گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
کیا یہ سب کے سب بھارتی ایجنٹ ہیں ؟ انکی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے بغیر صورتحال بہتر نہیں ہو گی جو لوگ آزادکشمیر میں نفرتوں کے کاروبار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں وہ ہم سب کے دشمن ہیں
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا، نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں صرف ایک شخص عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے۔”
- عمران خان، 4 نومبر 2025
“ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے۔”
- عمران خان، 15 اکتوبر 2025
#ذہنی_مریض
یہ وہی پرانا اور شرمناک کھیل ہے جو ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے۔** فروری میں عوام نے انہیں مسترد کیا، آج پھر اپنی شکست چھپانے کے لیے دھاندلی، چوری اور طاقت کے سہارے نتائج بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خالد خورشید کی والدہ کے حلقے سے 167 بیلٹ پیپرز غیر قانونی طور پر لائے گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ریٹرننگ آفیسر نے خود معاملہ پکڑا، لیکن اس کے باوجود انہی بیلٹ پیپرز پر مہریں لگا کر انہیں بیلٹ باکسز میں ڈالا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہی کھیل دیگر حلقوں میں بھی جاری ہے۔
اگر فیصلے ووٹ سے نہیں بلکہ چوری شدہ بیلٹوں سے کرنے ہیں، تو پھر الیکشن کا ڈھونگ رچانے کی ضرورت کیا ہے؟ یہ صرف دھاندلی نہیں، عوام کے مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے۔ **ووٹ چرائے جا سکتے ہیں، عوام کا فیصلہ نہیں۔
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
1: 9 مئی قتل عام 2023
2: D چوک قتل عام 2024
3: کشمیر احتجاج قتل عام 2025
4: تحریک لبیک قتل عام مریدکے 2025
5: راولا کوٹ قتل عام 2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کے دور میں ہونے والے بڑے قتل عام۔۔۔
خالد خورشید صاحب اور ان کی پوری ٹیم کو گلگت بلتستان کی جیت مبارک۔ گلگت بلتستان کے لوگوں نے فسطائیت اور جبر کے ماحول میں بھی اپنے کپتان کی طرح سر نہیں جھکایا۔ یہ فتح مزاحمت، استقامت اور نظریے کے نام! عمران خان زندہ باد
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
سہراب برکت کا قصور ایک محب وطن پاکستانی اور کشمیری ہونا ہے۔ کشمیر کا یہ بیٹا صرف اپنی پروفیشنل زمہ داریاں ہی تو ادا کر رہا ہے۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے مفاد کےخلاف بولا جانے والا ہر سچ اب جرم بنا دیا گیا ہے۔
#سہراب_برکت_کو_رہا_کرو
قرآنِ مجید پر آپ بھی حلف دیں، میں بھی دیتا ہوں۔
مجھے یہ بات معلوم ہے کہ کون کون سے افسران جج صاحب کے پاس گئے اور ریکارڈ روم میں جا کر یہ کہا کہ “ہم نے انہیں ہر صورت میں نشانِ عبرت بنانا ہے، آپ ہماری مدد کریں۔”
یہ قرآنِ مجید موجود ہے، آپ بھی آئیں اور حلف اٹھائیں، میں بھی اسی قرآنِ مجید پر حلف اٹھاتا ہوں۔
نو مئی کے حوالے سے لوگوں کو غداری کا سرٹیفکیٹ دیا جا رہا ہے، تو پھر قرآنِ مجید پر حلف لے کر فیصلہ کیا جائے۔ اور حقیقت واضح ہو جائے گی کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔
نو مئی، نو مئی، نو مئی کا یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔
صابر شاکر @ARYSabirShakir
#May9th_FalseFlag
#مئی9_یوم_جبر
دس مئی کو جب سپریم کورٹ نے عمران خان کی رہائی کا حکم دیا تو عاصم منیر اور مریم نواز کی فوج نے باہر کچے کے ڈاکوں کی طرح فائرنگ شروع کر دی اور تین گھنٹے تک عمران خان کو سپریم کورٹ کے احاطے میں قید رکھا
عاصم منیر نے اس فوج کو شریف خاندان کی لونڈیا بنا دیا ہے
9 مئی کئی فیملیز کے لیے قیامت بن کر گزرا ہے راجہ احسان جسے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی آج وہ جیل میں والد زندگی اور موت کی کشمکش میں اور بوڑھی والدہ نمکو بیچنے پر مجبور ہے 💔
پنجاب حکومت نے ںے شرمی اور بے غیرتی کی انتہا کردی، مریم نواز جعلی وزیر اعلیٰ سہی ہے تو خاتون ہی، رات کے 3 بجے چادر چار دیواری کا تقدس پامال کر کے تحریک انصاف کی خاتون ورکر فضا عالم کو گھر سے اٹھا گیا ہے، جرم پوچھو تو کوئی نہیں، سب مل کر آواز اٹھائیں
@Fizaalam_93