پاکستان کی لیڈرشپ تقریباً سارا سال دوسرے ملکوں کے دوروں پر ہوتی ہے، شہباز شریف اب تک پچاس دورے کر چکے ہیں دس بار تو سعودی عرب گئے ہیں کیا وجہ ہے کہ کسی اہم ملک کے سربراہ نے پاکستان کا دورہ کیا اور نہ ہی پاکستان کو کوئ معاشی سہارا ملا؟ آخر آپ کی کامیابیوں کا کوئ material evidence بھی تو ہونا چاھئے؟
Bangladesh is richer than Pakistan. Its per capita is significantly more than Pakistan. Their economic indicators are far superior than us. Yet the Bangladesh PM travels in a commercial flight going to same place New York where our PM has gone in a private plane including a 3 day stopover for private reasons in London. Our money being spent on ayashi by our rulers
کوئی مجھے سمجھائے۔۔
کہ جناب وزیراعظم شہباز شریف کی یو این میں تقریر 25 ستمبر کو ھے ۔ اور جناب 15 ستمبر سے پاکستان چھوڑ کر گئے۔۔ پانچ دن لندن میں اپنی بزنس سنبھالی اور اب پانچ دن نیویارک میں گزاریں گے ۔
ملک کی حالت دیکھو۔۔ روزانہ ھمارے جوانوں کی لاشیں گر رہی ھے۔۔ اور وزیراعظم سیرسپاٹوں اور بیرون دنیا اپنی بزنس میں مصروف ھے۔۔
اگر ایسے وزیراعظم کو گھر بھیجا گیا۔ تو پھر کہیں جمہوریت پر حملہ ھوا ھے۔۔۔
#Pakistanis
ہزار روپے لیٹر میں پٹرول نہیں ملتا تو نہ ملے لیکن یاد رکھیں ہمیں ڈرائیں مت اگر عوام کے لئے پٹرول کی قلت ہوگی تو حکمرانوں کے لئے بھی بے بہا ذلت ہو گی اور بالکل مفت ہو گی
2022 سےعوام سے قربانیاں مانگی جا رہی ہیں، مگر اسی دوران حکمرانوں، بیوروکریٹس، ججز اور ارکانِ اسمبلی کی مراعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ایک طرف مہنگائی، ٹیکس اور بجلی و گیس کے بھاری بل، دوسری طرف شاہانہ سہولتیں۔کیا کفایت شعاری صرف عوام کے لیے ہے؟دیکھیے
جب آپ کہتے ہیں آپ ٹیکس کو کم کریں کہتے ہیں اجازت نہیں ہے یہ وہی IMF ہے جس نے 11 ارب کا جہاز خریدنے کی اجازت دے دی پنجاب حکومت کو
یہ وہی IMF ہے جس نے پچھلے ہفتے 3 ارب روپے کی نئی بلٹ پروف گاڑیاں لینے کی اجازت دے دی
یہ وہی IMF ہے جو پیٹرول پر ٹیکس کم نہیں کرنے دیتا
یہ کہتے ہیں اگر ٹیکس کم کردیں گے تو ہمارا نقصان ہو جائے گا مثال کے طور پر 15 روپے کم کرتے ہیں تو 15 ارب کا نقصان ہوگا
وفاقی حکومت اور 4 صوبوں کی حکومتوں کا بجٹ 30 ہزار ارب ہے سالانہ
30 ہزار ارب سے 15 ارب نہیں ڈھونڈ سکتے
مفتاح اسماعیل
شہباز شریف حکومت نے 2022سے اب تک چار سال میں تقریباً نو ارب ڈالر قرضہ لیا ہے اور مزے کی بات صرف گیارہ مہینے میں بارہ ارب ڈالر نجی بجلی گھروں کو دے ڈالے ہیں ہمارے سیاستدانوں نے ایسے معاہدے کئے کہ یہ رقم ہر سال بڑھ جاتی ہے یہ اتنا بڑا بوجھ اس سے معیشت بھی بیٹھ چکی اور ایک عام آدمی بجلی کا بل ادا کرنے کی سکت نہی رکھتا اور اتنی بڑی رقم ادا کر کے بھی لوڈشیڈنگ کرنی پڑ رہی ہے انڈسٹری بند پڑی ہے
یہ ہے ہمارے سیاستدانوں کی کارکردگی ان سے بس جمہوریت پر جذباتی تقریریں کروا لیں
