اس شخص کے نام پہ نعرے مارتے ہیں چیف منسٹر بن جاتے ہیں
کھمبے اس شخص کا نام پہ MNA MPA Senator بن جاتے ہیں۔
1000+ دن سے جیل میں ہے، بہنیں 7-8 مہینوں سے نہیں ملیں
اور لعنتی بیشرم بیغیرت آستین کے سانپ اس پہ سیاست کر رہے ہیں کہ بہنیں کیا کریں کیا نا کریں!
عمران خان کی بہنیں جسم پگھلا دینے والی سخت ترین گرمی میں اڈیالہ کے باہر تپتی سڑک پر بیٹھ کر اڈیالہ کے گیٹ کی جانب دیکھ رہی ہیں
کہ کب یہ گیٹ کھلے اور وہ اپنے بھائی کا دیدار کرسکیں، لیکن افسوس ملک پر مسلط مافیا اور پی ٹی آئی کے اندر کا مافیا ان بہنوں پر ہی حملہ آور ہے
یہ بہنیں ہی تو ہیں جنہوں نے مزاحمت کا زندہ رکھا ہوا ہے
اور عمران خان سے ملاقات کئے بغیر کے پی کا پورے سال کا بجٹ پاس۔ خان کی ملاقات مائنس۔
175 ارب بھی دے دئیے گئے۔ بس یہ کہا گیا ہے کہ آپ پیسے کاٹ لیں ہم تھوڑی بہت نورا کشتی کریں گے۔ کیس عدالت بھی جائے گا۔ اور پھر فائل بند پیسہ ہضم۔
پشپا نے ماچھی سے بڑے پیار سے پوچھا آپ کو خوبصورت گرل فرینڈ چاہیے تھی یا عقلمند ؟؟؟؟
ماچھی نے پشپا کو بازو سے پکڑ کر اپنی بانہوں میں کھینچنے ہوئے کہا دونوں ہی نہیں ۔۔۔
بس تم ٹھیک ہو۔۔۔😍
آواز اٹھائیں 🚨
ڈاکٹر یاسمین راشد نے کل پیغام بھیجا ہے کہ حالات کچھ ٹھیک نہیں، کچھ دن پہلے بھی کہا تھا کہ ہمارے حالات جیل میں روز بروز بگڑ رہے ہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کا کوئی مخصوص گروپ نہیں اس لئے رہائی اور علاج کے لئے آواز اٹھائیں
عمران احمد خان نیازی کو قید تنہائی میں رکھے ہوئے آج 9 مہینے ختم ہونے کو ہیں
ملک کا سابق وزیراعظم جس پر کوئی کیس بھی نہیں ہے سب دو نمبر جھوٹے کیسز بنائے ہوئے ہیں
ٹرمپ سے جتنی مرضی تعریفیں کروا لو ٹاؤٹؤں سے جتنا مرضی بیانیہ بنوا لو ناچ نچوا لو نہ ملک ٹھیک ہو سکتا ہے نہ معیشت
وجہ صرف یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی نہیں ہے
ڈاکٹر یاسمین راشد کا وصیت کا لفظ استعمال کرنا اور کہنا کہ حالات ٹھیک نہیں لگ رہے اس بات کا ثبوت ہے کہ بات چیت نہیں ہو رہی کوئی معاملات بہتر نہیں ہو رہے تحریک انصاف کچھ کرنا چاہتی ہے تو کرے ۰
طارق متین
حق اور سچ کی راہ پر ثابت قدم رہنے والے پی ٹی آئی کارکن الطاف حسین جیل سے رہائی کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ وہ قید کی سختیاں جھیلنے کے بعد دنیا سے رخصت ہونے والے بارہویں کارکن ہیں۔
الطاف حسین سے قبل بھی 11 کارکنان قید کے کٹھن حالات اور مختلف موذی امراض کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ایک کے بعد ایک کارکن کا اس حالت میں دنیا سے جانا کسی صورت طبعی موت نہیں، یہ اخلاقی طور پر دیوالیہ نظام کے ہاتھوں انسانیت کا قتل ہے۔
اللہ کریم الطاف حسین کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر دے۔ آمین۔"
”حضرت حسین ؓ نے ایک اصول پر اپنی جان قربان کر دی۔ یہ وہی اصول تھا جس کا درس ہمیں قرآن پاک سے ملتا ہے، یعنی کسی جابر، غیر قانونی اور غیر آئینی حکمران کی حکمرانی کو نہ ماننا۔ صرف طاقت کے بل بوتے پر مسلط ہونے والے کو اپنا حکمران نہ ماننا۔ کیا ہم نے حضرت حسین ؓ کا یہ درس یاد رکھا ہے؟“
شہباز گل