سابق وزیراعظم عمران خان کا عوام کے نام پیغام
تمام تر فسطائیت اور حکومتی جبر، رکاوٹوں کے باوجود خوف کی زنجیریں توڑ کر باہر نکلنے پر میانوالی، فیصل آباد اور بہاولپور کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
میں چاہتا ہوں کہ آج (4 اکتوبر بروز جمعتہ المبارک) آپ سب پرامن احتجاج کیلئے ڈی چوک اسلام آباد پہنچیں اور لاہور اور اس کے گردو نواح کے اضلاع کے شہری 5 اکتوبر، بروز ہفتہ مینار پاکستان پر احتجاج کی تیاری کریں۔
یہ جنگ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں ہے اللہ کے فضل سے ہم اپنی حقیقی آزادی کی لڑائی جیت رہے ہیں۔ اقتدار پر قابض ظالم ہمیں خوف زدہ کر کے ہماری جیت کو شکست میں بدلنا چاہتے ہیں۔چنانچہ آپ بے خوف ہو کر نکلیں اور یاد رکھیں کہ اگر اب بھی آپ نے آگے بڑھ کر خود کو حقیقی طور پر آزاد کروانے میں ہچکچاہٹ سے کام لیا تو یہ ظالم آپ کو چیونٹیوں کی طرح مسل کر رکھ دیں گے اور آپ کی آئندہ نسلوں کو بھی اپنا غلام بنا لیں گے جن پر ان کی اولادیں حکومت کریں گی۔
سپریم کورٹ میں ڈرامہ چل رہا ہے اور میں نے تاریخ میں اتنا بےشرم چیف جسٹس نہیں دیکھا جو اپنی ذاتی ایکسٹنشن (اپنی نوکری کی مدت میں توسیع) کی خاطر ہر وہ فیصلہ دے رہا ہے جس کی قانون اور آئین اجازت نہیں دیتے۔ قاضی “ایکسٹینشن گینگ آف تھری” کا حصہ ہوتے ہوئے پاکستانی قوم کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے ان کو ایکسٹینشن مافیا اور پی ڈی ایم کا غلام بنا رہا ہے۔ کسی بھی ملک میں عوام کے حقوق کا دفاع عدلیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن یہاں چیف جسٹس خود ہی عوام کے حقوق کا خون کر رہا ہے۔ دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی جج عدالت میں بیٹھ کر اپنی ملازمت بچانے کیلئے آئین و قانون کو روند کر اپنے ہی حق میں فیصلے کرتا رہے۔ یہ کانفلیکٹ آف انٹرسٹ (مفادات کے تصادم) کی بدترین مثال ہے۔ اس نے جمہوریت اور اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ججز اخلاقی برتری کی بنیاد پر عدالتوں میں بیٹھتے اور فیصلے کرتے ہیں۔ قاضی فائز عیسیٰ کی شکل میں بطور چیف جسٹس عوام کے حقوق کے سب سے بڑے محافظ نے عوام کے حقوق پر سب سے بڑا ڈاکہ ڈالاہے۔
جنرل جیلانی کی گود میں پلنے والے نے چپ کا روزہ توڑا ہے اور پاکستان کے باشعور عوام کو بھیڑ بکریاں قرار دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ہمیشہ اقتدار میں آنے والے کی نظر میں جمہوریت کا مطلب ہمیشہ بوٹ کو عزت دینا ہی ہوتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ باشعور عوام اور ان کے ووٹ کا تقدس کیا ہے۔ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ تم 2 مرتبہ ڈیل کر کے بیرون ملک بھاگے اور جیل گئےت و وہاں رو رو کر تم نےجیل کے سارے ٹشو پیپرز ہی ختم کر ڈالے۔ عوام یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرے جیسی جیل میں تو تم نے ایک دن بھی نہیں گزارا۔ یا تو بیماری کا بہانہ بنا کر ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے رہے یا فائیو سٹار سہولیات کے ساتھ کسی سرکاری مہمان خانے میں بیٹھ کر معافیاں اور این آر او کی بھیک مانگتے رہے۔ اب عوام باشعور ہوچکے ہیں اور تمہارا اصلی چہرہ ان پر بےنقاب چکا ہے۔
لندن پلان کے مطابق اس لیکشن میں تمھاری جماعت نے 20 سیٹیں تک نہیں جیتیں جبکہ لندن پلان کے مطابق تمہیں کپتان ہونا تھا لیکن تھرڈ ایمپائر تمہیں Deceive (دھوکہ دے کر) کر کے خود ہی کپتان بن گیا اور تمہیں بارہواں کھلاڑی بنا دیا۔
میں وفاقی حکومت کی جانب سے اپنے غلام آئی جی خیبر پختونخواہ کے ذریعے صوبائی حکومت کی مرضی اور اجازت کے بغیر امن جرگے پر حملے اور پرتشدد کاروائی کی شدید الفاظ میں مزمت کرتا ہوں۔ آئی جی کے ذریعے وفاقی حکومت کا یہ اقدام صوبائی امور میں کھلی مداخلت اور صوبائی خود مختاری پر کھلا حملہ ہے۔
1/2
تتہ پانی رینجرز کی طرف سے چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے بچوں و عورتوں پر تشدد کیا گیا- اطلاعات ہیں کہ بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے- حکمرانو ——- ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہم پُرامن لوگ ہیں- ہم نے عوام کو پُرامن رہنے کی ہدایت کی ہے- حکمرانو ہوش کے ناخن لو ورنہ عوامی مزاحمت آپ کو اپنے ساتھ بہا لے جائے گی-
انتہائی ہولناک مناظر 🛑
کشمیری جوان کی سر میں گولی لائیو دیکھا جاسکتا ہے !!
