اس بات کا مجھے بہت گلہ ہے روز روز عمران خان صاحب کی زندگی میں اللہ ان کو لمبی زندگی دے ان کی جانشینی کی بحث کیوں چھڑتی ہے ؟ تین سال قبل تو ایسی کوئی بحث نہیں ہوتی تھی عمران خان اور ان کی اہلیہ پر ہونے والے ظلم پر بات کرنے کی بجائے مائنس عمران خان کی تھیوری کیوں لے کر آتے ہیں؟ ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے ہیں؟
جسے کرپٹ نہیں کہہ سکتے ، اسٹیبلشمنٹ کا کردار نہیں کہہ سکتے اس پر جانشینی کا ٹیگ لگاتے ہیں کیوں؟ کیونکہ میں روپوش ہوں اس لیے؟ میں یہ برداشت نہیں کر سکتا اسی چیز کو میں نے خان صاحب کو بھجوایا جس کا جواب انہوں نے ٹؤئٹ میں دیا تھا۔
میں آج کھل کر بتادوں کسی کی سیاست، کسی کے عہدے، کسی کے تمغے عمران خان سے وابستہ ہونگے میری زندگی عمران خان سے وابستہ ہے۔عمران خان کے علاوہ میرا سیاست سے کیا لینا دینا؟اپنی خواہشیں اپنے پاس رکھو ان شاء اللہ ، اللہ عمران خان کو لمبی عمر دے گا اور وہ آکر پاکستان کی تقدیر بدلیں گے۔ مراد سعید
اسد طور کا عمران خان کے متعلق اہم انکشاف۔۔!
عمران خان کو راشئے بیماری کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے،
جیل میں عمران خان کے ہاتھ کانپتے دیکھے گئے ہیں،
اس میں آپ اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھا سکتے،
آپ چل پھر ٹھیک سے نہیں سکتے، آپ کی صحت تیزی سے گر رہی ہوتی ہے،
اور زندگی اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے، اسد طور
یا اللہ پاک عمران خان کو صحت والی لمبی زندگی عطا فرما، آمین
😭😭😭😭
گزشتہ کچھ عرصے سے مجھے ان کی کمی پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ ان سے عام سی باتیں کروں، جیسے میری کرکٹ کیسی جا رہی ہے، میں کون سی کتابیں پڑھ رہا ہوں، یا آج کل کون سی نئی فلمیں اچھی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ پاکستان کے عوام اپنے منتخب رہنما کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن مجھے آج پہلے سے کہیں زیادہ اپنے والد کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ قاسم خان
#pakistan @Kasim_Khan_1999
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
"میرے پاکستانیوں ! اگر آپ چُپ کرکے یہ ظلم سہتے رہے اور انصاف کے لیے نہ کھڑے ہوئے تو پھر یہ نہ سمجھنا کہ وہ اللہ اوپر سے ہماری مدد کرے گا اور ہم خود کچھ نا کریں۔ اللہ قرآن میں کہتا ہے ‘وہ کبھی اُس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود کچھ نہ کرے’"عمران خان
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
لیکن یہ معاملہ صرف ایک والد کا نہیں، بلکہ پاکستان اور اس کے مستقبل کا بھی ہے۔ ایک دھاندلی زدہ، آمرانہ طرزِ حکومت رکھنے والی حکومت مسلسل سیاسی مخالفین کو کچل رہی ہے، جمہوری اداروں کو کمزور کر رہی ہے، اور کروڑوں پاکستانیوں سے اپنے رہنما آزادانہ طور پر منتخب کرنے کا حق چھین رہی ہے، جبکہ اپنے نظریات کے اظہار کرنے والوں کو خوف و ہراس کا نشانہ بنا رہی ہے۔ میں ایک بار پھر عالمی برادری سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس صورتحال سے نظریں نہ چرائے۔ ناانصافی کے سامنے خاموشی صرف ظلم کو مزید تقویت دیتی ہے۔ قاسم خان
#pakistan @Kasim_Khan_1999
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
The Global Silence Surrounding Imran Khan’s Detention Threatens Democratic Principles
A prominent regional leader with significant public support is facing severe isolation from the public sphere under extraordinary circumstances. This situation arises from his unwavering opposition to political injustice and his steadfast advocacy for the rule of law.
To uphold democratic principles, foreign correspondents, human rights observers, and international news organizations must be granted unrestricted access to Imran Khan’s detention. Additionally, they should be assured of a fair trial.
