پاکستان تحریک انصاف کے ترقیاتی کاموں کے منصوبوں کے سنگ بنیاد کی تختیاں پورے صوبے میں کھاڑ کر پھینکی جا رہی ہیں۔۔۔قابض جعلی راج نہ صرف عوام کے مینٹیٹ پہ قابض ہوا ہے بلکہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں کیے گئے ترقیاتی کاموں پر بھی قابض ہو رہا ہے۔۔۔
گورنر راج کے اثرات۔۔🚨🚨
اندازہ لگائیں کس جاہل گدھے ڈفر بے غیرت نے یہ حکم دیا ہوگا۔۔!!!😂
مینا خان نے جو سٹریٹ لائیٹس لگوائی تھی وہ اس وقت موجودہ ریجیم ہٹا رہی۔۔!!🫵
اب سمجھ آئ کہ بلوچستان میں امن کیوں نہی آتا؟ فوج کس طرح معدینیات چوری کرتی ہے؟
بجاۓ مقامی سطح پر پروسسنگ پلانٹس لگانے کے یہ خام حالت میں ہی اسے بیچ دیتے ہیں۔ جس سے کروڑوں اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ نا ملک کو کوئ فائدہ پہنچتا ہے اور نا ہی مقامی آبادی کو۔
اس بے لگام ادارے کی از سر نو تعمیر نہایت ضروری ہے ورنہ یہ جرنیل اس ملک کو نوچ نوچ کر ہڈیوں کا گودہ تک کھا جائیں گے۔
I saw this in Deh Sabz area of Kabul today. The Taliban are treating Afghan women like domesticated donkeys. They are using them to travel around Kabul. I never imagined this level of oppression could be possible. This is gender genocide, not apartheid.
ہم پاکستان کو ہارڈ سٹیٹ بناتے بناتے سافٹ سٹیٹ ہی بنا بیٹھے۔۔یہ پڑھیں اور پھر سوچیں کہ جب صورتحال یہ ہو جائے تو پھر ملک کا کیا بنتا ہے؟
https://t.co/BYbzzcBH1D
*پاکستان میں پولیس اور قانون کے حالات:*
لاہور کے رضوان کے ہاں شادی کے 13 سال بعد بیٹا پیدا ہوا تھا، جو ابھی صرف تین ماہ کا تھا۔ 18 جولائی 2024ء کی رات رضوان اپنے بھائی مبین کے ہمراہ قصور فیروز پور روڈ سے لاہور آرہے تھے کہ تھانہ مصطفیٰ آباد (للیانی) کی پولیس نے انہیں ناکے پر روکا۔ پولیس سے انکی کچھ تلخ کلامی ہوئی تو پولیس ان دونوں بھائیوں کو تھانے لے آئی۔ یہ رات دس بجے کی بات ہے۔ تھانے لا کر پولیس نے رضوان پر پہلی FIR دس بجکر تیس منٹ پر ڈکیتی کی دی۔ ٹھیک پانچ منٹ بعد ایک اور FIR رضوان پر دیدی گئی۔
ٹھیک تین گھنٹے بعد پولیس نے ایک اور سائنس لڑائی۔ اپنے ایک ٹاؤٹ سے ایک فیک 15 پر کال کروائی گئی کہ اسکے ساتھ ڈکیتی ہورہی ہے۔ بعد میں FIA انکوائری میں ثابت ہوا کہ اس کالر کی لوکیشن تھانے کے آس پاس ہی پائی گئی اور یہ اپنے دوسرے نمبر سے پولیس سے مسلسل رابطے میں تھا۔ چنانچہ رات گئے ایک تیسری FIR بھی دیدی گئی۔ اس FIR کے سلسلے میں پولیس رضوان کو تھانے سے باہر لے کر گئی اور اسکی پنڈلی پر گولی ماری۔ جس کو یہ نام دیا گیا کہ رضوان ڈکیتی کررہا تھا۔ پولیس 15 کال کے ریسپانس میں وہاں پہنچی تو رضوان اپنے ایک صابر نامی ساتھی کی فائرنگ سے زخمی ہوا پڑا تھا (حالانکہ رضوان رات دس بجے کا پولیس حراست میں تھا)۔ پولیس کئی گھنٹے زخمی رضوان کو ٹانگ سے شدید بہتے خون کے ساتھ ادھر ادھر گھماتی رہی اور بالآخر وہ انہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔
دونوں بھائیوں کے اہلخانہ کو ان کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔ اگلے روز پولیس نے انکے ایک بھائی عرفان کو کال کی کہ آپ کے بھائی کا انکاؤنٹر ہوگیا ہے۔ دوسرا بھائی زیرِ حراست ہے، اسے تب چھوڑیں گے جب آپ لکھ کردیں کہ پولیس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے گی۔ رضوان کے بھائی عرفان نے فی الوقت لاش لینے سے انکار کردیا اور مقامی مجسٹریٹ کو درخواست دی کہ اسے سیف سٹی، تھانے اور ہسپتال کے کیمروں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے، جو لے لیا گیا۔
مقتول رضوان کا بھائی عرفان قانونی کارروائی کیلئے کافی عرصہ عدالتوں اور پولیس افسران کے دفاتر میں چکر کاٹتا رہا۔ بالآخر اس