ویڈیو بناتے ہوئے نوجوان کو فورسز نے گولی ماری!
یہ مقبوضہ کشمیر نہیں آزاد کشمیر ہے, یقین کرے زہنی مریض پاکستان کو ایک بار پھر توڑنے کا منصوبہ بنا چکا ہے!!
اس کے نام کی تختی ہٹا دی،
اسکے ووٹ کا تخت چرا لیا،
ن لیگ کی ٹوٹل کارکردگی اس ایک شخص سے شروع اور ختم ہے جسکا نام عمران خان ہے اور اسے ہٹا دو تو ان کے پَلے بس سڑکیں ہی ہیں۔
شہباز گل نے حد ہی کردیا!!🔥
کاکول سے نکل کر ہی بدمعاشی کرتے ہیں!!
یہ جرنیل مافیا کا کردار ادا کر رہے ہیں, یہ gangsters ہیں, ان سے سارے اختیارات لینی ہوگی!!
KP اسمبلی میں بل پیش کیا گیا جس کیں اسمبلی اور ان کے پارٹنرز کے لیے بلیو پاسپورٹ، مفت فضائی اور زمینی سفر، فری ٹیلی فون الاؤنس
جب عمران خان ازیتیں سہہ رہے ہیں صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں تو یہ سب اپنی عیاشی کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں
شہباز گل
"A decomposing corpse Morally "
Mr Sohail Afridi
Why are you still ELFIE with chair ' when you can't do anything
For The Leader Imran Khan .
@SohailAfridiISF
ڈیم بجلی پیدا کرتا ہے۔ پنکھا ہوا پیدا کرتا ہے۔ سپیکر آواز پیدا کرتا ہے اور پاک فوج وہ حالات پیدا کرتی ہے جو ملک کو ہر روز نئی تباہی کی دلدل میں اتارتے ہیں۔ مشرقی پاکستان ، قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے بعد آزاد کشمیر میں بھی پاک فوج نے اپنا فریضہ احسن طریقے سے سر انجام دیا ہے۔ پہلے ان لوگوں سے معاہدہ کرکے مکرگئے۔ پھر انہیں ملک دشمن ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ، پھر ان پر ہلہ بول کر انکے درجن بھر لوگ شہید کرکے انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی۔
پھر ہفتوں سے کبھی انکی شناخت سے مکرتے ہیں کبھی انکے لیے روایتی مسائل پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب نوبت یہ آگئی ہے کہ فوج سے ہمدردی رکھنے والے سیاستدان کشمیر میں انتخابی مہم تک نہیں چلا پارہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے جو کچھ ہورہا ہے عوام اس کا غصہ ان سیاستدانوں پر پتھراؤ اور تشدد کے ذریعے نکال رہے ہیں۔ یہ حالات کی وہ نہج ہے جو کسی فوجی دماغ کو سمجھ نہیں آسکتی۔ پاک فوج نے جہاں جہاں جو جو بیج بویا ہے اسکی فصل اٹھانی پڑے گی۔ کشمیر میں تمبر اگتا ہے۔ پاک فوج نے وہاں نفرت کی کاش کی اسکے ڈنڈے اب پاک فوج کو برداشت کرنے ہیں۔
کچھ عرصہ جی ڈی آئی ایس پی آر سے بھی وابستگی رہی۔ ٹویٹس کا منہ دیکھ کے سمجھ آجاتی ہے کہ کدھر سے آئی ہے اور اس کا شان نزول کیا ہے۔
پاک فوج پر وہ نوبت آچکی ہے کہ “ عالمی پذیرائی “ کے لیے عظمی بخاری کو بھی ٹویٹس لکھ لکھ کر بھیجی جاتی ہیں۔
