وزارت فواید عامه اعلام کرد که در ماه سرطان امسال، بیش از ۷۱۶ هزار تُن کالا از طریق خطوط آهن افغانستان انتقال یافته است.
این انتقالات از مسیرهای حیرتان، آقینه، تورغندی و خواف–هرات انجام شده و شامل واردات، صادرات و ترانزیت کالاهای نفتی و غیرنفتی است.
#افغان_غږ_نشراتي_اداره
إن السياسة التي انتهجها الجنرالات في باكستان، والمتمثلة في إعادة تجميع المقاتلين المرتزقة والمتمردين المهزومين، ليست في الواقع إلا محاولة لإحياء الشكل القديم للإرهاب. إن عواقب هذه السياسة لن تقتصر على الحدود فحسب، بل إن رعاية هؤلاء المسلحي...
https://t.co/yWZOMg1BF4
#Alert🚨
The Baloch Liberation Army says its fighters have captured two Pakistani military checkpoints in Quetta, the capital of Balochistan province
Publisher: Afghan Voice Media
Voice: Anwarulhaq Omar
فوجی رجیم نے حالیہ اقدامات میں کوشش کی ہے کہ مختلف صوبوں میں مہاجرین، چوروں، بدعنوان مجرموں اور مقامی اقلیتوں سے ناجائز فائدہ اٹھائے، اور اسی سلسلے میں افغانستان سے فرار ہونے والے بعض اربکیوں اور شر و فساد کے سابق عناصر کو مختلف وعدوں اور مراعات کے ذریعے چترال کے علاقے میں منتقل کرے، پھر انہیں خطے اور افغانستان کے عدم استحکام کے لیے دہشت گرد گروہوں کے ڈھانچے میں منظم کرے۔
حالیہ دنوں میں مقامی اور عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس سے واضح ہوا ہے کہ فوجی رجیم نے اپنے اس نئے منصوبے کو بہت تیزی سے عملی جامہ پہنا دیا ہے اور وہ خطے میں موجود دہشت گردوں اور خوارج کو طاقتور ظاہر کر کے امریکہ اور یورپی ممالک سے اپنی منفی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے مالی اور سیاسی تعاون حاصل کرنا چاہتی ہے۔
ایک بھارتی عہدیدار نے رواں ہفتے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت دنیا کو جدید ٹیکنالوجی اور علم فراہم کرتا ہے، لیکن پاکستان ہمیشہ خطے اور دنیا کو دہشت گرد فراہم کرتا رہا ہے۔ اس نے بالکل درست بات کی ہے، اس وقت داعش کے خوارج اور ان کی تربیت و مالی معاونت کے مراکز سب پاکستان میں موجود ہیں، جس کے لیے ثبوت کی بھی ضرورت نہیں، اور امارت اسلامیہ کے فضائی حملوں میں یہ معاملہ کئی بار واضح ہو چکا ہے اور ان کے ٹھکانوں یا کلیدی مراکز کو تباہ کیا جا چکا ہے...
🔗مکمل تحرير
https://t.co/eXfOgRszEo
رهبر جبهه موسوم به آزادی، یاسین ضیا: با پنج هزار دالر جبههداری نمیشود
صدای هندوکش به یک کلیپ صوتی دست یافته است که در آن، یاسین ضیا، رهبر جبهه موسوم یا خیالی آزادی، به گونه کنایهآمیز از احمد مسعود، رهبر جبهه مقاومت و سمیع سادات، رهبر جبهه متحد بهشدت انتقاد کرده و طعنه داده است که با پنج هزار دالر جبهه پیش برده نمیشود.
نامبرده همچنان به جنجالها و اختلافات میان این جبهههای خیالی بر سر پول اشاره کرده و گفته است: «این دو و پنج هزار دالر را هم فردا کدام جلالآبادی یا شمالیوال از پیشتان خواهد برد».
وی همچنان تمامی جبهههای خیالی را به چالش کشیده که باید در ظرف یک ماه عملیات نظامی انجام دهند و به گفته او، کارکرد هر کسی که مؤثر بود، دیگر جبههها به آن تسلیم و مدغم خواهند شد.
اختلافات میان رهبران جبههها و گروههای مخالف حکومت افغانستان روز به روز در حال زیاد شدن است و از جنجالهای لفظی گرفته تا دشنامهای ناموسی و حتی برخورد فیزیکی رسیده است.