نے "انسدادِ ٹارچر و قتل زیرِ حراست ملزمان قانون" کے تحت FIA کو درخواست دی کہ اسکے بھائی رضوان کا پولیس نے حراست کے دوران جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا ہے، FIR درج کی جائے۔ FIA نے پھر ٹال مٹول سے کام لیا۔ جس پر معاملہ ایک بار پھر سیشن کورٹ پہنچا تو عدالت نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا کہ ایک شہری جسکا سابقہ کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے، اس پر چند گھنٹوں میں تین تین FIR دے کر اسے ریکارڈ یافتہ ملزم بنا کر اسکا مبینہ جعلی پولیس مقابلہ کردیا گیا۔ ایف آئی اے نے FIR درج کرلی۔
دورانِ تفتیش جب ایف آئی اے لاہور کی جانبداری سامنے آئے تو عرفان نے مقدمہ کی تفتیش تبدیل کرنے کی درخواست دی۔ عدالت کے حکم پر تفتیش ایف آئی اے گوجرانوالہ کو سپرد کردی گئی۔ FIA نے تیسری FIR کو تفتیش کا محور بنایا، جس میں پولیس کے مطابق وقوعہ ساڑھے چار بجے کا ہے۔ جبکہ عرفان کی حاصل کردہ ہسپتال کی CCTV فوٹیجز میں نظر آرہا ہے کہ پولیس ساڑھے تین بجے سے پہلے ہی رضوان کو مردہ حالت میں ہسپتال لاچکی تھی۔ FIA نے ایس ایچ او حسن عمران سمیت 7 پولیس اہلکاران کو گناہگار ٹھہرایا۔
ان ملزمان نے قصور سیشن کورٹ سے گرفتاری سے بچنے کیلئے ضمانت قبل حاصل کررکھی تھی، جسے انہوں نے 9 ماہ لٹکائے رکھا۔ جب وہاں سے ضمانت خارج ہوئی تو ملزمان نے لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت لے لی، جسے مزید کئی ماہ کھینچ کر گرفتاری سے بچتے رہے۔ بالآخر پچھلے ہفتے لاہور ہائیکورٹ نے انکی ضمانت خارج کی تو انہوں نے اپنے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار ساتھیوں کی مدد سے وہاں سے فرار ہونا چاہا۔ لیکن وکلاء نے مداخلت سے یہ کوشش ناکام کرنا چاہی تو اس سے کچھ ہاتھا پائی کی افسوسناک صورتحال بھی پیدا ہوئی۔
خیر، FIA نے ان تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ اگلے دن گوجرانوالہ کی ایک مقامی عدالت نے انکو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر FIA کے حوالے کردیا اور آج ریمانڈ کی مدت ختم ہونے پر انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ عرفان کہتے ہیں کہ میرا بھائی تو واپس نہیں آسکتا۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ان ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ کسی اور کا بھائی یوں بیگناہ نہ مارا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ ایس ایچ او حسن عمران کو شاید اسی "کارکردگی" کی بنا پر بعد میں CCD میں بھی تعینات کیا گیا۔ مقتول رضوان کے بھائی عرفان ایک وکیل ہیں، وہ یہ تنِ تنہا دو سال سے زائد جدوجہد کرنے کے بعد آج ملزمان کو جیل بھجوا سکے ہیں۔ اندازہ کرلیں کہ اس طرح کتنے ہی بے گناہ رضوان جعلی مقابلوں کی بھینٹ چڑھ کر پولیس افسران کی شاباشی اور ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ ایک عام آدمی کے لیے اس ظلم کے خلاف کھڑا ہونا کتنا مشکل اور صبر آزما کام ہے۔
☆ تمام حقائق مقتول کے بھائی کے ایک انٹرویو سے ماخوذ ہیں۔
#کورٹ_کہانی از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور
Why are you creating a fuss?
Police Act, along with other legislation, is the provincial government's responsibility. You can offer advice, but no negotiations can take place on it.
As Interior Minister, eliminating terrorism is your job. The provincial government can stop terrorists when all security agencies and institutions are under the federal government.
The Chief Minister has condemned every incident of terrorism that has occurred in the province and has always stood by the security forces' personnel.
The local AC/DC are fully cooperating in the expulsion of Afghan refugees.
Talking to the Afghan government or maintaining contact is not the provincial government's job, and if they don't like it, close the embassy—there will be no contact.
