BREAKING: US strikes have now hit two drinking water tanks in Sirik, southern Iran, cutting off all drinking water in the district, per IRIB.
Iran has warned 2 hours ago it will immediately place all regional Gulf energy infrastructure under continuous missile fire, and with this US attack, water desalination infrastructure which the Gulf depends on for over 90%, would specifically become major targets.
"عمران خان کو قید تنہائی میں رکھ کر یہ عمران خان کے ساتھ زیادتی تو کررہے، حقیقت میں یہ اپنا خوف ظاہر کررہے ہیں۔ اس وقت عمران خان کی پاکستان کو سخت ضرورت ہے۔ عمران خان کے وقت ملک میں اچھا بھلا امن تھا آج امن تباہ ہوچکا ہے۔ معیشت تباہ ہوچکی، سرمایہ کاری صفر ہے۔غربت اور مہنگائی بڑھتی جارہی ہے"۔ ہمشیرہ عمران خان علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
”پاکستانیو، یاد رکھنا ! جب ایک قوم کو سمجھ آ جائے کہ غلامی کیا ہے اور آزادی کیا ہے ؟ تو اس قوم کو کوئی غلام نہیں بنا سکتا۔“ کپتان عمران خان
#FreeImranKhan
کوٹلی میں رینجرز کی گولیوں سے شہید ہونے والے شہداء۔
یہ گولیاں انہی کے ٹیکس کے پیسوں سے خریدی گئیں اور پھر انہی کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ پانے والوں نے اپنے حلف سے زیادہ آقاؤں کے حکم کی پاسداری کی۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو#ذہنی_مریض
For the record, Iran did not shoot down the helicopter, and Trump is lying, but the Islamic Republic is more than prepared to teach the Epstein Coalition a lesson.
🚨بیرسٹر گوہر کی بات چیت کی کوششوں سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے، 8 مہینے سے عمران خان قید تنہائی میں ہیں، علاج ان کا نہیں ہو رہا،
تو اس بات چیت یا مفاہمت سے تو کوئی فرق نہیں پڑ رہا،
بیرسٹر گوہر
علیمہ خان کی گفتگو 🚨
بیرسٹر گوہر کی بات چیت سے کوئی فرق نہیں پڑتا، عمران خان پچھلے آٹھ مہینوں سے قید تنہائی میں ہیں۔ ہم ان کے کسی بھی بات پر یقین نہیں کرتے ہیں کیونکہ یہ ہر دفعہ جھوٹ بولتے ہیں
ہم ڈرے سہمے ہوئے پنجابی جنہوں نے کشمیریوں کیساتھ کھڑا ہونا تھا آج کشمیریوں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ ظالم کیخلاف ہمارے حصے کی جدوجہد بھی کریں تاکہ شاید ہمیں غیرت آجائے!
🚨🚨
Even the London police found conduct of her was not a conduct of journalist and questioned her, everybody know she is not a journalist and pathetic character but here in #Pakistan she was “made” to sit on national media current affairs shows as “senior journalist”.
کوہاٹ کے ڈی ای اے میں جو سرسبز اور گھنے درختوں کا جنگل تھا، اب افسوس کی بات ہے کہ اسے کاٹا جا رہا ہے۔ یہ ٹھیکہ 3 کروڑ 40 لاکھ روپے کا پشاور کے ایک ٹھیکیدار نے لیا ہے۔
یہ کس کے حکم پہ ہوا ہے؟ اور اس کٹائی کی کیا وجہ ہے؟ اس کی تہہ تک پہنچا جائے گا