Humble in confidence yet courageuos in character..
I may be imperfect but I'm perfectly me.dreamer❤
Muslim , Pakistani
Consultant Max-facs surgeon
PTI lover❤
ن لیگ کو ملک بھر سے تمام سیٹوں پر امیدوار نہ مل سکے،
ن لیگ قومی اسمبلی کی 266 میں سے 208 سیٹوں پر امیدوار کھڑی کر سکی،
جبکہ پی ٹی آئی نے 266 کی 266 پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں
دوسری طرف ن لیگ صوبائی اسمبلیوں کی 593 سیٹوں پر 463 امیدوار کھڑی کر سکی،
جبکہ پی ٹی آئی نے 593 کی 593 ��یٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کر دیے
اگر آپ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی کل سیٹوں کی بات کریں تو ن لیگ نے کل 859 سیٹوں پر 671 جبکہ پی ٹی آئی نے 859 کی 859 پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں.
ن لیگ جو دو تہائی کی بات کرتی ہے اس کو قومی اور صوبائی 188 سیٹوں پر تو امیدوار ہی نہیں ملے
https://t.co/fhKfDUtosZ
بدنصیب بدقسمت شہزادہ
دنیا بادشاہوں اور شہزادوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ کچھ ایسے کہ دیکھ کر رشک آئے۔ کئی ایسے کہ انسان کانوں کو ہاتھ لگائ��۔ یہ کہانی بھی ایسے ہی ایک بد نصیب بدقسمت شہزادے کی کہانی ہے۔ یہ شہزادہ جب اپن�� سلطنت کے سنگھاسن پر بیٹھا تو آغاز میں ہی کمزور کہ کر رد کردیا گیا۔ بالکل چنگیز خان کی طرح۔ چنگیز خان ابھی نوعمر تھا کہ باپ مر گیا۔ سارا قبیلہ ساتھ چھوڑ گیا کہ یہ چھوٹا سا لڑکا پورا قبیلہ نہیں سنبھال سکتا۔ یہ کمزور ہے۔ شہزادہ بھی کمزور تھا۔ دنیا نے اسے رد کردیا۔
شہزادے نے جب اپنی کمزوریوں پر قابو پایا اپنی طاقت کو جمع کیا تو شہزادے کو گھاو لگ گیا۔ ایسا گھاو کہ شہزادہ اپنی سلطنت چھوڑ کر بستر سے جا لگا۔ ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہوئے۔ شہزادے کے زخم بھرنے میں وقت لگا۔ لیکن جب زخم بھرا تو شہزادہ ایک بار پھر اپنی سلطنت پر مضبوطی سے قدم جما چکا تھا۔
شہ��ادے کی پہلی سلطنت کھیل کا میدان تھا۔ شہزادہ آغاز میں کمزور کہ کر مسترد ہوا پھر انجری نے شہزادے کو دیوار سے لگا دیا۔ لیکن شہزادے کی ہمت نے کسی چیز کو آڑے نہ آنے دیا۔ شہزادہ اپنی پہلی سلطنت کرکٹ کا بادشاہ بن گیا۔ ایسا بادشاہ کہ اپنی اس سلطنت میں آج بھی ناقابل تسخیر ہے۔
لیکن شہزادے کی بدنصیبیوں کی داستان لمبی ہے۔ شاہجہان کی محبوب ترین چیز، اسکی بیگم ممتاز محل جان سے گئی۔ شاہجہان نے اسکی یاد میں تاج محل کھڑا کردیا۔ شہزادے نے اس دنیا میں سب سے زیادہ محبت جس سے کی وہ اس کی ماں تھی۔ لیکن شہزادے کی ماں اسکے عین عروج کے دنوں میں اسے چھوڑ کر چلی گئی۔ شہزادہ بکھرا ٹوٹا لیکن سنبھل گیا۔ شاہجہان نے تو حیرت کدہ تعمیر کردیا تھا شہزادے نے نعمت کدہ اور رحمت کدہ بنا دیا۔
شہزادہ ہمت پکڑتا۔ شہزادہ کوشش کرتا لیکن کوئی نہ کوئی بدنصیبی ایسی آپڑتی کہ اسکی ساری ہمت ٹوٹ سی جاتی۔ شہزادے نے اقتدار کی س��طنت پر کمند ڈالی تو بدنصیبیوں اور بدقسمتیوں کا ایک طوفان آگیا۔ دارہ شکوہ جیسے شاندار شخص کو اسکے بھائی نے مروا دیا۔ تو شہزادے کیساتھ بھی کم نہ ہوئی۔ شہزادے کا بھائی تو تھا نہیں۔ قریب ترین بھائی سگا چچا زاد دشمن بن گیا۔ صبح شام کوئی ایسی کسر نہ تھی جو اس بھائی نے اٹھا نہ رکھی۔