The Chief Minister has allocated over 180 billion rupees to the police in this budget, and no one in the history of this province has given such funding to the police.
We have been opposing operations not just since today, but for 18 years, and the federation has been conducting operations for 18 years, in which no significant success has been achieved so far.
Just as all parties signed the National Action Plan, a jirga of all parties was held in the provincial assembly against terrorism, which also included the Muslim League—implement that.
You people mentioned these things during political negotiations, giving it a political color yourselves, and even now, you are trying to use terrorism as a political weapon.
@AJEnglish@CNN@cnni@cnnbrk@hrw@BBCWorld@BoardOfPeace@Independent@theintercept@SkyNews
#عوامی_سمندر_سڑکوں_پر
Pakistan’s total debt in first 75 years was Rs 44 trillion (till April 2022). But in only last 4 & a half years, this government has added Rs 43 trillion. Now total debt stands at 87 trillion (44 +43=87)
Great performance under Shahbaz Sharif.
اسد طور 🔥🔥🔥
عمران خان کو جیل سے نہیں آنے دیا جائے گا انکا قصور ہے کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے 50 سال سے بنائے گئے ایلیکٹ ایبلز فارغ کردیئے جنکی بنیاد پر حکومتی بنتی یا ٹوٹتی تھیں۔
عمران خان کا قصور ہے کہ stability جو صرف و صرف اسٹیبلشمنٹ دیا کرتی تھی اب انکی بس میں نہیں رہی۔ جیل میں بیٹھے شخص کے پاس ہے stability کی چابی۔ سیاسی و معاشی استحکام عمران خان کے بغیر ممکن نہیں
عمران خان کا سب سے بڑا قصور ہے کہ جس یوتھ کو نوجوان نسل کو اسٹیبلشمنٹ ففتھ جنریشن کے نام پر اپنا سمجھتی تھی اور انکو یقین تھا کہ اگلے کئی دہائیاں نوجوان نسل انکے ساتھ کھڑی رہے گی ۔ رجیم چینج جیسے ہی ہوئی پوری نوجوان نسل اس سسٹم سے نفرت کرنے لگ گئی یے اور صرف و صرف عمران خان کو اپنا نجات دہندہ سمجھتی ہے۔
بیانیہ بھی اسٹیبلشمنٹ بنایا اور بگاڑا کرتی تھی لیکن پہلی بار بیانیہ عمران خان کا ہے اور وہی بیانیہ بنا سکتے ہیں باقی کسی کے پاس بیانیہ نہیں ہے
موجودہ حکومت سے اختلاف تو دور کی بات اس حکومت سے عوام نفرت کرتی ہے
پمز اسپتال کا داخلی دروازہ اور ایمرجنسی خارجی دروازے دونوں کو انتظامیہ نے بند کیا ہوا تھا۔ ہم نے دیوار توڑ کر کچھ والدین اور بچوں کو ریسکیو کیا باقی آگ میں جل گئے، ریسکیو اہلکار کا موقف
فائر بریگیڈ کے دستے کے عین ساتھ NACTA نے مبینہ طور پر آدھی سے زیادہ سڑک پر قبضہ کر کے سکیورٹی بیریئر لگا کر اسے بند کر رکھا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو تنگ گلیوں اور متبادل راستوں سے گھوم کر جانا پڑتا ہے۔ چند منٹ کی تاخیر کسی کی جان اور پورے خاندان کی زندگی چھین سکتی ہے، جبکہ ریسکیو ٹیموں کی اپنی جانیں بھی خطرے میں پڑتی ہیں۔ آخر یہ کس قانون کے تحت ہے کہ عوام کی جانیں بچانے والے ادارے ہی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں؟ یہ سنگین غفلت نہیں تو اور کیا ہے؟
صرف دو دن پہلے ایک طاقتور شخص کی بیوی کے ساتھ ہمدردی کے لئے میڈیا، صحافی، سیاستدان اور ملک کے سارے بااثر لوگ ناچ رہیں تھے
جبکہ آج پمز ہسپتال میں غریب لوگوں کے 15 بچے آگ میں جلنے پر مکمل خاموشی ہیں
کیڑے مکوڑے اور کسے کہتے ہیں؟
پمز ہسپتال اسلام آباد کا آج کا واقعہ بہت ہی افسوسناک دل دہلا دینے والا ہے۔
کب سے بتا رہے ہیں کہ اسلام آباد کا خیال کیجئے یہاں پر تمام انفرا سٹرکچر تباہ ہو چُکا، رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا، ہر طرف نا اہلی کا راج ہے۔
پُوری دُنیا کی صُلح کروا رہے ہیں اور اپنے دارالحکومت کا حال شرمناک۔
اتنا لکھنے اور بولنے کا فیصلہ سازوں پر کیا اثر ہوا؟