Retired professor VK Tripathi leaves his home in India’s New Delhi every day to hand out flyers about Israel's genocide in Gaza. Despite criticism and confrontations, he says he won’t stop speaking out against injustice.
“مجھے بار بار ڈیل آفر ہوئی اور کہا گیا کہ ملک چھوڑ کر چلا جاؤں یا خاموش ہو جاؤں تو میرے کیسز ختم کر دئیے جائیں گے، لیکن پہلے دن سے میرا موقف ہے کہ میں ان مقدمات کا سامنا عدالتوں سے کر کے ہی باہر آؤں گا کسی ڈیل کے نتیجے میں ہرگز نہیں۔ اسی لیے مجھ پر بے بنیاد 300 مقدمات بنائے گئے ہیں۔ کوئی بھی اور شخص ہوتا تو ان مقدمات کا سامنا نہیں کر پاتا لیکن میں جانتا ہوں کہ میں بے گناہ او�� حق پر ہوں۔
اب توشہ خانہ کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان برگیڈیر احمد اور کرنل ریحان نے اقرار کیا ہے کہ توشہ خانہ کے تحفے میرے گھر نہیں گئے بلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے اور ان کے کاغذات مکمل ہیں۔
اب اس مقدمے میں ایک دن میں بریت ہو جانی چاہیئے، خصوصی طور پر بشرٰی بیگم کی ضمانت تو ہو جانی چاہیئے کیونکہ وہ خاتون ہیں اور اس کیس میں ان پر aiding and abetting کا ہی جھوٹا الزام ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ چھبیسویں ترمیم والی عدالتیں اوپر سے لکھے لکھائے فیصلے ہی سناتی ہیں جو قانون کے مطابق نہیں عاصم لأ کے مطابق ہوتے ہیں۔ ترتیب بھی یوں رکھی جائے گی کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا سنائی جائے گی پھر القادر میں ضمانت کا فیصلہ آئے گا۔ یہی سکرپٹ ہے اور عدلیہ فی الحال قانون کے بجائے سکرپٹ پر ہی چل رہی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو(24 ستمبر، 2025)
2/2
باجوڑ کی بے گھری کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اگلی باری مہمند کی ہے اور آگے بھی یہی سلسلہ جاری رہے گا۔ جس ملاکنڈ سے ہم نے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا تھا اب وہاں بھی انہیں پھیلایا جارہا ہےاورکچھ ہی ہفتوں میں آپ کو وہاں بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملے گی۔ لوگ کتنی تعداد میں نکلے، ان کا کیا مطالبہ ہے اس سے سروکار اس ریاست کو ہوتا ہے جو ماں ہو ہمارے یاں وہ ڈائن ہے!
صوبائی حکومت نے پہلے فریقین کے مابین جرگوں کے زریعے معاملات سنبھالنے کی کوشش کی (اگرچہ میری پہلے ہی ان سے یہی گزارش تھی کہ ان کے حوالے سے کوئی خوش فہمی پالنے سے گریز کریں اور جرگے سڑکوں پر ہوں) میری توقع کے عین مطابق فوج ملکی مفاد کو ذاتی مفادات پر قربان کرنے کی اپنی دیرینا روایت سے پہلو تہی کرنے پہ نہ دو سال قبل راضی تھی نہ آج راضی ہوئی۔
نتیجہ وہی ہے جس کا خدشہ تھا۔
اگست ۲۰۲۲ میں اسلام آباد میریٹ ہوٹل میں دہش�� گردی پر کانفرنس میں یہ سارا پلان بیان کیا تھا۔ اگست ۲۰۲۵ اور حرف با حرف وہی سب ہورہا ہے۔ ��مارے وہ لوگ جو امن کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں انہیں اور ان کے عیال کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ان کے گھروں پر گرنیڈ پھینکے جاتے ہیں، سروں پر ڈرون اڑائے جاتے ہیں۔ انہیں دہشت زدہ کرکے ان کی آوازیں دبائی جارہی ہیں۔ خیبر پختونخواہ کے علاوہ باقی ملک میں اس وقت امن آشتی کا دور دورا ہے، اگلے چند روز میں آپ سڑکوں پر ہری جھنڈیوں کی بہار دیکھیں گے اور نادیدہ ترقی کے شادیانے بجیں گے مگر پردے کے پیچھے سب اچھا نہیں ہے! اور جب تک باقی ملک کو اس بات کا ادراک ہوگا تب تک آگ آپ کی دہلیزوں تک بھی پہنچ چکی ہوگی۔ پہلے بھی یہی وارننگز دےچکا ہوں تب بھی میں فسادی تھا اور فوکس تحریک ��نصاف کو کچلنا تھا۔ آج بھی میں غدار ہوں اور پرائرٹی سیاسی کارکنان کو دس دس سال سزائیں سنا کر اور عمران خان کی بہنوں اور کارکنان کو قید میں ڈال کر اپنی اناؤں کی تسکین ہے۔ مگر جب آگ پھیلے گی تو پھر نا وہ بال بچہ محفوظ رہیگا جن کی خاطر دوسروں کی اولادوں کو موت کے مونہہ میں دھکیل رہے ہیں اور نہ وہ مال دولت کام آئیگا جس کے عوض وطن بیچ کر اپنے لوگوں کو دربدر کررہے ہیں۔ اور وہ جو خاموش ہیں۔۔ جو سب دیکھتے جانتے بوجھتے انجان ہیں۔۔ یقین مانیں آپ جیسوں سے بھی قبرستان بھرے پڑے ہیں۔
