یہ 1000 دن صرف کیلنڈر کے ورق نہیں،
یہ حوصلے، صبر اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کی ایک مکمل داستان ہیں۔
یہ وقت گواہ ہے کہ سچ کو دبایا جا سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ 1000 دن ثابت کرتے ہیں کہ عزم اگر مضبوط ہو تو ہر قید کمزور پڑ جاتی ہے۔
#1000DaysKhanUnbroken
سنی اتحاد کونسل کی تجویز
ہمارے 300 اراکین پارلیمنٹ سب سے آگے اسلام آباد سے ڈی چوک مارچ کریں۔ ان 300 اراکین پارلیمنٹ سے 10 کلومیٹر پیچھے پاکستان کی عوام ہو ت��کہ اگر ظلم و جبر ہو تو اس کا مقابلہ پہلے اراکین پارلیمنٹ کریں۔
🚨🚨🚨 عمران خان کو کوئی ایسی چیز دی گئی ہے کہ جس سے ان کا ذہنی توازن خراب ہونے کا خطرہ ہے چھوٹے سے کمرے میں بند کر کے کسی زہریلی چیز کا سپرے کیا گیا ہے جس کی بو ان کے ذہن پر اثر کر رہی ہے عمران خان کی طبیعت خراب اور جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ قریبی زرائع
سات گھنٹے گزرنے کے باوجود سیو غزہ اور مسلم طلبہ کے رضاکاروں کو تا حال رہا نہیں کیا گیا۔ گرفتار شدگان میں اکثریت طلبہ کی ہے اور طالبات بھی شامل ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران، حماس کی پکار پر باہر نکلنے والوں پر جبر کر کے فلسطینی مجاہدین کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟
#ReleaseSenatorMushtaq
#AidHamasMarch
جسٹس منصور علی شاہ لاڈلی مریم نواز کی ڈگری پر سوال اٹھانے اور مخصوص نشستوں پر فیصلہ دینے پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نہ بن سکے،
سوال: جسٹس منصور علی شاہ نے جعلی وزیراعلٰی مریم نواز کی یونیک ڈگریوں کے کمبینیشن پر سوال اٹھایا کہ MA انگریزی کے بعد PHD پولیٹیکل سائنس کیسے ہو سکتی ہے؟
"میری ٹانگ خون سے بھری ہوئی ہے۔ یہ روزانہ بہتی ہے۔" 😭😭
ایک فلسطینی بچی نے درد سے روتے ہوئے ایک صحافی سے بات کرتے ہوئے کہا جب اسے اسرائیل کے جاری محاصرے کے باعث شمالی غزہ سے میلوں پیدل چلنے پر مجبور کیا گیا۔
سیاسی تدبر یا آئین کے غداروں کی اعانت کاری؟
پی ٹی آئی کے راہنما ایڈوکیٹ سلمان اکرم راجہ نے جو آئینی ترمیم پر مزاکرات کے دوران مولانا فضل الرحمان کی گفتگو بارے انکشاف کیا ہے اُس سے دو باتیں سامنے آئیں ہیں:
۱) مولانا فضل الرحمان کو آئینی ترمیم میں اسٹیبلشمنٹ کے ماورا آئین کردار کا بھرپور ادراک تھا اور اُنکا مزاکراتی استدلال اُنکی اسٹیبلشمنٹ کے لئیے اعانت کاری کا کھلا اعتراف ہے جسکی وضاحت مولانا کو دی��ا ہو گی۔
۲) پیپلز پارٹی کا دعوہ ہے کہ سال 2010 میں چودھری سپریم کورٹ نے حکومت اور پارلیمنٹ کو بلیک میل کر کے 19 ویں ترمیم کروا کر ججوں کی تعیناتی کرنے والے جوڈیشل کمیشن میں ججوں کی عددی برتری کروائی تھی، اور اب 2024 میں سب سے بڑی سیاسی جماعت چیخ رہی ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اُسی حکومتی برتری کو بحال کرنے واسطے اب اسٹیبلشمنٹ پارلیمنٹ کو بلیک میل کر رہی ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اُسوقت جنرل کیانی کی اسٹیبلشمنٹ افتخار چودھری کی ڈوریاں ہلا رہی تھی اور آج کی اسٹیبلشمنٹ حکومت کی ڈوریاں ہلا رہی ہے۔ دونوں دفعہ بلیک میل کرنے والی اسٹیبلشمنٹ تھی اور بلیک میل ہونے والے عوام کے نام نہاد منتخب نمائندے تھے۔
یہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور انکے نام نہاد اتحادی یا تو خود بیوقوف ہیں یا پھر عوام کو بیوقوف سمجھتے ہیں۔
بدنسلا فیصل واڈا پچھلے سال تک بھونکتا تھا کہ
“عمران خان کے لباس سے قریب کے رشتے ساتھ چھوڑ جائیں گے اور گواہ بن جائیں گے”
بشرٰی بی بی نے سر اٹھا کر غیرتمند اہلیہ کی طرح شوہر کا ساتھ دیا اور بدترین جیل کاٹی اور تمام کیسز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا
اب تمام کیسز سے ضمانت ملنے پر یہ گھٹیا اسے ڈیل کہ رہا ہے،
چند ماہ بعد اس لعنتی کو وہ جوتے پڑنے ہیں کہ تاریخ یاد رکھے گی
سٹیٹ بنک آف پاکستان کے مطابق شہباز حکومت نے مارچ 2024ء سے اگست 2024ء تک کے چھ(6) میں 5522 ارب روپے کا قرضہ لیا،یعنی ہر روز تقریبآ ساڑھے 30 ارب روپے سے زائد کا قرضہ۔
ملکی قرضہ کو موجودہ حکومت نے 70 ہزار 3 سو باسٹھ(70362)کے نئے ریکارڈ بلندیوں تک پہنچادیا۔
یاد رہے کہ۔پاکستان میں ایک قانون ہے FRDL2005,(فسکل ریسپانسبیلیٹی اینڈ ڈیبٹ لمیٹیشن ایکٹ 2005 )جس کیمطابق اگر قرضہ جی ڈی پی کے 60 فیصد سے بڑھ جائے تو حکومت مزید قرضہ پارلیمنٹ کی اجازت کے بغیر نہیں لے سکتی،اس وقت ملکی قرضے جی ڈی پی کے 100 فی صد سے بڑھ چکے ہیں۔
کیا کوئی پارلیمنٹرین اس اہم ایشو کو پارلیمنٹ میں اٹھائے گا کہ حکومت کس قانون کے تحت یہ قرضہ لے رہی ہے؟؟
ڈاکٹر یاسمین راشد جو ایک بزرگ بھی ہیں نے سب سے زیادہ قربانی دی ہے بغیر کسی جرم کے اب تک ناحق قید میں ہیں ان کے لئے بھی آواز اُٹھائیں۔۔۔
یاسمین راشد کو رہا کرو شرم کرو۔۔۔