Assistant Professor and Column Writer; Development Economics; Gender; Poverty; Philanthropy; Human Development; Agriculture. Managing Editor (J. Asian Dev. St)
عید الاضحٰی کے موقع پر گلی, محلے اور گھر میں چھوٹے جانور رکھنے کی اجازت ہونے چاہیے جبکہ بڑے جانور کیلئے ذبح خانے ہونے چاہئے تاکہ عید کی خوشیاں پریشانی نہ بن جائیں....
اس پیغام کو پھیلائیں
#EidAlAdha2026#Eid#publicawarness https://t.co/hi7lKoUyDd
ڈاکٹر سارہ قریشی۔ 1
اکیلی لڑکی۔۔۔ نیندیں اڑا دیں
*سال 2001۔ NUST۔ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ۔
پہلا دن۔* ساٹھ لڑکوں کے بیچ ایک لڑکی داخل ہوتی ہے۔ نام سارہ قریشی۔ کلاس کے پیچھے بیٹھتی ہے۔ لیکچرر گھور کر دیکھتا ہے۔ لڑکے سرگوشی کرتے ہیں۔ کوئی پوچھتا ہے “بی بی آپ غ��ط کلاس میں آ گئی ہیں، ہوم اکنامکس والی بلڈنگ ساتھ والی ہے”۔ سارہ مسکراتی ہے اور کاپی کھول لیتی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ وہ غلط کلاس میں نہیں، غلط صدی میں پیدا ہوئی ہے۔ مگر صدی بدلنے کے لیے کسی ایک کو تو پہلا قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ قدم سارہ نے اس دن اٹھا لیا اور پھر چار سال تک NUST کی لیب میں سب سے آ��ر میں لائٹ بند کر کے جانے والی وہی لڑکی تھی جسے پہلے دن کلاس کا راستہ پوچھا گیا تھا۔ گارڈ رات دس بجے ٹوکتا تھا “بی بی گھر جاؤ، یہاں لڑکیوں کا کیا کام”، سارہ جواب دیتی تھی “چاچا، جہاز کا انجن بنا رہی ہوں، صبح تک ہو جائے گا تو چلی جاؤں گی”۔ گارڈ ہنستا تھا۔ سارہ نہیں ہنستی تھی۔
کیونکہ اسے پتہ تھا کہ پاکستان کی پہلی فیمیل مکینیکل انجینئر بننے کے لیے راتیں کالے کرنی پڑتی ہیں۔ 2005 میں ڈگری ملی۔ NUST کی تاریخ میں پہلی لڑکی۔ لوگوں نے کہا “چلو شاباش، اب نوکری کرو یا شادی”۔ سارہ نے دونوں باتیں سنیں اور تیسری کر دی۔ آٹوموٹو انڈسٹری جوائن کی۔ پاکستان کے ہب میں۔ جہاں انجن تو بنتے تھے مگر چھوٹے۔ سارہ نے وہاں UAV یعنی ڈرون کا آٹو پائلٹ سسٹم ڈیزائن کیا۔ وہ سسٹم جو ڈرون کو خود بخود اڑاتا ہے، بلندی سنبھالتا ہے، ہوا کے تھپیڑے میں بیلنس رکھتا ہے۔ انڈسٹری نے کہا “یہ لڑکی تو کام کی ہے”۔ مگر سارہ کا خواب بڑا تھا۔
اسے زمین پر نہیں، آسمان میں اڑنا تھا۔ اسکالرشپ ملی۔ UK چلی گئی۔ Cranfield University۔ دنیا کی ٹاپ ایرو اسپیس یونیورسٹی۔ وہاں PhD شروع کی۔ موضوع؟ Aerospace Propulsion۔ آسان لفظوں میں: جہاز کا انجن۔ اب ذرا رکو اور سوچو۔ لاہور کی ایک لڑکی، جسے NUST میں کلاس کا راستہ بتایا گیا تھا، اب دنیا کے سب سے مشکل موضوع پر PhD کر رہی ہے۔ اور اکیلی نہیں کر رہی۔ MSc کے گورے لڑکوں کو پڑھا بھی رہی ہے۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے ہیں “You are from Pakistan? And you are teaching us jet engines?” سارہ کہتی ہے “Yes, and I will build one too”۔ پی ایچ ڈی کے دوران اس کا واسطہ پڑا ایک ایسے مسئلے سے جس نے پوری دنیا کو پریشان کیا ہوا تھا۔ جب جہاز اڑتا ہے تو پیچھے سفید لکیر چھوڑتا ہے۔ ہم سب نے دیکھی ہے۔ اسے کنٹریل کہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں بادل ہے۔ مگر سائنس کہتی ہے کہ یہ کاربن ��ائی آکسائیڈ سے دو گنا زیادہ خطرناک ہے۔ یہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مطلب تمہاری گاڑی سے زیادہ جہاز کا وہ سفید دھواں زمین کو گرم کر رہا ہے۔ پچاس سال سے سائنسدان حل ڈھونڈ رہے تھے۔ امریکہ، جرمنی، جاپان سب فیل۔ سارہ نے اپنے والد مسعود لطیف قریشی کے ساتھ بیٹھ کر کہا “ابو، اگر مسئلہ دھوئیں کا ہے تو دھواں ہی ختم کر دیتے ہیں”۔ باپ فزسٹ تھا، بیٹی انجینئر۔ دونوں نے لیب میں تالا لگا دیا۔ 2018 کا سال تھا۔
