سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو:
صوابی جلسہ میں ہم نے لائحہ عمل دے دیا ہے۔ اس بار ہمارے لوگ واپس گھروں میں نہیں جائیں گے۔ ہمارا احتجاج آئین، جمہوریت اور آزاد عدلیہ کی بحالی اور ہمارے بے گناہ کارکنان و رہنماؤں کی آزادی تک جاری رہے گا۔
آئندہ چند روز تک مکمل تیاری کے ساتھ مارچ کی تاریخ میں خود دوں گا۔
پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے میں ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں- تحریک انصاف کے عہدیدار، ممبران اسمبلی، ناظمین، ٹکٹ ہولڈرز، ورکرز اور سپورٹرز اپنی تیاری مکمل کریں اور گراؤنڈ پر موبلائزیشن کے کے لیے کام شروع کریں-
“صوابی جلسے میں ہم اپنا آئندہ کا لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھیں گے-
ہمارے احتجاج کا ہدف کوئی ادارہ نہیں ہے۔ ہمارا ہدف ملک میں جمہوریت اور آئین کی بحالی اور عدلیہ کی
آزادی ہے۔
فوج کسی ایک شخص یا پارٹی کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ہے ۔ فوج ہمارا قومی اثاثہ ہے۔ ایک پارٹی اور ایک شخص کے دس سال کے اقتدار کے منصوبے کو تحفظ دینے کے لیے پوری فوج کو بدنام کروایا جا رہا ہے۔ اس طرح عوام اور فوج کو ایک دوسرے کے سامنے لایا جا رہا ہے ۔ 20 مارچ 1971 کو میں ڈھاکہ میں موجود تھا، لوگ وہاں اپنے حقوق مانگ رہے تھے چار دن بعد ڈھاکہ میں فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا۔ اپنے حقوق مانگنے والی عوام پر بندوقیں لے کر چڑھ دوڑیں تو وہی انجام ہوتا ہے جو مشرقی پاکستان کا ہوا۔
بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں مسنگ پرسنز کی موجودگی کا عذر جنرل باجوہ یہ دیتے تھے کہ عدالتیں ان افراد کو رہا کر دیتی ہیں اسی لیے انہیں جبری طور پر گمشدہ کرنا پڑتا ہے۔ وزیراعلی بلوچستان نے بھی ایک مرتبہ اس بات کی نشاندہی کی کہ اس طرح کے اقدامات سے فوج کے خلاف نفرت جنم لیتی ہے۔ اب جو جبر و فسطائیت تحریک انصاف کے سپورٹرز اور رہنماؤں کے خلاف بپا کی جارہی ہے، اس سے بھی پورے ادارے کے خلاف نفرت ہر روز بڑھ رہی ہے۔ ایجنسیوں نے تحریک انصاف کے رہنماؤں شہباز گل، اعظم سواتی، خواجہ شیراز اور انتظار پنجوتھہ کو اغواء کرکے جو سلوک ان کے ساتھ کیا ہے اس کو پورے پاکستان نے دیکھا ہے۔
اپنی وکلا برادری سے میرا یہ سوال ہے کہ آپ نے مشرف کے دور میں اس کے ظلم کے خلاف ملک بھر میں وکلا تحریک چلائی تھی۔ آج مشرف کے دور سے یہ دور زیادہ بد ترین ہے۔ تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی کو اغوا کر کے ان کے خاندان کے افراد کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ جس طرح ان کے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ اور ظلم کیا جا رہا ہے اور ہراساں کیا جا رہا ہے ، جس طرح عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہو رہا ہے تو ایسے میں آپ کا کیا کردار ہے ؟ آپ سب کو باہر نکل کر اس ظلم کے خلاف احتجاجی تحریک چلانی چاہیے۔
میرا اپنی پارٹی کے تمام ارکان اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز و عہدیداران کو یہ خاص پیغام ہے کہ آپ سب نے اس احتجاجی تحریک میں بھرپور شرکت کرنی ہے اور جو اس تحریک میں شرکت نہیں کرے گا اس کو اگلے الیکشن میں پارٹی ٹکٹ نہیں ملے گا۔ آپ سب کو ان آئینی ترامیم اور ملک میں جاری ظلم اور فسطائیت کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا۔