امریکہ اور ایران تنازع کے آغاز سے لے کر اب تک پاکستان نے پیٹرول کی قیمتوں میں 114 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ اسی دوران بھارت نے قیمتوں میں صرف 7 روپے فی لیٹر اور بنگلہ دیش نے صرف 24 ٹکا فی لیٹر اضافہ کیا۔ دوسری طرف صرف تین دنوں میں چالیس ارب کی گاڑیاں خرید رہے ہیں مریم نواز گیارہ ارب کا جہاز لے کر لندن میں چھٹیوں پر ہیں، آٹا، پیاز ہر جیز کی قیمت کو پر لگ گئے ہیں، اپوزیشن کی آواز نہیں اور یہ لوگ عوام کو ایسے لوٹ رہے ہیں جیسے منگولوں نے بغداد کو لوٹا تھا،
کراچی کو ہٹا کر باقی کا سندھ اگر اسی تباہی کے باوجود پیپلز پارٹی کے ماتحت ہی رہنا چاہتا ہے تو سو بسم اللہ۔ لیکن کراچی اب ان نااہلوں کو قبول نہیں کرے گا۔
تین کروڑ کی آبادی والے شہر کو سندھ اسمبلی میں minority بنا کر رکھا ہوا ہے تو ظاہر ہے اس شہر کا فیصلہ اسمبلی میں ممکن ہی نہیں ہے۔ صوبے بنیں یا نہ بنیں لراچی کو پیپلز پارٹی سے چھٹکارا تو ملے گا۔ اور اسکی “ٹک ٹاک” اب سنائی دے رہی ہے۔
18 سال مسلسل پی پی پی اقتدار، کھربوں روپے کے بجٹ، اور نتیجہ ZERO سندھ کے کروڑوں لوگ آج بھی پانی، علاج، تعلیم اور تحفظ کو ترس رہے ہیں۔ مگر پھر بھی سندھ اسمبلی میں تین دن سے ایک ہی نعرہ گونج رہا ہے: سندھ تقسیم نہیں ہوگا پی پی پی لیڈرشپ کو چاہئے عوام کی آنکھوں میں دھول نا جھونکیں آج سوال سندھ کی سرحدوں کا نہیں، پیپلز پارٹی کی 18 سالہ مسلسل حکمرانی کے احتساب کا ہے۔سیہون میں پانی کا بحران، لاڑکانہ میں تباہ حال اسکول اور اسپتال، اندرون سندھ میں ناقص نکاسی آب اور ہزاروں سیلاب زدہ اسکولوں کی عدم بحالی—یہ اس طویل حکمرانی کی تلخ تصویر ہے۔اور کراچی؟ پاکستان کا معاشی انجن آج بھی ٹینکر کے پانی، ابلتے گٹروں، ٹوٹی سڑکوں، کچرے، بدترین ٹریفک اور ادھورے میگا منصوبوں کے رحم و کرم پر ہے۔ K-IV دہائیوں بعد بھی مکمل نہیں، Red Line نے شہر کی بڑی شاہراہوں کو برسوں سے اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے، یلو لائین کا ابتدائی تعمیری بجٹ 8 ارب رپے پراجیکٹ ڈائریکٹر کھا گیا جبکہ Safe City منصوبہ وعدوں اور ڈیڈ لائنز سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ عالمی درجہ بندیوں میں بھی کراچی مسلسل دنیا کے نا قابلِ رہائش شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کو 18 سال میں بنیادی شہری زندگی بھی کیوں نہ مل سکی؟وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سندھ کو ماں کہتے ہیں۔ مگر شاہ صاحب اس ماں کے بچوں کو بنیادی حقوق کب ملیں گے؟ آج On My Radar میں سندھ حکومت کے 18 سال کا بڑا پوسٹ مارٹم کیا ہے OMR YouTube لنک کلک کریں اور اس investigative show کو enjoy کریں https://t.co/vB0fYoc3fK
سندھ اسمبلی میں بیٹا، بیٹی، کزن کوٹہ پر کئی ایم پی ایز بیٹھے ہوئے ہیں!ایم کیو ایم رہنما عثمان نے نام لینے شروع کیے تو اسپیکر نے روک دیا! پھر ایسا کیا جواب دیا کہ اسمبلی میں قہقہے لگ گئے
#PublicNews#PublicUpdates
پپلز پارٹی کیوں سندھ کی تقسیم نہیں چاہتی !
