پاکستان میں مذہب جیسے حساس معاملات پر بات کرنے سے گریز کرنا چاہئے، باقی ریحان طارق پوڈ کاسٹ میں تمیز کے دائرے اور چہرے پر ہنسی بکھیر کر اختلافی سوال کرتا ہے، بتایا جا رہا ہے کہ گرفتاری برطانیہ سے لاہور پہنچنے پر ہوئی۔۔!!
عمران خان پر جھوٹے الزامات لگانے ہوں تو زبان جتنی منہ سے باہر آ سکتی ہو لے آتے ہیں اور جب علی ڈار کا نام لینا تھا تو آگے پیچھے لفظ خدانخواستہ لگایا ، بیشرم انسان ، گھٹیا ٹاؤٹ
As soon as Egypt scored their first goal, Messi walked over to the referee, visibly frustrated, shaking his head in disagreement.
Moments later, Egypt’s second goal was ruled out.
”ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون؛ جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمٰن“ عمران خان
#غدار_کون_تھا
جو مشرقی پاکستان میں ہوا وہی آج ہو رہا ہے۔مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمٰن کا مینڈیٹ چوری کر کے ملک توڑا گیا۔مجیب الرحمن کی اکثریت سے یحیی خان کی طاقت ختم ہو جاتی۔
حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں لکھا ہے کہ مجیب الرحمن الیکشن جیت گیا تھا۔مشرقی پاکستان کی طرح اب بھی ہمارا مینڈیٹ کم کر کے ہمیں کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عمران خان
۶ اپریل ۲۰۲۴
تحریکِ لبیک کے رہنماؤں اور ورکرز پر کریک ڈاؤن اور بیگناہ ورکرز کی شہادتوں پر پاکستان تحریکِ انصاف کا ردِعمل؛
پاکستان تحریک انصاف شدید ترین الفاظ میں مریدکے اور دیگر مقامات پر تحریکِ لبیک کے خلاف طاقت کے بےجا استعمال اور خون ریزی کی سخت مذمت کرتی ہے۔ یہ ایک قبیح، گھٹیا اور غیر انسانی عمل ہے، جسے کسی جمہوری معاشرے میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
عوام پر گولی چلانا صرف نفرت پیدا کر سکتی ہے، لیکن یہ کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں بن سکتی۔
26 نومبر کو بھی یہی عمل اختیار کیا گیا اور حالیہ واقعات میں فائرنگ کے جو مناظر دیکھنے میں آئے ہیں، وہ نہایت افسوسناک اور دردناک ہیں۔
اگر احتجاج شروع ہونے سے پہلے مناسب مذاکرات کیے جاتے تو یقینأ اس مسئلے کا کوئی حل نکل آتا۔لیکن اس ملک میں پہلے جبری گمشدگیاں نارمل کی گئیں، پھر جعلی پولیس مقابلوں کو قابلِ تعریف بنا کر انعام دیے گئے — اور اب براہِ راست فائرنگ کو بطور نیا غیر تحریری اصول اپنایا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ ریاستی (احتساب کے نام پر بے رحمی) کا تسلسل ہے اور اس کی سنگینی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مریدکے سے آنے والی تصویریں اور ویڈیوز انتہائی تشویشناک ہیں۔ جو مناظر سامنے آ رہے ہیں وہ کسی بھی شہری کے ساتھ کیے جانے والے ظلم کی انتہا ہیں۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو آمرانہ ذہنیت ترک کرنی چاہیے، طاقت کے اندھے استعمال سے نہ تو مسائل حل ہوں گے اور نہ ہی انصاف قائم رہے گا۔
ہم حکومت سے سختی سے مطالبات کرتے ہیں:
1. فوری طور پر زخمیوں کو طبی امداد اور شہداء کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کیاجائے۔
2. ملزمان کی جلد از جلد، غیر جانبدار اور شفاف عدالتی تحقیق کروائی جائے اور جو بھی ملوث ہو، اسے سخت سزا دی جائے۔
3. گرفتار تمام کارکنان اور خواتین کو بلامشروط رہا کیا جائے اور لوٹی گئی اشیاء واپس کی جائیں۔
4. آئندہ کسی بھی پرامن احتجاج پر براہِ راست فائرنگ نہ کرنے کی واضح ضمانت دی جائے۔
5. تمام سیاسی مقدمات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور بےگناہوں کے خلاف کارروائیاں بند کی جائیں۔
6. میڈیا پر پابندیوں اور سنسرشپ کا خاتمہ کیا جائے تاکہ حقائق عوام تک پہنچ سکیں۔
7. اگر ریاست خود شفافیت نہیں دکھا سکتی تو آزاد مبصرین اور انسانی حقوقی اداروں کو تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
ہم یہ مطالبات بار بار دہرائیں گے کہ اقتدار وقتی ہوتا ہے، تاریخ یاد رکھتی ہے۔ ظلم کا راستہ کبھی قوم کو مستقل فائدہ نہیں دے سکتا۔ گولیاں مار کر آپ احتجاج ختم کر سکتے ہیں، مگر آپ تاریخ میں ظلم کے مرتکب کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
تحریکِ انصاف اس ظالمانہ عمل کی پوری شدت سے مذمت کرتی ہے اور انصاف کے حصول، قانون کی حکمرانی اور شہری حقوق کے تحفظ تک پرامن اور آئینی طریقوں سے جاری کسی بھی جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔
سینٹرل انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ
پاکستان تحریکِ انصاف
میں بہت غوروفکر کرنے کے بعد اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ عمران خان کی طرح سینیٹر مشتاق پاکستان کے غدار ہیں! عمران نے چوھدری نظام دین کے اندر کے حالات ننگے کر دیے تھے! اور سینیٹر مشتاق نے نظام دین کی اسرائیل پالیسی ننگے کر دی؟ کچھ بچا نہیں!