جیسے آج کل لوگ اصلی و جعلی ورک پرمٹس پر برطانیہ دوڑ رہے ہیں ویسے ہی تب سٹڈی ویزے ہوتے تھے۔ دو کمروں کا کالج ، سال کا ویزہ ، آٹھ لاکھ کی بنک سٹیٹمنٹ ، نا کوئی لینگوئج ٹیسٹ اور نا کوئی رکاوٹ۔ برطانیہ پہنچ کر پتہ چلتا کہ فراڈ ہوچکا ہے۔ ڈگری نہیں یہ کوئی ڈپلومہ سا ہے اور جس پتے پر کالج رجسٹرڈ ہے وہاں پر کوئی دو درجن مزید کالج بھی رجسٹرڈ ہیں۔ اللہ تیری یاری۔ شومئی قسمت عین انہی سالوں میں عالمی مالیاتی بحران آگیا۔ جس کا ساٹھ ستر سو پاونڈ ہفتہ کا کوئی جگاڑ ہوا تھا وہ بھی جاتا رہا۔ اب تین رستے تھے۔ گھر واپسی ، گھر سے پیسے منگوا کر گزارا یا پھر حالات سے لڑائی۔ گھر واپس جاتا تو بڈھا ٹانگ میں گولی ماردیتا۔ گھر پیسے ہوتے تو یہاں امب لینے آتے ، حالات سے لڑنے کا آپشن بچا تھا۔
سات دن دس گھنٹے ایک کار واش پر نوکری ملی۔ کل تنخواہ دو وقت کی روٹی ، کار واش کے سٹورروم میں رہنے کی جگہ تھی۔ ٹپ کا کچھ خاص رواج نہیں تھا۔ جو ہوتی وہ بھی مالک کو دینا ہوتی تھی۔ ہاتھ کی صفائی سے کبھی دس بیس پینی پچاس پینی سائیڈ پر کرلیے جاتے اور بئیر کا ایک آدھ کین آجاتا۔ چھ سات دن بعد ایک جاننے والے آیا تو اس نے ترس کھا کر ایک واٹر پروف سوٹ لے دیا۔ اسکے باوجود ہاتھوں پیروں سے ماس اتر رہا تھا۔ ایک دو جگہوں سے گوشت نظر آنا شروع گیا تھا جس پر کپڑے لپیٹ لیتا۔ دوسرے تیسرے دن ہمت جمع کرکے گھر فون کرلیتا اور اگلی دو تین راتیں رو لیتا۔ نا سوچیں تو کچھ بھی نہیں سوچیں تو اذیتیں بہت۔
ہر وقت کے بھیگے ہوئے کپڑوں کی بدبو ، سٹور میں پڑے مختلف کیمیکلز کی بدبو ، سٹور سے جڑے کسٹمر ٹوائلٹ کی بدبو، لوگوں کی کاٹ کھاتی ہوئی نظریں ، مالک کی روک ٹوک ، ٹکا آمدن نہیں ، پیچھے جو خواب دیکھ کر اور دکھا کر آیا تھا وہ تو کرچی کرچی تھی اب تو جسم بھی ٹوٹتا تھا۔ ادھر ادھر کام ڈھونڈنے کے جتنے جتن تھے وہ کرلیے۔ کرائسسز بڑھتا رہا اور ملنے والی ہر نوکری سخت سے سخت تر۔ لہذا اسی پر گزارا کیا۔
وقت گزر جاتا ہے اور پھر اسکے نقوش بھی مدہم ہوجاتے ہیں۔ اس دور کی ایک ڈائری میرے پاس موجود ہے جو یادیں تازہ رکھتی ہے۔ اس میں وہ خط موجود ہیں جو میں نے ماں کو لکھے ، باپ کو لکھے ، اللہ میاں کو لکھے ، رانو کو لکھے ، اپنے کچھ دوستوں کو لکھے۔ لیکن کبھی پوسٹ نہ کیے۔ ایک تو پوسٹ کرنے کے پیسے نہیں تھے ، اللہ میاں کا ڈاک کا پتہ معلوم نہیں تھا اور ایک موٹی سی ڈائری میں لکھے گئے خط بھلا کیسے پوسٹ ہوسکتے ہیں۔ میں نے کچھ سال دو بس اسی کیفیت میں گزارے۔