تین سال لگے۔ نیندیں حرام ہوئیں۔ Cranfield کے پروفیسر
بھی ساتھ مل گئے۔ اور پھر ایک دن انجن اسٹارٹ ہوا۔ انجن نے دھواں باہر نہیں پھینکا۔ اندر ہی پکڑ لیا۔ کیسے؟ اس کے اندر ا��ک پریشر بیسڈ کنڈنسیشن سسٹم لگا ہے۔ یہ سسٹم ایگزاسٹ کے گرم بخارات کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ بخارات پانی بن جاتے ہیں۔ وہ پانی جہاز کے ایک ٹینک میں جمع ہو جاتا ہے۔ کنٹریل؟ زیرو۔ دھواں؟ زیرو۔ گلوبل وارمنگ میں جہاز کا حصہ؟ ختم۔ اور کہانی یہاں نہیں رکی۔ سارہ نے کہا “یہ پانی ضائع کیوں کریں؟” اس نے سسٹم میں ایک اور کمال کر دیا۔ پائلٹ جب چاہے بٹن دبا کر وہ پانی بادلوں میں چھوڑ سکتا ہے۔ مطلب جہاز سے مصنوعی بارش۔ جہاں قحط ہو، وہاں پانی۔ ایک انجن، تین کام۔ ایک: گلوبل وارمنگ کم۔ دو: مصنوعی بارش۔ تین: فیول ایفیشنسی بڑھ گئی کیونکہ انجن کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہا۔ دنیا نے جب یہ سنا تو سانس روک لی۔ امریکہ اور UK نے فوراً دو انٹرنیشنل پیٹنٹ دے دیے۔ 2018 میں ہی سارہ پاکستان واپس آئی۔ والد کے ساتھ مل کر کمپنی بنائی: Aero Engine Craft Private Limited۔ پاکستان کی تاریخ کی پہلی کمرشل جیٹ انجن R&D کمپنی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں۔ ایک عورت کی لیڈرشپ میں۔ لیب لاہور میں لگائی۔
اور پھر وہ کر دکھایا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ پاکستان کا پہلا سول جیٹ انجن بنا دیا۔ جی ہاں۔ مکمل جیٹ انجن۔ زمین پر چلا کر دکھایا۔ ٹیسٹ ہوا۔ کامیاب۔ اس دن پاکستان دنیا کا چھٹا ملک بن گیا جو کمرشل جیٹ انجن بنا سکتا ہے۔ پہلے پانچ کون ہیں؟ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین۔ چھٹا نام کس نے لکھوایا؟ ایک پاکستانی بیٹی نے۔ مگر رکو۔ کہانی ابھی باقی ہے۔ اسی دوران سارہ نے ایک اور پیٹنٹ فائل کر دیا۔ کس چیز کا؟ سپرسونک کمرشل ایئرکرافٹ انجن۔ جاری
ہمارے ہاں ایک شخص کماتا ہے، چار کھاتے ہیں۔ میرے خاندان میں پچاس گھروں میں سے چالیس میں ایسا ہی ہے۔ لیکن یہ اب قابل عمل نہیں رہا۔ اسے بدلنا پڑے گا۔ ورنہ جیسی مہنگائی ہے، بھیک مانگنے کی نوبت آجائے گی۔
یہاں امریکا میں لڑکا ہو یا لڑکی، ہائی اسکول میں آکر جاب شروع کردیتے ہیں۔ کئی اسٹورز یا فاسٹ فوڈ شاپس پر ملازمتیں ہوتی ہی ان کے لیے ہیں کیونکہ اتنے کم پیسوں میں زیادہ عمر اور تجربے والے کام نہیں کرتے۔ اس کے برعکس پاکستان میں لاکھوں افراد یونیورسٹی ڈگری سے پہلے ملازمت کا سوچتے بھی نہیں۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک جاب لگ گئی تو بس اسی کے ہوکر رہ گئے۔ لوگ کرئیر گروتھ کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ کچھ نیا نہیں سیکھتے۔ خواہش لیکن یہ ہوتی ہے کہ ہر سال تنخواہ میں بڑا اضافہ مل جائے۔ میں امریکا میں اسکول ٹیچر ہوں۔ یہاں اگر میں ایک خاص تعداد میں کورسز کرکے کریڈٹس نہیں لوں گا تو میرا ٹیچنگ لائسنس ری نیو نہیں ہوگا۔ پاکستان میں آپ پچیس سال ایک ہی کام کرتے رہیں۔ تنخواہ ملتی رہے گی بلکہ بڑھتی بھی جائے گی۔ میں عمومی رائے دے رہا ہوں، ظاہر ہے کہ سب کی بات نہیں کررہا۔
کامیابی کا نسخہ اور مہنگائی سے مقابلہ کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ گھر کے سب بالغ افراد کام کرکے پیسے کمائیں۔ اور پروفیشنل افراد مسلسل کچھ نیا سیکھتے رہیں تاکہ موجودہ ادارے میں ترقی نہ ہو تو بہتر ادارے یا بہتر پیشے کی طرف جاسکیں۔
عام پاکستانی ایک دن کی مزدوری سے صرف 2 لیٹر پٹرول لے سکتا ہے اور روٹی, کپڑا اور مکان کا خواب شاید ممکن نہ ہو سکے.......