آواز اٹھائیں 🚨
اس نوجوان رئیس احمد کو 9 مئی کیس میں چھ سال سزا سنائی گئی ہے، رئیس احمد کے بھائی کا کہنا ہے کہ اس وقت رئیس احمد جیل میں بہت سخت بیمار ہے لیکن علاج نہیں کروانے دے رہے ہیں۔
اس نوجوان کے لئے سوشل میڈیا بھرپور آواز اٹھائیں اس سے پہلے کے دیر ہوجائے
“میرے پاس FIA کی ٹیم نے آ کر سوال کیے کہ میں ان سب موضوعات پر کیوں بات کرتا ہوں:
نمبر ۱: “ریاست مخالف” ٹویٹس
نمبر ۲: : افغانستان اور خارجہ پالیسی
نمبر ۳: عاصم لاء
نمبر ۴: سقوط ڈھاکہ اور عاصم منیر کو یحیٰی خان سے تشبیہ دینا
نمبر ۵: جیل میں ذہنی تشدد
پہلا سوال کیا گیا کہ آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے "اینٹی سٹیٹ” چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں ملک کا سابق وزیراعظم اور اسی فیصد پاکستانیوں کا نمائندہ ہوں۔ میں ہر وہ بات کروں گا جو میرے لوگوں کے مفاد میں ہو گی۔ مجھے پورا اختیار حاصل ہے کہ میں اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھاؤں۔ نہ یہ اختیار کوئی مجھ سے چھین سکتا ہے، نہ کوئی مجھے ملک و قوم کے مفاد کے حوالے سے بات کرنے سے روک سکتا ہے!
مجھ سے دوسرا سوال کیا گیا کہ میں افغانستان اور خارجہ پالیسی کے بارے میں بار بار بات کیوں کرتا ہوں؟
میرا جواب یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے دوران دانشمندانہ پالیسی اپنا کر پاکستان خصوصاْ قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ امن قائم ہوا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر آپریشن کے ذریعے حالات کو مزید بگاڑ کی طرف بڑھتے دیکھ کر میں خاموش رہ کر اپنے لوگوں کو آگ میں جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دوران افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ افغانستان کی NDS اس وقت انڈیا کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کر رہی تھی اور وہ پاکستان کے خلاف تھے- ہم نے ان سے بھی مذاکرات کیے- میں افغانستان گیا اور اشرف غنی کو قیام امن کی خاطر پاکستان بلایا جس سے قبائلی علاقوں کا امن بحال ہوا اور وہاں ایک عرصے بعد استحکام کا ماحول قائم ہونے لگا تھا۔ اس وقت آئی ایس آئی کی بھی یہی پالیسی تھی۔ لیکن جیسے ہی عاصم منیر چیف بنا اس نے پاکستان دوست افغان حکومت کو دھمکیاں دیں اور جان بوجھ کر حالات خراب کیے۔ صرف یہی نہیں، تین نسلوں سے یہاں رہنے والے افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کیا اور وہاں ڈرون حملے کیے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے اور خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کا امن برباد ہوا۔ جب تک یہ خطے کے چاروں فریقین یعنی افغان حکومت اور افغان عوام ، پاکستان کی حکومت اور خیبر پختونخوا کے لوگ مل کر نہیں بیٹھیں گے، امن نہیں آئے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ملٹری آپریشنز سے جتنا مرضی زور لگا لیں امن قائم نہیں ہوتا-
تیسرا سوال کیا گیا کہ “عاصم لاء کیا ہے”؟
تو میرا جواب ہے کہ ملک میں جو بھی بربادی ہے وہ عاصم لاء کے تحت ہے اور یہ کوئی پراپیگنڈا نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی بات ہے۔ سب سے پہلے مجھے رینجرز نے احاطہ عدالت سے اغواء کیا اور نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا۔ نو مئی کا آپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا ورنہ چند گھنٹوں میں تحریک انصاف کے دس ہزار لوگ گرفتار نہ کیے جاتے۔ سی سی ٹی وی بھی اصل مجرموں سے توجہ ہٹانے کے لیے غائب کی گئی۔ اس کے بعد جو پریس کانفرنس کرتا اس کو آزادی مل جاتی اور جو تحریک انصاف کا ساتھ دیتا رہتا اس کو ہراساں کی جانے کی کوئی کوشش چھوڑی نہیں جاتی۔ اس منصوبے کو استعمال کر کے نا صرف تحریک انصاف کو کچلا گیا بلکہ انسانی حقوق کی بھی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔اس کے بعد عوام نے ہمیں دو تہائی مینڈیٹ دیا جسے چوری کر کے ان چوروں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا جن کی کرپشن کی داستانیں آئی ایس آئی خود مجھے سناتی تھی۔ پھر جس الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگناچاہیے تھا اسے نو ماہ کی ایکسٹینشن دے دی گئی۔ فارم 47 ایوان کے ذریعے چھبیسویں ترمیم منظور کروائی گئی اور ایسے ضمیر فروش ججز کو اوپر لایا گیا جن سے انصاف کی کوئی امید نہیں بچی۔ ہر ادارے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
وہ آئی ایس آئی جو تحریک انصاف دور میں افغانستان کے ساتھ امن کے لیے کام کر رہی تھی، اب محض عاصم منیر کی ذاتی مافیا بن کر رہ گئی ہے، جس کی واحد ڈیوٹی کسی بھی طریقے سے تحریک انصاف کو کچلنا ہے۔ یہ سب عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے -
مجھ سے چوتھا سوال کیا گیا کہ سقوط ڈھاکہ کا حوالہ کیوں دیا اور عاصم منیر کو یحییٰ خان سے تشبیہہ کیوں دیتا ہوں؟
میرا جواب ہے کہ مجیب الرحمٰن اور یحیٰی خان کے بارے میں جو بھی میں کہتا ہوں وہ حمود الرحمان کمیشن میں درج ہے اور تاریخ کا حصہ ہے کہ کیسے یحیٰی خان نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے مجیب الرحمان کی اکثریتی پارٹی کو حکومت دینے کی بجائے ان پر ملٹری آپریشن شروع کر دیا اور ملک توڑ دیا۔ ایک دن مجیب الرحمٰن سے مذاکرات ہو رہے تھے اور اگلے ہی دن بنگالیوں پر آپریشن لانچ کر دیا۔ آج کل وہی یہاں ہو رہا ہے، جو کام یحیٰی خان نے 1971 میں کیا وہی سب عاصم منیر بھی کر رہا ہے، جس سے ملک میں قانون اور آئین کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔
مجھ سے پانچواں سوال کیا گیا کہ میں یہ کیوں کہتا ہوں کہ مجھ پر ذہنی تشدد ہو رہا ہے؟
اپیل برائے امداد
تاجک ایسوٹ کا نوجوان بیٹا غوث دین ایسوٹ ، جو لورالائی کی کوئلے کی کان میں مزدوری کر رہا تھا، 13 ماہ قبل ایک خوفناک حادثے کا شکار ہوا۔ اس حادثے نے اسے زندگی بھر کے لیے معذور بنا دیا۔
بدقسمتی سے علاج کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے وہ آج بھی بستر پر بے یار و مددگار پڑا ہے۔
یہ صرف ایک فرد کا دکھ نہیں، یہ ہم سب کے ضمیر کا امتحان ہے۔
آئیے!
ہم سب مل کر اس نوجوان کے علاج کے لیے مالی امداد فراہم کریں۔
آپ کا تھوڑا سا تعاون اس کی زندگی میں نئی امید لا سکتا ہے۔
🤝 رابطہ نمبر03403057521
اکاؤنٹ نمبر03484101054
شیئر کریں، آواز بنیں، مدد کریں۔
یہ لمحہ ہر دل کو رُلا دینے والا ہے۔۔۔
دو سال بعد ماں کو اپنے بیٹے سے ملاقات ملی، مگر یہ ملاقات زندگی کی نہیں، جدائی کی تھی۔
قاسم کھوکھر۔۔۔ جسے ملٹری کورٹس نے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی۔۔۔ آج اپنی جان کی بازی ہار چکا ہے۔
ماں کی آنکھوں میں آنسو اور دل میں زخم ہیں، جب وہ اپنے لختِ جگر کو باہوں میں لے کر آخری دیدار کر رہی ہے۔
یہ منظر صرف ایک ماں اور بیٹے کی جدائی کا نہیں۔۔۔ بلکہ سوال ہے کہ انصاف کہاں ہے؟
قاسم کے خواب، اس کی مسکراہٹ، سب کچھ وقت کی سولی پر لٹک گئے۔۔۔ اور اب باقی ہے تو صرف ایک ماں کی سسکیاں اور ایک بیٹے کا خاموش جسم۔
یہ آخری ملاقات نہیں۔۔۔ یہ قیامت کا لمحہ ہے، جب ماں کے ہاتھ کانپتے ہیں، دل ٹوٹتا ہے اور آنکھیں دنیا کے سب دکھوں کی گواہ بن جاتی ہیں۔