@iRaiSaqib حکومت کے اندر بے حسی ہے عوامی مفاد میں پالیسی نہیں بناتے ۔ اگر عوام سے پوچھیں تو ہم ایسا طریقہ بتائیں گے کہ لوگ خوشی خوشی ٹیکس بھی دیں گے سٹکرز بھی لگائیں گے اور دعائیں بھی دیں گے۔ فلاحی ریاست بنائیں
@hassanayub92 تو یہ تو اچھا سودا ہے مولانا بھی بردباد دور اندیش آدمی ہیں دونوں کو ایک پیج پر لائیں عمران خان سے ملاقاتیں بحال کروائیں انسانی حقوق کے ناطے یا اسے بیرون ملک بھجوائیں یہ بھائی اپنی زندگی جیو ملک اور سیاست میں ذلالت ہےاور دہشتگردی کے موقف پہ تو پورا ملک اتفاق کرتا ہے۔
@AbidSherAli اگر انسانی جانوں کا قتل عام نہیں ہوتا گرفتاریاں نہیں ہوتی تو قالین مفت میں بھی بیچ دے تو یہ برا سودا نہیں۔ خون خرابے پہ بات نہیں جانی چاہیے۔ تشدد سے بچیں مذاکرات کریں اور ایسا احتجاج روز کریں جس میں خون خرابہ تشدد نہ ہو ۔
اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے گزشتہ روز ایک غیر معمولی فیصلہ دیا ہے
ہوا کچھ یوں
اکتوبر 2024 کی بات ہے اسلام آباد کے تھانہ کورال کی حدود میں ایک خاتون (درج کرائی گئی شکایت کے مطابق) spiritual illness کا شکار ہوتی ہے مدعی مقدمہ سعید اللہ جان کے بقول ان کے ہمسائے میں ایک خاتون ان کو بتاتی ہے کہ اس کے والد اس قسم کا روحانی علاج کرتے ہیں جس کے بعد 2 اکتوبر 2024 کو یہ سعید اللہ خان اپنی بیمار بھتیجی کو ملزم نزیر خان کے پاس لے جاتا ہے جہاں وہ علاج کے نام پر خاتون کے چہرے اور کان پر شدید تھپڑ مارتا ہے مدعی مقدمہ کہتا ہے میں روکنے کی بھی کوشش کرتا ہوں لیکن وہ نہیں رکتا 5 اکتوبر 2024 کو بچی ڈاکٹر کو چک کراتی ہے تو ڈاکٹر بتاتا ہے بائیں کان کا پردہ پھٹ گیا ہے وہ سماعت سے محروم ہو گئی ہے جس کے بعد 12 اکتوبر 2024 کو تھانہ کورال میں مقدمہ درج ہوتا ہے جس کا ٹرائل ہوتا ہے اور گزشتہ روز 7 اکتوبر 2026 وقوعہ کے دو سال بعد عدالت فیصلہ دیتی ہے کہ خاتون کا جن نکالنے والا (علاج کرنے والا) ملزم نزیر خان متاثرہ خاتون کو 96 لاکھ 76 ہزار 195 روپے ارش حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق ادا کرنے کرے گا ملزم کو 3 سال قید بامشقت کی سزا بھی سنا دی گئی کمرہ عدالت سے گرفتار کرکے جیل بھی بھیج دیا گیا سول جج مبشر حسن چشتی نے کیس کا فیصلہ سنایا
قدرت حیرانگی یہ ہوئی کہ عمومی طور پر ایسے کیسز میں معاملہ جوں کا توں ہی رہتا ہے نوبت کیسز کی کم آتی ہے لیکن عدالت نے بھی ہمت کی مدعی مقدمہ نے بھی ہمت کی وہ بھی داد کے لائق ہیں
#Courtesy #Saqib #Bashir
@Aadiiroy2 خون خرابا ہر گز ٹھیک نہیں۔ ایک بھی انسانی جان قیمتی ہے اسکا ایک دن بھی قیمتی ہے کسی کو جیل ہو اس کے ںیوی بچے والدین طھر عدالتوں میں رلتے ہیں
