Dear @nzpolice , An individual named @Rahim_Sediqi46 from Afghanistan who is living in Auckland, NZ and has secured asylum in New Zealand on false grounds is now openly inciting violence, even calling for suicide attacks on international players, including New Zealanders in his now-deleted tweet, ahead of the PSL. This is deeply alarming and must be taken seriously. There is zero tolerance for threats against civilians or athletes.
Security Guard Reports Details of Incident Near Rehab Center
A security guard at the rehab center stated that jets struck an area about 200 meters away from the drug rehabilitation hospital. He emphasized that the hospital building itself was not targeted, and only minor injuries occurred.
The guard confirmed that patients and staff were secured immediately, and no major damage happened inside the facility. He stressed that claims of a direct strike on the rehab center are false and do not reflect what was seen on the ground.
Local sources say the incident was exaggerated in outside reports, while the situation at the hospital remained under control throughout.
فیس بک وال سے ، آج میرے نہایت واجب الاحترام اور زیرک دوست، خادم علی خان یوسفزئی کو دیکھ کر حیرت بھی ہوئی اور صدمہ بھی۔ وہ شخصیت جو ہمیشہ حلم، بردباری اور منطق کا استعارہ رہی ہے، آج کج بحث اور بدتہذیب عناصر کی فتنہ سامانیوں سے تنگ آکر اپنے ہی وضع کردہ اصولوں کو خیرباد کہہ بیٹھی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب جہالت حد سے بڑھ جائے تو صابر انسان کا پیمانہ بھی لبریز ہو جاتا ہے۔
کابل اور پختونخوا , دو الگ تاریخیں
تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے جب ہم حقائق کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ موجودہ پختونخوا کی تاریخ اور کابل کے سیاسی نشیب و فراز دو الگ راستے ہیں۔ سلطنتِ پختونخوا کی بنیاد 1520ء میں اس وقت پڑی جب یوسفزئیوں نے سوات، چارسدہ، مردان اور صوابی کے میدانی علاقوں کو فتح کر کے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی بنیاد رکھی۔ یہ وہ دور تھا جب کابل مغلوں کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور تیمور سے لے کر اورنگزیب تک کابل ہمیشہ مغلوں کے تابع رہا، جبکہ پختون اپنی آزاد اور خود مختار ریاست پختونخوا میں عزت اور وقار سے زندگی گزار رہے تھے۔
پختونخوا کے پختونوں کی حریت پسندی کا اندازہ اس تاریخی حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہنشاہ اکبر کے دور میں جب مغلوں نے اس سرزمین پر قبضے کی کوشش کی تو انہیں ملندری کے مقام پر وہ عبرتناک شکست ہوئی جو تاریخ کا حصہ ہے۔ اس جنگ میں اکبر کے چالیس سے پچاس ہزار سپاہی، چودہ کمانڈر اور اکبر کا دستِ راست بیربل مارا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طویل جنگ میں کابل کا مشہور فوجی دستہ "التمش" مغلوں کے ہراول دستے کے طور پر اپنے ہی بھائیوں (پختونخوا) کے خلاف برسرِ پیکار رہا۔
1739ء تک کابل مغلوں کی غلامی میں زندگی گزارتا رہا، پھر نادر شاہ ایرانی کے زیرِ اقتدار رہا۔ 1747ء میں جب احمد شاہ ابدالی نے افغانستان کی بنیاد رکھی، اس وقت بھی پختونخوا کے یوسفزئی مکمل آزاد تھے اور انہوں نے کبھی افغانستان کو باج (ٹیکس) ادا نہیں کیا۔ البتہ اسلامی اخوت کے ناطے وہ ابدالی کے دست و بازو بنے۔ پانی پت کی تیسری جنگ میں احمد شاہ ابدالی کی فتح دراصل یوسفزئیوں کی شجاعت اور بے مثال قربانیوں کی مرہونِ منت تھی۔
