بلوچ طلبا کا مستقبل بچانے کی خاطر ہمیں جبری گمشدگیوں کے خلاف ایک منظم آواز بن کر ابھرنا ہوگا۔ (ترجمان، بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد)
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں 13 جولائی کو کوئٹہ سے جبری گمشدگی کے شکار ہونے والے آصف، سلمان، نبیل اور زبیر کی جبری گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اُن کی فالفور رہائی کا مطالبہ کیا۔ آصف بلوچ ولد محمد خضدار کے رہائشی ہیں اور وہ یونیورسٹی آف پشاور کے گریجوئیٹ ہیں، جبکہ اپنی طالبعلمی کے دوران وہ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پشاور کے بطور جنرل سیکریٹری اور چئیرمین فرائض انجام دے چکے ہیں۔ آصف کے ہمراہ جن تین دوستوں کو اغوا کیا گیا ان میں سلمان ولد انور پنجگور کے رہائشی ہیں، اور وہ ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور سے ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔ جبکہ زبیر اور نبیل نے خضدار سے اپنی گریجویشن مکمل کی ہے۔ یہ نوجوان بلوچ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں، ہزاروں مصائب اور تکالیف کا سامنا کرنے کے باوجود وہ نہایت دلیری اور ہمت کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں، تاکہ اپنی اور اپنے خاندان کے مستقبل کا سہارہ بن سکیں، لیکن یہ ریاست بے دردی سے اُنہیں اغوا کرکے ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار بناتی ہے۔
بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی شاید پنجاب و وفاق میں بیٹھے لوگوں کے لئے صرف ایک خبر ہو، اور ایسی خبر جو اُن کے مین اسٹریم میڈیا کے کونوں کھدروں میں بھی جگہ بنانے کے قابل نہ ہو، لیکن ہمارے لئے یہ ہماری زندگی اور قومی بقا کا سوال ہے۔ ریاست شاید سمجھتی ہو، کہ وہ تشدد کے بے دریغ استعمال کے ذریعے ہمیں خاموش کرے، اور ہم چھپ سادھ کر یہ ظلم سہیں، لیکن ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہیں خاموشی اس ریاست کے مظالم میں دیدی دلیری کا سبب ہے۔ اور جب تک ہم خاموش رہیں گے، ہر بلوچ نوجوان اسی ڈر اور خوف میں زندگی گزارے گا، کہ شاید کل کے پوسٹر میں اُس کی تصویر ہو۔ یہ کوئی الگ یا نیا واقعہ نہیں، بلکہ بلوچ قوم کا الم ہے، اور اسی غم کے بوجھ تلے آج بلوچ نوجوان اس کالونیل فسطائیت کی دین ہزاروں ذہنی بیماروں کا شکار ہوا جا رہا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اب فیصلہ کرنے کا وقت آ چکا ہے، اور ہمیں بحیثیت ایک زندہ قوم اس ظلم کے خلاف “اب اور نہیں” کا نعرہ بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ بی ایس سی اسلام آباد، بطور ایک طلبا تنظیم اپنی قوم، دیگر طلبا تنظیموں، وکلا برادری، صحافی حضرات اور سول سوسائٹی سے مخاطب ہوتی ہے کہ آج اس ظلم کے سامنے آپ کا فیصلہ تاریخ میں آپ کے مقام کا تعین کرے گی، کہ آپ اپنی مفاد کی خاطر یزیدی لشکر کے ساتھ کھڑے رہے یا حسینی روایت کو زندہ رکھے حق کا نعرہ بلند کرتے ہو۔ کیونکہ ظلم کے خلاف ہماری خاموشی ہمارے اندر کے انسان کا دم گھونٹ دیتی ہے، اور آہستہ آہستہ ہم میں اور جنگل کے جانوروں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ جنگل کے جانوروں کا بھی شاید کوئی دستور ہو، لیکن بلوچ کی خاطر یہ سرزمین اس قدر تنگ کردی گئی ہے، کہ نہ اُس کے لئے کوئی دستور ہے اور نہ ہی اس ملک کا آئین اس پر لاگو ہے۔ ہم اس بیان کے ذریعے حکومتِ وقت اور وفاقی اداروں سے ڈیمانڈ کرتے ہیں آصف بلوچ اور اُس کے ساتھیوں سمیت دیگر گمشددہ افراد کو فالفور رہا کیا جائے وگرنہ ہم اپنے تمام قانونی حقوق کو بروئے کار لاتے ہوئے اس ظلم و بربریت کے خلاف بھر پور مہم چلائیں گے۔ ہماری یہ جدوجہد کسی مفاد یا آسائش کی خاطر نہیں بلکہ بلوچ طلبا کی زندگی کا حق مانگنے کے لئے ہے۔ اور اس ضمن میں ہم اپنی قوم اور اس ملک کے باشعور عوام سے پُر زور اپیل کرتے ہیں کہ ہماری آواز بنیں، کال کھوٹڑی میں بند آصف کی آواز بنیں اور ہمارا ساتھ دیں۔
#ReleaseAsifBaloch
#ReleaseSalmanBaloch
#EndEnforcedDisappearances
ایک بیوہ بلوچ خاتون پر یہ ریاست اس لئے ظلم کررہا ہے کیونکہ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگی اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ سید بی بی کی گرفتاری اور تھری ایم پی او جیسے بے بنیاد کیسز لگانا اس ریاست کی بوکھلاہٹ کے سوا کچھ نہیں ہے۔
#ReleaseSyedBiBi#SaveBalochWomen
تعلیم کوئی جرم نہیں، بلوچ ہونا کوئی گناہ نہیں۔ حفیظ بلوچ کو کراچی سے جبراً لاپتہ کیا گیا، بغیر کسی الزام کے، بغیر کسی عدالتی کارروائی کے۔ یہ صرف ایک خاندان کا نہیں، پوری بلوچ قوم کا درد ہے۔ آواز اٹھاؤ، اس سے پہلے کہ خاموشی معمول بن جائے۔
