ان سے ملئیے۔۔ یہ ہیں خیبرپختونخوا کے اعلیٰ تعلیم کے انقلابی وزیر صاحب
عمران نیازی نے انکے بارے میں کہا تھا کہ ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں اور دوسرا یہ کوشش بھی نہی کرتے۔ انگریزی سر کے اوپر گزر گئ تو طالبہ کو اپنی بات سمجھانے کیلئے پشتو میں بولنا پڑا
خیبرپختونخواہ اور سندھ سے نئے صوبوں کا آغاز کرنا چاہیے،کیوں کہ دونوں صوبے چل نہیں پارہے،پیپلزپارٹی نے سندھ والوں کا جینا حرام رکھا ہے پی ٹی آئی نے خیبرپختونخواہ کا امن بھی تباہ کردیا اور انفراسٹرکچر بھی نہ چھوڑا۔
وزیر داخلہ ھو یا وزیر خزانہ،دونوں کی پرفارمنس بدترین ھے اور دونوں اسٹیبلشمنٹ کے لگائے ھوئے ھیں،اتنا نظام بدلنے کا شوق ھے حضور تو پہلے ان دو ٹاؤٹس کو تو کوڑے دان کی نظر کیجئے۔
ملک محمد اقبال چنڑ صاحب کی وفات پر انتہائی دکھ ہوا۔ وہ ایک مخلص نمائندے تھے جنہوں نے ہمیشہ عوامی خدمت کو اپنا ش��ار بنایا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔
پیپلزپارٹی نے 13 سال میں کراچی میں ایک سڑک بنائی جس کا نام شاہراہ بھٹو ہے ۔
تحقیق کریں گئے تو پتہ چلے گا کے وہ سڑک کراچی کے عوام کے لئے نہیں بلکہ دو بڑی ہاوسنگ سکیم کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنائی گئی ۔
نوازشریف اور شہبازشریف کا دیا ہوا انفراسٹکچر اُٹھا لیں تو پیچھے قبرستان بچتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے حصے کا کام نہیں کریں گی تو انکو گورنینس بہتر بنانے کے مشورے سُننے اور طعنے برداشت کرنا ہونگے۔
پیپلزپ��رٹی کی مرکزی قیادت سے پوچھنا چاہوں گا کہ فارم 47 کا طعنہ کس منہ سے دیتے ہیں؟ یہ رونا کیسے رو رہے ہیں جب اسی فارم 47 کے ووٹوں سے پاکستان کی صدارت بھی ملی ہے،دو صوبوں کی گورنر شپ بھی ملی ہے،چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی اسیکر کا بھی آئینی عہدہ لے رکھا ہے اگر فارم 47 ہے تو پھر جن عہدوں پر خود بیٹھے ہیں وہ حلال کیسے ہوگئے؟
کشمیر ایکشن کمیٹی کو درپردہ پی پی پی سپورٹ کر رہی تھی، بلاول کی بلی تھیلے سے باہر نکل آئ ہے۔ دونوں کشمیری مہاجرین کے دشمن بن کر بیٹھے ہیں۔ اختیارولی خان
پیپلز پارٹی کو گزشتہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات جیسے نتائج نہیں مل رہے۔ دُور بلکہ۔۔ بہت دُوررر دُوررر تک ایسے کوئ نتائج نظر نہیں آ رہے ۔ اُمید ہے بلاول بھٹو صاحب ہمیں ہماری جیت پر مبارکباد دینگے جیسے ہم نے گلگت میں دی تھی