جانئے اس شارٹ سیشن میں
https://t.co/ZYQX4F4VAT
#PetrolPrice#PetrolDieselPrice#inflation#IranWar#petrol
چین, روس, فرانس اور ہمسایہ ممالک کا ایران سے جنگ بندی کی درخواست پر ایران نے ایسی شرط رکھ دی جو ڈونلڈ ٹرمپ کو اسکی اوقات دکھا دے گی......
جنگ بندی بہت جلد متوقع
#DonalTrump#IranUS#petrolprice#ceasefire
https://t.co/LWn9J4w9bP
پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ کیا جبکہ جنگ والے ملکوں میں بھی اتنا اضافہ نہیں ہوا.....
حکومت عوام کو کیوں ذلیل کرنا چاہتی ہے؟
جانئے اس شارٹ سیشن میں
#PetrolPrices#PetrolBomb#IranWar#Iran
https://t.co/DxZZ9xaXra
ایران دنیا کا واحد ملک ہے جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کی دھمکی لگائی اور انہوں نے بے چینی ختم کرنے کیلئے خصوصی دعاؤں کا انعقاد کیا.....
یہ بے چینی معیشت پر بوجھ کی ہے یا کسی اور چیز کی.....
جنگ کب تک ختم ہو گی, جانئے اس شارٹ سیشن میں
#DonalTrump#iranwar
https://t.co/xTY0G7ia9E
سوشل میڈیا پر 80 سالہ حکیم بابر کی شادی سے ڈاکٹر نبھیا اور چاہت فتح علی خان ہی وائرل ہوتے ہیں لیکن کبھی کوئی سوشل ورکر, انجینئر اور خدمت خلق والے گمنام رہتے ہیں....
جانئے اس شارٹ سیشن میں
#hakeembabar#drnabiha#socialmedia
https://t.co/qAQrpfwFWm
ڈاکٹر نبھیا اور حارث کھوکھر سے لیکر 80 سال کے حکیم ��ابر کی 22 سالہ دلہن تک......
سوشل میڈیا پر کسی کو تنقید کیوں کرتا ہے؟
جانئے اس شارٹ سیشن میں
https://t.co/xLTcylGWqQ
#drnabiha
#hariskhokhar
#hakeembabar
#marriage
#socialmedia
ڈا��ٹر نبھیا اور حارث کھوکھر کی تشدد والی ویڈیو اور ہماری نوجوان نسل کیلئے سوشل میڈیا سے سبق....
#drnabiha
#hariskhokhar
#socialmedia
https://t.co/Me9Pu6Jc2u
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر جہازوں کے نمبر بڑھاتے ہوئے 11 تک پہنچ گئے اور کیا وہ 11 ارب والے جہاز سے مماثلت تو نہیں بنا رہے......
#DonaldTrump#11planes#11billion#pakistan
شمع جونیجو کو جس طرح وزارت خارجہ اور وزیر خارجہ ڈیل کر رہے ہیں یہ نان پروفیشنل سٹائل کافی مہنگا پڑنے والا ہے.......
ابھی کافی تہیں کھلنی باقی ہیں
#shamajunejo#ForeignPolicy
پاکستان انڈیا جنگ کے بعد پوری دنیا میں پاکستان کی پذیرائی ہونے کی بڑی وجہ کیا تھی؟
اور کیا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ اس کڑی کا حصہ ہے؟
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا
آج سے چودہ سو سال پہلے انسانیت کو علم, انسانیت اور عبادت کا ایسا درس دیا کہ آج تک ترقی یافتہ دینا اس سے مستفید ہو رہی ہے مگر مسلمانوں کی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ ان اسباق ہر عمل نہ کرنا ہے
I have never received any official tamga. But have had the honor of being removed from three positions for standing up for what I believed to be right. They are my tamgas.
Now, I have been removed frm the BISP Board n frm NFC. That is two more tamgas.