#ReleaseHafeezBaloch#SaveBalochStudents
حفیظ بلوچ کی گمشدگی محض ایک واقعہ نہیں، یہ ایک سلسلہ ہے جو بلوچ طلبہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔ آج حفیظ ہے، کل کوئی اور ہو سکتا ہے۔ اس ظلم کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
#ReleaseHafeezBaloch#SaveBalochStudents#ReleaseHafeezBaloch
حفیظ بلوچ کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ بلوچ تھا اور تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ آج مہینوں گزر چکے، نہ کوئی خبر، نہ کوئی پرسانِ حال۔ اس کی یونیورسٹی کی کلاسیں ویران ہیں، اس کے دوست اس کا انتظار کر رہے ہیں۔ ریاست کو جواب دینا ہوگا۔
#ReleaseHafeezBaloch#SaveBalochStudents
Educational institutions and cities should be spaces of safety, not fear, for students from every background. Standing in solidarity with families demanding answers and safety for their loved ones.
#ReleaseHafeezBaloch#SaveBalochStudents
Educational institutions and cities should be spaces of safety, not fear, for students from every background. Standing in solidarity with families demanding answers and safety for their loved ones.
#ReleaseHafeezBaloch#SaveBalochStudents
Behind every missing student is a family left waiting in agony, demanding nothing more than the basic safety of their loved ones. Educational institutes shouldn't feel like hostile spaces. Safe recovery for Hafeez Baloch now!
#ReleaseHafeezBaloch#SaveBalochStudents
Abdul Hafeez, son of Iqbal, a student in the 6th semester of Electronics at Peshawar University and a resident of Parom, Panjgur, was forcibly disappeared by Pakistani security forces on 16 June 2026. He was abducted from Karachi.
#ReleaseHafeezBaloch#SaveBalochStudents
The X-Campaign for the save Release of Hafeez baloch has been started all of you are requested to do participate in campaign
#ReleaseHafeezBaloch#SaveBalochStudents
Rubina Baloch, a member of the Baloch Students Council Islamabad and a fourth-semester BS Mass Communication student at the International Islamic University Islamabad, has been subjected to enforced disappearance in Islamabad on 2nd july.
Over the past week, there has been an alarming escalation in raids on the residences of Baloch students in Islamabad, accompanied by intimidation and harassment. These actions have created a climate of fear and insecurity among Baloch students and raise serious concerns regarding their safety and fundamental rights.
The Baloch Students Council Islamabad strongly condemns the reported enforced disappearance of its member, Rubina Baloch, and demands her immediate and safe recovery. We call upon human rights organizations, the legal fraternity, political parties, civil society, and student organizations to unequivocally condemn enforced disappearances and the targeting of students, and to take a clear stand in defense of human rights, the rule of law, and the protection of fundamental freedoms. Silence in the face of such actions only deepens impunity and further endangers those at risk.
#ReleaseRubinaBaloch
#SaveBalochStudents
BSC Islamabad is launching a X campaign against the enforced
disappearance of Hafeez Baloch
We urge students, civil society members journalists and human rights advocates to raise their voice against these injustice
TODAY, 08:00 - 12:00 PM
#ReleaseHafeezBaloch#SaveBalochStudents
Marking one year since the enforced disappearances of Sagheer Baloch and Iqrar Baloch, Baloch Voice for Justice will hold a campaign on X to demand their recovery and safe release.
#ReleaseSagheerAndIqrarBaloch
📅 Date: June 17, 2026
🕖 Time: 7:00 PM to 12:00 AM
@BalochNaseeda
8 June is not merely a day of remembrance but a day of political resistance against the ongoing policy of enforced disappearances in Balochistan.
#8junebalochmissingpersonsday