اتنا آگے نہ حکومت کو جانا چاہیے نہ نادان لوگوں کو۔ احتجاج چوک میں پلے کارڈز اٹھا کریں مذاکرات کریں
@Aadiiroy2 یار یہ سادہ لوح بھی ہمارے بھائی ہیں۔ یہ معصوم لوگ ہیں آپ بھی غریبوں معذوروں کا درددل رکھنے والے انسان ہیں ہمیں چاہیے اوپر تک بات پہنچائیں کہ ملک کو فلاحی ریاست بنائیں غریبوں کا خیال رکھیں ایک ایک انسانی جان قیمتی ہے انکامال اور وقت قیمتی ہے اور عوام کو بحران سے نکالیں
@saifullahawan40 یہ حل نہیں ہے۔ ہمیں نیا بھٹو نہیں چاہیے۔ سیف اعوان صاحب بجائے ذاتیات کے اب چونکہ آپ میچور ہوچکے ہیں تو بڑوں کو دوستوں کو بردباری اور تحمل کا مشورہ دیں ایسی بات نہ کریں کہ کوئی ایک بھی قیمتی جان ضائع ہو۔ ملک بہتر ہو عوام بہتر ہوں خون خرابے کی طرف ملک نہ جائے یہی مشورہ سب کودیں
کیا چل رہا ہے آخر دنیا میں۔ ہرطرف انسان نے ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے 😢
فتنہ ہی فتنہ ہے طرف۔۔۔ اور یہ شیطان نہیں۔۔۔انسان کے کارنامے ۔۔۔اتنی بےحسی ہر طرف؟
ملک کیسے فلاحی ریاست بنےگا جس ہم آپسی لڑائیوں میں مصروف ہیں حکمران مخلص نہیں، طبقہ اشرافیہ اپنا پیٹ بھرنے اور ظلم میں مصروف ہے عوامی ٹیکس غلط جگہوں پر استعمال ہوتا لوگوں مایوس ہوکر ٹیکس نہیں دیتے۔ اور غریبوں کو دیکھ کر دل کٹ جاتا
نور فاطمہ کو ڈائپر لگانے پڑتے ہیں جو نور فاطمہ کی والدہ کے لیے افورڈ کرنا ممکن نہیں ،
ہم اگر ننھی پیاری سی بچی کی تکلیف کو کم کرنے کے لیے وہیل چیئر کا انتظام کردیں تو نور فاطمہ کی زندگی میں بڑی آسانی ہو جائے گی ، واشروم کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور نور فاطمہ بھی وہیل چیئر سے بہتر ہو سکے گی
بچی کی والدہ بہت پریشان ہیں ڈائپر خریدنے کی استطاعت نہیں اور نور فاطمہ کو تکلیف میں دیکھ کر بہت پریشان ہوتی ہیں
نور فاطمہ کی زندگی میں آسانی کرنے بچی کو چہرے پر ہم مسکراہٹ لے آئے تو اللہ آپکی نیکی سے بہت خوش ہو گا
نور فاطمہ کو ڈائپر لگانے پڑتے ہیں جو نور فاطمہ کی والدہ کے لیے افورڈ کرنا ممکن نہیں ،
ہم اگر ننھی پیاری سی بچی کی تکلیف کو کم کرنے کے لیے وہیل چیئر کا انتظام کردیں تو نور فاطمہ کی زندگی میں بڑی آسانی ہو جائے گی ، واشروم کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور نور فاطمہ بھی وہیل چیئر سے بہتر ہو سکے گی
بچی کی والدہ بہت پریشان ہیں ڈائپر خریدنے کی استطاعت نہیں اور نور فاطمہ کو تکلیف میں دیکھ کر بہت پریشان ہوتی ہیں
نور فاطمہ کی زندگی میں آسانی کرنے بچی کو چہرے پر ہم مسکراہٹ لے آئے تو اللہ آپکی نیکی سے بہت خوش ہو گا