امید ہے کہ صدر ٹرمپ کے آنے سے چیزیں غیر جانبداری کی طرف جائیں گی۔ میں اپنی رہائی کا مطالبہ کروں گا نہ کوئی ڈیل۔ پہلے بھی کسی آمر یا عالمی طاقت کے کندھوں پر سوار ہو کر نہیں آیا تھا۔ ۲۰۱۸ میں بھی عوام نے مجھے ووٹ دیا اور ۲۰۲۴ میں بھی بدترین بندشوں اور جیل میں ہونے کے باوجود عوام نے دو تہائی اکثریت دی۔ اب بھی پاکستان کے حالات کی بہتری کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کی بجائے قوم کو خود کوشش کرنا ہو گی۔
جنرل باجوہ نے جس طرح حسین حقانی کے ذریعے میرے خلاف لابی کروائی اور بائیڈن ایڈمنسٹریشن کے کان بھرے، اور جس طرح پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بائیڈن انتظامیہ خاموش تھی ، امید ہے کہ اب ویسا نہیں ہو گا۔ صدرٹرمپ کے ساتھ اچھے تعلقات رہے۔ صدر ٹرمپ نے بطور وزیراعظم میرے وائٹ ہاؤس کے دورے پر بہت عزت کی تھی۔ کورونا کے دوران انہوں نے بروقت ٹیسٹنگ مشین پاکستان بھجوائی تھی۔ میرے کہنے پر انہوں نے کشمیر کا ذکر کیا جو اس سے پہلے کبھی کسی امریکی صدر نے نہیں کیا تھا”
-سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو
سابق وزیراعظم عمران خان نے 14 برس قبل آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد اپنے ایک انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ اگر حکومت اور سیاستدانوں کے ہاتھوں ججز مقرر کئے جائیں گے تو کیسے یہ عدلیہ کی آزادی پر ایک حملہ ہوگا اور کیسے اس سے جمہوریت کی روح داغدار ہوگی۔
عمران خان صاحب نے اس موضوع پر جو کچھ ماضی میں کہا وہ آج بھی پوری طرح صادق آتا ہے کیونکہ وہ تمام کردار جو ماضی میں عدلیہ کو نکیل ڈالنے کے خواب دیکھا کرتے تھے آج پھر سے عدلیہ کو انتظامیہ (حکومت) کے تابع کرنے کیلئے از بس کوششوں میں مصروف ہیں۔
جیسا کہ انہوں نے بالکل ٹھیک سوال اٹھایا کہ؛
اجتماعی حکمت و دانش یا اجتماعی مفاد؟ یا پھر ذاتی مفاد؟
پوری قوم جانتی ہے کہ پاکستان یا جمہوریت کیلئے نہیں بلکہ خالصتاً اپنے ذاتی سیاسی مفادات کیلئے انہوں نے دستور کے سینے میں “26ویں آئینی ترمیم” کا خنجر گھونپا ہے اور آئین کو لہولہان کیا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل سے صحافیوں اور اپنے وکلاء کے ساتھ گفتگو:
واضح الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں جس نے بھی چھبیسویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ہے اس نے آئینِ پاکستان کی بنیادوں کو ہلا کر پاکستان کے ساتھ غداری کی ہے۔
مجھے جِس طرح پنجرے میں بند رکھ کر ذہنی اذیت دی گئی یہ بُہت ہی نیچ اور افسوسناک حرکت ہے، جانوروں سے بدتر سلوک کیا گیا،سیل کی بجلی پانچ دن تک بند رکھی گئی، سیل میں گُھپ اندھیرا رکھا گیا، 10 دن تک سیل سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا، کئی ہفتے تک میرے ڈاکٹرز، فیملی اور وکلا کو ملنے پر پابندی لگائی گئی، یہ سختیاں اور ٹارچر کرکے مجھے توڑنا چاہتے ہیں مگر میں اِس ظلم کے باوجود پاکستانی قوم کی حقیقی آزادی کے لیے ڈٹا رہوں گا۔
