1؛ ایسے بے سہارہ بزرگو کی مدد اپنا شیوہ بنا لیں، آپ اپنے ساتھ معجزات ہوتے دیکھیں گے
2؛ بیوہ نے سکول سے اجازت لی ہوئی ہے، اندرے ڈیوڑھی تک جا کر بچوں کو چپس بسکٹ بیچتی ہے
دس ہہزار مدد دونوں حقداروں تک پہنچی
1؛ ایک ہی بیٹا ہے جو نشے کے کیس میں جیل پڑا ہے، جوان بیٹی اور میں لوگوں کے برتن مانجھتی ہیں، جیل والے بیتے کے تین بچے بھی میرے پاس
2؛ میں بینڈ باجے کا کام کرتا تھا، پہلے بھی غریب ہی تھا، اب بوڑھا اور کمزور ہو گیا ہوں، کوئی کام نہ آتا ہے نہ کرنے کی سکت
دس ہزار امداد پہنچی
میں راجن بی بی، میرے پُتروں نے مجھے نکال دیا، کسی نے جگہ دی ہے، گھر میں مریض بھی ہے، میری شوگر بھی ساڑھے پانچ سو، بچہ بھی ہے، باہر کوئی جگہ نہیں، اندر ہی رہنا ہے اور پنکھا نہیں، غریب ہیں نہیں لے سکتے لیکن گرمی برداشت سے باہر ہے
چھت والا انورٹر سیلنگ فین نیا لگوا دیا گیا
گھروں کے کام کرنے والی ماسی ہوں، ہمارے پاس بس ہاتھ پاؤں ہی تو ہوتے ہیں، ہاتھ فریکچر ہو گیا ہے، بڑا وقت لگے گا ٹھیک ہونے میں - بیٹیوں والی کرایہ دار ہوں
پانچ ہزار مدد پہنچ گئی
اللّہ دتہ ہوں، ہفتے میں دو دفعہ گردے واش ہوتے ہیں، بیٹوں نے ایک دو دفعہ ساتھ جا کے ڈاییلسس کروایا، اسکے بعد کسی نے دسیا پچھیا ہی نہیں، میں کیا کروں گا؟ میرے تو پیسے ہی نہیں
پانچ ہزار مدد پہنچائی، آگے اللّہ مسبب الاسباب
میرا بچہ ایسا بیمار نہیں ہے کہ ٹھیک نہ ہو سکے، ڈاکٹروں نے مہنگی دوائیاں لکھی ہوئی ہیں لیکن غربت کی وجہ سے ریگولر خرید نہیں پاتی، بچے کی میڈیسنز کیلئیے کچھ مدد کر دیں
پانچ ہزار مدد پہنچ گئی
پُتر دیکھو شوگر نے میرے پاؤں کا کیا حال کر دیا، غریب عورت ہوں، نہیں جا سکی ڈاکٹروں کے پاس اور یہ حال ہو گیا
سکت نہیں تو آگاہی ہی ہو، یہ لوگ کئی مشکلات سے بچ جائیں
پانچ ہزار مدد پہنچائی
An anti-migrant hotel protester who has attended demonstrations in Norwich calling for the "protection of women and children" is a convicted paedophile.
🤷🏽♂️
Muslim Woman Attacked, Hijab Ripped Off And Face Slashed In Dublin, Ireland
A young Somali Muslim woman was hospitalised after an unprovoked attack on O’Connell Street, Dublin, where a white female suspect in her 40s or 50s tore off her Hijab and slashed her face.
The brutal attack occurred on Friday 5th June 2026.
According to S2J News, the young Muslim woman was walking on O’Connell Street, Dublin when she was suddenly targeted. She noticed a white female suspect, estimated to be in her 40s, staring at her and shouting profanities.
The confrontation rapidly escalated into a physical attack. The perpetrator reportedly tore the victim’s Hijab from her head and slashed her across the face.
A male bystander rushed to the victim’s aid, intervening to stop the assault and immediately calling emergency services. Responding Gardaí (Irish police) and emergency medical personnel arrived at the scene, where the victim was treated for severe facial lacerations before being rushed to a nearby hospital.
A suspect was successfully identified and apprehended by law enforcement. The suspect was arrested and remains in Garda custody as detectives continue their inquiries.
There's a total mainstream media blackout of this horrific crime.
میرے پھیپھڑے اتنے خراب ہیں کہ اس مشین کے بغیر سانس نہیں لے سکتا، شوگر کا بھی شدید مریض ہوں، انسولین لگتی ہے، سانس والی مشین بھی کسی نے فی سبیل اللہ دلوائی
بیگم گھروں کے کام کر کے روٹی چلا رہی ہے
دس ہزار مدد پینچایی گئی
ہسپتال کے بیڈ پر بے بسی سے روتی ہوئی مدیحہ کے پاس ڈائلسس کیلئیے پیسے نہیں ہیں، بیمار ہوتے ہی شوہر چھوڑ کر چلا گیا کیونکہ وہ تو ربڑ کا بنا ہوا تھا اسکو کبھی کوئی بیماری نہیں آنی تھی
ہسپتال کی ریکوئسٹ کر کے 25 ہزار دیا گیا کہ مہینہ بھر ڈائلسس کریں اگلی دفعہ پھر اللّہ مالک