سندھ اسمبلی میں اس وقت نسل در نسل ایم پی اے شپ چل رہی ہے باپ جاتا ہے بیٹا آجاتا ہے ☆ ایک ہی خاندان کے درجنوں افراد اسمبلی میں موجود ہیں•
🚨مشتری ہوشیار باش
پاکستان کے حکمران سیاستدانوں نے پہلے شرمناک ترین نجی بجلی والے معاہدے کیے جس کے نینجہ میں کمر توڑ بل دینے کے باجود لمبی لوڈشیڈنگ جاری اب بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں حکمران ویسی ہی شرائط پر اپنے ہی پیاروں کو بیچ رہے ہیں سب سے پہلے فیسکو بیچیں گے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی پاکستان میں سب سے منافع بخش ہے یہ سو فیصد سے اوپر ریکوری کر رہی یعنی پچھلے بقایاجات بھی لوگوں سے لے رہے جبکہ خسارے والے سارے ڈسکوز حکومت کے سر رہیں گے جہاں بجلی چوری ہو جاتی ہے فیصل آباد صنعتی شہر ہے اب یہاں سے صنعتیں مکمل ختم کرنے کا پلان حکومت نے بنا دیا ہے ان معاہدوں کی شرائط بھی نجی بجلی گھروں جیسی ان کے نتائج بھی جب تک نکلیں گے یہ حکمران جا چکے ہوں گے مگر بیٹھ کر منافع کھاتے رہیں گے
قرضوں میں ڈوبے بھیک مانگتے ملک کے سپیکر صاحب پودا لگانے پارلیمان سے باہر تشریف لا رہے زرا تیاری چیک کریں
ابھی امریکہ سے دس ارب ڈالر مانگا ہے جو انہیں کاموں پر اڑانا ہے
آپ کو یورپ امریکہ کے سربراہ تک ایسا پروٹوکول لیتے نظر نہی آییں گے
صُوبہ اسلام آباد کے رہائشی ۔۔۔
صدر
وزیر اعظم
نائب وزیر اعظم
سینیٹ چیئرمین
سپیکر قومی اسمبلی
چیف جسٹس پاکستان اور ججز
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت اور ججز
چیف جسٹس اسلام آباد اور ججز
وزیر صحت
وزیر داخلہ
وزیر خارجہ
وزیر دفاع
وزیر تعلیم
فیلڈ مارشل/چیف آف ڈیفنس فورسز/آرمی چیف
ائیر چیف مارشل
نیول چیف
ڈی جی آئی ایس آئی
چیف الیکشن کمشنر
100 سینیٹرز
336 ممبران قومی اسمبلی
کمشنر
ڈپٹی کمشنر
سی ڈی اے چیئرمین
آئی جی پولیس
درجنوں وزیر/مشیر
دسیوں درجن سینئیر بیوروکریٹس
جس دن ان سب کے بچے اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیں اور ان کا علاج اسلام آباد کے دونوں سرکاری ہسپتالوں میں ہونا شروع ہو جائے تو سارے پاکستان میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ پھر جتنے چاہے صوبے بنا لیں۔
ترکی میں ایک خاتون نے گھر کے کاموں میں مدد کے لیے صفائی کرنے والی ملازمہ کو رکھا، لیکن کچھ عرصے بعد دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے اور ملازمہ نے مہینہ پورا کیے بغیر ہی نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
ملازمہ اپنا سامان سمیٹ کر جانے لگی تو گھر کی مالکن کی نظر اس کے بھرے ہوئے بیگ پر پڑی۔ اسے شک ہوا تو اس نے ملازمہ سے بیگ کھولنے کو کہا۔ اس کے بعد بیگ میں سے جو کچھ نکلا، اسے دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔
کمرے میں موجود ایک شخص نے مداخلت کرنے کے بجائے پورا واقعہ اپنے موبائل فون میں ریکارڈ کرنا شروع کر دیا، جس کی ویڈیو اب لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
پاکستان میں عام آدمی کی فی کس آمدنی نیپال والوں کی فی کس آمدنی کے برابر ہے جو 1500 ڈالر کے قریب ہے نیپال کے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ 600 ڈالر ماہانہ ہے جبکہ پاکستان کے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ 3500 ڈالر ماہانہ سے زیادہ ہے اس معاملے میں پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش سے بھی آگے ہے
نون لیگ کی تجربہ کار حکومت نے 28 مہینے میں 18832 ارب روپے کا تاریخی قرضہ لیا ہے ہر روز شہباز شریف کی حکومت نے بائیس ارب روپے قرضہ لیا ہے اور اس قرضہ سے لگثری جہاز خریدے وزیروں مشیروں کی تنخواہیں بڑھائی اور روزانہ کے حساب سے ججوں کی تنخواہیں مراعات بڑھائی ہیں
کیا نون سے بہتر کوئی اور ڈلیور کر سکتا ہے ؟
بنگلہ دیش میں آخری مرتبہ یکم جون 2026کو پیٹرول کے نرخ بڑھائے گئے ۔تین ماہ سے کوئی اضافہ نہیں ہوا۔پیٹرول 140ٹکہ جبکہ ڈیزل 115ٹکہ فی لیٹر دستیاب ہے مگر پاکستان کے بنارسی ٹھگ روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بڑھا کر پیٹرول 331روپے جبکہ ڈیزل 390روپے لیٹر تک لے گئے ہیں۔کیا آبنائے ہرمز صرف پاکستان کے لیئے بند ہوتا ہے ؟
پیٹرول پمپ مالکان نے احتجاج کرکے اپنے پرافٹ مارجن میں اضافہ کروا لیا مگر عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔پیٹرولیم لیوی کے نام پر بھتہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