نواز شریف کو پاکستان کے مستقبل اور پاکستانیوں کے مفاد اور بہتری سے کوئی سروکار نہیں، کیونکہ اِسکے پیسے ، جائیداد سب باہِر ہے، یہ پاکستان میں صرف اور صرف لوٹ مار کے لئے ہی آتے ہیں اور پھر اپنے وطن واپس لوٹ جاتے ہیں، جب یہ وزیراعظم تھا تو 22 دفعہ برطانیہ گیا تھا اب تو ویسے بھی یہ بارہواں کھلاڑی ہے، اس لئے اپنے وطن واپس سدھار گیا ہے۔
انتظار پنجوتھہ کے اغوا پر شدید تشویش ہے، یہ جبری گمشدگی میری ذات سے مخاصمت کا شاخسانہ ہے، مُلک میں مکمل لاقانونیت کا راج ہے، میرے فوکل پرسن کے اغوا کو 21 دن ہو گئے، اُسکا قصور کیا ہے؟ افسوس ہے کہ عدالتیں بھی خاموش ہیں۔
Imran Khan, Oct 29th, 2024
(Speaking to reporters and his lawyers in a makeshift courtroom inside Adiala Jail, Rawalpindi):
I want to clearly state that those who voted in favour of the 26th constitutional amendment betrayed Pakistan by destroying the very foundations of our Constitution.
I was tortured by being confined in a cage and treated worse than animals. This was an extremely vile act. Electricity to my cell was shut off for five days, leaving me in complete darkness. I was confined to the cell for ten days. For several weeks, any visits by family members, doctors, or lawyers were blocked.
They want to break me through this torture and hardship, but I will stand firm for the genuine freedom of the Pakistani nation.
Nawaz Sharif is not concerned about the future of Pakistan. Nor does he have the best interest of the Pakistani people at heart because he has his own wealth and properties stashed abroad. They only come to Pakistan to loot and plunder it and then return to their homeland. He went to the UK 22 times while he was Prime Minister. However, now he is the 12th man [cricket terminology - sidelined] so he has again gone back to his motherland.
I am deeply concerned about the abduction of Intazar Panjutha. This enforced disappearance is a result of the enmity against me personally.
There is complete lawlessness in the country. It has been 21 days since the abduction of my focal person. What is his crime? It is unfortunate that even the courts are silent.
میری قوم کے ہر فرد سے اپیل ہے کہ ڈی چوک اسلام آباد پہنچنے کیلئے نکلے اور علی امین کے قافلے کا حصہ بنے۔
سینٹرل پنجاب کو میری ہدایت ہے کہ وہ لاہور میں مینار پاکستان کی جانب پیش قدمی کریں۔ اگر وہ مینارِپاکستان نہیں پہنچ سکتے تو اپنے شہروں میں مقامی سطح پر کئے جانے والے احتجاج میں ضرور شامل ہوں۔
اسلام آباد کے شہری خصوصاً ڈی چوک کے گردونواح میں رہنے والے لوگ اپنے بھائی بیٹوں بزرگوں کے لئے پانی کھانے کی خشک اشیاء پہنچائیں
ہر شخص حتیٰ الوسع اس جد وجہد میں اپنا کردار ادا کرے
عمران خان کا ڈی چوک احتجاج کےلیے پیغام۔۔۔۔
آزاد معاشرہ اور قوم وہ ہوتی ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں ایک طبقہ ہے جو خود کو آئین اور قانون سے اوپر سمجھتا ہے- ملک کے تمام وسائل پر بھی یہی طبقہ قابض ہے جن کا مفاد ملک کے مفاد سے اوپر ہے۔ اب یہ آپ پر ہے کہ اس مافیا کو پر امن احتجاج کے ذریعے یہ پیغام دیں کہ آپ ان کی غلامی قبول نہیں کریں گے۔ ہماری عدلیہ اور وکلا برادری کے لیے بھی یہی پیغام ہے کہ آپ بھی آزادی کی اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا عوام کے نام پیغام