رہی ہماری بات کہ ہم کیا کررہے ہیں؟
۲۰۲۲ سے جب ان کی آبادکاری کی جارہی تھی تب سے آج تک ہم ہی رکاوٹ ہیں۔ ۲۰۲۲ میں بھی دو مرتبہ ہم نے ہی انہیں واپس دھکیلا تھا۔ ابھی بھی ایک سال سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو موبلائیز کرکے امن کا جھنڈا لہرا کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ ہمارے امن کے جھنڈے کو ہمارے خون سے رنگا جارہا ہے لیکن ہمارے پاس خاموشی کا آپشن نہیں ہے چاہے ہمارے سروں کی قیمتیں لگیں، گھروں پر گولے گریں، یا ہم پر ہماری گلیوں میں ہمارے ٹیکس کے پیسوں کی گولیاں برسائی جائیں،ہمیں اپنا انجام معلوم ہے۔
ہمارے آپسی جرگے میں پانچ نکاتی لائحہ عمل پر ات��اق ہوا ہے۔ جس پر کل سے عملدرآمد شروع ہوجائیگا۔ گروانڈ پر موجود اپنے ساتھیوں کے تحفظ کی خاطر اس وقت یہاں ان نکات کی تفصیل بیان کرنا مناسب نہیں ہوگا مگر اپنے لوگوں کو یہ باور کرادوں کہ عمران خان کے نظریے اور سوچ کے مطابق ہم کسی کو بھی اپنے لوگوں کو کسی اور کےمفادات کی آگ میں جھونکنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
Demanding an end to the killing of children in Gaza does not make you antisemitic. It does not make you a supporter of Hamas. It simply makes you human.
Don't be silent.
Don't be complicit.
Demand an end to the bloodshed and blockade of Gaza.
“Loss of human life in Pahlgam incident is deeply disturbing and tragic. I extend my deepest condolences to the victims and their families.
When the False Flag Palwama Operation incident happened, we offered to extend all-out cooperation to India but India failed to produce any concrete evidence. As I predicted in 2019, the same is happening again after Pahlgam incident. Instead of introspection and investigation, Modi Sarkar is again placing the blame on Pakistan.
Being a country of 1.5 billion people, India needs to act responsibly instead of messing with a region already known as “nuclear flashpoint.” Peace is our priority but it should not be mistaken as cowardice. Pakistan has got all the capabilities to give a befitting response to any Indian misadventure, as My Government, backed by whole nation, did in 2019.
I have always emphasized the importance of the Kashmiris’ right to self-determination, as guaranteed by United Nations resolutions.
I have also been highlighting the fact that India led by RSS ideology is a grave threat, not only to the region but beyond it. Indian oppression in Kashmir, intensified after the illegal abrogation of Article 370, has further fueled the Kashmiri people’s desire for freedom.
Sadly, the nation has been divided by an illegitimate government imposed through fraudulent Form-47 results. And yet, ironically, Narendra Modi’s aggression has united the people of Pakistan in one voice against Indian hostility. While we reject this fake regime, we stand firmly as one Pakistani nation and strongly condemn Modi's war-mongering and his dangerous ambitions that threaten regional peace.
Needless to say, to win the war against an external enemy, the nation must first be united. It is high time to put a halt to all actions that are further polarizing the nation. The state’s excessive focus on political victimisation at this critical time is deepening internal divisions and undermining the nation’s collective ability to confront external threats.
