں نے 8 فرروی احتجاج کو کامیاب کیا۔“
قاسم خان سوری
@QasimKhanSuri
آجکل ایپسٹین فائلز میں عمران خان کے ذکر کا بھی بار بار ذکر کیا جا رہا ھے ۔ وہ ذکر کیا ھے آپ بھی دیکھ لیں۔
ایک ای میل 2013 کی ہے جس میں سامنے آیا ہے کہ عمران خان کو لندن سوسائٹی کے اندر اثر و رسوخ رکھنے کی وجہ سے خطرناک سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ان پہ روایتی مغربی الزامات لگانا مشکل قرار دیا گیا ہے۔ انھیں وزیراعظم پاکستان کا پوٹینشل امیدوار قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان پہ کرپشن وغیرہ کا بھی دنیا بھر میں کوئی الزام نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ لندن سوسائٹی میں اثر و رسوخ ، صاف و شفاف امیج اور پاکستان میں عوامی مقبولیت کی وجہ سے انھیں قابو کرنے کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا ہوتا ہے جس پہ تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پھر 2018 کے عام انتخابات میں ان کی جیت اور وزیر اعظم بننے پہ شدید تحفظات پہ مبنی تین ای میلز سامنے آئی ہیں۔ انھیں روسی صدر پیوٹن ، ترک صدر رجب طیب اردگان اور ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے جو اسرائیلی مفادات کے راستے میں کھڑا ہو سکتا ہے ۔
بس جی یہ ہے وہ ذکر، عمران خان کو اسرائیل کے لیے ایک خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
پوری قوم کو اور خصوصی طور پر پی ٹی آئی کی لیڈرشپ ممبران اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو اب نکلنا پڑے گا۔ خان صاحب اور انکی بیوی کو عاصم منیر اور ساتھیوں کی فسطائیت کا سامنا ہے۔ اگر آج ہم مل کر نہ بولے تو یہ یہاں نہیں رکیں گے۔ جو نکل نہیں سکتے وہ سوشل میڈیا پر آواز بلند کریں۔