ننھی سی بچی، جس کا نام عائلہ دختر عاصم ہے، کس کی ہے؟
8 فروری 2022 کو بھٹی گیٹ لاہور سے لاوارث حالت میں ملی تھی۔ عائلہ اپنی شناخت اور اپنے گھر کا پتہ بتانے سے مکمل طور پر قاصر ہے، یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے تاحال ورثاء کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
اگر آپ عائلہ کو جانتے ہیں یا اس کے اہل خانہ کے بارے میں کوئی معلومات رکھتے ہیں تو براہ کرم فوری طور پر سیف سٹی "میرا پیارا" ٹیم کو اطلاع دیں۔ آپ کی ایک چھوٹی سی مدد عائلہ کی زندگی بدل سکتی ہے اور اسے اس کے پیاروں کے قریب لے جا سکتی ہے۔
خان کی رہائی مذاکرات سے ممکن ہے علی محمد خان ٹھیک کہتےہیں انسان مشکل وقت میں نرم لہجہ استعمال کرتا ہےاور اگلے کو قائل کرتا ہے کہ ہم آپکے لیےمشکل نہیں بنائیں گے تو وہ یقین کرلیتا ہے2 سال اگر بیرسٹر گوہر کی طرح نرمی سے استعمال کیے ہوتے تو شاید آج واپس ریاست اورتحریک ایک پیج پر ہوتی
کتنے برس بیت گئے... مگر وہ معصوم آنکھیں آج بھی اپنوں کی آہٹ کی منتظر ہیں!
24 نومبر 2018 کی وہ اداس شام، جب ضلع شیخوپورہ کے تھانہ سٹی مریدکے کی حد میں ایک ایسا منظر دیکھا گیا جس نے دیکھنے والوں کا دل دہلا دیا۔ ایک ننھا معصوم بچہ، جو اتنا چھوٹا تھا کہ اپنا نام بھی ٹھیک سے پکار نہ پاتا تھا، اور اس کے ساتھ اس کی بے بس، ذہنی معذور ماں—جو نہ اپنے گھر کا پتہ بتا سکتی تھی اور نہ کسی عزیز کی شناخت۔ دونوں دنیا کے اس ہجوم میں بالکل اکیلے، بے سہارا اور لاوارث کھڑے تھے۔
نہ جانے کون سا گھر ان کے بغیر ویران ہوگا، نہ جانے کتنے دل ان کی یاد میں تڑپ رہے ہوں گے۔ وہ بچہ جو شاید اب کچھ بڑا ہو چکا ہوگا، آج بھی اپنے گھر کی آغوش اور اپنوں کی پہچان ڈھونڈ رہا ہے۔
کیا ہم مل کر اس ماں اور بچے کو ان کا بچھڑا ہوا آشیانہ لوٹا نہیں سکتے؟
ضروری تفصیلات:
• ملنے کی تاریخ: 24 نومبر 2018
• مقام: تھانہ سٹی مریدکے، ضلع شیخوپورہ
• کیس نمبر: 342343811
• رابطہ نمبر: 03090000015
اگر آپ ان میں سے کسی کو بھی پہچانتے ہیں یا ان کے خاندان سے متعلق کوئی بات جانتے ہیں، تو خدارا فوراً رابطہ کریں۔
آپ کا ایک شیئر صرف ایک کلک نہیں، بلکہ کسی کی برسوں پرانی تڑپ کا مداوا اور مانگی گئی دعاؤں کی قبولیت بن سکتا ہے۔ اسے اتنا شیئر کریں کہ یہ پیغام ان کے اپنوں تک پہنچ جائے۔
راولپنڈی کے علاقے خیبان سر سید ڈھوک نجو میں قتل ہونے والی 12 سالہ بچی کے کیس میں اہم پیش رفت۔۔۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سفاک قاتل کس طریقے سے بچی کو اپنی جال میں پھنسا رہا ہے اس کو پیسے دے کر اپنے کمرے میں لے جاتا ہے قاتل کوئی اور نہیں اس کا سکا خالو ہے۔۔۔