It is naive to expect any strong stance from self-serving figures like Nawaz Sharif and Asif Zardari. They will never speak out against India because their illegal wealth and business interests lie abroad. They profit from foreign investments, and to protect those financial interests, they remain silent in the face of foreign aggression and baseless allegations against Pakistan. Their fear is simple: that Indian lobbies might freeze their offshore assets if they dare to speak the truth.”
Illegally incarcerated Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan’s discussion with the lawyers in Adiala Jail Rawalpindi (29-04-2025)
9 مئی اور 26 نومبر کو ہمارے نہتے جمہوریت پسند کارکنان پر ظلم و تشدد کی انتہا کر دی گئی۔ پر امن شہریوں پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں۔ سیاسی انتقام کی آڑ میں تین سال میں لاکھوں شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، ہمارے 20 ہزار سے زائد ورکرز اور سپورٹرز کو گرفتار کیا گیا اور سینکڑوں کو اغواء کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ہزاروں بےگناہ لوگوں کو کئی کئی ماہ جھوٹے کیسز میں جیلوں میں رکھا گیا- ایجینسیز کے دباؤ پر ہمارے دو ہزار سے زائد ورکرز، سپورٹرز اور پارٹی لیڈرز کی ضمانت کی درخواستیں اب تک ہائی کورٹ کے ججز التواء میں رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں-
جیسا سلوک پچھلے تین سال میں ہماری خواتین کے ساتھ کیا گیا ہے وہ انتہائی شرمناک اور افسوسناک ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی سیاستدانوں کی گھریلو خواتین کو اس طرح نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری اخلاقیات کس قدر پستی پر ہیں۔ بزرگ خواتین اور جوان بچیوں کو جیلوں میں قید رکھا گیا۔ می��ی اہلیہ، ڈاکٹر یاسمین راشد جو 75 سالہ کینسر کی مریضہ ہیں، میری دونوں بہنیں جن کی عمر 65 سال سے زائد ہے سمیت سینکڑوں خواتین کو بے جا پابند سلاسل رکھا گیا ہے اور ان کی حیا کا تقدس پامال کیا گیا۔ نبی پاک ﷺ کے ��ور میں عورتوں، بزرگوں اور بچوں کو تنگ نہیں کیا جاتا تھا ہمارے دین کا حکم تو یہ ہے کہ جنگی حالات میں دشمن کی عورتوں اور بچوں سے بھی بدسلوکی نہ کی جائے اور یہاں اپنی ہم وطن ماؤں، بہنوں ، بیٹیوں کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ یہ سب ہماری روایات کے منافی ہے اور اس کی وجہ سے عوام میں فوج کے خلاف نفرت بہت بڑھ گئی ہے جس کا سدباب بروقت ہو جائے تو یہ فوج اور ملک دونوں کے حق میں بہتر ہے ورنہ اس سب سے ناقابل تلافی خسارہ اٹھانا پڑ سکتا ہے-
پیکا جیسے کالے قانون کے ذریعے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔ اس سب کی وجہ سے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی خطرے میں ہے۔ انٹرنی�� میں خلل کی وجہ سے ہماری آئی ٹی انڈسٹری کواربوں ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے اور نوجوانوں کا کیرئیر تباہ ہو رہا ہے-
چند افراد کی خواہشات پر عوامی مینڈیٹ کی توہین کر کے ایسے سیاسی عدم استحکام کی بنیاد رکھی گئی جس کی بدولت معیشت کا برا حال ہے اور سرمایہ کار اور ہنرمند افراد مجبور ہو گئے ہیں کہ پاکستان چھوڑ کر اپنے سرمائے سمیت تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو جائیں۔ معاشی عدم استحکام اپنی انتہا پر ہے۔ گروتھ ریٹ صفر ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ ملک میں غربت اور بےروزگاری عروج پر ہے-
ہمارے فوجی پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہو لیکن افسوسناک امر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں اور ان غیر قانونی اقدامات کی بدولت عوام میں فوج کی بدنامی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ سب فوج کے حلف کی خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی ملک ک�� فوج اپنے شہریوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتی بلکہ ایسا سلوک تو قابض فوجیں کرتی ہیں جو خود کو ہر آئین اور قانون سے بالاتر سمجھتی ہیں۔
ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان کی خلیج کم ہو، اور اس بڑھتی خلیج کو کم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے، اور وہ ہے فوج کا اپنی آئینی حدود میں واپس جانا، سیاست سے خود کو علیحدہ کرنا اور اپنی متعین کردہ ذمہ داریاں پوری کرنا، اور یہ کام فوج کو خود کرنا ہو گا ورنہ یہی بڑھتی خلیج قومی سلامتی کی اصطلاح میں فالٹ لائنز بن جائیں گی۔”
2/2
سابق وزیراعظ�� عمران خان کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کو دوسرا کھلا خط:
”میں نے ملک و قوم کی بہتری کی خاطر نیک نیتی سے آرمی چیف (آپ) کے نام کھلا خط لکھا، تاکہ فوج اور عوام کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کیا جا سکے مگر اس کا جواب انتہائی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری سے دیا گیا۔
میں پاکستان کا سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے مقبول اور بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں- میں نے اپنی ساری زندگی عالمی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں گزاری ہے۔ 1970 سے اب تک میری 55 سال کی پبلک لائف اور 30 سال کی کمائی سب کے سامنے ہے- میرا جینا مرنا صرف اور ��رف پاکستان میں ہے۔
مجھے صرف اور صرف اپنی فوج کے تاثر اور عوام اور فوج کے درمیان بڑھتی خلیج کے ممکنہ مضمرات کی فکر ہے، جس کی وجہ سے میں نے یہ خط لکھا۔
میں نے جن 6 نکات کی نشاندہی کی ہے ان پر اگر عوامی رائے لی جائے تو 90 فیصد عوام ان نکات کی حمایت کرے گی-
ایجینسیز کے ذریعے پری پول دھاندلی اور الیکشن کے نتائج تبدیل کر کے اردلی حکومت قائم کرنا، عدلیہ پر قبضے کے لیے پارلیمینٹ سے گن پوائنٹ پرچھبیسویں آئینی ترمیم کروانا اور پاکٹ ججز بھرتی کرنا، ظلم و جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بند کرنے کے لیے پیکا جیسے کالے قانون کا اطلاق کرنا، سیاسی عدم استحکام اور “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کی ریت ڈال کر ملک کی معیشت کی تباہی، ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو مسلسل ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بنانا اور تمام ریاستی اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انجینئیرنگ اور سیاسی انتقام میں شامل کرنا ناصرف عوامی جذبات کو مجروح کر رہا ہے بلکہ عوام اور فوج میں خلیج کو بھی مسلسل بڑھا رہا ہے-
فوج ملک کا ایک اہم ادارہ ہے مگر اس میں بیٹھی چند کالی بھیڑیں پورے ادارے کا نقصان کر رہی ہیں۔ ایسا ہی ایک شخص اڈیالہ جیل میں بیٹھا کرنل بھی ہے جو جیل کے سٹاف کو کنٹرول کرتے ہوئے ناصرف آئین، قانون اور جیل مینول کی دھجیاں بکھیر رہا ہے بلکہ انسانی حقوق بھی پامال کر رہا ہے۔ وہ عدالتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے ایسے عمل کرتا ہے جیسے “قابض فوج” کرتی ہے۔ پہلے اڈیالہ جیل کے فرض شناس سپرنٹنڈنٹ اکرم کو اغواء کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ قانون کی پاسداری کرتا تھا اور جیل قوانین پر عمل درآمد کرتا تھا، اب بھی تمام عملے کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق پامال کرتے ہوئے مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک کرنل کی ماتحت جیل انتظامیہ نے مجھ پر ہر ظلم کیا ہے۔ مجھے موت کی چکی میں رکھا گیا ہے۔20 دن تک مکمل لاک اپ میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی تھی۔ پانچ روز تک میرے سیل کی بجلی بند رکھی گئی اور میں مکمل اندھیرے میں رہا۔ میرا ورزش کرنے والا سامان اور ٹی وی تک لے لیا گیا اور مجھ تک اخبار بھی پہنچنے نہیں دیا گیا۔جب چاہتے ہیں کتابیں تک روک لیتے ہیں۔ ان 20 دنوں کے علاوہ مجھے دوبارہ بھی 40 گھنٹے لاک اپ میں رکھا گیا۔ میرے بیٹوں سے پچھلے چھ ماہ میں صرف تین مرتبہ میری بات کروائی گئی ہے۔ اس معاملے میں بھی عدالت کا حکم نہ مانتے ہوئے مجھے بچوں سے بات کرنے نہیں دی جاتی جو میرا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ میری جماعت کے افراد دور دراز علاقوں سے مجھ سے ملاقات کے لیے آتے ہیں مگر ان کو بھی عدالتی آرڈز کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں ملتی۔ پچھلے چھ ماہ میں گنتی کے چند افراد کو ہی مجھ سے ملوایا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود میری اہلیہ سے میری ملاقات نہیں کروائی جاتی۔میری اہلیہ کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