تمام تر فسطائیت اور حکومتی جبر، رکاوٹوں کے باوجود خوف کی زنجیریں توڑ کر باہر نکلنے پر میانوالی، فیصل آباد اور بہاولپور کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
میں چاہتا ہوں کہ آج (4 اکتوبر بروز جمعتہ المبارک) آپ سب پرامن احتجاج کیلئے ڈی چوک اسلام آباد پہنچیں اور لاہور اور اس کے گردو نواح کے اضلاع کے شہری 5 اکتوبر، بروز ہفتہ مینار پاکستان پر احتجاج کی تیاری کریں۔
یہ جنگ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں ہے اللہ کے فضل سے ہم اپنی حقیقی آزادی کی لڑائی جیت رہے ہیں۔ اقتدار پر قابض ظالم ہمیں خوف زدہ کر کے ہماری جیت کو شکست میں بدلنا چاہتے ہیں۔چنانچہ آپ بے خوف ہو کر نکلیں اور یاد رکھیں کہ اگر اب بھی آپ نے آگے بڑھ کر خود کو حقیقی طور پر آزاد کروانے میں ہچکچاہٹ سے کام لیا تو یہ ظالم آپ کو چیونٹیوں کی طرح مسل کر رکھ دیں گے اور آپ کی آئندہ نسلوں کو بھی اپنا غلام بنا لیں گے جن پر ان کی اولادیں حکومت کریں گی۔
سپریم کورٹ میں ڈرامہ چل رہا ہے اور میں نے تاریخ میں اتنا بےشرم چیف جسٹس نہیں دیکھا جو اپنی ذاتی ایکسٹنشن (اپنی نوکری کی مدت میں توسیع) کی خاطر ہر وہ فیصلہ دے رہا ہے جس کی قانون اور آئین اجازت نہیں دیتے۔ قاضی “ایکسٹینشن گینگ آف تھری” کا حصہ ہوتے ہوئے پاکستانی قوم کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے ان کو ایکسٹینشن مافیا اور پی ڈی ایم کا غلام بنا رہا ہے۔ کسی بھی ملک میں عوام کے حقوق کا دفاع عدلیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن یہاں چیف جسٹس خود ہی عوام کے حقوق کا خون کر رہا ہے۔ دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی جج عدالت میں بیٹھ کر اپنی ملازمت بچانے کیلئے آئین و قانون کو روند کر اپنے ہی حق میں فیصلے کرتا رہے۔ یہ کانفلیکٹ آف انٹرسٹ (مفادات کے تصادم) کی بدترین مثال ہے۔ اس نے جمہوریت اور اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ججز اخلاقی برتری کی بنیاد پر عدالتوں میں بیٹھتے اور فیصلے کرتے ہیں۔ قاضی فائز عیسیٰ کی شکل میں بطور چیف جسٹس عوام کے حقوق کے سب سے بڑے محافظ نے عوام کے حقوق پر سب سے بڑا ڈاکہ ڈالاہے۔
جنرل جیلانی کی گود میں پلنے والے نے چپ کا روزہ توڑا ہے اور پاکستان کے باشعور عوام کو بھیڑ بکریاں قرار دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ہمیشہ اقتدار میں آنے والے کی نظر میں جمہوریت کا مطلب ہمیشہ بوٹ کو عزت دینا ہی ہوتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ باشعور عوام اور ان کے ووٹ کا تقدس کیا ہے۔ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ تم 2 مرتبہ ڈیل کر کے بیرون ملک بھاگے اور جیل گئےت و وہاں رو رو کر تم نےجیل کے سارے ٹشو پیپرز ہی ختم کر ڈالے۔ عوام یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرے جیسی جیل میں تو تم نے ایک دن بھی نہیں گزارا۔ یا تو بیماری کا بہانہ بنا کر ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے رہے یا فائیو سٹار سہولیات کے ساتھ کسی سرکاری مہمان خانے میں بیٹھ کر معافیاں اور این آر او کی بھیک مانگتے رہے۔ اب عوام باشعور ہوچکے ہیں اور تمہارا اصلی چہرہ ان پر بےنقاب چکا ہے۔
