لَا إلٰهَ إلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیری ذات پاک ہے، بیشک میں ہی اپنی جان پر زیادتی کرنے والوں میں سے تھا۔
السلام علیکم صبح بخیر❣️
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
﷽
السلام عليكم
#خاتم_النبیین_محمدﷺ#درود_وسلام
یارب!ہماری زندگی کا اختتام قرآن کی محبت اسکی تلاوت
اوراسکی ہدایت پرعمل کرتےہوئے فرما اور قیامت کےدن قرآن والوں میں ہمارا شمار فرما
قرآن کی ہرآیت ہمارےایمان میں اضافہ،
کردار میں پاکیزگی اور اعمال میں بہتری کاسبب بنادے۔آمین
SUNDAY MORNING X FAMILY
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
صبح بخیر پیارے دوستو
سبحان الله وبحمدہ سبحان الله العظیم أَسْتَغْفِرُ اللّٰه
ورفعنا لک ذکرک
اَللّٰھُمَّ صَــّلِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ
اللہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین
القرآن - سورۃ الحج: 31
حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَيۡرَ مُشۡرِكِيۡنَ بِهٖؕ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخۡطَفُهُ الطَّيۡرُ اَوۡ تَهۡوِىۡ بِهِ الرِّيۡحُ فِىۡ مَكَانٍ سَحِيۡقٍ ۞
"یکسوُ ہوجاؤ اللہ کے لیے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا تو وہ ایسے ہے جیسے آسمان سے گرپڑا تو اسے پرندے اچک لیں یا ہوا اڑا پھینکے کسی دور دراز جگہ پر."
الســــــــــــلام علیــــــــکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
#خاتم_الرسلﷺ
بہترین عبادت نبی کریم ﷺ پر درود شریف بھیجنا ہے۔ وقت کی ہر ساعت گریزاں ہے ، سوائے اس لمحے کے جو آپﷺ کے ذکر میں گزر جائے ۔
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
البخاری 3369
#تشریح_القرآن
سورہ الفاتحہ
آیت 3
ترجمہ
جو روز جزا کا مالک ہے۔
آیت 3
تشریح
رب ، رحمان، الرحیم کی صفات کے بعد اللہ واحدہ لا شریک یہاں اپنی صفت مالک کا اقرار کروا رہے ہیں۔ مالک کا لفظ ملک سے ماخوذ ہے جیسے کہ قرآن میں ہے آیت ( اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَاِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ ) (مریم
:40 )
یعنی زمین اور اس کے اوپر کی تمام مخلوق کے مالک ہم ہی ہیں اور ہماری ہی طرف سب لوٹا کر لائے جائیں گے اور فرمایا سورۃ الناس یعنی کہہ کہ میں پناہ پکڑتا ہوں لوگوں کے رب اور لوگوں کے مالک کی ۔ اور ملک کا لفظ ملک سے ماخوذ ہے جیسے فرمایا آیت ( لمن الملک الیوم ) الخ یعنی آج ملک کس کا ہے صرف اللہ واحد غلبہ والے کا اور فرمایا آیت
( قَوْلُهُ الْحَقُّ ۭوَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭوَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ ) ۔ (الانعام:73 )
اسی کا فرمان ہے اور اسی کا سب ملک ہے ۔ اور فرمایا آج ملک رحمن ہی کا ہے اور آج کا دن کافروں پر بہت سخت ہے ۔ اس فرمان میں قیامت کے دن ساتھ ملکیت کی تخصیص کرنے سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے ، اس لئے کہ پہلے اپنا وصف رب العالمین ہونا بیان کیا گیا جس میں دنیا اور آخرت دونوں شامل ہیں ۔ قیامت کے دن کے ساتھ اس کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اس دن تو کوئی ملکیت کا دعویدار بھی نہ ہو گا ۔ بلکہ بغیر اس حقیقی مالک کی اجازت کے زبان تک نہ ہلا سکے گا ۔ جیسے فرمایا جس دن روح القدس اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے اور کوئی کلام نہ کر سکے گا ۔ یہاں تک کہ رحمن اسے اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کہے گا ۔ دوسری جگہ ارشاد ہے سب آوازیں رحمن کے سامنے پست ہوں گی اور گنگناہٹ کے سوا کچھ نہ سنائی دے گا اور فرمایا جب قیامت آئے گی اس دن بغیر اللہ تبارک و تعالیٰ کی اجازت کے کوئی شخص نہ بول سکے گا ۔ بعض ان میں سے بدبخت ہوں گے اور بعض سعادت مند ہوں گے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دن اس کی بادشاہت میں اس کے سوا کوئی بادشاہ نہ ہوگا جیسے کہ دنیا میں مجازاً تھے ۔ آیت ( یوم الدین سے مراد مخلوق کے حساب کا یعنی قیامت کا دن ہے جس دن تمام بھلے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ہاں اگر رب کسی برائی سے درگزر کر لے یہ اس کا اختیاری امر ہے ۔ صحابہ تابعین اور سلف صالحین سے بھی یہی مروی ہے۔ حقیقی بادشاہ اللہ واحدہ لاشریک ہی ہیں ۔ جیسے فرمایا آیت ( ھواللہ الذی لا الہ الا ھو الملک الخ صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ واحدہ لاشریک کے نزدیک بد ترین نام اس شخص کا ہے جو شہنشاہ کہلائے حقیقی بادشاہ اللہ کے سوا کوئی نہیں ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ واحدہ لاشریک زمین کو قبضہ میں لے لیں گےا اور آسمان داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے پھرحکم ہو گا میں بادشاہ ہوں کہاں گئے زمین کے بادشاہ کہاں ہیں تکبر والے ۔ کس کی ہے آج بادشاہی؟ فقط اللہ اکیلے غلبہ والے کی اور کسی کو ملک کہہ دینا یہ صرف مجازاً ہے جیسے کہ قرآن میں طالتون کو ملک کہا گیا اور آیت ( وکان ورائھم ملک ) کا لفظ آیا ۔ اور بخاری مسلم میں ملوک کا لفظ آیا ہے اور قرآن کی آیت میں آیت ( اذ جعل فیکم انبیاء وجعلکم ملوکا ) یعنی تم میں انبیاء کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا ، آیا ہے ۔ دین کے معنی بدلے جزا اور حساب کے ہیں ۔ جیسے قرآن پاک میں ہے اس دن اللہ واحدہ لاشریک انہیں پورا پورا بدلہ دیں گے اور وہ جان لیں گے اور جگہ ہے آیت ( ائنا لمدینون ) کیا ہم کو بدلہ دیا جائے گا ؟ حدیث میں ہے دانا وہ ہے جو اپنے نفس سے خود حساب لے اور موت کے بعد کام آنے والے اعمال کرے ۔ جیسے کہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تم خود اپنی جانوں سے حساب لو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کو خود وزن کر لو اس سے پہلے کہ وہ ترازو میں رکھے جائیں اور اس بڑی پیشی کے لئے تیار ہو جاؤ جب تم اس اللہ کے سامنے پیش کئے جاؤ گے جس سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں جیسے خود رب العالمین نے فرما دیا جس دن تم پیش کئے جاؤ گے کوئی چھپی ڈھکی بات چھپے گی نہیں ۔
#متاعِ_دل
طلب سرکارﷺ فرمائیں مجھے قدموں کی جنت میں
مری بھی حاضری ہو آپﷺ کے ایوانِ رحمت میں
تمنا ہے درِ آقاﷺ پہ لوں میں آخری سانسیں
مَیں مر کر بھی رہوں سرکارِ دو عالمﷺ کی خدمت میں
آمین
💚صَلَّی اللّٰهُ عَلَیہِ وَآلِہِ وَسَلَّم 💚
ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: "کون سا اسلام بہتر ہے؟"
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "بھوکوں کو کھلانا اور سلام پھیلانا، ان کو بھی جنہیں تم جانتے ہو اور ان کو بھی جنہیں تم نہیں جانتے۔"
(صحیح بخاری، حدیث: 28)