گن پوائنٹ پر کروائی گئی چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام پر قبضے اور کورٹ پیکنگ کا مقصد انسانی حقوق کی پامالیوں اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی اور میرے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلوں کے لیے “پاکٹ ججز” بھرتی کرنا ہے تا کہ عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہ ہو۔ میرے سارے کیسز کے فیصلے دباؤ کے ذریعے دلوائے جا رہے ہیں۔ مجھےغیر قانونی طور پر 4 سزائیں دلوائی گئی ہیں۔ میرے خلاف فیصلہ دینے کے لیے جج صاحبان پر اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ ایک جج کا ��لڈ پریشر 5 مرتبہ ہائی ہوا اور اسے جیل اسپتال میں داخل کروانا پڑا۔ اس جج نے میرے وکیل کو بتایا کہ مجھے اور میری اہلیہ کو سزا دینے کے لیے "اوپر" سے شدید ترین دباؤ ہے۔
1/2
سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کو کھلا خط۔۔
“فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا ہے!!
ہمارے فوجی پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہو لیکن افسوسناک امر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کی وجہ سے فوج اور عوام میں خلیج دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔
اس کی کچھ بنیادی وجوہات ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ عوام اور فوج کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے اور فوج کی بدنامی کو کم کیا جا سکے۔
سب سے بڑی وجہ 2024 کے انتخابات میں تاریخی دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی سر عام چوری ہے جس نے عوام کے غصے کو ابھارا ہے۔ جس انداز میں ایجنسیاں پری پول دھاندلی اور نتائج کنٹرول کرنے کے لیے سیاسی انجینئرنگ میں ملوث رہیں اس نے قوم کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ صرف 17 نشستیں جیتنے والی پارٹی کو اقتدار دے ک�� “اردلی حکومت” ملک پر مسلط کر دی گئی-
دوسری وجہ چھبیسویں آئینی ترمیم ہے۔ جس طرح چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں اس کے خلاف پاکستانی عوام میں شدید نفرت پائی جا رہی ہے۔ میرے مقدمات "پاکٹ ججز" کے پاس لگانے کے لیے ناصر جاوید رانا نے فیصلے کو ملتوی کیا۔ عدالتوں میں جاری "کورٹ پیکنگ" کا مقصد یہی ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات من پسند ججز کے پاس لگا کر اپنی مرضی کے فیصلے لیے جا سکیں۔ اس سب کا مقصد میرے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلے، انسانی حقوق کی پامالی اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی ہے تا کہ عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہ ہو۔
تیسری وجہ "پیکا" جیسا کالا قانون ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر پہلے ہی قبضہ کیا جا چکا ہے، اب پیکا کی صورت میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔ اس سب کی وجہ سے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی خطرے میں ہے۔ انٹرنیٹ میں خلل کی وجہ سے ہماری آئی ٹی انڈسٹری کو 1.72 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے اور نوجوانوں کا کیرئیر تباہ ہو رہا ہے۔
چوتھی اہم وجہ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت پر ریاستی دہشتگردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ہمارے لیڈران اور کارکنان کی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد چھاپے ما��ے گئے، 20 ہزار سے زائد ورکرز اور سپورٹرز کی گرفتاریاں کی گئیں، انہیں اغوا کیا گیا، لوگوں کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا اور تحریک انصاف کو کچلنے کی غرض سے مسلسل انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے جس نے عوامی جذبات کو مجروح کیا ہے۔