جولیس سیزر کو جب اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے گرانے کا منصوبہ بنا لیا اور سیزر کے سب سے قریبی دوست بروٹس کو ذمہ داری سونپی۔ بروٹس نے جب سیزر کو خنجر گھونپا اور سیزر نے مڑ کر دیکھا تو پکار اٹھا “ بروٹس تم بھی؟”
لیکن اس شہزادے کا بروٹس ایک نہیں تھا۔ شہزادے کی دوسری بیگم بروٹس نکلی۔ شہزادے کا نائب جانشین بروٹس نکلا۔ شہزادے کے دست راست بروٹس نکلے۔ شاہجہان کو سگی اولاد نے اگر جیل میں پھینک دیا تھا تو اولاد کی طرح زمین سے اٹھا کر آسمان تک جو لوگ شہزادے نے پہنچائے وہ اس کے بروٹس نکلے۔ ہر ہر جگہ سے شہزادے کو اسکے بروٹس خنجر مارتے رہے۔ شہزادہ ہر دفعہ مڑ مڑ کر دیکھتا اور پکار اٹھتا “بروٹس تم بھی؟” ، “بروٹس تم بھی”؟ کیونکہ شہزادہ بدقسمت بھی تھا۔ شہزادہ بدنصیب بھی تھا۔
شہزادہ ٹیپو سلطان جیسا بدنصیب تھا۔ شہزادہ نواب سراج الدولہ جیسا بدقسمت تھا۔ شہزادے کے میر صادق اور میر جعفر غدار نکلے۔ شہزادہ کنگ لئیر کی طرح بدنصیب تھا۔ اگر کنگ لئیر کو بیٹیوں نے دھوکا دیا تو شہزادے کی دوسری بیوی نے شہزادے کو دھوکا دیا۔ شہزادہ بدنصیب جو ٹھہرا بدقسمت جو تھا۔ ترک شہزادہ عثمان اول اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور بازنطینی ایمپائر سے سے جاٹکرایا۔ شہزادے کی خود داری اور سرفروشی بھی اسے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے سامنے لے آئی۔ یہ بھی بدقسمتی ہی ٹھہری کہ ہم پلہ مخالف کی بجائے اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور اور بیغیرت دشمن سے نبرد آزما ہونا پڑا۔
شہزادے پر صلاح الدین ایوبی والا وقت بھی آیا۔ کہ خلیفہ العادل نے جب ایوبی کی مقبولیت دیکھی تو اسے جیل بھجوا کر اسے مٹانا چاہا۔ شہزادے کو بھی جیل میں بھیج کر اسے اور اسکی مقبولت کو توڑنے کی کوشش ہوئی۔ لیکن شہزادہ بدنصیب تو تھا بدقسمت بھی۔ لیکن شہزادہ کمزور اور بزدل نہیں تھا۔ شہزادے کو اپنوں نے دھوکے تو دیے تھے لیکن شہزادہ کب کسی پر تکیہ کرنے والا تھا۔ شہزادہ تو اپنے زور بازو سے لڑنے والا شخص تھا۔ شہزادے کے سپہ سالار تو غدار نکلے تھے لیکن شہزادے کی قوت اسکی فوج نہیں اسکے عوام تھے۔
شہزادہ آج بھی قید میں ہے۔ بدنصیبیوں اور بدقسمتیوں کے سبب۔ لیکن شہزادہ باہر آئے گا اپنی ہمت اور بہادری کے بل بوتے پر۔ وہ اپنے زور بازو سے آئے گا۔وہ اپنے عوام کے لشکر مدد سے آئے گا۔ وہ سلاخوں کے پیچھے کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ "گر چہ ٹپکے کا، ہونٹوں کی پپڑیوں سے لہو، مگر میری انا کو یہ ضد ہے کہ مسکرانا ہے"۔ اس کی مسکراہٹ اور زنجیر کی جھنکار سے غداروں کی راتوں کی نیندیں اڑ چکی ہیں، کیونکہ وہ آرہا ہے۔
@HamidMirPAK Jb tak ap jese namwar sahafi baised hun ge is mulk ka kuch ni bn skta... Jb ap pe firing hoi thi tu direct us waqt k dg ISI pe ilzam lgaya tha... Ab ap sahi hen ya tab sahi the....
#lifafa_sahafi#sham_on_u
@HamidMirPAK Jb ino me gov change ki us waqt tu ap bara sath de rhe the... Ab kiya hoa meer sb.... Jb apk faide ka kam ho tu sahi wrna ghalat... Ghalat ko ghalat khena seekhen janab