لندن پلان کے مطابق اس لیکشن میں تمھاری جماعت نے 20 سیٹیں تک نہیں جیتیں جبکہ لندن پلان کے مطابق تمہیں کپتان ہونا تھا لیکن تھرڈ ایمپائر تمہیں Deceive (دھوکہ دے کر) کر کے خود ہی کپتان بن گیا اور تمہیں بارہواں کھلاڑی بنا دیا۔
میں وفاقی حکومت کی جانب سے اپنے غلام آئی جی خیبر پختونخواہ کے ذریعے صوبائی حکومت کی مرضی اور اجازت کے بغیر امن جرگے پر حملے اور پرتشدد کاروائی کی شدید الفاظ میں مزمت کرتا ہوں۔ آئی جی کے ذریعے وفاقی حکومت کا یہ اقدام صوبائی امور میں کھلی مداخلت اور صوبائی خود مختاری پر کھلا حملہ ہے۔
1/2
میرے لاہور کے اور پاکستان کے ہر کونے سے آئے ہوئے عمران خان صاحب کے جنون اس دس گھنٹے کے نوٹس پر ایک اتنے بڑے اجتماع کو منعقد کرنے پر آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔
پاکستان کی عوام سڑکوں پر ہے پاکستان کی عوام اب جمہوریت کے سوا کچھ قبول نہیں کرے گی۔
ہم بتانا چاہ رہے ہیں پاکستان میں جمہوریت کے سوا کچھ نہیں چلے گا۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک دوسرے کے راستے بہت بند کیے اب مزید راستے بند نہ کرو راستہ نکالو۔ اگر ego ( انا ) کو نہیں چھوڑیں گے تو ملک تباہ ہوجائے گا، عوام کو عوام سے نہیں لڑانا ادارے کو ادارے سے نہیں لڑانا خدارا ہوش کے ناخن لیں خدارا عوام کی آواز کو دیکھو، انقلاب کو دیکھو۔ پاکستان کی عوام تہیہ کر بیٹھیں ہیں آزاد عدلیہ ہوگی آزاد عدلیہ کے سوا کچھ قبول نہیں ہوگا۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
1-
ملکی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ فرد واحد اپنی طاقت بچانے کے لیے پورے ملک کو داؤ پر لگا دے۔ یحیی خان نے بھی اپنی طاقت بچانے کے لئے عوامی لیگ اور شیخ مجیب الرحمن کو دھوکہ دیا تھا۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ایک شخص نے اپنی طاقت اور اقتدار کی طوالت کے لیے ملک کو دولخت کر دیا۔ اس ایک شخص کی غلط پالیسی کی وجہ سے اس وقت ہمارے 90,000 فوجیوں کو قیدی بنا لیا گیا تھا۔ بھٹو نے 50,000 بے گناہ جانوں کے ضیاع کا خود اعتراف کیا تھا حالانکہ اصل گنتی اس سے کہیں ذیادہ تھی۔ ملک کی معیشت کو اس وقت اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا ۔ آج تک ہم اس نقصان کا ازالہ نہیں کر پائے۔آج بھی وہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ آج پھر ایک شخص اپنی طاقت کو بڑھانے اور اقتدار کو طول دینے کے لیے نظام کی جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے اور نظام کو تباہ کر رہا ہے۔
اس ملک کا مٹھی بھر اشرافیہ ملک کے تمام نظام وسائل، اقتدار اور طاقت پر قابض ہے۔ اس قبضہ گروپ کا جب دل چاہتا ہے آئین کی دھجیاں بکھیر دیتا ہے، ججوں کو دھمکیاں دیتا ہے، جمہوریت کی عکاس پارلیمنٹ کے تقدس پر حملہ آور ہو جاتا ہے، عوامی نمائندگان کو اغواء کر لیتا ہے، ہمارے ایم این ایز کے گھر کی خواتین کو اٹھا لیتا ہے۔ اخلاقیات سے عاری یہ مافیا خود کو آئین اور قانون سے بالاتر گردانتا ہے۔ اسی چھوٹے سے طبقے ، اس اشرافیہ نے اس ملک کو غلام بنا کر رکھا ہوا ہے۔آج بھی اپنی ذات کے لئے یہی سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ واحد ادارہ بچا ہوا ہے اب اس پر بھی حملہ آورہو رہے ہیں۔