#LetTheWorldSeeImranKhan #FreeImranKhan
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
۵ اگست تک تحریک کو پیک پر لے جانے اور فیصلہ کن تحریک کے حوالے سے بدھ کے روز میٹنگ بلائی گئی ہے۔ میری گزارش ہے کہ اس کو اک روزہ ایونٹ کے بجائے ایک فیصلہ کن تحریک کی طرف لے جائیں۔ انشاءاللہ آپ کے لائحہ عمل کے اعلان کے بعد میرے حلقے سمیت پوری قوم اپنے لیڈر کے لیے مزید بہتر انداز سے تیاریاں کرتے ہوئے نظر آئے گی، جس لیڈر کی وجہ سے ان کا امن ممکن ہوا، کسٹم ایکٹ کا خاتمہ ہوا اور زندگی میں خوشحالی آئی اور آج پھر ان پر جبر کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔
میٹنگ میں اس نکتے کو بھی سامنے رکھیں کہ پختونخواہ کے جنوبی اضلاع اور سابقہ فاٹا میں پہلے ہی میڈ اپ دہشت گردی سے حالات خراب ہوچکے ہیں اور اب مالاکنڈ ریجن میں سوات، دیر، بونیر ،شانگلہ میں وہی بیس بیس بندے جن کو باجوڑ سے سیلاب کے دنوں میں خصوصی روٹ لگا کر منتقل کیا گیا تھا (اس کی تفصیل میں پچھلے سال ٹویٹس اور پھر کتاب میں درج کر چکا ہوں) ان کو یکدم سےمتحرک کر دیا گیا ہے جس کے بعد ہی پچھلے ہفتے جھڑپ اور سی ٹی ڈی ڈرون گرانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ مہینوں نہیں، ہفتوں یا دنوں میں حالات مزید خراب ہوں گے اور اس دفعہ نہ صرف بیانیہ بنا کر دہشت گردی کا ملبہ آپ پر ڈالا جائے گا بلکہ ان لائے ہوئے لوگوں سے نشانہ بنوایا جائیگا۔ پھر سے سن لیجئے “آپ کو نشانے پر رکھا جائیگا”۔ ایسے حالات میں تحریک تو چھوڑیں پی ٹی آئی گھروں تک محدود ہوجائے گی۔ عوام کا نقصان تو ہوگا ہی آپ کو بھی اندازہ ہے کہ اس سے عمران خان کی زندگی مزید کتنے خطرات سے دوچار ہوگی جب ان کا مضبوط قلعہ اور کارکن بھی محصور اور محدود ہوجائے گا۔ میں نے اپنی غیر موجودگی میں جن کو امن کا پرچم حوالے کیا تھا وہ تیار ہیں، آپ یعنی قیادت و اراکین اسمبلی بھی امن پاسون کا انعقاد کریں کیونکہ امن کے دشمنوں کی پالیسیوں کو شکست اسی سے ہوگی۔
تیسرا نکتہ فوج عوام کو لشکر بنانے پر زور دے رہی ہے۔ ماضی میں امن کمیٹیز بنا کر ان کو عسکری سپورٹ دے کر ظلم کی داستانیں رقم کی گئیں۔امن کمیٹیز کی نشاندہی پر لوگوں کو فوج کے حوالے کیا جاتا رہا، گھر گرائے گئے۔ پھر پالیسی بدلی آباد کاری کا فیصلہ ہوا اور واپسی پر انہی امن کمیٹیز سے بدلہ لینے کا سلسلہ شروع ہوگیا، ٹارگٹ کیلینگز کے واقعات اسی پالیسی کا خمیازہ ہے۔ آج پوری کی پوری قوم کو لشکر بنانے پر لگا کر ان کو لڑنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ جو لشکر کے خلاف ہوتا ہے یا انکار کرتا ہے ان پر چنگیز خان، ہلاکو خان بن کر ٹوٹ رہے ہیں۔ قوم امن پاسون کررہی تھی آپ گولیاں چلا رہے تھے، قوم آپ کو غلط پالیسی بتا رہی تھی، آپ غداری کے تمغے بانٹ رہے تھے دہشت گردی لانا آپ کی خواہش تھی تو قوم کیوں لشکر بنائے؟ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو پھیلایا گیا اب آپ قوم کو بندوق تھما کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہو؟
ڈرون حملوں پر مجرمانہ خاموشی،آپریشن پر خاموشی، ریڈیو پاکستان بلڈنگ، نو مئی کی رپورٹ اور زمہ داران کا تعین نہ کرنا وغیرہ پہلے ہی آپ پر سیاہ دھبہ ہے اب پی ٹی آئی کو صوبے میں کچلنے کے لیے انکے مد مقابل کھڑا کرکے عوام کو مزید اذیت دینے کا ارادہ ہے۔ اس لیے تمام تر تفصیلات کو دیکھتے ہوئے گزارش ہے کہ کل کی بلائی گئی میٹنگ میں ایک دن کا ایونٹ نہیں ایک تحریک کا پلان واضح کیجئے۔ محصور اور محدود ہونے سے قبل فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھیں۔
جاوید ہاشمی بالکل صحیح کہہ رہے ہیں
ہم مطالعہ پاکستان میں پڑھتے رہے کہ قائداعظم کو پرفضا مقام زیارت میں رکھا گیا
آنکھیں کھلی تو پتہ چلا کہ زیارت میں اس دور میں علاج معالجے کی تو سہولت تک میسر نہ تھی
پاکستان کی تاریخ کے پہلے مسنگ پرسن قائدِاعظم تھے
زیارت میں نہ کوئی ڈاکٹر تھا اور نہ کوئی علاج ہو رہا تھا
قائدِاعظم کو ریاستی امور سے الگ کرکے وہاں نظر بند کر دیا گیا
عمران خان مرد کا بچہ ہے ۔وہ بہت بڑا لیڈر ہے ۔وہ مرد کا بچہ ہے کہ جو 3 سال سے 22 اور 25 کور کمانڈر کی طاقت سے سامنے ابھی بھی چٹان کی طرح کھڑا ہے ۔۔
۔۔۔علی احمد کرد
جسٹس محسن اختر کیانی کا اسلام آباد کے وکلاء سے دبنگ خطاب !
یہ نظام ختم ہو گا تبدیلی آئے گی، آئین بھی ٹھیک ہو گا اور نظام بھی، میں نے انکار کیا اور بھگت رہا ہوں لیکن مایوس نہیں ہوں بلکہ بڑا خوش ہوں کہ چیزیں ایکسپوز ہو گئی ہیں اور پرامید ہوں کہ نظام ٹھیک ہو گا
انہوں نے پہلے اپنی بھوک ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور بھوک کتنی ہے اس کا فیصلہ بھی انہوں نے ابھی نہیں کیا۔
جیسے شادی میں کھانا کھلتا ہے۔ اور دنیا ٹوٹ پڑتی ہے۔ ایسے ہی بلکل مڈل کلاسئیے پڑ گئے ہیں اور محسن کی کوئی پرواہ نہیں۔