پانچویں بڑی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی بدولت معیشت کا برا حال ہے جس نے عوام کو مجبور ک�� دیا ہے اور وہ پاکستان چھوڑ کر اپنے سرمائے سمیت تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ معاشی عدم استحکام اپنی انتہا پر ہے۔ گروتھ ریٹ صفر ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ کسی بھی ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدل کے بغیر سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوتی۔ جہاں دہشتگردی کا خوف ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سرمایہ کاری صرف تب آتی ہے جب ملک میں عوامی امنگوں کی ترجمان حکومت قائم ہو اس کے علاوہ سب کلیے بے کار ہیں۔
چھٹی بڑی وجہ تمام اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انتقام کی غرض سے تحریک انصاف کو کچلنے کا کام کرنا ہے۔ میجر، کرنل سطح کے افراد کی جانب سے عدالتی احکامات کی دھجیاں بکھیرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پوری فوج پر نزلہ گر رہا ہے۔ پرسوں اے ٹی سی کے جج نے عدالت میں میری اہلیہ کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا اس کے باوجود کے وہ آنا چاہتی تھیں کسی نادیدہ قوت نے اس کو سبوتاژ کیا۔
بحیثیت سابق وزیراعظم میرا کام اس قوم کی بہتری کے لیے ان مسائل کی نشاندہی ہے جس کی وجہ سے فوج مسلسل بدنامی کا شکار ہو رہی ہے۔ میری پالیسی پہلے دن سے ایک ہی ہے یعنی فوج بھی میری اور ملک بھی میرا۔ ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان کی خلیج کم ہو، او�� اس بڑھتی خلیج کو کم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے، اور وہ ہے فوج کا اپنی آئینی حدود میں واپس جانا، سیاست سے خود کو علیحدہ کرنا اور اپنی معین کردہ ذمہ داریاں پوری کرنا، اور یہ کام فوج کو خود کرنا ہو گا ورنہ یہی بڑھتی خلیج قومی سلامتی کی اصلاح میں فالٹ لائنز بن جائیں گی۔”
🚀 cPen 1.2.17 Update is Here! 🚀
We’ve just launched our latest cPen app update on Android (iOS coming soon)! 🎉
You can now enter your BSC wallet address for the upcoming token distribution in the first quarter of 2025 (exact date TBA). 📍🛠️
Please note that the address must be from a self-custodial wallet (such as MetaMask, Trust Wallet, or OKX Web3 Wallet) that you control. Do not use addresses from centralized exchanges (CEX).
Make sure you verify your wallet address carefully. If you provide an incorrect address or a CEX address, your tokens will be lost permanently and cannot be recovered.
If you haven’t installed the cPen mobile app yet, download it here: https://t.co/HB3sJFnF8S
Thank you for your continued support—together, we’ll make a difference!
It’s deplorable to hear of the direct shooting and violence on the peaceful demonstrations in Pakistan, killing at least 15 civilians.
The Australian government needs to take action like the US Congress and impose visa bans and asset freezes on General Asim Munir and others involved in corruption and human rights abuses.
عمران خان کی قابلِ فخر قوم!
آپ نے ہمیشہ عمران خان کی لاج رکھی ہے، آپ کی جرات آپ کے حوصلے کو سلام۔
آئی ایس ایف اور یوتھ کے جوانو!
شکریہ۔ آپ نے وفاداری اور بہادری کی جو داستانیں رقم کی ہیں اس ملک کی تاریخ ہمیشہ اس کی گواہی دے گی۔
اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح کے شہریوں!
آپ کے ہم وطن گذشتہ ۲۴ گھنٹے سے ریاستی جبر کے خلاف برسر پیکار آپ کے شہر پہنچے ہیں۔ آج آپ نے ایک مرتبہ پھر ۲۵ مئی اور ۱۸ مارچ کی اپنے ایثار کی روایت دہرانی ہے۔
آپ کا صبر، جبر پر غالب آرہا ہے۔ پوری دنیا میں پاکستانی آپ کے ہم آواز ہیں۔ آپ نے یونہی پرامن رہنا ہے۔ تھکنا نہیں، تھکانا ہے۔ وہ بندوق کے بھروسے ہیں اور آپ کی طاقت آپ کا حوصلہ ہے۔ اسے قائم رکھنا ہے۔ آپ کا صبر، آپ کا حوصلہ جیتے گا۔ جیتنے والا ہے انشاء اللہ۔ اپنی نظریں اسی طرح منزل پر رکھیں۔ ڈی چوک پہنچنا آپ کے لیڈر کا حکم ہے اور فیصلے صرف اور صرف عمران خان کا اختیار۔
Today in the House of Commons I was pleased to present petitions in support of former Pakistani Prime Minister Imran Khan and against his arbitrary detention. 🇨🇦 🇵🇰 🇨�� 🇵🇰
#ImranKhan #PTICanada @ImranKhanPTI @PTIOfficialCA