۲-
ملک میں ظلم و بربریت کا نظام نافذ ہے۔ ترقی اور عہدوں سے نوازنے کا پیمانہ عدلیہ میں تحریک انصاف کے خلاف فیصلے اور حکومت میں فسطائیت ہے۔ اس بات کی تین واضح مثالیں قاضی عیسی فائز، محسن نقوی اور ہمایوں دلاور ہیں-
قاضی فائز عیسی نے ہمارے اوپر مظالم کرنے والوں کو تحفظ دیا ۔ ہم سے ہمارا انتخابی نشان چھینا۔ انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ہماری درخواستیں نہیں سنیں۔ الیکشن میں دھاندلی پر سابق کمشنر راولپنڈی نے چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن کو ذمہ دار قرار دیا تھا ۔اب اسی چیف جسٹس کو دوبارہ مسلط کرنے کے لیے فارم ۴۷ حکومت اور اس کے ہینڈلرز ہر ممکن ہتھکنڈہ اپنا رہے ہیں۔ میرے پاکستانیوں آج اگر آپ قاضی فائز عیسی کی ایکسٹینشن کے خلاف نہ نکلے تو ہمیشہ غلام رہیں گے۔
محسن نقوی نے سب سے زیادہ ظلم ہم پر کیا ہے۔ ظل شاہ کو پولیس نے تشدد کرکے قتل کیا،لاش سڑک پر پھینکی اور ایف آئی آر بھی میرے ہی خلاف کاٹی ۔ہم پر ظلم کرنے کے عوض محسن نقوی کو وزیر داخلہ اور پی سی بی کا چیئرمین بنایا گیا۔
ہمایوں دلاور کی وجہ سے میں اور بشری بی بی آج غیر قانونی طور پر پابند سلاسل ہیں۔اس کے عوض ہمایوں دلاورکو اربوں مالیت کی زمین تحفے میں دے دی گئی ۔خیبر پختونخواہ اینٹی کرپشن کے پاس اسکے سارے ثبوت موجود ہیں ۔ اب ایف آئی اے نے خیبر پختونخواہ اینٹی کرپشن پر کیس کر دیا ہے۔
۳-
نواز شریف کو انھوں نے دبکا لگا کر روکا ہوا ہے،نہیں تو کب کا باہر بھاگ گیا ہوتا۔ مجھے یہ نہ بتائیں کہ کس کس کے پیسے اور جائیدادیں باہر ہیں ، مجھے یہ بتائیں کہ آج اس ملک کے جو ارباب اختیار ہیں ، جو اس نظام کے لاڈلے ہیں ان میں سے کس کے پیسے اور جائیدادیں ملک میں ہیں۔ سعد اللہ بلوچ کی بیوی اور بیٹی کو اٹھا لیا گیا ہے۔ انکو شرم نہیں آتی یہ اسمبلیوں میں گھس گئے اور پارلیمینٹرینز کو پکڑ لیا ۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا،کسی نے پہلے کبھی پارلیمنٹ سے کسی کو گرفتار نہیں کیا۔
۴-
پوری قوم کو کہتا ہوں آزادی بچانے کےلئے سٹریٹ مومنٹ کے لیے نکلنا ہوگا ۔ ہماری تحریک جمہوریت کے لئے جہاد ہے۔عدلیہ سے کہتا ہوں قانون کی حکمرانی کے لئے کھڑے ہوں ۔ قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری نہیں آ رہی۔ پوری پارٹی تیار رہے سڑکوں پر آنے کا اعلان جلد کریں گے۔ یاد رکھیں حقیقی آزادی کے لئے قربانی دینا پڑتی ہے۔ میں اور میری بیوی جیل میں ہیں اور جیل میں رہنا ہمارے لئے عبادت ہے۔ اگر آپ کو بھی جیلیں بھرنی پڑتی ہیں تو اس سے دریغ نہ کریں۔ اگر آپ قربانی نہیں دیں گے تو آپ اور آپ کی آنے والی نسلیں غلام رہیں گی۔
Former Prime Minister Imran Khan’s message to the Nation from Adiala Jail:
This is not the first time in the history of this country that one individual has put the entire country at stake to protect his hold on power. (General) Yahya Khan also betrayed the Awami League and Sheikh Mujibur Rahman to stay in power. The Hamood-ur-Rehman Commission report clearly states that one person’s desire to prolong and strengthen his hold on power broke the country in two.