پھر وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت کیساتھ ہوتا ہے۔ گزر جاتا ہے۔ اب اگر بتاؤں گا ایک کسٹمر گوری کو مجھ سے محبت ہوئی ، ہم نے شادی کرلی اور مجھے کارڈ مل گیا تو آپ کہیں گے بکواس کرتا ہے ، کروں گا ، میری بکواس میری مرضی۔ اب اس شہر میں میری دس بارہ ملین کی پراپرٹی ہے۔ میری پچھلی گاڑی ایک عدد رینج روور تھی۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ دو عدد مزید بیویوں کی کمی ہے۔ وہ بھی اللہ دے گا۔ ملک کے حالات سے دل اداس ہے۔ کرپشن کی بدبو ، ناانصافی کی بدبو ، عسکری ٹوائلٹ کی بدبو ، معصوموں کے خون کی بدبو ، میں برداشت بھی کرتا ہوں روتا بھی ہوں۔ لیکن مجھے پتہ ہے مشکل وقت کیساتھ ایک بڑا خوشگوار حادثہ ہوتا ہے ، یہ گزر جاتا ہے۔ یہ ساری بدبو ایک دن ختم ہوجائے گی اور ہم صاف ستھرے گھروں میں ، صاف ستھرے بستروں میں ، صاف ستھرے نظام اور صاف ستھری جمہوریت میں اٹھیں گے۔
اگر ہماری انفرادی زندگیاں بدل گئیں تو اجتماعی بھی بدل جائیں گی۔
جہاں پٹواریوں نے دس ارب کے جہاز کا ، اسحاق ڈار کی اولاد کا ، جعلی الیکشن مینڈیٹ کا ، ووٹ کو عزت دو کے فضلے کا بوجھ اپنے سروں پر ڈھویا وہاں یوتھیوں نے مراعات لینے پر پختونخواہ اسمبلی کو اڑا کر رکھ دیا۔
فرق صرف غیرت کا ہے !
پختونخواہ میں دہشتگردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو تبصرہ پاڑ پوچھتے ہیں سہیل آفریدی جنازے میں گیا؟ بلوچ علیحدگی پسندوں نے دو درجن سے زائد لیویز اہلکار ماردیے آرمی چیف جنازے میں گیا؟ ایس ایچ او والا وزیر داخلہ جنازے میں گیا؟ بلکہ وہاں موجود لوگوں نے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے ایف سی اہلکاروں و افسران کو بھی جنازے سے باہر نکال دیا۔
جس دن تبصرہ پاڑوں اور بے غیرت پٹواریوں نے مریم نواز پر ووٹ کو عزت دو کو قربان کرنے پر ، دس ارب کا جہاز خریدنے پر ، سی سی ڈی جیسے ادارے بنانے پر ویسی تنقید کی جیسی یوتھیوں نے پختونخواہ اسمبلی پر مراعات لینے پر کی اس دن یہ ملک بدل جاوے گا۔
اربوں کھربوں کا بجٹ آئی ایس پی آر پر اس لیے لگایا جارہا ہے کہ ایک پریس کانفرنس کرکے بتایا جاسکے کہ پاکستان میں ساری دہشگردی بھارت کروا رہا ہے۔ صرف اتنے سے کام کے لیے 822 ارب روپے کی سالانہ پنشن ، موجودہ تنخواہیں الگ ، بجٹ الگ ، وغیرہ وغیرہ الگ۔
تم ہمارا مینڈیٹ چھینتے ہو
تم ہم پر گولیاں چلاتے ہو
تم ہمیں جیلوں میں پھینکتے ہو
تم ہماری خواتین پر ہاتھ ڈالتے ہو
تم ہمیں اذیتیں دیتے ہو
ہم تمہیں کس منہ سے زندہ باد کہیں؟
اسحاق ڈار کا خاندان انٹرنیشنل میڈیا پر بھی شہرت حاصل کرتا ہوا، کاش کوئی انٹرنیشنل میڈیا میں بھی حوالدار MF جیسا ہوتا جو کہتا خدانخواستہ یہ خاندان ایسا نہیں ہو سکتا
رضاڈار کیس پر ' غیر ملکی خواتین سے زیادتی ' اغوا اور ٹھگی پر
کیا پی ٹی آئی قیادت کا کوئی بیان سنا ؟
انہیں تو ان کو لٹا لینا چاہیئے تھا مگر وہ ہر ایشو پر یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ایسی اپوزیشن ہیں جن کا لیڈر اور کارکن ہر وقت جبر کے شکنجے میں ہیں
شاید اسی کے عوض وہ کڑکی سے باہر ہیں