آج کچھ عناصر تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ پختون اپنے وطن پاکستان میں فخر اور وقار کے ساتھ باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔ صرف پنجاب میں تین ہزار پی ایچ ڈی سکالر پشتون ہیں جو پنجاب کی یونیورسٹیوں میں پنجاب کے لوگوں کو علم کے نور سے منور کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے سب سے اعلیٰ اور قابل ترین ڈاکٹر پشتون ہیں جو پاکستان کے بہترین ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ پاکستانی پشتون ہر میدان میں صفِ اول میں ہیں۔
اس وقت صرف کراچی میں آباد پختونوں کی تعداد افغانستان میں آباد پشتونوں کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور کشمیر میں کروڑوں پختون عزت اور وقار کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔
پاکستان ان غیور پختونوں کی جنت ہے جنہوں نے اسے اپنے لہو سے سینچا ہے۔ ہمیں اپنی اس شناخت اور اپنے وطن پاکستان پر فخر ہے۔
کابلی تہذیب اور پختونخوا کی روایات میں وہی فرق ہے جو ایک مفتوحہ اور ایک فاتح قوم میں ہوتا ہے۔ پختونخوا کی پانچ سو سالہ تاریخ جرات، آزادی اور اپنے فیصلے خود کرنے کی تاریخ ہے جبکہ افغانستان کی دو سو سالہ تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ پختونوں نے اپنی سرزمین پختونخوا کے لیے طاقتور ترین قوتوں سے ٹکر لی لیکن کبھی اپنا گھر بار چھوڑ کر فرار کا راستہ اختیار نہیں کیا۔
ریسرچر ہسٹورین: فرہاد علی خاور
یہ تحریر افغانستان کے ایک سابق جرنیل کے ساتھ ہونے والے ٹی وی مباحثے کے تناظر میں معروف تاریخ دان اور محقق فرہاد علی خاور نے لکھی ہے۔ ویڈیو بھی ملاحظہ فرمائیں۔
جنگ میں دونوں کی طرف کی تباہی ہے۔ جنگ ختم کریں۔ پختونخوا کو ایک عرصے سے میدان جنگ میں تبدیل کیا گیا ہے۔
مشرق و مغرب کی دونوں اطراف سے آللہ اکبر کے نعرے۔
دونوں اطراف سے "جہاد" کا عزم۔
دونوں اطراف سے قرآنی آیات اور احادیث کے حوالے۔
دونوں اطراف سے ایک ہی نظام تعلیم سے فارغ ہونے والوں کے متضاد فتوے۔
دونوں اطراف کے عوام جنگ و جدل اور فساد سے تنگ-
دونوں اطراف سے سطحی اور جنگ پرست تجزیہ نگاروں کے وارے نیارے۔
ایک طرف وہ جو تزویراتی گہرائی کیلئے بندوق بردار جتھوں کی سہولت کاری کرتے تھے۔
گڈ اور بیڈ کافلسفہ پڑھاتے تھے۔
دوسری طرف انہی کے تزویراتی اثاثے۔
اب الٹی طرف سے تزویراتی گہرائی کام کرتی نظر آرہی ہے۔
دونوں طرف ناقابل تلافی نقصان۔
فائدہ کس کا؟؟؟
خطے اور عالمی طاقتوں کے جنگ پرست حلقوں، اسلحہ و بارود کے سوداگروں ، مافیاؤں اور نئے گریٹ گیم کے تناظر میں طاقت کے پلڑے کو اپنی طرف جھکانے والوں کے ایوانوں میں خوشی کے شادیانے۔
تزویراتی اثاثوں کے ذریعے بھارت کو افغانستان سے نکالنے کی خواہش رکھنے والے اب کیا عذر پیش کرینگے؟
*خاموش اور ناقابل یقین تبدیلی*
یہ تمام چیزیں جو ہیں یہ پنجاب کا حُسن ہیں اس حُسن کو نکھارنے میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ٹیم دن رات محنت کوشش میں لگی ہوئی ہے اور ہر بندہ وہ اپنے حصے کی محنت ڈال رہا ہے تب جا کر یہ حالات یہ سہولیات یہ سارا کام ھو رہا ہے جس کی مثال پوری دنیا میں دی جا رہی ہے
اگر مرد کو اپنے والدین، گھر بار، بہن بھائیوں،
یا بیوی بچوں کی زندگی کے معیار کو بلند کرنے کی کڑی ذمہ داری نہ دی جاۓ
تو یہ تمہیں کہیں جنگلوں اور پہاڑوں میں
مچھلیاں پکڑتا، گیت گاتا، ہنستا مسکراتا ملے۔
A Normal Day in Russia - A Thread🧵
⚠️ A Crazy thread, don’t miss it
1. A Russian soldier calmly throws away the bomb that falls from the Ukrainian drone like a ball, and then he did not even walk or runaway.
Savage 🔥
عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی نثار باز کا ترکی بہ ترکی جواب
نام بھی نہیں لیا اور سب کہہ بھی دیا
اسفندیار ولی کا ماضی بھی رکھ دیا اور جیل میں قید عمران خان پر تنقید نہ کرنے کی وجہ بھی بتا دی
خئ جیسا وحشی رسم پختونخوا سے لیکرافغانستان تک کہیں نہیں پایاجاتااس ڈرامےمیں متعصب لکھاری نےپشتون قوم کو حسب معمول وحشی قوم دکھانےکی ناکام کوشش کی ھےجو زہرالود پروپگنڈا اسطرح کے پشتون دشمنی پر پروپگنڈافوری بند کی جائے۔
ہم پرامن لوگ ہے دھشتگرد نہیں ۔