Because of this one man's erroneous policies, ninety thousand of our soldiers were taken as prisoners. Bhutto himself admitted the loss of 50,000 innocent lives, although the actual count was much higher, and the country's economy lost billions of dollars. We have still not been able to recover from the loss. Even today, the same story is being repeated. Once again, one person has taken over control and is destroying the system to prolong and strengthen his hold on power.
A small powerful elite dominates all the resources, power, and control of the country. Whenever this group wants, it violates the constitution, threatens judges, attacks the sanctity of the parliament that symbolises democracy, abducts public representatives and even women of their families. This mafia, devoid of morals, considers itself above the constitution and the law. This small group, this powerful elite, has enslaved this country. Even today, they are doing everything for their own selfish interests.
The Supreme Court is the only institution somewhat safe from their influence, and now it is also being attacked.
A system of injustice and brutality is in force in our country. The criteria for promotions and for being awarded top positions are, for the judiciary, making decisions against Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), and, in the government, brutality and fascism. Three clear examples of this are Qazi Faez Isa, Mohsin Naqvi, and Humayun Dilawar.
Chief Justice Qazi Faiz Isa protected those who targeted us. He took away our electoral symbol. Did not hear our pleas about human rights violations. The former Commissioner of Rawalpindi said the Chief Justice and the Election Commissioner were responsible for rigging the election, and now the Form 47 government and its handlers are employing every possible dirty trick to impose the same Chief Justice once again.
My Pakistanis, if you do not come out against the extension of Qazi Faiz Isa today, you will forever remain enslaved.
Mohsin Naqvi inflicted tremendous brutality on us. Zille Shah was tortured to death by the police, his body was thrown by the side of the road, and an FIR (police report) was filed accusing me of his death. For leading this oppression, Mohsin Naqvi was made Interior Minister and Chairman of the PCB (Pakistan Cricket Board).
Because of Humayun Dilawar, Bushra Bibi and I are illegally imprisoned today. In return for which, Humayun Dilawar was gifted land worth billions. The anti-corruption department of Khyber Pakhtunkhwa has all evidence of that, and now the FIA (Federal Investigation Agency) has filed a case against Khyber Pakhtunkhwa’s anti-corruption department.
They are forcibly keeping Nawaz Sharif in the country, otherwise he would have run abroad a long time ago. Don't tell me whose wealth and properties are abroad, tell me who among these billionaires, who are the darlings of this system, and who hold all the power in our country, have their wealth and property in Pakistan.
Saadullah Baloch's wife and daughter were abducted! They have no shame. They entered the National Assembly building and arrested parliamentarians. This has never happened before, no one has ever been arrested from inside the Parliament.
I say to the entire nation that they have to come out for a street movement to protect our freedom. Our movement is a jihad (struggle) for democracy. I ask the judiciary to stand up for the rule of law. No investments are coming into the country because of no rule of law.
1/2
آج موسیٰ خیل میں 23 معصوم شہریوں کے قتل نے شدید رنجیدہ کیا۔ یہ سانحہ ملک میں بدامنی اور بڑھتی دہشت گردی کی عکاسی کرتا ہے-
ملک میں معاشی و سیاسی عدم استحکام کے بعد اب دہشتگردی کا سر اٹھاتا ہوا عتاب اداروں اور کٹھ پتلی حکومت کی غلط ترجیحات کے باعث بد سے بدترین ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اب وقت ہے کہ ساری توجہ ذاتی مفادات اور سیاسی انتقام سے بالاتر ہو کر ملک کو درست سمت میں گامزن کرنے کی طرف مرکوز کی جائے-